آیت نمبر 25
بعض تفاسیر نے اس آیت کے تحت اسرائیل سے ربط وبابس جمع کیا ہے اور حضرت داؤد کی آزمائش کے معاملے میں بہت دور چلے گئے ہیں۔ انہوں نے ایسی باتیں بھی نقل کی ہیں جو نبوت کے شایان شان ہی نہیں ہیں۔ بلکہ وہ مطلقاً منصب بنوت کے ساتھ یکجا نہیں ہوسکتیں ۔ بعض روایات نے اگرچہ بعض انسانوں کی تاویل کرکے ان کی قباحت کی شدت کو کم کرنے کی کوشش کی ہے لیکن انہوں نے بھی بعض افسانوی پہلو اپنے اندر سمیٹ لیے ہیں ۔ لہٰذا یہ روایات اس قابل ہی نہیں ہیں کہ ان کو نقل کیا جائے اور ان پر نظر ڈالی جائے۔ کیونکہ یہ روایات قرآن کریم کے اس تبصرے کے بالکل خلاف ہیں۔
وان ۔۔۔ ماٰب (38: 25) ” یقیناً ہمارے ہاں اس کے لیے تقرب کا مقام اور بہتر انجام ہے “۔
آیت 25 { فَغَفَرْنَا لَہٗ ذٰلِکَ وَاِنَّ لَہٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰی وَحُسْنَ مَاٰبٍ } ”تو ہم نے اسے معاف کردیا۔ اور یقینا ہمارے پاس اس کے لیے مقام قرب اور اچھا انجام ہے۔“ جب وہ ہمارے پاس لوٹ کر آئے گا تو ہم اسے بہت اعلیٰ مقام عطا کریں گے۔