سورہ سعد: آیت 33 - ردوها علي ۖ فطفق مسحا... - اردو

آیت 33 کی تفسیر, سورہ سعد

رُدُّوهَا عَلَىَّ ۖ فَطَفِقَ مَسْحًۢا بِٱلسُّوقِ وَٱلْأَعْنَاقِ

اردو ترجمہ

تو (اس نے حکم دیا کہ) انہیں میرے پاس واپس لاؤ، پھر لگا ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Ruddooha AAalayya fatafiqa mashan bialssooqi waalaAAnaqi

آیت 33 کی تفسیر

آیت 33 { رُدُّوْہَا عَلَیَّط فَطَفِقَ مَسْحًام بِالسُّوْقِ وَالْاَعْنَاقِ } ”تو اس نے کہا : واپس لائو ان کو میرے پاس ! تو اب وہ لگا تلوار مارنے ان کی ٹانگوں اور گردنوں پر۔“ یعنی آپ علیہ السلام کو نماز قضا ہونے کا اس قدر افسوس تھا کہ آپ علیہ السلام نے گھوڑوں کو واپس منگوایا اور شدید تاثر اور مغلوبیت کی کیفیت میں ان کی گردنوں اور ٹانگوں پر تلوار سے وار کرنا شروع کردیے۔ یہاں پر بعض مفسرین نے مَسْحًاسے ”ہاتھ پھیرنا“ مراد لے کر آیت کی یہ تاویل کی ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے دراصل گھوڑوں کی کارکردگی سے خوش ہو کر انہیں واپس منگوایا تھا اور جب گھوڑے واپس لائے گئے تو آپ علیہ السلام ان کی گردنوں اور ٹانگوں کو پیار سے سہلاتے رہے ‘ یعنی ان سے اظہارِ محبت کے طور پر ان پر ہاتھ پھیرتے رہے۔ لیکن آیت کے الفاظ اور سیاق وسباق کے مطابق پہلا مفہوم ہی درست معلوم ہوتا ہے۔ یہاں پر اس نکتہ کی وضاحت بھی بہت ضروری ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا مذکورہ عمل دراصل غلبہ حال کے تحت تھا۔ جیسے حضرت عمر رض غزوئہ اُحد میں رسول اللہ ﷺ کی شہادت کی خبر سن کر تلوار پھینک کر بیٹھ گئے تھے کہ اب کس کے لیے لڑنا ہے ؟ حالانکہ اُن رض کا جہاد و قتال تو اللہ کے لیے تھا ‘ نہ کہ حضرت محمد ﷺ کے لیے۔ اسی طرح حضور ﷺ کے انتقال کے موقع پر بھی حضرت عمر رض نے غلبہ حال کے سبب تلوار کھینچ لی کہ جس کسی نے کہا کہ حضور ﷺ انتقال کر گئے ہیں میں اس کی گردن اڑا دوں گا۔ اس انتہائی نازک صورت حال کو حضرت ابوبکر صدیق رض نے سنبھالا۔ آپ رض نے اس موقع پر ایک خطبہ دیا اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا : مَنْ کَانَ یَعْبُدُ مُحَمَّدًا فَاِنَّ مُحَمَّدًا قَد مَاتَ ‘ وَمَنْ کَانَ یَعْبُدُ اللّٰہَ فَاِنَّ اللّٰہَ حَیٌّ لَا یَمُوْتُ ”جو کوئی محمد ﷺ کی عبادت کرتا تھا تو وہ سن لے کہ محمد ﷺ کا انتقال ہوچکا ہے اور جو کوئی اللہ کی بندگی کرتا تھا تو وہ جان لے کہ اللہ زندہ ہے اور اس پر کبھی موت واقع نہیں ہوگی“۔ اس کے بعد آپ رض نے سورة آلِ عمران کی یہ آیت تلاوت فرمائی : { وَمَا مُحَمَّدٌ اِلاَّ رَسُوْلٌج قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِہِ الرُّسُلُط اَفَائِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰٓی اَعْقَابِکُمْط } آیت 144 1۔ بہرحال غلبہ حال کی کیفیت میں کبھی کبھی بڑی شخصیات سے بھی غیر معمولی افعال اور غیر متوقع رویے کا صدور ہوجاتا ہے۔ چناچہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا اپنی نماز قضا ہونے کے رنج میں غلبہ حال کی غیر معمولی کیفیت کے تحت گھوڑوں پر تلوار سے وار کرنا بعید از فہم نہیں ہے۔

آیت 33 - سورہ سعد: (ردوها علي ۖ فطفق مسحا بالسوق والأعناق...) - اردو