سورہ طٰہٰ: آیت 81 - كلوا من طيبات ما رزقناكم... - اردو

آیت 81 کی تفسیر, سورہ طٰہٰ

كُلُوا۟ مِن طَيِّبَٰتِ مَا رَزَقْنَٰكُمْ وَلَا تَطْغَوْا۟ فِيهِ فَيَحِلَّ عَلَيْكُمْ غَضَبِى ۖ وَمَن يَحْلِلْ عَلَيْهِ غَضَبِى فَقَدْ هَوَىٰ

اردو ترجمہ

کھاؤ ہمارا دیا ہوا پاک رزق اور اسے کھا کر سرکشی نہ کرو، ورنہ تم پر میرا غضب ٹوٹ پڑے گا اور جس پر میرا غضب ٹوٹا وہ پھر گر کر ہی رہا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Kuloo min tayyibati ma razaqnakum wala tatghaw feehi fayahilla AAalaykum ghadabee waman yahlil AAalayhi ghadabee faqad hawa

آیت 81 کی تفسیر

ولا تطغوا فیہ فیحل علیکم غضبی و من یحلل علیہ غضبی فقد ھوی (02 : 18) ” سرکشی نہ کرو ، ورنہ تم پر میرا غضب ٹوٹ پڑے گا اور جن پر میرا غضب ٹوٹا ، وہ پھر گر کر ہی رہا۔ “ حال ہی میں وہ دیکھ چکے تھے کہ فرعون کس طرح گرا۔ وہ تخت سے بھی گرا اور پھر سمندر میں بھی گرا۔ گرنا جس طرح اوپر سے نیچے کے عمل کو دکھاتا ہے ، اسی طرح سرکشی اور تکبر نیچے سے اوپر کی طرف جانے کے عمل کو ظاہر کرتا ہے۔ ان دونوں چیزوں کو قرآن کریم اپنے مخصوص انداز بیان کے مطابق باہم مربوط کر کے پیش کرتا ہے جس میں مفہومات باہم مقابل ہوتے ہیں۔

یہ تنبیہ اور ڈراوا اس قوم کے لئے ہے جو حال ہی میں ایک مخصوص مقصد کے لئے مصر سے نکلی ہے تاکہ آزادی اور عیش پرستی ان کو گمراہ نہ کر دے۔ وہ عیش پرستی اختیار کر کے کمزور نہ ہوجائیں۔ لیکن اس تنبیہ اور ڈراوے کے ساتھ ساتھ توبہ کا دروازہ بھی کھلا رہتا ہے تاکہ اگر کسی سے غلطی ہو تو وہ واپس آسکے۔

آیت 81 کُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰکُمْ وَلَا تَطْغَوْا فِیْہِ ”لیکن منع کرنے کے باوجود بنی اسرائیل نے اس معاملے میں زیادتی کی۔ زیادتی کی ایک صورت تو یہ تھی کہ وہ اسے سینت سینت کر رکھتے تھے ‘ اس خدشے سے کہ شاید کل یہ نازل نہ ہو اور یوں توکل علی اللہ کی نفی کرتے تھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے اس میں اس طرح بھی زیادتی کی کہ کچھ ہی عرصہ بعد اس کی ناقدری کرتے ہوئے اس کے مقابلے میں دوسری چیزوں کا مطالبہ شروع کردیا۔

آیت 81 - سورہ طٰہٰ: (كلوا من طيبات ما رزقناكم ولا تطغوا فيه فيحل عليكم غضبي ۖ ومن يحلل عليه غضبي فقد هوى...) - اردو