سورہ سبا: آیت 43 - وإذا تتلى عليهم آياتنا بينات... - اردو

آیت 43 کی تفسیر, سورہ سبا

وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ ءَايَٰتُنَا بَيِّنَٰتٍ قَالُوا۟ مَا هَٰذَآ إِلَّا رَجُلٌ يُرِيدُ أَن يَصُدَّكُمْ عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ ءَابَآؤُكُمْ وَقَالُوا۟ مَا هَٰذَآ إِلَّآ إِفْكٌ مُّفْتَرًى ۚ وَقَالَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ لِلْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ إِنْ هَٰذَآ إِلَّا سِحْرٌ مُّبِينٌ

اردو ترجمہ

اِن لوگوں کو جب ہماری صاف صاف آیات سنائی جاتی ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ "یہ شخص تو بس یہ چاہتا ہے کہ تم کو اُن معبودوں سے برگشتہ کر دے جن کی عبادت تمہارے باپ دادا کرتے آئے ہیں" اور کہتے ہیں کہ "یہ (قرآن) محض ایک جھوٹ ہے گھڑا ہوا" اِن کافروں کے سامنے جب حق آیا تو انہیں نے کہہ دیا کہ "یہ تو صریح جادو ہے"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waitha tutla AAalayhim ayatuna bayyinatin qaloo ma hatha illa rajulun yureedu an yasuddakum AAamma kana yaAAbudu abaokum waqaloo ma hatha illa ifkun muftaran waqala allatheena kafaroo lilhaqqi lamma jaahum in hatha illa sihrun mubeenun

آیت 43 کی تفسیر

درس نمبر 198 ایک نظر میں

اس سورة کے اس آخری سبق کا آغاز مشرکین اور نبی ﷺ اور قرآن کریم کے بارے میں ان کے اقوال سے ہوتا ہے۔ ان کو یہ بات یاد دلائی جاتی ہے کہ ان جیسے لوگوں کا انجام کیا ہوا کرتا ہے۔ انسانی تاریخ کی ایسی اقوام کی داستانوں کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے جو ان سے زیادہ قوی ، زیادہ علم والی اور زیادہ مالدار تھیں ، جن کو اس دنیا ہی میں پکڑ لیا گیا۔

اس کے بعد عقل و خرد کے تاروں پر مسلسل شدید ترین ضربات لگائی جاتی ہیں۔ پہلی ضرب میں ان کو یہ بات سکھائی جاتی ہے کہ ذرا تنہائی میں ، تمام رکاوٹوں اور پردوں کو ہٹا کر جو انہیں صحیح فکر و نظر سے روکتے ہیں اللہ کے بارے میں سوچیں۔ دوسری ضرب میں ، ان کو اس حقیقت پر غور کرنے کے لئے دعوت دی گئی ہے کہ وہ دیکھیں کہ نبی کریم ﷺ ان لوگوں کو مسلسل جو دعوت دے رہے ہیں اس دعوت میں ان کا کوئی مفاد بھی نہیں ہے اور آپ ان سے اجر بھی طلب نہیں کرتے تو آخر یہ لوگ حضور ﷺ کی دعوت میں شک کیوں کرتے ہیں اور منہ کیوں موڑتے ہیں۔ اس کے بعد قل قل قل سے یہ ضربات مسلسل لگائی جاتی ہیں اور یہ اس قدر زور دار ہیں کہ اگر کسی دل میں ذرہ برابر بھی شعور ہو تو وہ متاثر ہوئے نظر نہیں رہ سکتا۔

اور یہ سبق قیامت کے ایک نہایت ہی متحرک منظر پر ختم ہوتا ہے جو نہایت ہی متحرک ہے اور سابقہ ضربات کے ساتھ مناسب ہے۔

درس نمبر 198 تشریح آیات

43 ۔۔۔ تا۔۔۔ 54

آیت 43 { وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْہِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا مَا ہٰذَآ اِلَّا رَجُلٌ یُّرِیْدُ اَنْ یَّصُدَّکُمْ عَمَّا کَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُکُمْ } ”اور جب انہیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ہماری روشن آیات ‘ تو وہ آپس میں ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ یہ شخص تو بس یہی چاہتا ہے کہ تم کو ان سے روک دے جن کی عبادت تمہارے آباء و اَجداد کرتے تھے“ { وَقَالُوْا مَا ہٰذَآ اِلَّآ اِفْکٌ مُّفْتَرًی } ”اور وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ کچھ بھی نہیں ہے مگر ایک گھڑا ہواجھوٹ۔“ یعنی یہ قرآن دراصل محمد ﷺ کا اپنا کلام ہے جس کو وہ وحی کے نام سے پیش کر رہے ہیں۔ { وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآئَ ہُمْ اِنْ ہٰذَآ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ} ”اور ان کافروں نے حق کے بارے میں جبکہ یہ ان کے پاس آگیا ‘ کہا کہ یہ کچھ بھی نہیں ہے مگر ایک کھلا ہواجادو۔“

کافر عذاب الٰہی کے مستحق کیوں ٹھہرے ؟ کافروں کی وہ شرارت بیان ہو رہی ہے جس کے باعث وہ اللہ کے عذابوں کے مستحق ہوئے ہیں کہ اللہ کا کلام تازہ بتازہ اس کے افضل رسول ﷺ کی زبان سے سنتے ہیں، قبول کرنا، ماننا اس کے مطابق عمل کرنا تو ایک طرف، کہتے ہیں کہ دیکھو یہ شخص تمہیں تمہارے پرانے اچھے اور سچے دین سے روک رہا ہے اور اپنے باطل خیالات کی طرف تمہیں بلا رہا ہے یہ قرآن تو اس کا خود تراشیدہ ہے آپ ہی گھڑ لیتا ہے اور یہ تو جادو ہے اور اس کا جادو ہونا کچھ ڈھکا چھپا نہیں، بالکل ظاہر ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ ان عربوں کی طرف نہ تو اس سے پہلے کوئی کتاب بھیجی گئی ہے نہ آپ سے پہلے ان میں کوئی رسول آیا ہے۔ اس لئے انہیں مدتوں سے متنا تھی کہ اگر اللہ کا رسول ہم میں آتا اگر کتاب اللہ ہم میں اترتی تو ہم سب سے زیادہ مطیع اور پابند ہوجاتے۔ لیکن جب اللہ نے ان کی یہ دیرینہ آرزو پوری کی تو جھٹلانے اور انکار کرنے لگے، ان سے اگلی امتوں کے نتیجے ان کے سامنے ہیں۔ وہ قوت و طاقت، مال و متاع، اسباب دنیوی ان لوگوں سے بہت زیادہ رکھتے تھے۔ یہ تو ابھی ان کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے لیکن میرے عذاب کے بعد نہ مال کام آئے، نہ اولاد اور کنبے قبییل کام آئے۔ نہ قوت و طاقت نے کوئی فائدہ دیا۔ برباد کردیئے گئے جیسے فرمایا (وَلَقَدْ مَكَّنّٰهُمْ فِيْمَآ اِنْ مَّكَّنّٰكُمْ فِيْهِ وَجَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَّاَبْصَارًا وَّاَفْـــِٕدَةً 26؀) 46۔ الأحقاف :26) یعنی ہم نے انہیں قوت و طاقت دے رکھی تھی۔ آنکھیں اور کان بھی رکھتے تھے، دل بھی تھے لیکن میری آیتوں کے انکار پر جب عذاب آیا اس وقت کسی چیز نے کچھ فائدہ نہ دیا اور جس کے ساتھ مذاق اڑاتے تھے اس نے انہیں گھیر لیا۔ کیا یہ لوگ زمین میں چل پھر کر اپنے سے پہلے لوگوں کا انجام نہیں دیکھتے جو ان سے تعداد میں زیادہ طاقت میں بڑھے ہوئے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ رسولوں کے جھٹلانے کے باعث پیس دیئے گئے، جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیئے گئے۔ تم غور کرلو ! دیکھ لو کہ میں نے کس طرح اپنے رسولوں کی نصرت کی اور کس طرح جھٹلانے والوں پر اپنا عذاب اتارا ؟

آیت 43 - سورہ سبا: (وإذا تتلى عليهم آياتنا بينات قالوا ما هذا إلا رجل يريد أن يصدكم عما كان يعبد آباؤكم وقالوا ما هذا...) - اردو