سورہ سعد: آیت 30 - ووهبنا لداوود سليمان ۚ نعم... - اردو

آیت 30 کی تفسیر, سورہ سعد

وَوَهَبْنَا لِدَاوُۥدَ سُلَيْمَٰنَ ۚ نِعْمَ ٱلْعَبْدُ ۖ إِنَّهُۥٓ أَوَّابٌ

اردو ترجمہ

اور داؤدؑ کو ہم نے سلیمانؑ (جیسا بیٹا) عطا کیا، بہترین بندہ، کثرت سے اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wawahabna lidawooda sulaymana niAAma alAAabdu innahu awwabun

آیت 30 کی تفسیر

آیت نمبر 30 تا 40

یہاں دو اشارات ہیں۔ ایک الصافنات المجیاد ہے یعنی اچھے سدھے ہوئے قیمتی گھوڑے ۔ اور دوسرا اشارہ یہ کہ حضرت سلیمان کی کرسی پر ایک حسد ڈال دیا۔ ہمارے تفسیری ذخیرے میں قدد روایات یا تاویلات وارد ہیں۔ ان میں سے ان اشارات کی تفسیر میں کسی ایک تفسیر اور روایت پر میرا دل مطمئن نہیں ہے۔ جہاں تک روایات کا تعلق ہے ، ان میں سے بہت تو اسرائیلیلت سے متعلق ہیں اور تفاسیر جو بھی کی گئی ہیں وہ ایسی تاویلات ہیں جن کے اوپر کوئی سند نہیں ہے۔ یہ دو واقعات اصل میں کیا ہیں ؟ ان کے بارے میں کوئی اطمینان بخش چیز سامنے نہیں آئی تاکہ اس پر غور کرکے میں یہاں نقل کردوں ۔ ماسوائے ایک حدیث کے اور کوئی صحیح حدیث بھی منقول نہیں ہے جس پر اعتماد کیا جائے۔ ایک صحیح حدیث ہے لیکن یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس کا تعلق ان واقعات کے ساتھ ہے ۔ یہ حدیث حضرت ابوہریرہ کی حدیث ہے۔ امام بخاری نے یہ حدیث مرفوعاً نقل کی ہے۔ ” حضرت سلیمان نے کہا میں آج رات اپنی ستر بیویوں کے پاس جاؤں گا۔ ہر ایک سے ایک جوان پیدا ہوگا۔ جو کہاد فی سبیل اللہ کرے گا۔ لیکن انہوں نے انشاء اللہ نہ کہا ۔ وہ ان بیویوں کے پاس گئے ۔ ان میں سے صرف ایک کا حمل ٹھہرا اور جب بچہ پیدا ہوا تو ناتمام تھا۔ خدا کی قسم اگر حضرت سلیمان انشاء اللہ کہتے تو یقیناً یہ سب اللہ کی راہ میں جہاد کرتے “۔ یہ ہوسکتا ہے کہ ان آیات میں جس فتنے کا ذکر کیا گیا ہے ، وہ یہی ہو اور ان کی کرسی پر یہی جسد ناتمام پھینکا گیا ہو۔ لیکن یہ بھی احتمال درجے میں ہے۔ گھوڑوں کا قصہ یہ بیان کیا گیا ہے شام کے وقت ان کے سامنے گھوڑے پیش کیے گئے اور غروب سے قبل وہ جو عبادت کرتے تھے وہ قضا ہوگئی تو حضرت نے کہا ان سب گھوڑوں کو واپس کرو ' چناچہ انہوں نے ان کی گردنوں اور پنڈلیوں کو تلوار سے کاٹنا شروع کیا۔ کیونکہ ان کی وجہ سے ان کی نماز قضا ہوئی اور وہ ذکر رب سے غافل ہوگئے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ آپ ان کے پاؤں اور گردنوں پر ہاتھ پھیر کر ان کو تھپکی دیتے تھے اور ان کی عزت کرتے تھے۔ کہ یہ اللہ کی راہ میں لڑنے والے گھوڑے ہیں۔ دونوں روایتوں پر کوئی دلیل نہیں ہے۔ اور اس کے بارے میں کوئی فرضی بات نہیں کرسکتے ۔ لہٰذا کوئی محقق ان دونوں واقعات کے بارے میں کوئی یقینی بات نہیں کرسکتا۔

جو بات کہی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو بھی آزمایا گیا۔ اور یہ آزمائش امور مملکت کے بارے میں تھی اور اسی نوعیت کی تھی جس طرح تمام انبیاء کو راہ حق دکھانے کے لیے آزمایا جاتا ہے۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس راہ میں ان سے کوئی لغزش سرزدنہ ہوجائے۔ اس آزمائش کے بعد حضرت سلیمان نے اپنے رب کی طرف انابت اور رجوع کرلیا اور مغفرت طلب کی۔ اور اللہ کی طرف مڑکر دست بدعا ہوئے :

قال رب۔۔۔۔ انت الوھاب (38: 35) ” کہا ' اے میرے رب مجھے معاف کر اور مجھے بادشاہی دے جو میرے بعد کسی کے لیے سزاوار نہ ہو ' بیشک تو ہی اصل داتا ہے “۔

حضرت سلیمان کی مذکورہ بالا دعا کا مطلب جو سمجھ میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ ایک ایسی خصوصیات چاہتے تھے جو معجزانہ ہو۔ یعنی ان کو حکومتی اقتدار چلانے کے لیے معجزانہ قوتیں دی جائیں اور تمام دوسرے ذی اقتدار لوگوں سے یہ اعجاز مختلف ہو۔ اس کی متعین شکل ہو ، جس کی مثال انسانی تاریخ میں نہ ہو۔ یعنی عوام الناس کے ہاں جس طرح کی حکومتیں متعارف ہیں۔

رب تعالیٰ نے بھی ان کی دعا قبول کرنے میں دیر نہیں فرمائی ۔ چناچہ جیسی حکومت انہوں نے چاہی تھی وہ ان کو دے دی ۔ ایسی حکومت جو آئندہ کسی کو نہ دی جائے گی۔

آیت 30 { وَوَہَبْنَا لِدَاوٗدَ سُلَیْمٰنَ } ”اور ہم نے دائود علیہ السلام کو سلیمان علیہ السلام جیسا بیٹا عطا کیا۔“ { نِعْمَ الْعَبْدُ ط اِنَّہٗٓ اَوَّابٌ۔ } ”وہ بہت ہی اچھا بندہ تھا۔ بیشک وہ ہماری طرف بڑا ہی رجوع کرنے والا تھا۔“

حضرت سلیمان حضرت داؤد کے وارث۔ اللہ تعالیٰ نے جوا یک بڑی نعمت حضرت داؤد ؑ کو عطا فرمائی تھی اس کا ذکر فرما رہا ہے کہ ان کی نبوت کا وارث ان کے لڑکے حضرت سلیمان ؑ کو بنادیا۔ اسی لئے صرف حضرت سلیمان کا ذکر کیا ورنہ ان کے اور بچے بھی تھے۔ ایک سو عورتیں آپ کی لونڈیوں کے علاوہ تھیں۔ چناچہ اور آیت میں ہے (وَوَرِثَ سُلَيْمٰنُ دَاوٗدَ وَقَالَ يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ عُلِّمْنَا مَنْطِقَ الطَّيْرِ وَاُوْتِيْنَا مِنْ كُلِّ شَيْءٍ ۭ اِنَّ ھٰذَا لَهُوَ الْفَضْلُ الْمُبِيْنُ 16؀) 27۔ النمل :16) یعنی حضرت داود کے وارث حضرت سلیمان ہوئے یعنی نبوت آپ کے بعد انہیں ملی۔ یہ بھی بڑے اچھے بندے تھے یعنی خوب عبادت گذار تھے اور اللہ کی طرف جھکنے والے تھے۔ مکحول کہتے ہیں کہ جناب داؤد نبی نے ایک مرتبہ آپ سے چند سوالات کئے اور ان کے معقول جوابات پا کر فرمایا کہ آپ نبی اللہ ہیں۔ پوچھا کہ سب سے اچھی چیز کیا ہے ؟ جواب دیا کہ اللہ کی طرف سکینت اور ایمان پوچھا کہ سب سے زیادہ میٹھی چیز کیا ہے ؟ جواب ملا اللہ کی رحمت پوچھا سب سے زیادہ ٹھنڈک والی چیز کیا ہے ؟ جواب دیا اللہ کا لوگوں سے درگذر کرنا اور لوگوں کا آپس میں ایک دوسرے کو معاف کردینا (ابن ابی حاتم) حضرت سلیمان ؑ کے سامنے ان کی بادشاہت کے زمانے میں ان کے گھوڑے پیش کئے گئے۔ یہ بہت تیز رفتار تھے جو تین ٹانگوں پر کھڑے رہتے تھے اور ایک پیر یونہی سا زمین پر ٹکتا تھا۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ پر دار گھوڑے تھے تعداد میں بیس تھے۔ ابراہیم تمیمی نے گھوڑوں کی تعداد بیس ہزار بتلائی ہے۔ واللہ اعلم ابو داؤد میں ہے حضور ﷺ تبوک یا خیبر کے سفر سے واپس آئے تھے گھر میں تشریف فرما تھے جب تیز ہوا کے جھونکے سے گھر کے کونے کا پردہ ہٹ گیا وہاں حضرت عائشہ کی کھیلنے کی گڑیاں رکھی ہوئی تھیں۔ حضور ﷺ کی نظر بھی پڑگئی۔ دریافت کیا یہ کیا ہے ؟ حضرت عائشہ ؓ نے جواب دیا میری گڑیاں ہیں آپ نے دیکھا کہ بیچ میں ایک گھوڑا سا بنا ہوا ہے جس کے دو پر بھی کپڑے کے لگے ہوئے ہیں۔ پوچھا یہ کیا ہے ؟ کہا گھوڑا ہے فرمایا اور یہ اس کے اوپر دونوں طرف کپڑے کے کیا بنے ہوئے ہیں ؟ کہا یہ دونوں اس کے پر ہیں۔ فرمایا اچھا گھوڑا اور اس کے پر بھی ؟ صدیقہ نے عرض کیا کیا آپ نے نہیں سنا کہ حضرت سلیمان کے پر دار گھوڑے تھے، یہ سن کر حضور ﷺ ہنس دیئے یہاں تک کہ آپ کے آخری دانت دکھائی دینے لگے۔ حضرت سلیمان ؑ ان کے دیکھنے بھالنے میں اس قدر مشغول ہوگئے کہ عصر کی نماز کا خیال ہی نہ رہا بالکل بھول گئے۔ جیسے کہحضور ﷺ جنگ خندق والے دن لڑائی کی مشغولیت کی وجہ سے عصر کی نماز نہ پڑھ سکے تھے اور مغرب کے بعد ادا کی۔ چناچہ بخاری و مسلم میں ہے کہ سورج ڈوبنے کے بد حضرت عمر ؓ کفار قریش کو برا کہتے ہوئے حضور ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے حضور ﷺ میں تو عصر کی نماز بھی نہ پڑھ سکا۔ آپ نے فرمایا میں بھی اب تک ادا نہیں کرسکا۔ چناچہ ہم بطحان میں گئے وہاں وضو کیا اور سورج کے غروب ہونے کے بعد عصر کی نماز ادا کی اور پھر مغرب پڑھی۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دین سلیمان میں جنگی صالح کی وجہ سے تاخیر نماز جائز ہو اور یہ جنگی گھوڑے تھے جنہیں اسی مقصد سے رکھا تھا۔ چناچہ بعض علماء نے یہ کہا بھی ہے کہ صلوۃ خوف کے جاری ہونے سے پہلے یہی حال تھا۔ بعض کہتے ہیں جب تلواریں تنی ہوئی ہوں لشکر بھڑ گئے ہوں اور نماز کے لئے رکوع و سجود کا امکان ہی نہ ہو تب یہ حکم ہے جیسے صحابہ ؓ نے تیستر کی فتح کے بعد موقعہ پر کیا تھا لیکن ہمارا پہلا قول ہی ٹھیک ہے اس لئے کہ اس کے بعد ہی حضرت سلیمان کا ان گھوڑوں کو دوبارہ طلب کرنا وغیرہ بیان ہوا ہے۔ انہیں واپس منگوا کر ان کے کاٹ ڈالنے کا حکم دیا اور فرمایا میرے رب کی عبادت سے مجھے اس چیز نے غافل کردیا میں ایسی چیز ہی نہیں رکھنے کا۔ چناچہ ان کی کوچیں کاٹ دی گئیں اور ان کی گردنیں ماری گئیں۔ لیکن حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ آپ نے گھوڑوں کے پیشانی کے بالوں وغیرہ پر ہاتھ پھیرا۔ امام ابن جریر بھی اسی قول کو اختیار کرتے ہیں کہ بلا وجہ جانوروں کو ایذاء پہچانی ممنوع ہے ان جانوروں کا کوئی قصور نہ تھا جو انہیں کٹوا دیتے لیکن میں کہتا ہوں کہ ممکن ہے یہ بات ان کی شرع میں جائز ہو خصوصاً ایسے وقت جبکہ وہ یاد اللہ میں حارج ہوئے اور وقت نماز نکل گیا تو دراصل یہ غصہ بھی اللہ کے لئے تھا۔ چناچہ اسی وجہ سے ان گھوڑوں سے بھی تیز اور ہلکی چیز اللہ نے اپنے نبی کو عطا فرمائی یعنی ہوا ان کے تابع کردی۔ حضرت ابو قتادہ ؓ اور حضرت ابو دھما اکثر حج کیا کرتے تھے ان کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ ایک گاؤں میں ہماری ایک بدوی سے ملاقات ہوئی اس نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے میرا ہاتھ تھام کر مجھے بہت کچھ دینی تعلیم دی اس میں یہ بھی فرمایا کہ اللہ سے ڈر کر تو جس چیز کو چھوڑے گا اللہ تجھے اس سے بہتر عطا فرمائیگا۔

آیت 30 - سورہ سعد: (ووهبنا لداوود سليمان ۚ نعم العبد ۖ إنه أواب...) - اردو