والذین کسبوا السیات جزاء سیءۃ بمثلھا وترھقھم ذلۃ اور جن لوگوں نے برے کام کئے ‘ ان کو بدی کی سزا بدی کے برابر ملے گی ‘ اور ان پر ذلت چھائے گی۔ اَلَّذِیْنَ کَسَبُوْا کا عطف اَلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْاپر ہے ‘ یا یہ مبتداء ہے اور جزآء سیءۃ خبر ہے ‘ یا کَاَنَّمَا اُغْشِیَتْ خبر ہے ‘ یا اولٰءِکَ اَصْحٰبُ النَّار خبر ہے۔ تَرْھَقُھُمْ یعنی ان کو ڈھانک لے گی۔
مالھم من اللہ من عاصم ان کو اللہ کے غضب سے کوئی بچانے والا نہ ہوگا۔ مِنْ عَاصِمٍ میں مِنْ زائد ہے۔ یا اللہ کی طرف سے کوئی بھی ان کو عذاب سے بچانے والا نہ ہوگا۔
کانما اغشیت وجوھھم قطعًا من الیل مظلمًا ایسا معلوم ہوگا کہ گویا ان کے چہروں پر اندھیری رات کے پرت پرت لپیٹ دئیے گئے ہیں۔ قِطع جمع ہے ‘ اس کا واحد قطعۃ ہے۔ مِنَ الَّیْلِ قِطَعًا کا بیان ہے ‘ مُظْلِمًا الیل سے حال ہے۔
اولئک اصحٰب النار ھم فیھا خٰلدون یہی لوگ دوزخی ہیں ‘ وہ دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے۔
شبہ : فرقۂ معتزلہ قائل ہے کہ مرتکب کبائر ہمیشہ دوزخ میں رہے گا (یعنی گناہ کبیرہ کرنے والا مؤمن نہیں رہتا) اس آیت سے معتزلہ نے استدلال کیا ہے۔
جواب : السَّءِّاٰت (بدیاں ‘ برے اعمال) کا لفظ صغیرہ گناہوں کو بھی ہے اور کبیرہ گناہوں کو بھی اور کفر کو بھی شامل ہے۔ اب اگر اس لفظ کا عمومی معنی مراد لیا جائے گا تو صغیرہ گناہ کے مرتکب کو بھی دوامی دوزخی کہنا پڑے گا اور اس کا کوئی قائل نہیں۔ جَزَآءُ سَیِّءَۃٍم بِمِثْلِھَا بھی اس قول کے خلاف شہادت دے رہا ہے کیونکہ اس سے معلوم ہو رہا ہے کہ سزا کے درجات مختلف ہیں۔ کبیرہ گناہ کی سزا صغیرہ سے زیادہ اور کفر سے کم ہے۔ لامحالہ اولٰٓءِکَ کا اشارہ اَلَّذِیْنَ کَسَبُوْا السَّیِّاٰتِ کی طرف عموماً نہیں ہو سکتا بلکہ مرتکبین سیّآت کے بعض کی طرف ہوگا ‘ یعنی صرف کفار کی طرف ہوگا۔ جیسا والْمُطَلَّقَاتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِھُنَّ کے بعد وَبَعْوْلَتُھنَّ احق بِرَدِّھِنَّ آیا ہے اور ھن کا مرجع عام مطلقات نہیں ہیں (بلکہ وہ عورتیں ہیں جن کو رجعی طلاق دی گئی ہو) ۔
یہ بھی ممکن ہے کہ اَلَّذِیْنَ کَسَبُوْا السَّیِّاٰتِ سے مراد کفار ہوں کیونکہ ان کے مقابل اَلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا کو ذکر کیا گیا ہے اور چونکہ ایمان تمام نیکیوں کی چوٹی ہے ‘ اسلئے کبیرہ گناہ کرنے والے مؤمن بھی اَلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا میں داخل ہیں اور جب مرتکبین کبائر کو اَلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا شامل ہے تو لامحالہ اَلَّذِیْنَ کَسَبُوْا السَّیِّاٰتِ سے مراد کفار ہی ہوں گے۔
یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اَلَّذِیْنَ کَسَبُوْا السَّیِّاٰتِ سے وہ بدکار مراد ہوں جو رسول اللہ (ﷺ) کے زمانہ میں موجود تھے ‘ کیونکہ مؤمن جو رسول اللہ (ﷺ) کے زمانہ میں تھے ‘ وہ سب صحابی تھے اور صحابہ کا عدول (غیرفاسق) ہونا بالاجماع ثابت ہے۔ اگر کسی صحابی سے کسی گناہ کا صدور ہو بھی جاتا تھا تو وہ فوراً توبہ کرلیتا تھا جس کی وجہ سے گناہ معاف ہوجاتا تھا۔ گناہ سے توبہ کرنے والا بےگناہ کی طرح ہوجاتا ہے ‘ اس لئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ بدکار گناہگار اس زمانہ میں صرف کافر تھے اور اَلَّذِیْنَ کَسَبُوْا سے وہی لوگ مراد ہیں۔
آیت 27 وَالَّذِیْنَ کَسَبُوا السَّیِّاٰتِ جَزَآءُ سَیِّءَۃٍم بِمِثْلِہَالا یعنی جیسی ان کی برائی ہوگی ویسا ہی اس کا بدلہ ہوگا ‘ اس میں کچھ اضافہ نہیں کیا جائے گا۔
ایک تقابلی جائزہ نیکوں کا حال بیان فرما کر اب بدوں کا حال بیان ہو رہا ہے۔ ان کی نیکیاں بڑھا کر ان کی برائیاں برابر ہی رکھی جائیں گی۔ نیکی کم مگر بدکاریاں ان کے چہروں پر سیاہیاں بن کر چڑھ جائیں گی ذلت و پستی سے ان کے منہ کالے پڑجائیں گے۔ یہ اپنے مظالم سے اللہ کو بیخبر سمجھتے رہے حالانکہ انہیں اس دن تک کی ڈھیل ملی تھی۔ آج آنکھیں چڑھ جائیں گی شکلیں بگڑ جائیں گی، کوئی نہ ہوگا جو کام آئے اور عذاب سے بچائے، کوئی بھاگنے کی جگہ نہ نظر آئے گی۔ اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ کافروں کے چہرے ان کے کفر کی وجہ سے سیاہ ہوں گے، اب کفر کا مزہ اٹھاؤ۔ مومنوں کے منہ نورانی اور چمکیلے، گورے اور صاف ہوں گے، کافروں کے چہرے ذلیل اور پست ہوں گے۔