سورہ یوسف: آیت 102 - ذلك من أنباء الغيب نوحيه... - اردو

آیت 102 کی تفسیر, سورہ یوسف

ذَٰلِكَ مِنْ أَنۢبَآءِ ٱلْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ ۖ وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ أَجْمَعُوٓا۟ أَمْرَهُمْ وَهُمْ يَمْكُرُونَ

اردو ترجمہ

اے محمدؐ، یہ قصہ غیب کی خبروں میں سے ہے جو ہم تم پر وحی کر رہے ہیں ورنہ تم اُس وقت موجود نہ تھے جب یوسفؑ کے بھائیوں نے آپس میں اتفاق کر کے سازش کی تھی

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Thalika min anbai alghaybi nooheehi ilayka wama kunta ladayhim ith ajmaAAoo amrahum wahum yamkuroona

آیت 102 کی تفسیر

درس نمبر 111 تشریح آیات

102۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔ 111

یہاں آکر حضرت یوسف (علیہ السلام) کا اصل قصہ ختم ہوجاتا ہے اور اب اس پر سبق آموز تبصرے کیے جاتے ہیں۔ اس سورة پر تبصرہ کرتے ہوئے ہم نے ان اغراض ومقاصد کی طرف اشارہ کیا تھا جس کے لئے یہ قصہ تفصیل سے بیان کیا گیا۔ یہاں اب عبرت کے لئے کئی باتوں کی طرف قارئین کو متوجہ کیا جاتا ہے اور ان کے احساسات کو جگایا جاتا ہے۔ اس کائنات کی وسعتوں اور نفس انسانی کی گہرائیوں میں فکر انسانی کو دوڑایا جاتا ہے۔ گزشتہ لوگوں کے حالات ، موجودہ حالات اور پردۂغیب کے پیچھے مستور حقائق بتائے جاتے ہیں۔ چناچہ اس آخری تبصرے کے اندر بیان کردہ حقائق کو ہم اسی ترتیب سے لیتے ہیں کیونکہ یہ قرآنی ترتیب بھی حکمت پر مبنی ہے۔

٭٭٭

یہ قصہ عربوں میں مشہور نہ تھا ، وہ عرب معاشرہ جس میں حضور ﷺ نے پرورش پائی ان واقعات سے بیخبر تھا۔ انہی لوگوں میں حضور ﷺ کی بعثت ہوئی۔ چونکہ اس قصے کے کرداروں کے حالات میں بہتر اسرار و رموز تھے ، اگرچہ وہ صدیوں پرانے کردار تھے ، اس لئے اللہ تعالیٰ نے سورة کے آغاز ہی میں اسے احسن القصص کہا ہے۔

نحن نقص ۔۔۔۔۔۔ لمن الغفلین (12 : 3) “ ہم آپ کے سامنے احسن القصص بیان کرتے ہیں ، یوں کہ ہم نے تمہاری طرف یہ قرآن وحی کیا اگرچہ اس سے قبل آپ غافلوں میں سے تھے ”۔ اور اب اس قصے کے اختتام پر تعقیب یوں آرہی ہے ، اور یوں اس کے اختتام میں بھی اس کے آغاز کی طرف اشارہ ہے۔

آیت نمبر 102

یہ قصہ جو گزشتہ صفحات میں بیان کیا گیا ، ان غیبی خبروں میں سے ہے جسے اللہ کے سوا کوئی نہ جانتا تھا۔ تم بھی نہ جانتے تھے اور ہم نے یہ تمہاری طرف وحی کیے اور یہ ایک زندہ معجزہ ہے ، اے پیغمبر جب وہ یہ سازش تیار کر رہے تھے تو آپ ان کے پاس موجود نہ تھے ، خصوصاً جب انہوں نے اپنا ایکشن پلان تیار کرلیا اور جس کی تفصیلات اس پورے قصے میں دی گئیں۔ انہوں نے یوسف (علیہ السلام) کے خلاف بھی سازش کی ، اپنے باپ کے خلاف بھی سازش کی۔ پھر جب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائی کو پکڑ لیا تو یہ لوگ علیحدہ ہو کر مشورہ کرنے لگے جو ان کی جانب سے ایک مکر یعنی تدبیر تھا۔ نیز اس میں عورتوں کی جانب سے یوسف (علیہ السلام) کے خلاف بھی مکاریاں تھیں۔ پھر اس میں عزیز مصر کی پارلیمنٹ کی مکاری بھی تھی کہ انہوں نے ناحق حضرت یو سف (علیہ السلام) کو جیل بھجوا دیا۔ یہ سب کچھ مکر تھا اور اے پیغمبر آپ کو ان میں سے کسی مکاری کا علم نہ تھا۔ نہ آپ اس وقت موجود تھے کہ آپ نے اس قدر وقت کے ساتھ قلمبند کردیا بلکہ یہ وحی ہے اور اس سے اس نئے نظریہ حیات اور نئے دین کے بنیادی عقائد کو ثابت کرنا مقصود ہے۔ اور اس قصے کے مختلف مشاہد اور مناظر ہیں۔ اس جدید نظریہ حیات کے مسائل اور افکار اس میں جگہ جگہ بکھرے ہوئے ہیں۔

٭٭٭

یہ قصہ اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ یہ کلام وحی الٰہی ہے ، اس کے اشارات ، تاثرات اور ہدایات دلوں کو متحرک کرتی ہیں ، اور ان سب کا تقاضا یہ ہے کہ لوگ پھر اس کلام پر ایمان لائیں۔ خصوصاً جبکہ یہ لوگ حضور اکرم ﷺ کے ذاتی احوال سے بھی باخبر ہیں۔ وہ آپ کو اچھی طرح جانتے ہیں اور آپ ان کے سامنے ایسی ایسی نصیحت آموز غیبی دلچسپ خبریں دیتے ہیں ، لیکن اس کے باوجود لوگوں کی اکثریت مان کر نہیں دیتی۔ لوگوں کی اکثریت اس کائنات میں بکھری ہوئی آیات و معجزات کو رات دن دیکھتے ہیں لیکن انہیں ہوش نہیں آتا۔ یہ لوگ ان آیات و دلائل کے مفہوم کو نہیں سمجھتے ۔ مثلاً ایک اندھے کی طرح کہ وہ ایک جانب سے دوسری منہ موڑتا ہے اور اسے کچھ خبر نہیں لگتی۔ سوال یہ ہے کہ اس معجزانہ قصہ کے بعد اب یہ لوگ کس بات کا انتظار کرتے ہیں۔ کیا وہ اللہ کے ایسے عذاب کا انتطار کر رہے ہیں کہ جو ان کو اچانک پکڑ لے اور ان کو کوئی شعور نہ ہو ؟

حضرت یوسف ؑ کا تمام و کمال قصہ بیان فرما کر کس طرح بھائیوں نے ان کے ساتھ برائی کی اور کس طرح ان کی جان تلف کرنی چاہی اور اللہ نے انہیں کس طرح بچایا اور کس طرح اوج وترقی پر پہنچایا اب اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے کہ یہ اور اس جیسی اور چیزیں سب ہماری طرف سے تمہیں دی جاتی ہیں تاکہ لوگ ان سے نصیحت حاصل کریں اور آپ کے مخالفین کی بھی آنکھیں کھلیں اور ان پر ہماری حجت قائم ہوجائے تو اس وقت کچھ ان کے پاس تھوڑے ہی تھا۔ جب وہ حضرت یوسف ؑ کے ساتھ کھلا داؤ فریب کر رہے تھے۔ کنویں میں ڈالنے کے لئے سب مستعد ہوگئے تھے۔ صرف ہمارے بتانے سکھانے سے تجھے یہ واقعات معلوم ہوئے۔ جیسے حضرت مریم ؑ کے قصے کو بیان فرماتے ہوئے ارشاد ہوا ہے کہ جب وہ قلمیں ڈال رہے تھے کہ مریم کو کون پالے تو اس وقت ان کے پاس نہ تھا۔ الخ۔ حضرت موسیٰ کو اپنی باتیں سمجھا رہے تھے تو وہاں نہ تھا۔ اسی طرح اہل مدین کا معاملہ بھی تجھ سے پوشیدہ ہی تھا۔ ملاء اعلٰی کی آپس کی گفتگو میں تو موجود نہ تھا۔ یہ سب ہماری طرف سے بذریعہ وحی تجھے بتایا گیا یہ کھلی دلیل ہے تیری رسالت ونبوت کی کہ گزشتہ واقعات تو اس طرح کہول کھول کر لوگوں کے سامنے بیان کرتا ہے کہ گویا تو نے آپ بچشم خود دیکھے ہیں اور تیرے سامنے ہی گزرے ہیں۔ پھر یہ واقعات نصیحت وعبرت حکمت وموعظت سے پر ہیں، جن سے انسانوں کی دین و دنیا سنور سکتی ہے۔ باوجود اس کے بھی اکثر لوگ ایمان سے کورے رہے جاتے ہیں گو تو لاکھ چاہے کہ یہ مومن بن جائیں اور آیت میں ہے آیت (وَاِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِي الْاَرْضِ يُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ۭ اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَاِنْ هُمْ اِلَّا يَخْرُصُوْنَ01106) 6۔ الانعام :116) اگر تو انسانوں کی اکثریت کی اطاعت کرے گا تو وہ تجھے اللہ کی راہ سے بہکا اور بھٹکا دیں گے۔ بہت سے واقعات کے بیان کے بعد ہر ایک واقعہ کے ساتھ قرآن نے فرمایا ہے کہ گو اس میں بڑا زبردست نشان ہے لیکن پھر بھی اکثر لوگ ماننے والے نہیں۔ آپ جو کچھ بھی جفاکشی کر رہے ہیں اور اللہ کی مخلوق کو راہ حق دکھا رہے ہیں، اس میں آپ کا اپنا دنیوی نفع ہرگز مقصود نہیں، آپ ان سے کوئی اجرت اور کوئی بدلہ نہیں چاہتے بلکہ یہ صرف اللہ کی رضا جوئی کے لئے مخلوق کے نفع کے لئے ہے۔ یہ تو تمام جہان کے لئے سراسر ذکر ہے کہ وہ راہ راست پائیں نصیحت حاصل کریں عبرت پکڑیں ہدایت ونجات پائیں۔

آیت 102 - سورہ یوسف: (ذلك من أنباء الغيب نوحيه إليك ۖ وما كنت لديهم إذ أجمعوا أمرهم وهم يمكرون...) - اردو