فان تولیتم فما سالتکم من اجر پھر بھی تم اگر اعراض ہی کئے جاؤ تو (اتنا سمجھ لو کہ) میں تم سے کسی معاوضہ کا طالب نہیں۔
جزاء کو حذف کر کے جزاء کی علت کو اس کے قائم مقام ذکر کیا ہے۔ اصل مطلب (تشریحی) اس طرح ہے کہ اگر تم میرے وعظ و نصیحت سے اب بھی روگردانی کرو گے اور میری بات نہیں مانو گے تو ہلاک ہوجاؤ گے ‘ یا اللہ تم کو عذاب دے گا کیونکہ تمہاری روگردانی کی کوئی معقول وجہ نہیں۔ قبول حق سے کوئی امر مانع نہیں۔ اس وعظ و تذکیر میں میرا کوئی مقصد نہیں۔ میں اس دعوت کا معاوضہ تم سے نہیں چاہتا کہ تم معاوضہ ادا کرنے سے قاصر ہو اور اسلئے روگردانی کر رہے ہو ‘ یا مجھے (دنیا طلبی کی تہمت سے) متہم کرسکو۔ یا یہ مطلب ہے کہ روگردانی کرو گے تو خود اپنا نقصان کرو گے ‘ میرا کچھ بگاڑ نہ ہوگا۔ میں تم سے معاوضہ کا طلبگار نہیں کہ تمہاری روگردانی سے مجھے معاوضہ نہ ملے۔ تمہارا ہی بگاڑ ہوگا ‘ تم ہی ہدایت سے محروم ہو گے۔
ان اجری الا علی اللہ (اس دعوت و وعظ کا) میرا معاوضہ تو بس اللہ کے ذمہ ہے۔ یعنی تم سے معاوضہ کا کوئی تعلق نہیں۔ تم ایمان لاؤ یا نہ لاؤ ‘ میرے عمل کا ثواب تو اللہ دے گا۔
اس فقرہ سے اشارۃً نکلتا ہے کہ تعلیم قرآن وغیرہ کی اجرت لینی جائز نہیں (تعلیم قرآن و احادیث بھی تبلیغ دین ہے اور تبلیغ دین کی اجرت ان لوگوں سے لینی جن کو تبلیغ کی گئی ہو ‘ بظاہر اس آیت سے ناجائز قرار پاتی ہے) ۔
وامرت ان اکون من المسلمین۔ اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ (ا اللہ کے حکم کی) اطاعت کروں ‘ ایمان لاؤں۔
اعمال میں بھی اتباع حکم الٰہی کروں اور لوگوں کو بھی دعوت دوں اور اس حکم کی تعمیل میں نے کی ہے اور کر رہا ہوں۔
فَمَا سَاَلْتُکُمْ مِّنْ اَجْرٍ ط یعنی پھر اگر تم اس چیلنج کا سامنا نہ کرسکو اور میرے خلاف آخری اقدام کرنے کا حوصلہ بھی نہ کر پاؤ تو پھر ذرا ٹھنڈے دماغ سے سوچو تو سہی کہ میں پچھلے ساڑے نو سو سال سے تمہیں راہ راست پر لانے کی جو جدوجہد کررہا ہوں اس کے عوض میں نے تم لوگوں سے کوئی معاوضہ ‘ کوئی اُجرت ‘ کوئی تعریف و توصیف ‘ کوئی شاباش ‘ الغرض کچھ بھی طلب نہیں کیا۔ تو کیا میرے اس طرز عمل سے تم لوگوں کو اتنی سی بات بھی سمجھ نہیں آتی کہ اس میں میرا کوئی ذاتی مفاد نہیں ہے ؟ معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ حضرت نوح کا چیلنج قبول کرکے ان کے خلاف اقدام کرنے سے گریزاں تھے۔ انہیں ڈر تھا کہ اگر ہم نے انہیں قتل کردیا تو ہم پر کوئی بڑی مصیبت نازل ہوجائے گی۔