آیت نمبر 74
کیا ابلیس فرشتوں میں سے تھا ؟ ظاہر یہ ہے کہ نہ تھا۔ کیونکہ اگر یہ فرشتوں میں سے ہوتا تو معصیت کیسے کرتا اس لیے کہ فرشتے تو اللہ کے اوامر سے معصیت نہیں کرتے اور ان کو جو بھی حکم دیا جاتا ہے۔ اسے وہ کر گزرتے ہیں۔ آئندہ یہ بات آئے گی یہ آگ سے پیدا شدہ مخلوق ہے۔ اور یہ بات معقول ہے کہ فرشتے نور سے پیدا ہوئے ہیں۔ لیکن وہ فرشتوں میں رہتا تھا۔ اور اسے بھی حکم دیا گیا تھا کہ سجدہ کرو۔ اور حکم دیتے وقت صرف فرشتوں کا تذکرہ ہوا۔ اور اس کا تذکرہ نہ ہوا یعنی ” یہ نہیں کہا اے فرشتو اور شیطان سجدہ کرو “۔ اس لیے کہ اللہ کے علم میں تھا کہ یہ نافرمانی کرے گا لہٰذا اسے نظر انداز کرنے کے لیے ایسا کیا گیا۔ ہمیں تب معلوم ہوا کہ شیطان کو بھی سجدے کا حکم دیا گیا تھا جب اس پر عتاب نازل ہوا۔
آیت 74 { اِلَّآ اِبْلِیْسَ اِسْتَکْبَرَ وَکَانَ مِنَ الْکٰفِرِیْنَ } ”سوائے ابلیس کے ‘ اس نے تکبر کیا اور وہ کافروں میں سے ہوگیا۔“ اس کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہے کہ وہ کافروں میں سے تھا۔ کفر اور تکبر اس کے اندر پہلے سے موجود تھا جو اس موقع پر کھل کر سامنے آگیا۔ جیسے غزوہ احزاب کے موقع پر بہت سے منافقین کا نفاق واضح ہو کر ان کی زبانوں پر آگیا تھا۔