جائو تم ملک بدر ہو ، تمہیں کوئی شخص بھی ہاتھ نہ لگائے گا ، نہ اچھائی سے اور نہ برائی کے ساتھ اور نہ تم کسی کے ساتھ ہاتھ لگائو گے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے دین میں یہ سزائوں میں سے ایک سزا تھی۔ یہ اچھوت بنانے کی سزا تھی اور مجرم کو گندا قرار دیا جاتا تھا کہ نہ وہ کسی کو ہاتھ لگائے ، نہ اس کے ساتھ کوئی ہاتھ لگائے۔ یہ کہ تمہارے لئے باز پرس کا ایک وقت مقرر ہے ، تو اس سے مراد قیامت کا وقت جزاء و سزا ہے جس سے اگر کوئی بچنا چاہے بھی تو نہیں بچ سکتا۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ نے بڑی سختی اور غصے میں یہ احکام دیئے کہ اس بچھڑے کو لے جا کر جلائو اور اس کی آنکھ کو پانی میں بکھیر دو ۔ سختی اور غصہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مزاج کا حصہ ہے۔ یہاں ان کی یہ سختی اور غصہ صرف اللہ کے لئے ہے اور اللہ کے دین کے معاملے میں غصہ معیوب نہیں ہوتا۔ دین کے معاملے میں شدت مستحسن سمجھی جاتی ہے۔
جب سامری کا یہ الہ جلتا ہوا نظر آتا تھا ، تو اس منظر کے سامنے حضرت موسیٰ نے مناسب سمجھا کہ اسلامی عقیدے اور الہ کے بارے میں حقیقت لوگوں کو بتا دی جائے۔
آیت 97 قَالَ فَاذْہَبْ فَاِنَّ لَکَ فِی الْْحَیٰوۃِ اَنْ تَقُوْلَ لَا مِسَاسَص ”سامری بطور سزا جس بیماری میں مبتلا کیا گیا تھا اس کی تفصیل تو نہیں ملتی مگر ان الفاظ سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ عملاً وہ اچھوت بن کر رہ گیا تھا۔ نہ وہ کسی کے قریب جاسکتا تھا اور نہ ہی کوئی دوسرا شخص اس کے پاس آسکتا تھا۔ بعض روایات میں اس طرح کی تفصیلات ملتی ہیں کہ اگر کوئی شخص اس کے قریب جاتا تو دونوں سخت بخار میں مبتلا ہوجاتے تھے اور یوں باقی تمام زندگی اسے معاشرتی مقاطعہ کی سزا بھگتنا پڑی۔