فذلکم اللہ بس یہ (تمام امور سر انجام دینے والا) ہی تو اللہ ہے جو معبود ہونے کا مستحق ہے۔
ربکم الحق جو تمہارا رب حقیقی ہے۔ جس کی ربوبیت وجدان سے بھی ثابت ہے اور دلیل سے بھی۔ جب اسی نے تم کو پیدا کیا ‘ رزق دیا اور تمہارے سارے امور کا انتظام کیا تو اس کے سوا اور تمہارا رب کون ہو سکتا ہے ‘ وہی حق ہے۔ نہ اس کی ہستی قابل شک ہے نہ اس کی مالکیت لائق شبہ۔
فماذا بعد الحق الا الضلل پھر (امر) حق کے بعد بجز گمراہی کے اور کیا رہ گیا۔ سوال انکاری ہے یعنی حق کے بعدگمراہی کے علاوہ اور کچھ نہیں ‘ پس حق کو ترک کرنے والا اور اللہ کی معبودیت میں دوسروں کو شریک کرنے والا گمراہ ہے۔
فانی تصرفون۔ پھر (حق کو چھوڑ کر باطل کی طرف) کہاں پھرے جاتے ہو۔
آیت 32 فَذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمُ الْحَقُّج فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ الاَّ الضَّلٰلُج فَاَنّٰی تُصْرَفُوْنَ یہی حق ہے جس کو تم اپنی فطرت کی نظر سے پہچان چکے ہو۔ اب اسی کو مضبوطی سے تھام لو اور پھر سے گمراہی میں مبتلا ہونے سے بچ جاؤ۔ یعنی تمہاری فطرت کے اندر حق کی پہچان موجود ہے۔ اس کی گواہی خود تمہاری اپنی زبانیں دے رہی ہیں۔ تم اللہ کو اپنا اور اس کائنات کا خالق ومالک مانتے ہو ‘ زبان سے اس کا اقرار کرتے ہو۔ تو یہاں تک پہنچ کر پھر کیوں گمراہی میں اوندھے منہ گرجاتے ہو۔ تمہاری عقل کہاں الٹ جاتی ہے ؟