ویوم نحشرھم جمیعًا اور وہ دن بھی یاد کرو جب ہم ان سب کو جمع کریں گے ‘ یعنی دونوں فریقوں کو۔
ثم نقول للذین اشرکوا مکانکم انتم وشرکآؤکم پھر ہم مشرکوں سے کہیں گے : تم اور جن کو تم شریک بناتے تھے (سب) اپنی جگہ ٹھہرو۔ تاکہ جو عمل ہم تمہارے ساتھ کرتے ہیں اس کو دیکھ لو۔ شرکاء سے مراد بت ہیں۔
فزیلنا بینھم پھر ہم ان (کافروں اور ان کے معبودوں) کے درمیان پھوٹ ڈال دیں گے۔ یعنی ان کے دنیوی رشتے اور تعلقات ہم کاٹ دیں گے یہاں تک کہ باطل معبود اپنے پجاریوں سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔ یا یہ مطلب ہے کہ ہم مؤمنوں سے ان کو الگ کردیں گے۔ دوسری روایت میں بھی یہ مضمون آیا ہے ‘ فرمایا ہے : وَامْتَازُوْا الْیَوْمَ اَیَّھَا الْمُجْرِمُوْنَ ۔
وقال شرکاؤھم ما کنتم ایانا تعبدون۔ اور ان سے ان کے شرکاء یعنی بت کہیں گے : تم ہماری پوجا نہیں کرتے تھے۔ مطلب یہ کہ اپنی پوجا کرنے کا ہم نے ان کو حکم نہیں دیا تھا (انہوں نے خواہ مخواہ ازخود ہم کو معبود بنایا تھا) اللہ بتوں کو گویا بنا دیں گے ‘ وہ بجائے شفاعت کرنے کے رو در رو کافروں سے بیزاری کا اظہار کریں گے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ شرکاء سے مراد ملائکہ اور مسیح ہیں۔ مسیح اور ملائکہ نے مشرکوں کو حکم نہیں دیا تھا کہ تم ہماری پوجا کرو ‘ نہ وہ کافروں کے اس فعل کو پسند کرتے تھے۔
معبودان باطل جب مذکورۂ بالا کلام کریں گے تو مشرک کہیں گے : ہرگز نہیں ‘ ہم تو تمہاری پوجا کرتے تھے۔ اس کے جواب میں بت کہیں گے :
فکفٰے باللہ شھیدًا بیننا وبینکم ان کنا عن عبادتکم لغٰفلین۔ سو ہمارے تمہارے درمیان اللہ کافی گواہ ہے ہم تو تمہاری عبادت سے بیخبر تھے ‘ نہ سنتے تھے ‘ نہ دیکھتے تھے ‘ نہ سمجھتے تھے۔
آیت 28 وَیَوْمَ نَحْشُرُہُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ نَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا مَکَانَکُمْ اَنْتُمْ وَشُرَکَآؤُکُمْ یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ لات ‘ منات ‘ عزیٰ وغیرہ کی بات نہیں ہو رہی جن کے بارے میں کسی کو پتا نہیں کہ ان کی اصل کیا تھی ‘ بلکہ یہ اولیاء اللہ ‘ نیک اور برگزیدہ بندوں کی بات ہو رہی ہے جن کے ناموں پر مورتیاں اور بت بنا کر ان کی پوجا کی گئی ہوگی۔ جیسے قوم نوح علیہ السلام نے ودّ ‘ سواع اور یغوث وغیرہ اولیاء اللہ کی پوجا کے لیے ان کے بت بنا رکھے تھے اس بارے میں تفصیل سورة نوح میں آئے گی۔ ہمارے ہاں صرف یہ فرق ہے کہ بت نہیں بنائے جاتے ‘ قبریں پوجی جاتی ہیں۔ اس سلسلے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ کے خطاب کی ایک جھلک ہم سورة المائدۃ کے آخری رکوع میں دیکھ آئے ہیں۔ اس لیے یہاں یہ خیال نہیں آنا چاہیے کہ ایسے بلند مرتبہ لوگوں کو اس طرح کا حکم کیونکر دیا جائے گا کہ ٹھہرے رہو اپنی جگہ پر تم بھی اور تمہارے شریک بھی ! بہر حال اللہ تعالیٰ کی شان بہت بلند ہے ‘ جبکہ ایک بندہ تو بندہ ہی ہے ‘ چاہے جتنی بھی ترقی کرلے : اَلرَّبُّ رَبٌّ وَاِنْ تَنَزَّلَ۔ وَالْعَبْدُ عَبْدٌ وَاِنْ تَرَقّٰی !فَزَیَّلْنَا بَیْنَہُمْ وَقَالَ شُرَکَآؤُہُمْ مَّا کُنْتُمْ اِیَّانَا تَعْبُدُوْنَ وہ نیک لوگ جنہیں اللہ کا شریک بنایا گیا وہ اس شرک سے بری ہیں ‘ کیونکہ انہوں نے تو اپنی زندگیاں اللہ کی اطاعت میں گزاری تھیں۔ جیسے البقرۃ : 134 میں بہت واضح انداز میں فرمایا گیا ہے : تِلْکَ اُمَّۃٌ قَدْ خَلَتْج لَہَا مَا کَسَبَتْ وَلَکُمْ مَّا کَسَبْتُمْ ج ”وہ ایک جماعت تھی جو گزر گئی ‘ ان کے لیے ہے جو انہوں نے کمایا اور تمہارے لیے ہے جو تم نے کمایا“۔ اگر کوئی شیخ عبدالقادر جیلانی کو پکارتا ہے یا کسی مزار پر جا کر مشرکانہ حرکتیں کرتا ہے تو اس کا وبال صاحب مزار پر قطعاً نہیں ہوگا۔ ان پر تو الٹا ظلم ہو رہا ہے کہ انہیں اللہ کے ساتھ شرک میں ملوث کیا جا رہا ہے۔ چناچہ اللہ کے وہ نیک بندے اللہ کے ہاں ان شرک کرنے والوں کے خلاف استغاثہ کریں گے ‘ کہ وہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر انہیں پکارتے تھے اور ان کے ناموں کی دہائیاں دیتے تھے۔ وہ ان شرک کرنے والوں سے کہیں گے :
میدان حشر میں سبھی موجود ہوں گے مومن، کافر، نیک، بد، جن انسان، سب میدان قیامت میں اللہ کے سامنے جمع ہونگے۔ سب کا حشر ہوگا، ایک بھی باقی نہ رہے گا۔ پھر مشرکوں اور ان کے شریکوں کو الگ کھڑا کردیا جائے گا۔ ان مجرموں کی جماعت مومنوں سے الگ ہوجائے گی، سب جدا جدا گروہ میں بٹ جائیں گے ایک سے ایک الگ ہوجائے گا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ خود فیصلوں کے لیے تشریف لائے گا۔ مومن سفارش کر کے اللہ کو لائیں گے کہ وہ فیصلے فرما دے۔ یہ امت ایک اونچے ٹیلے پر ہوگی، مشرکین کے شرکا اپنے عابدوں سے بےزاری ظاہر کریں گے اسی طرح خود مشرکین بھی ان سے انجان ہوجائیں گے۔ سب ایک دوسرے انجان بن جائیں گے۔ اب بتلاؤ ان مشرکوں سے بھی زیادہ کوئی بہکا ہوا ہے کہ انہیں پکارتے رہے جو آج تک ان کی پکار سے بھی غافل رہے اور آج ان کے دشمن بن کر مقابلے پر آگئے۔ صاف کہا کہ تم نے ہماری عبادت نہیں کی۔ ہمیں کچھ خبر نہیں ہماری تمہاری عبادتوں سے بالکل غافل رہے۔ اسے اللہ خوب جانتا ہے، نہ ہم نے اپنی عبادت کو تم سے کہا تھا نہ ہم اس سے کبھی خوش رہے۔ تم اندھی، نہ سنتی، بیکار چیزوں کو پوجتے رہے جو خود ہی بیخبر تھے نہ وہ اس سے خوش نہ ان کا یہ حکم۔ بلکہ تمہاری پوری حاجت مندی کے وقت تمہارے شرک کے منکر، تمہاری عبادتوں کے منکر بلکہ تمہارے دشمن تھے۔ اس حی وقیوم، سمیع وبصیر، قادر ومالک وحدہ لاشریک کو تم نے چھوڑ دیا جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں نہ تھا۔ جس نے رسول بھیج کر تمہیں توحید سکھائی اور سنائی تھی سب رسولوں کی زبانی کہلوایا تھا کہ میں ہی معبود ہوں میری ہی عبادت و اطاعت کرو۔ سوائے میرے کوئی پوجا کے لائق نہیں۔ ہر قسم کے شرک سے بچو۔ کبھی کسی طرح بھی مشرک نہ بنو۔ وہاں ہر شخص اپنے اعمال دیکھ لے گا۔ اپنی بھلائی برائی معلوم کرلے گا۔ نیک و بد سامنے آجائے گا۔ اسرار بےنقاب ہوں گے، کھل پڑیں گے، اگلے پچھلے چھوٹے بڑے کام سامنے ہوں گے۔ نامہ اعمال کھلے ہوئے ہوں گے، ترازو چڑھی ہوئی ہوگی۔ آپ اپنا حساب کرلے گا۔ تبلوا کی دوسری قرات تتلوا بھی ہے۔ اپنے اپنے کرتوت کے پیچھے ہر شخص ہوگا۔ حدیث میں ہے ہر امت کو حکم ہوگا کہ اپنے اپنے معبودوں کے پیچھے چل کھڑی ہوجائے۔ سورج پرست سب سورج کے پیچھے ہوں گے، چاند پرست چاند کے پیچھے، بت پرست بتوں کے پیچھے۔ سارے کے سارے حق تعالیٰ مولائے برحق کی طرف لوٹائے جائیں گے تمام کاموں کے فیصلے اس کے ہاتھ ہوں گے۔ اپنے فضل سے نیکوں کو جنت میں اور اپنے عدل سے بدوں کو جہنم میں لے جائے گا۔ مشرکوں کی ساری افرا پردازیاں رکھی کی رکھی رہ جائیں گی، بھرم کھل جائیں گے، پردے اٹھ جائیں گے۔