قل یایھا الناس قد جاء کم الحق من ربکم (اے محمد (ﷺ) ! ) آپ کہہ دیجئے : لوگو ! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے صحیح واقعہ علم آگیا۔ الحقّ سے مراد ہے صحیح علم ‘ یعنی اللہ کی توحید وصفات اور مبدء و معاد کے احوال قرآن میں اور رسول اللہ (ﷺ) کی زبانی بتا دئیے ‘ اب کسی کیلئے جہالت کا عذر باقی نہیں رہا۔ یا حق سے مراد ہے وہ (قرآن مجید یا رسول اللہ (ﷺ) کی رسالت) جس کا اثبات اعجاز کے ذریعہ سے کردیا گیا اور کسی کو کوئی عذر باقی نہیں رہا۔
فمن اھتدی اب جو بھی ہدایت یاب ہو ‘ یعنی اس علم پر ایمان رکھے اور اس کی بتائی ہوئی راہ پر چلے۔
فانما یھتدی لنفسہ خود اپنے فائدہ کیلئے ہدایت یاب ہوگا (یعنی خود اس کا فائدہ ہوگا) ۔
ومن ضل اور جو (راہ حق سے) بھٹک جائے گا ‘ انکار کرے گا۔
فانما یضل علیھا تو گمراہی کا ضرر اسی کے نفس پر پڑے گا۔
فما انا علیکم بوکیل اور میں تمہارا ذمہ دار نہیں ہوں۔ تمہارے امور کی ذمہ داری مجھ پر نہیں ہے کہ تمہاری گمراہی کا مؤاخذہ مجھ سے ہو۔
آیت 108 قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ قَدْ جَاۗءَكُمُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا يَهْتَدِيْ لِنَفْسِهٖ ۚ اس ہدایت کا فائدہ اسی کو ہوگا عاقبت اسی کی سنورے گی اور اللہ کی رحمت اس کے شامل حال ہوگی۔ وَمَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا ۭ وَمَآ اَنَا عَلَيْكُمْ بِوَكِيْلٍ مجھے تمہارے اوپر کوئی داروغہ مقرر نہیں کیا گیا۔ میں تمہارے بارے میں مسؤل نہیں ہوں۔ اللہ کے ہاں تمہارے بارے میں مجھ سے باز پرس نہیں ہوگی کہ یہ ایمان کیوں نہیں لائے تھے ؟ وَلاَ تُسْءَلُ عَنْ اَصْحٰبِ الْجَحِیْمِ البقرۃ اور آپ سے نہیں پوچھا جائے گا جہنمیوں کے بارے میں !“
نافرمان کا اپنا نقصان ہے اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے حبیب حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے فرماتا ہے کہ لوگوں کو آپ خبردار کریں کہ جو میں لایا ہوں، وہ اللہ کی طرف سے ہے۔ بلا شک و شبہ وہ نرا حق ہے جو اس کی اتباع کرے گا وہ اپنے نفع کو جمع کرے گا۔ اور جو اس سے بھٹک جائے گا وہ اپنا ہی نقصان کرے گا۔ میں تم پر وکیل نہیں ہوں کہ تمہیں ایمان پر مجبور کروں۔ میں تو کہنے سننے والا ہوں۔ ہادی صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اے نبی ﷺ تو خود بھی میرے احکام اور وحی کا تابعدار رہ اور اسی پر مضبوطی سے جما رہ۔ لوگوں کی مخالفت کی کوئی پرواہ نہ کر۔ ان کی ایذاؤں پر صبر و تحمل سے کام لے یہاں تک کہ خود اللہ تجھ میں اور ان میں فیصلہ کر دے۔ وہ بہترین فیصلے کرنے والا ہے جس کا کوئی فیصلہ عدل سے حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔