سورہ سبا: آیت 40 - ويوم يحشرهم جميعا ثم يقول... - اردو

آیت 40 کی تفسیر, سورہ سبا

وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا ثُمَّ يَقُولُ لِلْمَلَٰٓئِكَةِ أَهَٰٓؤُلَآءِ إِيَّاكُمْ كَانُوا۟ يَعْبُدُونَ

اردو ترجمہ

اور جس دن وہ تمام انسانوں کو جمع کرے گا پھر فرشتوں سے پوچھے گا "کیا یہ لوگ تمہاری ہی عبادت کیا کرتے تھے؟"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wayawma yahshuruhum jameeAAan thumma yaqoolu lilmalaikati ahaolai iyyakum kanoo yaAAbudoona

آیت 40 کی تفسیر

ویوم یحشرھم جمیعا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کنتم بھا تکذبون (40 – 42)

ان فرشتوں کی وہ اللہ کے سوا پرستش کرتے تھے یا ان کو وہ اللہ کے ہاں سفارشی بناتے تھے۔ اب ان کو ان کے سامنے پیش کیا جاتا ہے ، فرشتے اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں اور اس بات کا انکار کرتے ہیں کہ یہ لوگ ان کی عبادت کرتے تھے۔ گویا یہ بندگی اور عبادت ان کی جانب سے لغو اور کالعدم حرکت تھی۔ گویا یہ ہوئی ہی نہیں ہے۔ بلکہ یہ بندگی دراصل شیطان کی بندگی کرتے تھے تو گویا شیطان کی بندگی کرتے تھے۔ جنوں کی بندگی تو عربوں میں ۔۔۔ تھا۔ بعض لوگ ایسے تھے جو جنوں کی بندگی بھی کرتے تھے اور ان سے استعانت بھی کرتے تھے۔

بل کانوا یعبدون الجن اکثرھم بھم مومنون (34: 41) ” دراصل یہ ہماری نہیں بلکہ جنوں کی عبادت کرتے تھے اور ان میں سے اکثر انہی پر ایمان لائے تھے “۔ یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ قصہ سلیمان (علیہ السلام) کا ان مسائل کے ساتھ تعلق ہے۔ یہ قرآن کریم کا خاص انداز ہے کہ قصص سورة کے موضوع سے مربوط ہوتے ہیں۔

یہ منظر اسکرین پر چل رہا تھا کہ اچانک کلام کا اسلوب بدل جاتا ہے اور براہ راست خطاب شروع ہوجاتا ہے اور یہ شرمسار کنندہ باتیں ان سے کہی جاتی ہیں۔

فالیوم لا یملک بعضکم لبعض نفعا ولاضرا (34: 42) ” آج تم میں سے کوئی نہ کسی کو فائدہ پہنچا سکتا ہے نہ نقصان “۔ نہ فرشتے کسی کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں ۔ نہ یہ کفار ایک دوسرے کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔ وہ آگ جس کی ظالم تکذیب کرتے تھے اور جس کے بارے میں وہ مطالبہ کرتے تھے کہ لاؤ وہ آگ ، اسے اب وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں گے۔

ونقول للذین ۔۔۔۔۔ بھا تکذبون (34: 42) ” اور ظالموں سے ہم کہہ دیں گے کہ اب چکھو اس عذاب جہنم کا مزہ جسے تم جھٹلایا کرتے تھے “۔ یہاں یہ سبق ختم ہوجاتا ہے جس کا مرکزی مضمون حساب و کتاب ، سزا و جزاء اور قیام قیامت ہے ، جس طرح دوسرے اسباق کا بھی یہی مضمون رہا ہے۔

آیت 40 { وَیَوْمَ یَحْشُرُہُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ یَقُوْلُ لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اَہٰٓؤُلَآئِ اِیَّاکُمْ کَانُوْا یَعْبُدُوْنَ } ”اور جس دن وہ جمع کرے گا ان سب کو ‘ پھر فرشتوں سے فرمائے گا : کیا یہ لوگ تمہیں پوجا کرتے تھے ؟“

مشرکین سے سوال۔ مشرکین کو شرمندہ لاجواب اور بےعذر کرنے کیلئے ان کے سامنے فرشتوں سے سوال ہوگا۔ جن کی مصنوعی شکلیں بنا کر یہ مشرک دنیا میں پوجتے رہے کہ وہ انہیں اللہ سے ملا دیں۔ سوال ہوگا کہ کیا تم نے انہیں اپنی عبادت کرنے کو کہا تھا ؟ جیسے سورة فرقان میں ہے (ءَ اَنْتُمْ اَضْلَلْتُمْ عِبَادِيْ هٰٓؤُلَاۗءِ اَمْ هُمْ ضَلُّوا السَّبِيْلَ 17؀ۭ) 25۔ الفرقان :17) یعنی کیا تم نے انہیں گمراہ کیا تھا ؟ یہ خود ہی بہکے ہوئے تھے ؟ حضرت عیسیٰ ؑ سے یہی سوال ہوگا کہ کیا تم لوگوں سے کہہ آئے تھے کہ اللہ کو چھوڑ کر میری اور میری ماں کی عبادت کرنا ؟ آپ جواب دیں گے کہ اللہ تیری ذات پاک ہے جو کہنا مجھے سزا وار نہ تھا، اسے میں کیسے کہہ دیتا ؟ اسی طرح فرشتے بھی اپنی برات ظاہر کریں گے اور کہیں گے تو اس سے بہت بلند اور پاک ہے تیرا کوئی شریک ہو۔ ہم تو خود تیرے بندے تھے ہم ان سے بیزار رہے اور اب بھی ان سے الگ ہیں۔ یہ شیاطین کی پرستش کرتے تھے۔ شیطانوں نے ہی ان کے لئے بتوں کی پوجا کو مزین کر رکھا تھا اور انہیں گمراہ کردیا تھا ان میں سے اکثر کا شیطان پر ہی اعتقاد تھا۔ جیسے فرمان باری ہے (اِنْ يَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖٓ اِلَّآ اِنَاثًا ۚ وَاِنْ يَّدْعُوْنَ اِلَّا شَيْطٰنًا مَّرِيْدًا01107ۙ) 4۔ النسآء :117) یعنی یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر عورتوں کی پرستش کرتے ہیں اور سرکش شیطان کی عبادت کرتے ہیں۔ جس پر اللہ کی پھٹکار ہے، پس جن جن سے تم مشرکو ! لو (امید) لگائے ہوئے تھے، ان میں سے ایک بھی آج تمہیں کوئی نفع نہ پہنچا سکے گا۔ اس شدت و کرب کے وقت یہ سارے جھوٹے معبود تم سے یک سو ہوجائیں گے کیونکہ انہیں کسی کے کسی طرح کے نفع و ضرر کا اختیار تھا ہی نہیں۔ آج ہم خود مشرکوں سے فرما دیں گے کہ لو جس عذاب جہنم کو جھٹلا رہے تھے آج اس کا مزہ چکھو۔

آیت 40 - سورہ سبا: (ويوم يحشرهم جميعا ثم يقول للملائكة أهؤلاء إياكم كانوا يعبدون...) - اردو