قل ان ربی ۔۔۔۔ الغیوب (48) ” “۔ یعنی میں جو چیز لے کر آیا ہوں وہ حق ہے ۔ یہ وہ مضبوط حق ہے جسے اللہ قوت سے پھینکتا ہے ۔ اس سچائی کے مقابلے میں کون کھڑا ہوسکتا ہے جسے اللہ زور دار انداز سے نازل کررہا ہو ۔ یہ ایک نہایت ہی مجسم اور مصور انداز تعبیر ہے ۔ گویا حق کے گولے برس رہے ہیں ، بمباری ہورہی ہے اور کسی کو ہمت نہیں ہے کہ اس کے سامنے کھڑا ہوسکے ۔ اللہ سچائی کے گولے پھینک رہا ہے جو علام الغیوب ہے ۔ وہ علم سے یہ گولے پھینک رہا ہے ۔ علم کے ساتھ ان کا رخ کسی کی طرف کرتا ہے ۔ اس کا نشانہ خطا نہیں ہوتا ۔ کوئی چیز اس سے غائب نہیں ہے اور کوئی چیز اس سچائی کی ذد سے بچ نہیں سکتی اس لیے کہ رکاوٹ بننے والی کوئی چیز سامنے نہیں ہے ۔ اللہ کے سامنے نشانہ کھلا ہے ۔
آیت 48 { قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ } ”آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ یقینا میرا رب حق کے ساتھ ضرب لگاتا ہے باطل کو ‘ وہ خوب جاننے والا ہے تمام غیبوں کا۔“ یہ مضمون اس سے پہلے سورة الانبیاء کی آیت 18 میں اس طرح بیان فرمایا گیا ہے : { بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَی الْبَاطِلِ فَیَدْمَغُہٗ فَاِذَا ہُوَ زَاہِقٌط } ”بلکہ ہم حق کو دے مارتے ہیں باطل پر تو وہ اس کا بھیجا نکال دیتا ہے ‘ پھر وہ مٹ جاتا ہے“۔ آیت زیر مطالعہ کا بھی بالکل یہی مفہوم ہے ‘ اس لیے یہاں ”یَقْذِفُ بِالْحَقِّ“ کے بعد ”عَلَی الْبَاطِلِ“ کے الفاظ کو محذوف سمجھا جانا چاہیے۔