سورہ طٰہٰ: آیت 123 - قال اهبطا منها جميعا ۖ... - اردو

آیت 123 کی تفسیر, سورہ طٰہٰ

قَالَ ٱهْبِطَا مِنْهَا جَمِيعًۢا ۖ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ ۖ فَإِمَّا يَأْتِيَنَّكُم مِّنِّى هُدًى فَمَنِ ٱتَّبَعَ هُدَاىَ فَلَا يَضِلُّ وَلَا يَشْقَىٰ

اردو ترجمہ

اور فرمایا "تم دونوں (فریق، یعنی انسان اور شیطان) یہاں سے اتر جاؤ تم ایک دُوسرے کے دشمن رہو گے اب اگر میری طرف سے تمہیں کوئی ہدایت پہنچے تو جو کوئی میری اُس ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ بھٹکے گا نہ بد بختی میں مبتلا ہو گا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qala ihbita minha jameeAAan baAAdukum libaAAdin AAaduwwun faimma yatiyannakum minnee hudan famani ittabaAAa hudaya fala yadillu wala yashqa

آیت 123 کی تفسیر

یوں مخلوق خداوندی کے ان دو گروہوں کے درمیان عداوت ہوگئی اس لئے اب اولاد آدم یہ عذر پیش نہیں کرسکتی کہ مجھے تو خبر نہ تھی کہ شیطان ہمارا دشمن ہے۔ میں تو بیخبر ی میں مارا گیا ۔ اسی لئے انسان کو ، قبل از وقت پوری طرح خبردار کردیا گیا اور پوری کائنات میں اعلان کردیا یا کہ :۔

بعضکم لبعض عدو (02 : 321) ” تم دونوں فریق ایک دوسرے کے دشمن ہو۔ “ یہ اعلان جس سے پوری کائنات گونج اٹھی جس پر تمام فرشتے گواہ ٹھہرے ، اللہ کی رحمت کا تقاضا پھر وہا کہ انسان کی ہدایت اور اسے یاد دہانی کرانے کے لئے وقتاً فوقتاً رسول بھیجے جائیں۔ چناچہ دشمن کا اعلان ہوا اور پھر فرمایا کہ رسول بھی آئیں گے اور اس کے بعد تمہیں آزادی ہوگی کہ تم کون سی راہ اختیار کرتے ہو۔

یہ منظر اس قصے کے بعد آتا ہے یوں کہ شاید یہ اس قصے کا حصہ ہے۔ درحقیقت اس کا اعلان بھی عالم بالا میں واقعہ آدم و ابلیس کے بعد ہوا۔ لہٰذا یہ اس پوری کائنات کیلئے زمانہ قدیم سے طے شدہ اصول ہے۔ یہ نہ واپس لیا جاسکتا ہے اور نہ اس میں کوئی ترمیم ہو سکتی ہے۔

فمن اتبع ھد ای فلا یضل ولایشقی (02 : 321) ” تو جو کوئی میری اس ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ بھٹکے گا نہ بدبختی میں مبتلا ہوگا۔ “ وہ گمراہی اور مصیبت سے محفوظ ہوگا ، میری ہدایت کی پیروی کی وجہ سے گمراہی اور مصیبت جنت کے دروازے کے باہر بڑی بےتابی سے تمہارے انتظار میں ہیں لیکن جو شخص میری ہدایت کی پیروی کرے گا وہ ان سے بچا رہے گا اور مصیبت دراصل گمراہی کا پھل ہے۔ اگرچہ گمراہ شخص دنیاوی ساز و سامان میں غرق ہو ، یہ ساز و سامان بھی ایک گمراہ کے لئے بڑی مصیبت ہوتا ہے۔ دنیا میں بھی مصیبت اور آخرت میں بھی مصیبت ، دنیا میں حرام کی روزی جس قدر بھی وافر ہو ، اس کے نتیجے میں انسان کی زندگی میں تلخیاں اور مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ انسان جونہی اللہ کی رہنمائی سے نکلتا ہے وہ اندھیروں میں داخل ہوجاتا ہے ، ادھر ادھر ٹامک ٹوئایں مارتا ہے ، قلق اور پریشانی اس کی زندگی کا حصہ بن جاتی ہے۔ کبھی ادھر بھاگتا ہے ، کبھی ادھر بھاگتا ہے ، اس کی زندگی واضح طور پر غیر متوازن ہوجاتی ہے۔ غرض مصیبت ایک گمراہ شخص کے ساتھ ہوتی ہے ، اگرچہ وہ عیش و عشرت میں ہو۔ اس کے لئے بہت بڑی بدبختی دار آخرت میں انتظار کرتی رہتی ہے اور جو شخص اللہ کی ہدایت پر چلتا ہے وہ دنیا میں بھی گمراہی اور مصیبت سے مکمل طور پر نجات پاتا ہے اور آخرت میں تو وہ جنت الفردوس میں ہوگا۔ صرف یوم موعود آنے کی دیر ہے۔

ایک دوسرے کے دشمن۔حضرت آدم ؑ وحوا ؑ اور ابلیس لعین سے اسی وقت فرمادیا گیا کہ تم سب جنت سے نکل جاؤ سورة بقرۃ میں اس کی پوری تفسیر گزر چکی ہے۔ تم آپس میں ایک دوسرے کے دشمن ہو یعنی اولاد آدم اور اولاد ابلیس۔ تمہارے پاس میرے رسول اور میری کتابیں آئیں گی میری بتائی ہوئی راہ کی پیروی کرنے والے نہ تو دنیا میں رسوا ہوں گے نہ آخرت میں ذلیل ہوں گے۔ ہاں حکموں کے مخالف میرے رسول کی راہ کے تارک۔ دوسری راہوں پہ چلنے والے دنیا میں بھی تنگ رہیں گے اطمینان اور کشادہ دلی میسر نہ ہوگی اپنی گمراہی کی وجہ سے تنگی میں ہی رہیں گے گو بظاہر کھانے پینے پہننے اوڑھنے رہنے سہنے کی فراخی ہو لیکن دل میں یقین و ہدایت نہ ہونے کہ وجہ سے ہمیشہ شک شبے اور تنگی اور قلت میں مبتلا رہیں گے۔ بدنصیب، رحمت الٰہی سے محروم، خیر سے خالی، کیونکہ اللہ پر ایمان نہیں، اس کے وعدوں کا یقین نہیں، مرنے کے بعد کی نعمتوں میں کوئی حصہ نہیں۔ اللہ کے ساتھ بدگمان، گئی ہوئی چیز کو آنے والی نہیں سمجھتے۔ خبیث روزیاں ہیں، گندے عمل ہیں، قبر تنگ و تاریک ہے وہاں اس طرح دبوچا جائے گا کہ دائیں پسلیاں بائیں میں اور بائیں طرف کی دائیں طرف میں گھس جائیں گی۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں مومن کی قبر ہرا بھرا سرسبز باغیچہ ہے ستر ہاتھ کی کشادہ ہے ایسا معلوم ہوتا ہے گویا چاند اس میں ہے خوب نور اور روشنی پھیل رہی ہے جیسے چودھویں رات کا چاند چڑھا ہوا ہو۔ اس آیت کا شان نزول معلوم ہے کہ میرے ذکر سے منہ پھیرنے والوں کی معیشت تنگ ہے اس سے مراد کافر کی قبر میں اس پر عذاب ہے۔ اللہ کی قسم اس پر ننانوے اژدھے مقرر کئے جاتے ہیں ہر ایک کے سات سات سر ہوتے ہیں جو اسے قیامت تک ڈستے رہتے ہیں۔ اس حدیث کا مرفوع ہونا بالکل منکر ہے ایک عمدہ سند سے بھی مروی ہے کہ اس سے مراد عذاب قبر ہے۔ قیامت کے دن اندھا بنا کر اٹھایا جائے گا سوائے جہنم کے کوئی چیز اسے نظر نہ آئے گی۔ نابینا ہوگا اور میدان حشر کی طرف چلایا جائے گا اور جہنم کے سامنے کھڑا کردیا جائے گا۔ جیسے فرمان ہے (وَنَحْشُرُهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عَلٰي وُجُوْهِهِمْ عُمْيًا وَّبُكْمًا وَّصُمًّا ۭ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ ۭ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِيْرًا 97؀) 17۔ الإسراء :97) یعنی ہم انہیں قیامت کے دن اوندھے منہ اندھے گونگے بہرے بنا کر حشر میں لے جائیں گے ان کا اصلی ٹھکانہ دوزخ ہے۔ یہ کہیں گے میں تو دنیا میں آنکھوں والا خوب دیکھتا بھالتا تھا پھر مجھے اندھا کیوں کردیا گیا ؟ جواب ملے گا کہ یہ بدلہ ہے اللہ کی آیتوں سے منہ موڑ لینے کا اور ایسا ہوجانے کا گویا خبر ہی نہیں۔ پس آج ہم بھی تیرے ساتھ ایسا معاملہ کریں گے کہ جیسے تو ہماری یاد سے اتر گیا جیسے فرمان ہے (فَالْيَوْمَ نَنْسٰىهُمْ كَمَا نَسُوْا لِقَاۗءَ يَوْمِهِمْ ھٰذَا ۙ وَمَا كَانُوْا بِاٰيٰتِنَا يَجْحَدُوْنَ 51؀) 7۔ الاعراف :51) آج ہم انہیں ٹھیک اسی طرح بھلا دیں گے جیسے انہوں نے آج کے دن کی ملاقات کو بھلا دیا تھا۔ پس یہ برابر کا اور عمل کی طرح کا بدلہ ہے۔ قرآن پر ایمان رکھتے ہوئے اس کے احکام کا عامل ہوتے ہوئے کسی شخص سے اگر اسکے الفاظ حفظ سے نکل جائیں تو وہ اس وعید میں داخل نہیں۔ اس کے لئے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے جذامی ہونے کی حالت میں ملاقات کرے گا (مسند احمد)

آیت 123 - سورہ طٰہٰ: (قال اهبطا منها جميعا ۖ بعضكم لبعض عدو ۖ فإما يأتينكم مني هدى فمن اتبع هداي فلا يضل ولا يشقى...) - اردو