سورہ طٰہٰ: آیت 53 - الذي جعل لكم الأرض مهدا... - اردو

آیت 53 کی تفسیر, سورہ طٰہٰ

ٱلَّذِى جَعَلَ لَكُمُ ٱلْأَرْضَ مَهْدًا وَسَلَكَ لَكُمْ فِيهَا سُبُلًا وَأَنزَلَ مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءً فَأَخْرَجْنَا بِهِۦٓ أَزْوَٰجًا مِّن نَّبَاتٍ شَتَّىٰ

اردو ترجمہ

وہی جس نے تمہارے لیے زمین کا فرش بچھایا، اور اُس میں تمہارے چلنے کو راستے بنائے، اور اوپر سے پانی برسایا، پھر اُس کے ذریعہ سے مختلف اقسام کی پیداوار نکالی

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Allathee jaAAala lakumu alarda mahdan wasalaka lakum feeha subulan waanzala mina alssamai maan faakhrajna bihi azwajan min nabatin shatta

آیت 53 کی تفسیر

الذی ……النھی (35)

تمام علاقوں میں اور تمام زمانوں میں زمین انسانوں کے لئے ایک گہوارہ رہی ہے۔ ایسا ہی گہوارا جس طرح بچے گا گہوارہ ہوتا ہے ، انسانوں کی حیثیت زمین پر اسی طرح ہے کہ جس طرح ماں کے بچے ہوتے ہیں۔ زمین تمام انسانوں کے لئے ماں ہے۔ زمین کا دامن انہیں پناہ دیتا ہے اور زمین کے پستان سے وہ رزق کھاتے ہیں۔ نیز یہ ان کے لئے برائے آرام ، برائے سیر ، برائے زراعت اور زندگی کی تمام سرگرمیوں کے لئے تیار کی گئی ہے۔ جب سے اللہ نے ہر چیز کو لباس تخلیق پہنایا ہے۔ اس دن سے اس نے اسے ایسا بنایا ہے ، زمین کو بھی اس نے یہ شکل وہیت دی ہے تاکہ ” انسانوں کی زندگی کے لئے صالح ہو۔ کیونکہ اللہ کی اسکیم میں انسان نے یہیں رہنا تھا۔ پھر جب انسان کو پیدا کیا تو اسے بھی ایسا ہی بنایا کہ وہ اس کرئہ ارض پر تخلیق کے لئے تیار ہو ، کیونکہ اللہ نے زمین کو بھی انسانوں کے لئے تیار کیا تھا اور گہوارہ بنایا تھا۔ دونوں مفہوم مہد یعنی تیار کیا اور مہد یعنی گہوارہ متقارب ہیں۔

زمین کا تیار شدہ ہونا یا گہوارہ ہونا جس طرح مصر میں ظاہر ہے دنیا کے کسی دوسرے خطے میں ظاہر نہیں ہے۔ یہ نہایت ہی سرسبز اور زرخیز وادی ہے۔ یہاں کے لوگ ہر کام میں کم محنت کر کے بہت کچھ پاتے ہیں ، زراعت میں باغات وغیرہ ہیں۔ گویا اطفال انسانیت کے لئے یہ نرم اور آرام دہ گہوارہ ہے۔

خالق کائنات جس نے زمین کو گہوارہ بنایا ، اس میں اس نے انسانوں کے لئے راستے بھی بنائے ، آسمانوں سے بارشوں کا انتظام کیا ، بارشوں کے پانیوں سے نہریں اور دریا چلے ، ان میں سے ایک دریائے نیل تھا جو فرعون کے قریب تھا ، اور مصریوں کے لئے بہت اہم پھر نباتات بھی جوڑوں کی شکل میں بنئای اور سر زمین مصر بہترین نمونہ ہے فصلوں کی پیداوار اور مویشیوں کے چرانے کے لئے۔

اللہ کی گہری مشیت کو دیکھیے کہ اللہ نے نباتات میں بھی انسانوں کی طرح نر اور مادہ پیدا کئے جس طرح تمام حیوانات نر و مادہ ہیں۔ تمام زندہ چیزوں میں نر و مادہ کے خلیے ہوتے ہیں اور بعض اوقات نر پودا اور ہوتا ہے اور مادہ پودا اور یوں قوانین قدرت میں ایک ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔

ان فی ذلک لایت الاولی النھی (02 : 35) ” یقینا اس میں بہت سی نشانیاں ہیں عقل رکھنے والوں کے لئے۔ “ اس کائنات کا نظام اس قدر سبق آموز ہے کہ جو شخص ذرا بھی معقولیت کے ساتھ اس کا مطالعہ کرے اس میں اسے بیشمار دلائل و نشانات نظر آئیں گے۔

اللہ رب العزت کا تعارف۔ موسیٰ ؑ فرعون کے سوال کے جواب میں اوصاف الٰہی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اسی اللہ نے زمین کو لوگوں کے لئے فرش بنایا ہے۔ مھدا کی دوسری قرأت مھادا ہے۔ زمین کو اللہ تعالیٰ نے بطور فرش کے بنادیا ہے کہ تم اس پر قرار کئے ہوئے ہو، اسی پر سوتے بیٹھتے رہتے سہتے ہو۔ اس نے زمین میں تمہارے چلنے پھرنے اور سفر کرنے کے لئے راہیں بنادی ہیں تاکہ تم راستہ نہ بھولو اور منزل مقصود تک بہ آسانی پہنچ سکو۔ وہی آسمان سے بارش برساتا ہے اور اس کی وجہ سے زمین سے ہر قسم کی پیداوار اگاتا ہے۔ کھیتیاں باغات میوے قسم قسم کے ذائقے دار کہ تم خود کھالو اور اپنے جانوروں کو چارہ بھی دو۔ تمہارا کھانا اور میوے تمہارے جانوروں کا چارا خشک اور تر سب اسی سے اللہ تعالیٰ پیدا کرتا ہے۔ جن کی عقلیں صحیح سالم ہیں ان کے لئے تو قدرت کی یہ تمام نشانیاں دلیل ہیں۔ اللہ کی الوہیت، اس کی وحدانیت اور اس کے وجود پر۔ اسی زمین سے ہم نے تمہیں پیدا فرمایا ہے۔ تمہاری ابتدا اسی سے ہے۔ اس لئے کہ تمہارے باپ حضرت آدم ؑ کی پیدائش اسی سے ہوئی ہے۔ اسی میں تمہیں پھر لوٹنا ہے، مر کر اسی میں دفن ہونا ہے، اسی سے پھر قیامت کے دن کھڑے کئے جاؤ گے۔ ہماری پکار پر ہماری تعریفیں کرتے ہوئے اٹھو گے اور یقین کرلو گے کہ تم بہت ہی تھوڑی دیر رہے۔ جیسے اور آیت میں ہے کہ اسی زمین پر تمہاری زندگی گزرے گی مر کر بھی اسی میں جاؤ گے پھر اسی میں سے نکالے جاؤ گے۔ سنن کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک میت کے دفن کے بعد اس کی قبر پر مٹی ڈالتے ہوئے پہلی بار فرمایا (مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ 55۔) 20۔ طه :55) دوسری لپ ڈالتے ہوئے فرمایا (وَفِيْهَا نُعِيْدُكُمْ 55۔) 20۔ طه :55) تیسری بار فرمایا (وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً اُخْرٰى 55۔) 20۔ طه :55)۔ الغرض فرعون کے سامنے دلیلیں آچکیں، اس نے معجزے اور نشان دیکھ لئے لیکن سب کا انکار اور تکذیب کرتا رہا، کفر سرکشی ضد اور تکبر سے باز نہ آیا۔ جیسے فرمان ہے یعنی باوجود یہ کہ ان کے دلوں میں یقین ہوچکا تھا لیکن تاہم ازراہ ظلم و زیادتی انکار سے باز نہ آئے۔

آیت 53 - سورہ طٰہٰ: (الذي جعل لكم الأرض مهدا وسلك لكم فيها سبلا وأنزل من السماء ماء فأخرجنا به أزواجا من نبات شتى...) - اردو