قال فانا قدفتنا قومک من بعدلک واضلھم السامری (02 : 58) ” فرمایا اچھا تو سنو ، کہ ہم نے تمہارے پیچھے تمہاری قوم کو آزمائش میں ڈال دیا ار سامری نے انہیں گمراہ کر ڈالا۔ “ موسیٰ (علیہ السلام) کو اس ابتلاء کا پتہ نہ تھا۔ اللہ کے ساتھ ملاقات میں پہلی بار ان کو پتہ چلا۔ حضرت موسیٰ نے یہ تختیاں لیں۔ ان میں ہدایت تھی۔ اس میں بنی اسرائیل کی زندگی کی تعمیر کے لئے ایک ایسا دستور تھا جو انہیں اس مقصد کے لئے تیار کر کے دیا گیا تھا جس کے لئے انہیں اٹھایا گیا تھا۔
یہاں کوہ طور موسیٰ (علیہ السلام) کی مناجات کا منظر جلدی سے لپیٹ دیا جاتا ہے تاکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ان تاثرات کو قلم بند کیا جائے جو ان پر وقم کی گمراہی کی خبر سن کر طاری ہوئے۔ واپسی کے لئے ان کی جلدی بھی منظر پر آئے اور یہ دکھایا جائے کہ وہ کس قدر غیض و غضب میں ہیں۔ اس قوم کو تو انہوں نے حال ہی میں فرعون کی غلامی سے چھڑایا تھا اور بت پرستی کی ذلت سے نجات دلائی تھی۔ پھر اللہ نے صحرا میں ان کے لئے کھانے پینے کی سہولتیں مہیا کیں اور صاف صاف ہدایات بھی دیں کہ گمراہی سے بچنا اور گمراہی کے عواقب اور نتائج بھی بتا دیئے۔ لیکن ان کی حالت یہ ہے کہ وہ پہلی ہی پکار پر بت پرست بن گئے اور پھر مصنوعی گو سالہ کی پرستش میں لگ گئے۔
یہاں قرآن مجید صراحت کے ساتھ یہ نہیں بتاتا کہ اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بنی اسرائیل کی ضلالت کی تفصیلات بتا دی تھی یا نہیں لیکن واپسی پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا غیض و غضب کا اظہار کرنا ، نہایت ہی ناراض ہونا ، بھائی پر غصہ ہونا اور قوم کو ملامت کرنا ، یہ سب امور یہ بتلاتے ہیں کہ اللہ نے ان کو سب کچھ بتلا دیا تھا اور وہ جان گیء تھے کہ بنی اسرائیل نے کسی نہایت ہی بری حرکت کا ارتکاب کیا ہے۔
آیت 85 قَالَ فَاِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَکَ مِنْم بَعْدِکَ ”اگرچہ یہاں صراحت کے ساتھ ایسے الفاظ استعمال نہیں ہوئے مگر انداز سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ آپ علیہ السلام کی اس عجلت پسندی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی قوم کو فتنے میں مبتلا کردیا۔وَاَضَلَّہُمُ السَّامِرِیُّ ”اس انداز تخاطب میں یہ تفصیل بھی مضمر ہے کہ اگر آپ علیہ السلام اپنی قوم کے ساتھ ساتھ رہتے ‘ ان کا تزکیہ کرتے رہتے ‘ وہ لوگ آپ علیہ السلام کی تعلیم و تربیت سے مسلسل بہرہ مند ہوتے رہتے تو یقیناً ان کی عقل و فہم مزید پختہ ہوتی اور اس طرح اس فتنے کی نوبت نہ آتی۔ لیکن جب آپ علیہ السلام انہیں چھوڑ کر آگئے تو اس کے نتیجے میں ایک فتنہ گر شخص کو اپنا شیطانی کھیل کھیلنے کا موقع مل گیا۔سامری کے بارے میں ایک رائے تو یہ ہے کہ اس کا تعلق قبطی قوم سے تھا اور کسی وجہ سے وہ بنی اسرائیل کے ساتھ مل چکا تھا۔ لیکن اس سلسلے میں معتبر رائے یہی ہے کہ وہ بنی اسرائیل میں سے ہی تھا مگر منافق تھا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام سے اسے خاص کد تھی۔ بالکل اسی طرح جیسے ابو عامر راہب کو حضور ﷺ سے کد تھی۔ ابو عامر راہب کا ذکر سورة التوبہ کے مطالعے کے دوران آیا تھا۔ بنیادی طور پر وہ خزرجی تھا۔ ابتدائی عمر میں بہت نیک اور عبادت گزار تھا ‘ بعد میں اس نے عیسائیت قبول کر کے رہبانیت اختیار کرلی۔ حضور ﷺ سے اسے خصوصی طور پر بغض تھا اور اس کا یہ بغض اس حد تک بڑھا ہوا تھا کہ وہ اپنی ساری زندگی آپ علیہ السلام کے خلاف جدوجہد اور سازشوں میں مصروف رہا۔ چناچہ جیسا کردار ابوعامر راہب کا امت محمد ﷺ میں رہا ‘ اس سے ملتا جلتا کردار حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امت میں سامری کا تھا۔