جب یہ بات ظاہر ہوگئی کہ وہ سچے اور صابر ہیں اور وہ شیطانی وسوسہ اندازیوں سے بھی نفرت کرتے ہیں اور اس سے انکی اذیت میں اضافہ ہورہا ہے۔ تو اب اللہ کی رحمت انکو ڈھانپ لیتی ہے۔ آزمائش کے دن بیت جاتے ہیں ۔ انکی صحت لوٹ آتی ہے۔ رب تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ اپنے قدموں کو زمین پر ماریں۔ ٹھنڈا پانی نکل آئے گا اس سے وہ پئیں اور غسل کریں صحت لوٹ آئے گی
ارکض برجلک ھٰذا مغتسل بادو شراب (38: 43) ” اپنا پاؤں زمین پر مار ' یہ ہے ٹھنڈا پانی نہانے اور پینے کے لیے “۔ مزید رحمتیں یوں آتی ہیں۔
آیت 42 { اُرْکُضْ بِرِجْلِکَ ہٰذَا مُغْتَسَلٌم بَارِدٌ وَّشَرَابٌ} ”ذرا اپنا پائوں زمین پر مارو ‘ یہ چشمہ جو جاری ہوا ہے ٹھنڈا پانی ہے غسل کے لیے ہے اور پینے کے لیے۔“ آپ علیہ السلام کے ایڑی مارنے پر زمین سے ٹھنڈے پانی کا چشمہ ابل پڑا۔ اس پانی میں اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کے لیے ایسی شفا رکھ دی کہ اس سے نہانے اور اس کو پینے سے آپ علیہ السلام صحت یاب ہوگئے۔ ممکن ہے اس پانی میں گندھک کے اثرات ہوں۔ ایسے چشمے بعض مقامات پر آج بھی دیکھنے میں آتے ہیں جن میں نہانے سے جلدی امراض کے مریض شفایاب ہوجاتے ہیں۔