ان ذلک لحق تخاصم اھل النار (38: 64) ” بیشک یہ بات سچی ہے کہ اہل دوزخ میں یہی کچھ جھگڑے ہونے والے ہیں “
ذرا دیکھئے کہ ان کا انجام اہل ایمان کے انجام سے کس قدر مختلف اور اپنے طور پر کس قدر بھیانک ہے۔ دنیا میں تو اہل جہنم متقین کا مذاق اڑاتے تھے ۔ اور یہ سمجھتے تھے کہ اللہ نے ان پر جو کلام الہٰی نازل کیا ہے۔ یہ اس کے اہل ہی نہیں۔ اور یہی وہ نقشہ عذاب ہے جس کے لیے وہ بچوں کی شتابی مچا رہے تھے۔ اور کہتے تھے۔
وقالو۔۔۔ الحساب (38: 16) ” اے ہمارے رب ' ہمارا حصہ ہمیں یوم الحساب سے بھی پہلے دے دے “۔
آیت 64 { اِنَّ ذٰلِکَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ اَہْلِ النَّارِ } ”یقینا یہ حق ہے اہل جہنم کے مابین جھگڑا !“ تم لوگوں کو یقین رکھنا چاہیے کہ جیسے ہم یہ سب کچھ بیان کر رہے ہیں ‘ اس روز اہل ِجہنم کے مابین بالکل اسی طرح سے بحث و تکرار ہوگی۔