سورہ یٰسین: آیت 71 - أولم يروا أنا خلقنا لهم... - اردو

آیت 71 کی تفسیر, سورہ یٰسین

أَوَلَمْ يَرَوْا۟ أَنَّا خَلَقْنَا لَهُم مِّمَّا عَمِلَتْ أَيْدِينَآ أَنْعَٰمًا فَهُمْ لَهَا مَٰلِكُونَ

اردو ترجمہ

کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں ہیں کہ ہم نے اپنے ہاتھوں کی بنائی ہوئی چیزوں میں سے اِن کے لیے مویشی پیدا کیے اور اب یہ ان کے مالک ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Awalam yaraw anna khalaqna lahum mimma AAamilat aydeena anAAaman fahum laha malikoona

آیت 71 کی تفسیر

اولم یروا انا ۔۔۔۔۔ ما یسرون وما یعلنون (71 – 76)

کیا یہ دیکھتے نہیں ؟ اللہ کی نشانیاں تو ان کے سامنے موجود ہیں اور سب کو نظر آتی ہیں۔ نہ ان سے اوجھل ہیں اور نہ دور ہیں۔ اور نہ یہ نشانیاں اس قدر پیچیدہ ہیں کہ انہیں سمجھنے کے لئے کسی بڑے غوروفکر کی ضرورت ہے۔ یہ انعامات جو اللہ نے انسانوں کے لیے پیدا کیے اور انسانوں کو ان کا مالک بنایا ، ان میں سے جانور ہیں جن کو انسانوں کے تابع بنایا جن پر انسان سوار ہوتے ہیں ، ان میں سے بعض نعمتوں کو کھاتے اور پیتے ہیں ۔ اور بعض سے بعض دوسرے فائدے اٹھاتے ہیں اور یہ سب امور اللہ کی تدابیر اور تقادیر کے مطابق ہے۔ اور پھر اللہ نے انسانوں کے اندر مختلف صلاحیتیں اور خصوصیات و دیعت فرمائیں۔ پھر جانوروں کو مختلف خصائص اور صلاحیتیں دیں۔ انسانوں کو یہ قدرت دی کہ وہ ان کو اپنا تابع فرمان بنائیں اور ان سے فائدے اٹھائیں۔ چناچہ وہ سدھائے گئے تابع فرمان بنائے گئے اور ان سے انسانوں کی مختلف حاجات و ضروریات پوری ہوتی رہیں۔ انسانوں کے اندر یہ قدرت نہ تھی کہ وہ ازخود ان نعمتوں کو پیدا کرسکتے۔ سب نعمتیں تو بڑی بات ہے اگر تمام انسان جمع ہوجائیں اور وہ ایک مکھی کی تخلیق کرنا چاہیں تو وہ بھی نہ کرسکیں گے۔ نیز اللہ نے چونکہ مکھی کے اندر یہ خاصیت نہیں رکھی کہ وہ انسانوں کے تابع ہوجائے اس لیے آج تک انسان مکی کو تابع نہ کرسکے۔

افلا یشکرون (36: 73) ” پھر کیا یہ شکر گزار نہیں ہوتے “۔ جب انسان ان معاملات کے بارے میں اس انداز سے سوچتا ہے اور قرآن کریم کی روشنی میں ان امور پر غور کرتا ہے تو وہ اس نتیجے پر پہنچ جاتا ہے کہ وہ تو اللہ کے انعامات کے اندر ڈوبا ہوا ہے اور اس پر اللہ کے کرم کی ہر وقت بارش ہو رہی ہے۔ اس کے ماحول کی ہر چیز اس کے لیے رحمت ہے۔ جب بھی وہ کسی حیوان پر سوار ہوتا ہے ، یا گوشت کا کوئی ٹکڑا کھاتا ہے ، یا دودھ کا ایک گھونٹ پیتا ہے یا سوت ، اون اور ریشم کا کوئی کپڑا پہنتا ہے ، یا گھی اور پنیت استعمال کرتا ہے یا اپنے انعامات کو کام میں لاتا ہے تو اسے گہرا شعور حاصل ہوتا ہے کہ خالق کائنات کی رحمت کس قدر وسیع ہے اور اس کے انعامات کا دائرہ کسی قدر بڑا ہے۔ غرض یہ شعور اور بھی پختہ ہوجاتا ہے جب انسان اس جہاں کی تازہ اور باسی فصلوں اور پھلوں کو استعمال کرتا ہے اور اسی شعور کے نتیجے میں انسانی زندگی پوری کی پوری حمد و ثنا ہوجاتی ہے۔ قدم قدم پر اس شعور کی وجہ سے انسان عبادت اور بندگی کرتا ہے اور رات دن اللہ کا ثنا خواں ہوتا ہے۔

آیت 71 { اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّا خَلَقْنَا لَہُمْ مِّمَّا عَمِلَتْ اَیْدِیْنَآ اَنْعَامًا فَہُمْ لَہَا مٰـلِکُوْنَ } ”کیا انہوں نے غور نہیں کیا کہ ہم نے اپنے ہاتھوں کی بنائی ہوئی چیزوں میں سے ان کے لیے چوپائے پیدا کردیے ‘ جن کے اب یہ مالک بنے پھرتے ہیں۔“ یہ میری بھینس ہے ‘ میں اس کا مالک ہوں ! یہ اس کی گائے ہے ! یہ فلاں کا گھوڑا ہے ! بکریوں کے ریوڑ کا مالک فلاں ہے ! گویا یہ لوگ بڑے فخر سے ان مویشیوں اور چوپایوں پر اپنا حق ملکیت جتاتے ہیں ‘ لیکن یہ حقیقت وہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ انہیں تخلیق تو اللہ نے ہی کیا ہے۔

چوپائیوں کے فوائد۔ اللہ تعالیٰ اپنے انعام و احسان کا ذکر فرما رہا ہے۔ کہ اس نے خود ہی یہ چوپائے پیدا کئے اور انسان کی ملکیت میں دے دئیے، ایک چھوٹا سا بچہ بھی اونٹ کی نکیل تھام لے اونٹ جیساقوی اور بڑا جانور اس کے ساتھ ساتھ ہی سو اونٹوں کی ایک قطار ہو ایک بچے کے ہانکنے سے سیدھے چلتی رہتی ہے۔ اس ماتحتی کے علاوہ بعض لمبے لمبے مشقت والے سفر بآسانی جلدی جلدی طے ہوتے ہیں خود سوار ہوتے ہیں اسباب لادتے ہیں بوجھ ڈھونے کے کام آتے ہیں۔ اور بعض کے گوشت کھائے جاتے ہیں، پھر صوف اور ان کے بالوں کھالوں وغیرہ سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ دودھ پیتے ہیں، بطور علاج پیشاب کام میں آتے ہیں اور بھی طرح طرح کے فوائد حاصل کئے جاتے ہیں۔ کیا پھر ان کو نہ چاہے کہ ان نعمتوں کے منعم حقیقی، ان احسانوں کے محسن، ان چیزوں کے خالق، ان کے حقیقی مالک کا شکر بجا لائیں ؟ صرف اسی کی عبادت کریں ؟ اس کی توحید کو مانیں اور اس کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کریں۔

آیت 71 - سورہ یٰسین: (أولم يروا أنا خلقنا لهم مما عملت أيدينا أنعاما فهم لها مالكون...) - اردو