سورہ یوسف: آیت 111 - لقد كان في قصصهم عبرة... - اردو

آیت 111 کی تفسیر, سورہ یوسف

لَقَدْ كَانَ فِى قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّأُو۟لِى ٱلْأَلْبَٰبِ ۗ مَا كَانَ حَدِيثًا يُفْتَرَىٰ وَلَٰكِن تَصْدِيقَ ٱلَّذِى بَيْنَ يَدَيْهِ وَتَفْصِيلَ كُلِّ شَىْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ

اردو ترجمہ

اگلے لوگوں کے ان قصوں میں عقل و ہوش رکھنے والوں کے لیے عبرت ہے یہ جو کچھ قرآن میں بیان کیا جا رہا ہے یہ بناوٹی باتیں نہیں ہیں بلکہ جو کتابیں اس سے پہلے آئی ہوئی ہیں انہی کی تصدیق ہے اور ہر چیز کی تفصیل اور ایمان لانے والوں کے لیے ہدایت اور رحمت

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Laqad kana fee qasasihim AAibratun liolee alalbabi ma kana hadeethan yuftara walakin tasdeeqa allathee bayna yadayhi watafseela kulli shayin wahudan warahmatan liqawmin yuminoona

آیت 111 کی تفسیر

آیت نمبر 111

ذرا غور کیجئے ، سورة کا آغاز اور اختتام کس قدر ہم آہنگ ہیں۔ اس طرح قصے کا آغاز و اختتام بھی باہم ۔۔۔۔ ہیں۔ قصے کے آغاز میں بھی نتائج اخذ کیے گئے ہیں۔ اس کے درمیان بھی عبرت آموزی کی گئی ہے اور اس کے آخر میں بھی نتائج اخذ کیے گئے ہیں اور مضمون اور موضوع باہم پیوست و ہم آہنگ ہے۔ طرز ادا اور فقرے موزوں ، فنی اعتبار سے قصہ نہایت ہی پرکشش ہے۔ لیکن ان سب خصوصیات کے ساتھ واقعات حقیقت پر مبنی ہیں اور کوئی مبالغہ نہیں ہے۔

یہ قصہ ایک ہی سورة میں پوری طرح بیان ہوجاتا ہے ۔ یک جا پورے کا پورا۔ اس لیے کہ اس قصے کی نوعیت ہی ایسی ہے کہ یہ یکجا ہو۔ کیونکہ واقعات آہستہ آہستہ رونما ہوتے ہیں۔ ایک دن کے بعد دوسرا دن آتا ہے۔ ایک مرحلے کے بعد دوسرا مرحلہ آتا ہے ، اس لیے اس سے نتائج صرف اسی صورت میں اخذ کیے جاسکتے تھے کہ قصے کو پوری شکل میں ایک سورة میں دے دیا جائے۔ اگر دوسرے قصص کی طرح اس کے صرف بعض حلقے ہی لائے جاتے تو اس طرح وہ نتائج اخذ نہ ہو سکتے تھے جو مکمل قصہ کی شکل میں سامنے آتے ہیں دوسرے قصص کا انداز قرآن میں مختلف رہا ہے۔ مثلاً بلقیس یا قصہ تخلیق مریم۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کا واقعہ ، حضرت نوح (علیہ السلام) کے طوفان کا واقعہ ، کیونکہ یہ ان قصوں کے بعض حلقے اپنی جگہ مکمل حصے اور کڑیاں ہیں اور ان سے ایک مستقل سبق ملتا ہے۔ لیکن قصہ یوسف ایسا ہے کہ اس کو مکمل طور پر ایک ہی نشست میں پڑھنا ضروری ہے اور ابتداء سے انجام تک ایک ہی جگہ اس کا بیان بھی ضروری ہے۔

نحن نقص علیک ۔۔۔۔۔ الغفلین (12 : 3) “ ہم اس قرآن کو تمہاری طرف وحی کر کے بہترین پیرائے میں واقعات و حقائق (قصص) تم سے بیان کرتے ہیں ورنہ اس سے پہلے تم بالکل بیخبر تھے ”۔

مَا كَانَ حَدِيْثًا يُّفْتَرٰى وَلٰكِنْ تَصْدِيْقَ الَّذِيْ بَيْنَ يَدَيْهِ یعنی یہ واقعات تورات میں بھی ہیں اور قرآن انہی واقعات کی تصدیق کررہا ہے۔ حضرت یوسف کے قصے کے سلسلے میں مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے بہت عمدگی کے ساتھ تورات اور قرآن کا تقابلی مطالعہ پیش کیا ہے ‘ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآن کے حسن بیان اور اس کے حکیمانہ انداز کا معیار اس قدر بلند ہے کہ تورات میں اس کا عشر عشیر بھی نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اصل تورات تو گم ہوگئی تھی۔ بعد میں حافظے کی مدد سے جو تحریریں مرتب کی گئیں ان میں ظاہر ہے وہ معیار تو پیدا نہیں ہوسکتا تھا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ تورات میں تھا۔وَتَفْصِيْلَ كُلِّ شَيْءٍ وَّهُدًى وَّرَحْمَةً لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ یعنی وہ علم جو اس دنیا میں انسان کے لیے ضروری ہے اور وہ راہنمائی جو دنیوی زندگی میں اسے درکار ہے سب کچھ اس قرآن میں موجود ہے۔

عبرت و نصیحت نبیوں کے واقعات، مسلمانوں کی نجات، کافروں کی ہلاکت کے قصے، عقلمندوں کے لئے بڑی عبرت و نصیحت والے ہیں۔ یہ قرآن بناوٹی نہیں بلکہ اگلی آسمانی کتابوں کی سچائی کی دلیل ہے۔ ان میں جو حقیقی باتیں اللہ کی ہیں ان کی تصدیق کرتا ہے۔ اور جو تحریف و تبدیلی ہوئی ہے اسے چھانٹ دیتا ہے ان کی دو باتیں باقی رکھنے کی ہیں انہیں باقی رکھتا ہے۔ اور جو احکام منسوخ ہوگئے انہیں بیان کرتا ہے۔ ہر ایک حلال و حرام، محبوب و مکروہ کو کھول کھول کر بیان کرتا ہے۔ طاعات واجبات، مستحبات، محرمات، مکروہات وغیرہ کو بیان فرماتا ہے اجمالی اور تفصیلی خبریں دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جل وعلا کی صفات بیان فرماتا ہے اور بندوں نے جو غلطیاں اپنے خالق کے بارے میں کی ہیں ان کی اصلاح کرتا ہے۔ مخلوق کو اس سے روکتا ہے کہ وہ اللہ کی کوئی صفت اس کی مخلوق میں ثابت کریں۔ پس یہ قرآن مومنوں کے لئے ہدایت و رحمت ہے، ان کے دل ضلالت سے ہدایت اور جھوٹ سے سچ اور برائی سے بھلائی کی راہ پاتے ہیں اور رب العباد سے دنیا اور آخرت کی بھلائی حاصل کرلیتے ہیں۔ ہماری بھی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی دنیا آخرت میں ایسے ہی مومنوں کا ساتھ دے اور قیامت کے دن جب کہ بہت سے چہرے سفید ہوں گے اور بہت سے منہ کالے ہوجائیں گے، ہمیں مومنوں کے ساتھ نورانی چہروں میں شامل رکھے آمین۔ الحمد للہ سورة یوسف کی تفسیر ختم ہوگئی۔ اللہ کا شکر ہے وہی تعریفوں کے لائق ہے اور اسی سے ہم مدد چاہتے ہیں۔

آیت 111 - سورہ یوسف: (لقد كان في قصصهم عبرة لأولي الألباب ۗ ما كان حديثا يفترى ولكن تصديق الذي بين يديه وتفصيل كل شيء...) - اردو