سورہ سعد: آیت 27 - وما خلقنا السماء والأرض وما... - اردو

آیت 27 کی تفسیر, سورہ سعد

وَمَا خَلَقْنَا ٱلسَّمَآءَ وَٱلْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا بَٰطِلًا ۚ ذَٰلِكَ ظَنُّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ۚ فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِنَ ٱلنَّارِ

اردو ترجمہ

ہم نے اس آسمان اور زمین کو، اور اس دنیا کو جو ان کے درمیان ہے، فضول پیدا نہیں کر دیا ہے یہ تو اُن لوگوں کا گمان ہے جنہوں نے کفر کیا ہے، اور ایسے کافروں کے لیے بربادی ہے جہنم کی آگ سے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wama khalaqna alssamaa waalarda wama baynahuma batilan thalika thannu allatheena kafaroo fawaylun lillatheena kafaroo mina alnnari

آیت 27 کی تفسیر

آیت نمبر 27 تا 29

یہ ہے اصل بات ، ان تین آیات میں وہ عظیم حقیقت بیان کردی گئی ہے ، جس کی قرآن میں بہت اہمیت ہے۔ یہ نہایت ہی گہری ، عمومی اور عظیم الشان حقیقت ہے۔ اس کی جڑیں اور شاخیں اس پوری کائنات کے اندر گہری ہیں اور دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی مخلوق کوئی کھیل تماشا نہیں ہے۔ یہ باطل نہ تھی ، نہ ہے اور نہ ہوگی ۔ بلکہ یہ حق ہے۔ یہ کائنات حقائق پر قائم ہے۔ اس ہمہ گیر سچائی سے تمام سچائیاں پھولتی ہیں اور یہ سچائی دراصل اس کائنات اور پھر اس زمین کی حقیقت وماہیت ہے۔ اس دنیا پر انسان کی حکمرانی میں سچائی ، لوگوں کے درمیان عدل و انصاف کے قیام میں سچائی ، لوگوں کے شعور کی سچائی اور ان کے اعمال میں سچائی کا قیام اس عظیم حق اور سچائی کی شاخیں ہیں۔ لہٰذا جو لوگ ایمان لاتے ہیں اور شعور کی سچائی رکھتے ہیں اور جو لوگ نیک عمل کرتے ہیں اور ان کا طرز عمل درست ہے وہ مفسدین کی طرح نہیں ہوسکتے ۔ لہذا اس کرۂارض پر وزن اور فساق وفجار کا وزن برابر نہیں ہوسکتا ۔ جس عظیم سچائی کو یہ کتاب لے کر آئی ہے تاکہ لوگ اس کی آیات پر تدبر کریں اور ان میں سے جو عقلمند ہیں وہ اس سے نصیحت حاصل کریں۔ وہ عظیم سچائی ہے۔ اور لوگوں کو چاہئے کہ وہ اس عظیم حقیقت کا وافر حصہ پالیں اور اس پر تدبر کریں۔ کافر درحقیقت اس عظیم سچائی کا تصور بھی نہیں رکھتے ۔ کیونکہ ان کی فطرت ، ان کا شعور اس عظیم سچائی سے محروم ہے جس کے اوپر یہ کائنات قائم ہے۔ اور جس کا حامل قرآن ہے۔ کافر تو رب تعالیٰ کے بارے سوئے ظن رکھتے ہیں۔ اور وہ اس عظیم سچائی کے ادراک سے محروم ہوتے ہیں۔

ذٰلک ظن۔۔۔۔۔ من لنار (38: 27) ” یہ تو ان لوگوں کا گمان ہے جنہوں نے کفر کیا اور ایسے کافروں کے لیے بربادی ہے ، جہنم کی آگ سے “۔

اسلامی شریعت دراصل اللہ کے اس عظیم حق کی تشریح کررہی ہے۔ جس پر یہ پوری کائنات قائم ہے۔ اللہ تعالیٰ اس دنیا میں حکام اور خلفاء سے جس سچائی اور عدل کا مطالبہ فرمایا ہے وہ اس کلی حق اور سچائی کا ایک حصہ ہے۔ اس حق کا تقاضا یہ ہے کہ جس طرح وہ کائنات میں قائم ہے اسی طرح انسانوں کے نظام اور معاشرے میں بھی قائم ہوتا کہ یہ عظیم سچائی ادھوری نہ ہو۔ اس کے تمام اطراف قائم ہوجائیں ۔ اس لیے جو لوگ شریعت سے انحراف کرتے ہیں ، عدالت سے انحراف کرتے ہیں۔ وہ دراصل اس سچائی سے انحراف کرتے ہیں جس کے اوپر یہ پوری کائنات قائم ہے۔ اس طرح وہ اس کائنات میں ایک عظیم شروفساد پیدا کردیتے ہیں۔ یوں کائناتی قوتوں کے درمیان تصادم پیدا ہوجاتا ہے۔ لہٰذا اس صورت میں ان کائناتی قوتوں کے درمیان بھی تصادم کا خطرہ ہوتا ہے اور انسانی قوتوں کے درمیان بھی۔ یوں کائنات اور انسانی معاشرے دونوں میں ٹوٹ پھوٹ کا خطرہوتا ہے۔ کیونکہ ایک ظالم ، باغی اور ناموس الہٰی اور شریعت الہہ سے متصادم ہونے والا شخص سالم اور صراط مستقیم پر قائم نہیں رہ سکتا ۔ اور یہ ضعیف اور ناتواں انسان اگر بغاوت بھی کرے تو اللہ کی عظیم قوتوں کا وہ کیا بگاڑ سکتا ہے۔ وہ اگر کوئی فساد برپا کرے گا اور نقصان کرے گا تو اپنا کرے گا۔ اللہ کی جبار وقہار قوتوں کے مقابلے میں تو وہ بےبس ہوجائے گا۔

یہ وہ عظیم حقیقت ہے جس کے اوپر تمام اہل دانش کو غور کرنا چاہئے اور اصحاب دانش اور عقل کو چاہئے کہ وہ اس سے نصیحت حاصل کریں۔ اس قصے کے درمیان یہ سبق آموز واقعہ بیان ہوا اور اس پر تبصرہ ہوا تاکہ اس اہم بات کی وضاحت کردی جائے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) پر اللہ کے مزید انعامات گنائے جاتے ہیں کہ اللہ نے اپنے فضل وکرم سے ان کی اولاد میں حضرت سلیمان جیسے باکمال شخص پیدا کیے جن پر اللہ کا بہت بڑا کرم ہوا۔ بلکہ کئی قسم کی کرم نوازیاں ہوئیں۔ حضرت سلیمان کی آزمائش ،

ان پر اللہ کے کرم کے واقعات کے بعد اللہ کی رحمتوں کی بارش کے واقعات کا ذکر ہوتا ہے۔

آیت 27 { وَمَا خَلَقْنَا السَّمَآئَ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَہُمَا بَاطِلًا } ”اور ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے مابین ہے ‘ اسے بےکار پیدا نہیں کیا۔“ یہ مضمون قرآن حکیم میں متعدد بار آیا ہے اور سورة آل عمران کی آیت 191 میں تو اسی لفظ باطل کے ساتھ آیا ہے : { رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہٰذَا بَاطِلاً ج سُبْحٰنَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ } ”اے ہمارے ربّ ! تو نے یہ سب کچھ بےکار پیدا نہیں کیا ‘ تو ُ پاک ہے ‘ پس ہمیں آگ کے عذاب سے بچا لے !“ سورة المو منون میں یوں فرمایا گیا ہے : { اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰکُمْ عَبَثًا وَّاَنَّکُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ } ”کیا تم نے سمجھا تھا کہ ہم نے تمہیں بےکار پیدا کیا تھا اور یہ کہ تم ہماری طرف لوٹائے نہیں جائو گے !“ مطلب یہ کہ عبث اور بےکار کام کرنا اللہ کی شان سے بہت بعید ہے۔ { ذٰلِکَ ظَنُّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْاج فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنَ النَّارِ } ”یہ گمان تو ان لوگوں کا ہے جنہوں نے کفر کیا ‘ پس ہلاکت اور بربادی ہے ان کافروں کے لیے آگ کی۔“

ارشاد ہے کہ مخلوق کی پیدائش عبث اور بیکار نہیں یہ سب عبادت خالق کے لئے پیدا کی گئی ہے پھر ایک وقت آنے والا ہے کہ ماننے والے کی سربلندی کی جائے اور نہ ماننے والوں کو سخت سزا دی جائے۔ کافروں کا خیال ہے کہ ہم نے انہیں یونہی پیدا کردیا ہے ؟ اور آخرت اور دوسری زندگی کوئی چیز نہیں یہ غلط ہے۔ ان کافروں کو قیامت کے دن بڑی خرابی ہوگی کیونکہ اس آگ میں انہیں جلنا پڑے گا جو ان کے لئے اللہ کے فرشتوں نے بڑھکا رکھی ہے۔ یہ ناممکن ہے اور ان ہونی بات ہے کہ مومن و مفسد کو اور پرہیزگار اور بدکار کو ایک جیسا کردیں۔ اگر قیامت آنے والی ہی نہ ہو تو یہ دونوں انجام کے لحاظ سے یکساں ہی رہے۔ حالانکہ یہ خلاف انصاف ہے قیامت ضرور آئے گی نیک کار جنت میں اور گنہگار جہنم میں جائیں گے۔ پس عقلی اقتضا بھی دار آخرت کے ثبوت کو ہی چاہتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ظالم پاپی اللہ کی درگاہ سے راندہ ہوا دنیا میں خوش وقت ہے مال اولاد فراغت تندرستی سب کچھ اس کے پاس ہے اور ایک مومن متقی پاک دامن ایک ایک پیسے سے تنگ ایک ایک راحت سے دور رہے تو حکمت علیم و حکیم و عادل کا اقتضاء یہ تھا کہ کوئی ایسا وقت بھی آئے کہ اس نمک حرام سے اس کی نمک حرامی کا بدلہ لیا جائے اور اس صابر و شاکر فرمانبردار کی نیکیوں کا اسے بدلہ دیا جائے اور یہی دار آخرت میں ہونا ہے۔ پس ثابت ہوا کہ اس جہان کے بعد ایک جہاں یقینا ہے۔ چونکہ یہ پاک تعلیم قرآن سے ہی حاصل ہوئی ہے اور اس نیکی کا رہبر یہی ہے اسی لئے اس کے بعد ہی فرمایا کہ یہ مبارک کتاب ہم نے تیری طرف نازل فرمائی ہے تاکہ لوگ اسے سمجھیں اور ذی عقل لوگ اس سے نصیحت حاصل کرسکیں۔ حضرت حسن بصری فرماتے ہیں جس نے قرآن کے الفاظ حفظ کر لئے اور قرآن پر عمل نہیں کیا اس نے قرآن میں تدبر و غور بھی نہیں کیا لوگ کہتے ہیں ہم نے پورا قرآن پڑھ لیا لیکن قرآن کی ایک نصیحت یا قرآن کے ایک حکم کا نمونہ میں نظر نہیں آتا ایسا نہ چاہئے۔ اصل غور و خوض اور نصیحت و عبرت عمل ہے۔

آیت 27 - سورہ سعد: (وما خلقنا السماء والأرض وما بينهما باطلا ۚ ذلك ظن الذين كفروا ۚ فويل للذين كفروا من النار...) - اردو