اب تو خطرے کا علاقہ گزر گیا۔ بنی اسرائیل کامیابی سے طور کی طرف سینئای کے میدان میں آگئے۔ فرعون اور اس کی افواج سمندر میں غرق ہوگئیں۔ بنی اسرائیل کی اس نجات پر ابھی تک زیادہ عرصہ نہیں گزرا ، یہ ان کے حافظے میں تازہ واقعہ ہے لیکن اس تازہ ترین نعمت کی طرف بھی باری تعالیٰ ان کی توجہ مبذول کراتے ہیں کہ تم اس واقعہ کو کہیں بھول نہ جائو۔ غور کرو اور شکر کرو۔
یہاں بنی اسرائیل کے ساتھ طور ایمان کے جس وعدے کا ذکر ہے ، یہ واقعہ ہوچکا ہے۔ مصر سے اخراج کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ نے طور پر بلایا تھا تاکہ وہ اللہ کے ساتھ ملاقات کے لئے تربیت حاصل کریں گی اور اللہ وہ تعلیمات سنیں جو الواح میں انہیں دی جاتی تھیں۔ جن کا تعلق دین اور شریعت سے تھا اور بنی اسرائیل اس عالم کردار کے لئے تیار اور منظم ہوں جو انہوں نے ارض مقدس میں سرانجام دینا تھا۔
پھر ان کے لئے من نازل کرنا ، من ایک ایسا میٹھا مادہ تھا جو درختوں کے پتوں پر جمع ہوجاتا تھا اور سلویٰ ایک پرندہ تھا جو وہاں بکثرت ان کے لئے صحرا میں جمع ہوجاتا تھا ، جسے بہ سہولت پکڑا اور کھایا جاسکتا تھا۔ یہ دونوں چیزیں ان کے لئے اس چٹیل میدان اور غیر آباد صحرا میں خصوصی انعام تھیں۔ یہ چیزیں ان کو روزمرہ کے کھانے میں فراہم ہوجاتی تھیں اور بڑی سہولت سے فراہم ہوجاتی تھیں۔
اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو یہ انعامات یاد دلا کر یہ نصیحت کرتا ہے کہ ان کو کھائو لکین سرکشی مت کرو اور عیش و عشرت میں گم ہو کر ان مقاصد اور اس نصب العین کو نہ بھول جائو جس کے لئے تم مصر سے نکلے ہو ، اور جس بات سے یہاں خصوصاً انہیں منع کیا جا رہا ہے وہ سرکشی ہے۔ سرکشی کو تو وہ مصر میں دیکھ چکے تھے۔ اس کے تحت وہ مظالم سہہ چکے تھے اور اس کا انجام بھی دیکھ چکے تھے۔
آیت 80 یٰبَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ قَدْ اَنْجَیْنٰکُمْ مِّنْ عَدُوِّکُمْ وَوٰعَدْنٰکُمْ جَانِبَ الطُّوْرِ الْاَیْمَنَ ”یہ اسی مقام کا ذکر ہے جہاں پہلے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو نبوت سے سرفراز کیا گیا تھا۔
احسانات کی یاد دہانی۔ اللہ تبارک وتعالی نے بنی اسرائیل پر جو بڑے بڑے احسان کئے تھے انہیں یاددلارہا ہے ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ انہیں ان کے دشمن سے نجات دی۔ اور اتنا ہی نہیں بلکہ ان کے دشمنوں کو ان کے دیکھتے ہوئے دریا میں ڈبو دیا۔ ایک بھی ان میں سے باقی نہ بچا جیسے فرمان ہے (واغرقنا ال فرعون وانتم تنظرون)۔ یعنی ہم نے تمہارے دیکھتے ہوئے فرعونیوں کو ڈبو دیا۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ مدینے کے یہودیوں کو عاشورے کے دن کا روزہ رکھتے ہوئے دیکھ کر رسول اللہ ﷺ نے ان سے اس کا سبب معلوم فرمایا انہوں نے جواب دیا کہ اسی دن اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کو فرعون پر کامیاب کیا تھا۔ آپ نے فرمایا پھر تو ہمیں بہ نسبت تمہارے ان سے زیادہ قرب ہے چناچہ آپ نے مسلمانوں کو اس دن کے روزے کا حکم دیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے کلیم کو کوہ طور کی دائیں جانب کا وعدہ دیا۔ آپ وہاں گئے اور پیچھے سے بنو اسرائیل نے گوسالہ پرستی شروع کردی۔ جس کا بیان ابھی آگے آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ۔ اسی طرح ایک احسان ان پر یہ کیا کہ من وسلوی کھانے کو دیا اس کا پورا بیان سورة بقرۃ وغیرہ کی تفیسر میں گزر چکا ہے من ایک میٹھی چیز تھی جو ان کے لئے آسمان سے اترتی تھی اور سلوی ایک قسم کے پرند تھے جو بہ حکم خداوندی ان کے سامنے آجاتے تھے یہ بقدر ایک دن کی خوراک کے انہیں لے لیتے تھے۔ ہماری یہ دی ہوئی روزی کھاؤ اس میں حد سے نہ گزر جاؤ حرام چیزیا حرام ذریعہ سے اسے نہ طلب کرو۔ ورنہ میرا غضب نازل ہوگا اور جس پر میرا غضب اترے یقین مانو کہ وہ بدبخت ہوگیا۔ حضرت شغی بن مانع ؒ فرماتے ہیں کہ جہنم میں ایک اونچی جگہ بنی ہوئی ہے جہاں کافر کو جہنم میں گرایا جاتا ہے تو زنجیروں کی جگہ تک چالیس سال میں پہنچتا ہے یہی مطلب اس آیت کا ہے کہ وہ گڑھے میں گرپڑا۔ ہاں جو بھی اپنے گناہوں سے میرے سامنے توبہ کرے میں اس کی توبہ قبول کرتا ہوں۔ دیکھو بنی اسرائیل میں سے جہنوں نے بچھڑے کی پوجا کی تھی ان کی توبہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کو بخش دیا۔ غرض جس کفر و شرک گناہ و معصیت پر کوئی ہو پھر وہ اسے بخوف الہی چھوڑ دے اللہ تعالیٰ اسے معاف فرما دیتا ہے ہاں دل میں ایمان اور اعمال صالحہ بھی کرتا ہو اور ہو بھی راہ راست پر۔ شکی نہ ہو سنت رسول اور جماعت صحابہ کی روش پر ہو اس میں ثواب جانتا ہو یہاں پر ثم کا لفظ خبر کی خبر پر ترتیب کرنے کے لئے آیا ہے جیسے فرمان (ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَتَوَاصَوْا بالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بالْمَرْحَمَةِ 17ۭ) 90۔ البلد :17)