سورہ طٰہٰ: آیت 60 - فتولى فرعون فجمع كيده ثم... - اردو

آیت 60 کی تفسیر, سورہ طٰہٰ

فَتَوَلَّىٰ فِرْعَوْنُ فَجَمَعَ كَيْدَهُۥ ثُمَّ أَتَىٰ

اردو ترجمہ

فرعون نے پلٹ کر اپنے سارے ہتھکنڈے جمع کیے اور مقابلے میں آ گیا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Fatawalla firAAawnu fajamaAAa kaydahu thumma ata

آیت 60 کی تفسیر

فتول فرعون فجمع کیدہ ، ثم اتی (06)

قرآن مجید نے فرعون کی ہدایات فرعون کے سرداروں کے مشورے اور پھر اس کے اور جادوگروں کے درمیان جو مکالمہ ہوا ، ان سب امور کو مجمل چھوڑ دیا ہے۔ اس سلسلے میں ان کے باہم جو مشورے ہوئے ، جو تیاریاں کی گئیں ، جادگروں سے جو وعدہ ہوئے اور ان کی حوصلہ افزائی کی گئی یہ سب امور ترک کردیئے گئے ہیں۔ صرف ایک مختصر جملہ کہا کہ ” فرون نے پلٹ کر اپنے سارے ہتھکنڈے جمع کر لئے اور مقابلے میں آگیا “ ۔ یہ مختصر اور چھٹوی سی آیت مسلسل تین اقدامات اور حرکات کو ظاہر کرتی ہے ، فرعون گیا ، تمام تدابیر اختیار کیں اور مقابلے پر آگیا۔

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ سوچا کہ مقابلے میں آنے سے قبل ان لوگوں کو نصیحت کرنا ایک بنیادی فریضہ ہے یہ کہ حق کے مقابلے میں وہ جو افتراء باندھ رہے ہیں وہ نہایت ہی خطرناک فعل ہے ، اس لئے کہ ہو سکتا ہے وہ باز آجائیں ، جادو کے ذریعہ سچائی کے مقابلے میں آنے کا ارادہ ترک کردیں ، یہاں جادو کو افترئا کہا گیا ہے۔

آیت 60 فَتَوَلّٰی فِرْعَوْنُ ”جب حضرت موسیٰ علیہ السلام سے مقابلہ طے ہوگیا تو فرعون نے اپنی پوری توجہ اس کے لیے تیاری کرنے پر مرکوز کردی۔ فَجَمَعَ کَیْدَہٗ ثُمَّ اَتٰی ”اس نے اپنی پوری مملکت سے ماہر جادو گروں کو اکٹھا کیا اور یوں پوری تیاری کے ساتھ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مقابلے کے لیے میدان میں اترا تاکہ ثابت کرسکے کہ آپ علیہ السلام کا دعویٰ باطل ہے۔

مقابلہ اور نتیجہ۔ جب کہ مقابلہ کی تاریخ مقرر ہوگئی، دن وقت اور جگہ بھی ہوگئی تو فرعون نے ادھر ادھر سے جادوگروں کو جمع کرنا شروع کیا اس زمانے میں جادو کا بہت زور تھا اور بڑے بڑے جادوگر موجود تھے۔ فرعون نے عام طور سے حکم جاری کردیا تھا کہ تمام ہوشیار جادوگروں کو میرے پاس بھیج دو۔ مقررہ وقت تک تمام جادوگر جمع ہوگئے فرعون نے اسی میدان میں اپنا تخت نکلوایا اس پر بیٹھا تمام امراء وزراء اپنی اپنی جگہ بیٹھ گئے رعایا سب جمع ہوگئی جادوگروں کی صفوں کی صفیں پرا باندھے تخت کے آگے کھڑی ہوگئیں۔ فرعون نے ان کی کمر ٹھونکنی شروع کی اور کہا دیکھو آج اپنا وہ ہنر دکھاؤ کہ دنیا میں یادگار رہ جائے۔ جادوگروں نے کہا کہ اگر ہم بازی لے جائیں تو ہمیں کچھ انعام بھی ملے گا ؟ کہا کیوں نہیں ؟ میں تو تمہیں اپنا خاص درباری بنا لوں گا۔ ادھر سے کلیم اللہ حضرت موسیٰ ؑ نے انہیں تبلیغ شروع کی کہ دیکھو اللہ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ شامت اعمال برباد کر دے گی۔ لوگوں کی آنکھوں میں خاک نہ جھونکو کہ درحقیقت کچھ نہ ہو اور تم اپنے جادو سے بہت کچھ دکھا دو۔ اللہ کے سوا کوئی خالق نہیں جو فی الواقع کسی چیز کو پیدا کرسکے۔ یاد رکھو ایسے جھوٹے بہتانی لوگ فلاح نہیں پاتے۔ یہ سن کر ان میں آپس میں چہ میگوئیاں شروع ہوگئیں۔ بعض تو سمجھ گئے اور کہنے لگے یہ کلام جادوگروں کا نہیں یہ تو سچ مچ اللہ کے رسول ہیں۔ بعض نے کہا نہیں بلکہ یہ جادوگر ہیں مقابلہ کرو۔ یہ باتیں بہت ہی احتیاط اور راز سے کی گئیں۔ (ان ھذن) کی دوسری قرأت (ان ھذین) بھی ہے مطلب اور معنی دونوں قرأتوں کا ایک ہی ہے۔ اب با آواز بلند کہنے لگے کہ یہ دونوں بھائی سیانے اور پہنچے ہوئے جادوگر ہیں۔ اس وقت تک تو تمہاری ہوا بندھی ہوئی ہے بادشاہ کا قرب نصیب ہے مال و دولت قدموں تلے لوٹ رہا ہے لیکن آج اگر یہ بازی لے گئے تو ظاہر ہے کہ ریاست ان ہی کی ہوجائے گی تمہیں ملک سے نکال دیں گے عوام ان کے ماتحت ہوجائیں گے ان کا زور بند بندھ جائے گا یہ بادشاہت چھین لیں گے اور ساتھ ہی تمہارے مذہب کو ملیا میٹ کردیں گے۔ بادشاہت عیش و آرام سب چیزیں تم سے چھن جائیں گی۔ شرافت عقلمندی ریاست سب ان کے قبضے میں آجائے گی تم یونہی بھٹے بھونتے رہ جاؤ گے۔ تمہارے اشراف ذلیل ہوجائیں گے امیر فقیر بن جائیں گے ساری رونق اور بہار جاتی رہے گی۔ بنی اسرائیل جو تمہارے لونڈی غلام بنے ہوئے ہیں یہ سب ان کے ساتھ ہوجائیں گے اور تمہاری حکومت پاش پاش ہوجائے گی۔ تم سب اتفاق کرلو۔ ان کے مقابلے میں صف بندی کر کے اپنا کوئی فن باقی نہ رکھو جی کھول کر ہوشیاری اور دانائی سے اپنے جادو کے زور سے اسے دبا لو۔ ایک ہی دفعہ ہر استاد اپنی کاری گری دکھا دے تاکہ میدان ہمارے جادو سے پر ہوجائے دیکھو اگر وہ جیت گیا تو یہ ریاست اسی کی ہوجائے گی اور اگر ہم غالب آگئے تو تم سن چکے ہو کہ بادشاہ ہمیں اپنا مقرب اور دربار خاص کے اراکین بنا دے گا۔

آیت 60 - سورہ طٰہٰ: (فتولى فرعون فجمع كيده ثم أتى...) - اردو