سورہ یونس: آیت 57 - يا أيها الناس قد جاءتكم... - اردو

آیت 57 کی تفسیر, سورہ یونس

يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُم مَّوْعِظَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَشِفَآءٌ لِّمَا فِى ٱلصُّدُورِ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ

اردو ترجمہ

لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آ گئی ہے یہ وہ چیز ہے جو دلوں کے امراض کی شفا ہے اور جو اسے قبول کر لیں ان کے لیے رہنمائی اور رحمت ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Ya ayyuha alnnasu qad jaatkum mawAAithatun min rabbikum washifaon lima fee alssudoori wahudan warahmatun lilmumineena

آیت 57 کی تفسیر

یایھا الناس قد جاء تکم موعظۃ من ربکم اے لوگو ! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک عظیم الشان نصیحت آگئی ہے ‘ یعنی رسول اللہ (ﷺ) کی زبانی قرآن مجید تم کو پہنچ گیا۔ قرآن پیام بیداری ہے اور ایک یادداشت ہے جو اچھی باتوں کی دعوت دے رہا ہے اور بری باتوں سے بازداشت کر رہا ہے کیونکہ یہ اوامرو نواہی اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہیں اور اللہ حکیم ہے ‘ جس کام کو کرنے کا حکم دے رہا ہے وہ یقیناً اچھا ہے اور اس کا نتیجہ اچھا ہوگا اور جس کام سے روک رہا ہے وہ یقیناً برا ہے اور اس کا نتیجہ برا ہوگا۔ اچھا کام قابل رغبت اور برا کام قابل نفرت ہوتا ہے۔

و شفاء لما فی الصدور اور دلوں کی بیماریوں کیلئے شفاء بخش دوا ہے۔ امراض قلبی سے مراد ہیں غلط عقائد اور اللہ کے سوا دوسری چیزوں سے دلوں کا لگاؤ اور وابستگی۔

ابن مردویہ نے حضرت ابو سعید خدری کی روایت سے بیان کیا ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ (ﷺ) کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا : یا رسول اللہ ! مجھے سینہ کا دکھ ہے۔ فرمایا : قرآن پڑھا کرو۔ اللہ نے (قرآن کے متعلق) فرمایا ہے : وَشَفَآءٌ لِّمَا فِی الصَّدُوْرِلا 5 اس حدیث کی شاہد واثلہ بن اسقع کی روایت بھی ہے جس کو بیہقی نے شعب الایمان میں بیان کیا ہے۔

وھدی اور رہنما ہے۔ صحیح عقائد و افکار کا ‘ جنت کا اور اللہ کے قرب کے درجات کا راستہ بتاتا ہے۔ رسول اللہ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا : (قیامت کے دن) قرآن پڑھنے والوں سے کہا جائے گا : پڑھ اور چڑھتا چلا جا اور جس طرح دنیا میں ترتیل کرتا تھا ‘ اسی طرح ترتیل کر کیونکہ تیرا درجہ وہاں ہے جہاں تک تو آخری آیت پڑھنے پر پہنچے گا۔ رواہ احمد والترمذی وابو داؤد والنسائی عن عبد اللہ بن عمرو

ورحمۃ للمؤمنین۔ اور ایمان والوں کیلئے یہ اللہ کی طرف سے رحمت ہے۔ ایمان والے ہی اس سے فائدہ اٹھانے والے اور اس کو پڑھ کر اور اس کی تعلیم پر چل کر اللہ کی رحمت سے بہرہ اندوز ہونے والے ہیں۔

وَہُدًی وَّرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ اس آیت کے الفاظ کی ترتیب موعظہ ‘ شفا ‘ ہدایت اور رحمت بہت پر حکمت ہے۔ سورة البقرۃ کی آیت 74 میں انسان کے دل کی سختی کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے : ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُکُمْ ۔ دراصل دل کی سختی ہی وہ بنیادی مرض ہے جس کے باعث اعلیٰ سے اعلیٰ کلام بھی کسی انسان پر بےاثر ہو کر رہ جاتا ہے : ع ”مرد ناداں پر کلام نرم و نازک بےاثر“۔ چناچہ قبول ہدایت کے لیے سب سے پہلے دلوں کی سختی کو دور کرنا ضروری ہے۔ جیسے بارش سے فائدہ اٹھانے کے لیے زمین کو نرم کرنا پڑتا ہے ‘ سخت زمین بارش سے کچھ فائدہ نہیں اٹھا سکتی ‘ بارش کا پانی اوپر ہی اوپر سے بہہ جاتا ہے ‘ اس کے اندر جذب نہیں ہوتا۔ اسی طرح اگر انسان کا معدہ ہی خراب ہو تو کوئی دوسری دوائی اپنا اثر نہیں دکھاتی۔ لہٰذا انسان کی کسی بھی بیماری کے علاج کے لیے پہلے اس کے معدے کو درست کرنا ضروری ہے۔ دلوں کی سختی کو دور کرنے کے لیے مؤثر ترین نسخہ وعظ و نصیحت موعظہ ہے۔ جب وعظ اور نصیحت سے دلوں میں گداز پیدا ہوگا تو پھر قرآن ان پر دوائی کی مانند اثر کر کے تکبر ‘ حسد ‘ بغض ‘ حب دنیا وغیرہ تمام امراض کو دور کر دے گا۔ حبّ دنیا میں دولت ‘ اولاد ‘ بیوی ‘ شہرت وغیرہ کی تمام محبتیں شامل ہیں۔ ملاحظہ ہو سورة آل عمران کی آیت 14 : زُیِّنَ للنَّاسِ حُبُّ الشَّہَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَالْبَنِیْنَ وَالْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَرَۃِ مِنَ الذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ وَالْخَیْلِ الْمُسَوَّمَۃِ وَالْاَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ط۔ آیت زیر مطالعہ میں الفاظ کی ترتیب پر غور کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ایک انسان کے حق میں قرآن سب سے پہلے وعظ اور نصیحت ہے ‘ پھر تمام امراض قلب کے لیے شفا اور پھر ہدایت۔ کیونکہ جب دل سے بیماری نکل جائے گی ‘ دل شفایاب ہوگا تب ہی انسان قرآن کی ہدایت اور راہنمائی کو عملاً اختیار کرے گا ‘ اور جب انسان یہ سارے مراحل طے کر کے قرآن کی ہدایت کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھال لے گا تو پھر اس کو انعام خاص سے نوازا جائے گا اور وہ ہے اللہ کی خصوصی رحمت۔ کیونکہ یہ قرآن ربِّ رحمان کی رحمانیت کا مظہر اتم ہے : اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ ۔

رسول ﷺ کریم کے منصب عظیم کا تذکرہ اپنے رسول ﷺ کریم پر قرآن عظیم نازل فرمانے کے احسان کو اللہ رب العزت بیان فرما رہے ہیں کہ اللہ کا وعظ تمہارے پاس آچکا جو تمہیں بدیوں سے روک رہا ہے، جو دلوں کے شک شکوک دور کرنے والا ہے، جس سے ہدایت حاصل ہوتی ہے، جس سے اللہ کی رحمت ملتی ہے۔ جو اس سچائی کی تصدیق کریں اسے مانیں، اس پر یقین رکھیں، اس پر ایمان لائیں وہ اس سے نفع حاصل کرتے ہیں۔ یہ ہمارا نازل کردہ قرآن مومنوں کے لیے شفا اور رحمت ہے، ظالم تو اپنے نقصان میں ہی بڑھتے رہتے ہیں۔ اور آیت میں ہے کہ کہہ دے کہ یہ تو ایمانداروں کے لیے ہدایت اور شفاء ہے۔ اللہ کے فضل و رحمت یعنی اس قرآن کے ساتھ خوش ہونا چاہیے۔ دنیائے فانی کے دھن دولت پر ریجھ جانے اور اس پر شادماں وفرحاں ہوجانے سے تو اس دولت کو حاصل کرنے اور اس ابدی خوشی اور دائمی مسرت کو پالینے سے بہت خوش ہونا چاہیے۔ ابن ابی حاتم اور طبرانی میں ہے کہ جب عراق فتح ہوگیا اور وہاں سے خراج دربار فاروق میں پہنچا تو آپ نے اونٹوں کی گنتی کرنا چاہی لیکن وہ بیشمار تھے۔ حضرت عمر نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر کے اسی آیت کی تلاوت کی۔ تو آپ نے مولیٰ عمرو نے کہا یہ بھی تو اللہ کا فضل و رحمت ہی ہے۔ آپ نے فرمایا تم نے غلط کہا یہ تمہارے ہمارے حاصل کردہ ہیں جس فضل و رحمت کا بیان اس آیت میں ہے وہ یہ نہیں۔

آیت 57 - سورہ یونس: (يا أيها الناس قد جاءتكم موعظة من ربكم وشفاء لما في الصدور وهدى ورحمة للمؤمنين...) - اردو