ھذا۔۔۔ حساب (38: 39) ” یہ ہماری بخشش ہے تجھے اختیار ہے ، جسے چاہے دے اور جس سے چاہئے روک لے کوئی حساب نہیں ہے “۔ یہ اس لیے کہ آپ کو اللہ بہت بڑا اعزاز دینا چاہتا تھا کہ حکومت پر کوئی مالی قدغن عائد نہیں ہے۔ مزید اس پر یہ اضافہ فرمایا کہ حضرت سلیمان ہمارے نزدیک بہت ہی مقرب اور برگزیدہ بندے تھے۔ اور ان کا انجام بہتر ہوگا۔
آیت 39 { ہٰذَا عَطَآؤُنَا فَامْنُنْ اَوْ اَمْسِکْ بِغَیْرِ حِسَابٍ } ”یہ ہماری عطا ہے ‘ پس تم چاہو تو لوگوں پر احسان کرو یا اپنے پاس روکے رکھو ‘ اس پر کوئی حساب نہیں۔“ ہم نے سلیمان علیہ السلام سے کہہ دیا تھا کہ ہم نے جو نعمتیں تمہیں عطا کر رکھی ہیں ان میں سے جو چاہو لوگوں میں تقسیم کرو اور جو چاہو اپنے پاس رکھو۔ نیز جس کو چاہو دو اور جس کو چاہو نہ دو۔ اس معاملے میں آپ علیہ السلام سے کوئی حساب نہیں لیا جائے گا۔