فلما امن لموسی پس موسیٰ کی تصدیق نہیں کی (باوجودیکہ انہوں نے جادوگروں کے جادو کو نابود کردیا ‘ اور صداقت کی نشانیاں پیش کیں) ۔
الا ذریۃ من قومہ مگر موسیٰ کی قوم کے تھوڑے آدمیوں نے۔ مِنْ قَوْمِہٖ کی ضمیر بعض اہل تفسیر کے نزدیک حضرت موسیٰ کی طرف راجع ہے ‘ یعنی صرف وہ بنی اسرائیل حضرت موسیٰ پر ایمان لائے جو مصر میں رہتے تھے اور مصر سے نکلنے کے وقت حضرت موسیٰ کے ساتھ تھے (قبطی ایمان نہ لائے) ۔
مجاہد نے کہا : ایمان لانے والے ان اسرائیلیوں کی اولاد تھے جن کی ہدایت کیلئے حضرت موسیٰ کو بھیجا گیا تھا۔ آباء کے مرنے کے بعد ان کے بیٹے باقی رہے تھے۔ ذریت سے یہی لوگ مراد ہیں۔
بعض علماء نے کہا : جب فرعون نے بنی اسرائیل کے نوزائیدہ بچوں کو قتل کردینے کا آرڈر جاری کردیا تھا تو بعض اسرائیلی عورتوں نے اپنے نوزائیدہ بچے قبطی عورتوں کو ویسے ہی دے دیئے۔ ان بچوں نے قبطیوں کے پاس پرورش پائی اور جس روز حضرت موسیٰ جادوگروں پر غالب آگئے ‘ اس روز یہی اسرائیلی ایمان لائے تھے (جو نسلاً اسرائیلی تھے اور بظاہر قبطی زادے) ۔
بعض مفسرین کا قول ہے کہقَوْمِہٖ کی ضمیر فرعون کی طرف راجع ہے۔ عطیہ نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ قوم فرعون کے کچھ قلیل آدمی حضرت موسیٰ پر ایمان لے آئے تھے۔ فرعون کی بی بی اور فرعون کا خزانچی اور خزانچی کی بی بی اور فرعون کی بی بی کے بالوں میں کنگھا کرنے والی خادمہ اور مؤمن اٰل فرعون (جس کا تذکرہ سورة یٰسین کی آیت وَجَاءَ مِنْ اَقْصَی الْمَدِیْنَۃٍ رَجُلٌ لَیَّسْغٰی میں آیا ہے) انہی لوگوں میں سے تھے اور یہی چند اہل ایمان آیت میں مراد ہیں (اخرجہ ابن جریر) دوسری روایت میں حضرت ابن عباس کا قول آیا ہے : وہ ستر آدمی مراد ہیں جن کے باپ قبطی تھے اور مائیں اسرائیلی۔ یہ لوگ اپنی ننہال کے پیرو ہوگئے تھے۔ فراء نے کہا : ان کو ذریت اسلئے کہا گیا کہ ان کے باپ قبطی تھے اور مائیں اسرائیلی۔ جس طرح بعض اہل فارس یمن میں آ بسے تھے ‘ ان کی اولاد کو ابناء فارس کہا جاتا ہے کیونکہ ان کے باپ دوسرے ملک سے تھے اور مائیں دوسرے ملک سے۔
علی خوف من فرعون وملاءھم ان یفتنھم ڈرتے ڈرتے فرعون اور اپنے حاکموں سے کہ (کہیں ایمان کی اطلاع فرعون کو اگر مل گئی تو) ان کو سخت مصیبت میں ڈال دے گا۔
ملاءھم کی ضمیر جمع فرعون کی طرف راجع ہے اور اظہار تعظیم کیلئے ہے۔ یا فرعون سے مراد ہیں اس کے متبعین ‘ یعنی فرعونی لوگ۔ جیسے ربیعہ اور مضر سے مراد ہوتے ہیں ربیعہ اور مضر کی نسل کے قبائل۔ یا ذریت کی طرف راجع ہے ‘ یعنی ذریعت مؤمنہ کو فرعون اور اپنے قبطی حکام سے ڈر تھا۔ یا قوم کی طرف راجع ہے۔
وان فرعون لعال فی الارض وانہ لمن المسرفین۔ اور اس میں شبہ نہیں کہ فرعون ملک (مصر) میں اونچا (طاقتور ‘ مغرور) تھا اور (اپنی) حدود سے تجاوز کرنے والوں میں سے تھا۔ کہ باوجود مخلوق اور محتاج ہونے کے ملوکیت سے آگے بڑھ کر ربوبیت کا مدعی بن بیٹھا تھا اور انبیاء زادوں کو باندی غلام بنا رکھا تھا۔
عَلٰی خَوْفٍ مِّنْ فِرْعَوْنَ وَمَلاَءِہِمْ اَنْ یَّفْتِنَہُمْ اس وقت مصر پر قبطی قوم حکمران تھی ‘ جسے قرآن نے ”آل فرعون“ کہا ہے اور اسرائیلی ان کے محکوم تھے۔ حضرت موسیٰ اپنی قوم بنی اسرائیل کی آزادی کے علمبردار تھے ‘ لیکن اس کے باوجود بنی اسرائیل میں سے بھی صرف چند نوجوان لڑکوں نے ہی آپ کی دعوت پر لبیک کہا تھا۔ دراصل غلام ہونے کی وجہ سے وہ لوگ فرعون اور اس کے سرداروں کے مظالم سے خوف زدہ تھے۔ عام طور پر ہر محکوم قوم کے ساتھ اسی طرح ہوتا ہے کہ اس کے کچھ لوگ اپنی قوم سے غداری کر کے حکمرانوں سے مل جاتے ہیں اور حکمران انہیں مراعات اور خطابات سے نواز کر ان کی وفاداریاں خرید لیتے ہیں۔ چناچہ بنی اسرائیل میں سے بھی کچھ لوگ فرعون کے ایجنٹ بن چکے تھے۔ اس کی سب سے بڑی مثال قارون کی ہے۔ وہ حضرت موسیٰ کی قوم میں سے تھا مگر فرعون کا درباری اور اس کا ایجنٹ تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ حضرت موسیٰ کے خلاف سازشیں کرتا رہتا تھا اس کا تفصیلی ذکر سورة القصص میں ہے۔ بہر حال بنی اسرائیل کے عام لوگ ایسے مخبروں کے ڈر سے حضرت موسیٰ کے قریب ہونے سے گریز کرتے تھے۔ نوجوان چونکہ با ہمت اور پر جوش ہوتے ہیں ‘ اس لیے وہ اس طرح کی انقلابی آواز پر لبیک کہنے کا خطرہ مول لے لیتے ہیں ‘ جبکہ اسی قوم کے ادھیڑ عمر لوگ کم ہمتی اور مصلحتوں کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ پورا فلسفہ اس آیت میں موجود ہے۔ ان آیات کے نزول کے وقت اہل مکہ میں سے بھی محمد رسول اللہ کا ساتھ دینے کے لیے جو لوگ آگے بڑھ رہے تھے وہ چند باہمت نوجوان ہی تھے ‘ نہ کہ مصلحت کوش بوڑھے۔
بزدلی ایمان کے درمیان دیوار بن گئی ان زبردست روشن دلیلوں کے اور معجزوں کے باوجود حضرت موسیٰ ؑ پر بہت کم فرعونی ایمان لاسکے۔ کیونکہ ان کے دل میں فرعون کی دھاک بیٹھی ہوئی تھی۔ یہ خبیث رعب دبدبہ والا بھی تھا اور ترقی پر بھی تھا۔ حق ظاہر ہوگیا تھا لیکن کسی کو اس کی مخالفت کی جرت نہ تھی ہر ایک کا خوف تھا کہ اگر آج میں ایمان لے آیا تو کل اس کی سخت سزاؤں سے مجبور ہو کر دین حق چھوڑنا پڑے گا۔ پس بہت سے ایسے جانباز موحد جنہوں نے اس کی سلطنت اور سزا کی کوئی پرواہ نہ کی اور حق کے سامنے سر جھکا دیا۔ ان میں خصوصیت سے قابل ذکر فرعون کی بیوی تھی اس کی آل کا ایک اور شخص تھا ایک جو فرعون کا خزانچی تھا۔ اس کی بیوہ تھی وغیرہ ؓ اجمعین۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد اس سے حضرت موسیٰ پر بنی اسرائیل کی تھوڑی سی تعداد کا ایمان لانا ہے۔ یہ بھی مروی ہے کہ ذریت سے مراد قلیل ہے یعنی بہت کم لوگ۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اولاد بھی مراد ہے۔ یعنی جب حضرت موسیٰ نبی بن کر آئے اس وقت جو لوگ ہیں ان کی موت کے بعد ان کی اولاد میں سے کچھ لوگ ایمان لائے۔ امام ابن جریر تو قول مجاہد کو پسند فرماتے ہیں کہ قومہ میں ضمیر کا مرجع حضرت موسیٰ ہیں کیونکہ یہی نام اس سے قریب ہے۔ لیکن یہ محل نظر ہے کیونکہ ذریت کے لفظ کا تقاضا جوان اور کم عمر لوگ ہیں اور بنو اسرائیل تو سب کے سب مومن تھے جیسا کہ مشہور ہے یہ تو حضرت موسیٰ کے آنے کی خوشیاں منا رہے تھے ان کی کتابوں میں موجود تھا کہ اس طرح نبی اللہ آئیں گے اور ان کے ہاتھوں انہیں فرعون کی غلامی کی ذلت سے نجات ملے گی ان کی کتابوں کی یہی بات تو فرعون کے ہوش و حواس گم کئے ہوئی تھی جس کی وجہ سے اس نے حضرت موسیٰ کی دشمنی پر کمر کس لی تھی اور آپ کی نبوت کے ظاہر ہونے سے پہلے اور آپ کے آنے سے پہلے اور آپ کے آجانے کے بعد ہم تو اس کے ہاتھوں بہت ہی تنگ کئے گئے ہیں۔ آپ نے انہیں تسلی دی کہ جلدی نہ کرو۔ اللہ تمہارے دشمن کا ناس کرے گا، تمہیں ملک کا مالک بنائے گا پھر دیکھے گا کہ تم کیا کرتے ہو ؟ پس یہ تو سمجھ میں نہیں آتا کہ اس آیت سے مراد قوم موسیٰ کی نئی نسل ہو۔ اور یہ کہ بنو اسرائیل میں سے سوائے قارون کے اور کوئی دین کا چھوڑنے والا ایسا نہ تھا جس کے فتنے میں پڑجانے کا خوف ہو۔ قارون گو قوم موسیٰ میں سے تھا لیکن وہ باغی تھا فرعون کا دوست تھا۔ اس کے حاشیہ نشینوں میں تھا، اس سے گہرے تعلق رکھتا تھا۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ ملھم میں ضمیر فرعون کی طرف عائد ہے اور بطور اس کے تابعداری کرنے والوں کی زیادتی کے ضمیر جمع کی لائی گئی ہے۔ یا یہ کہ فرعون سے پہلے لفظ ال جو مضاف تھا محذوف کردیا گیا ہے۔ اور مضاف الیہ اس کے قائم مقام رکھ دیا ہے۔ ان کا قول بھی بہت دور کا ہے۔ گو امام ابن جریر نے بعض نحویوں سے بھی ان دونوں اقوال کی حکایت کی ہے اور اس سے اگلی آیت جو آرہی ہے وہ بھی دلالت کرتی ہے کہ بنی اسرائیل سب مومن تھے۔