سورہ یوسف: آیت 24 - ولقد همت به ۖ وهم... - اردو

آیت 24 کی تفسیر, سورہ یوسف

وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِۦ ۖ وَهَمَّ بِهَا لَوْلَآ أَن رَّءَا بُرْهَٰنَ رَبِّهِۦ ۚ كَذَٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ ٱلسُّوٓءَ وَٱلْفَحْشَآءَ ۚ إِنَّهُۥ مِنْ عِبَادِنَا ٱلْمُخْلَصِينَ

اردو ترجمہ

وہ اُس کی طرف بڑھی اور یوسفؑ بھی اس کی طرف بڑھتا اگر اپنے رب کی برہان نہ دیکھ لیتا ایسا ہوا، تاکہ ہم اس سے بدی اور بے حیائی کو دور کر دیں، در حقیقت وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے تھا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Walaqad hammat bihi wahamma biha lawla an raa burhana rabbihi kathalika linasrifa AAanhu alssooa waalfahshaa innahu min AAibadina almukhlaseena

آیت 24 کی تفسیر

یہاں قرآن اس بات کی تصریح کرتا ہے اور قطعیت کے ساتھ تصریح کرتا ہے کہ عورت کے اس ورغلانے کے عمل اور دروازے بند کرکے حضرت یوسف کو علانیہ دعوت گناہ دینے کو حضرت یوسف نے بغیر تامل کے رد کردیا انہوں نے حدود اللہ کو یاد کیا ، اللہ کے انعامات کو یاد کیا جبکہ قرآن نے اس کی دعوت گناہ کو بھی غلیظ الفاظ کے بجائے مہذب الفاظ میں بیان کیا یعنی وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهٖ ۚ وَهَمَّ بِهَا لَوْلَآ اَنْ رَّاٰ بُرْهَانَ رَبِّهٖ : " وہ اس کی طرف بڑھی اور یوسف بھی اس کی طرف بڑھتا اگر اپنے رب کی برہان نہ دیکھ لیتا "

یہ آخری مرحلہ تھا اور تمام مفسرین نے اس پر طویل کلام کیا ہے۔ قدیم مفسرین میں سے بعض لوگوں نے اسرائیلیات کا اتباع کیا ہے اور اس بارے میں متعدد روایات نقل کی ہیں۔ ان روایات میں یہ ذکر ہوا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) بھی ایک عام نوجوان کی طرح اس آخری فعل کے ارتکاب پر مائل تھے ، آگے بڑھ رہے تھے اور اللہ تعالیٰ ان کو برہان پر برہان دکھا رہا تھا مگر وہ رک نہ رہے تھے۔ اس تنہا خانے میں حضرت یعقوب کی تصویر ظاہر ہوئی اور انہوں نے اپنی اگنلی دانتوں میں دبا رکھی تھی۔ اور ان کے سامنے ایک ایسی تختی اچانک آگئی جس کے اوپر آیات قرآنی مکتوب تھیں۔ قرآنی آیات ! جن میں یہ لکھا تھا کہ ایسے کام سے باز آجاؤ، لیکن وہ پھر بھی نہ رکے تو اللہ نے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو بھیجا اور کہا کہ پہنچو میرا بندہ گرنے لگا ہے۔ وہ آئے اور انہوں نے حضرت یوسف کو سینے میں ایک ضرب لگائی۔ یہ اور ایسی دوسری روایات جو واضح طور پر بتا رہی ہیں کہ یہ جعلی اور بناوٹی ہیں۔

رہے جمہور مفسرین ، تو انہوں نے یہ کہا ہے کہ عورت نے تو ارادہ گناہ کرلیا تھا اور حضرت یوسف نے بھی اس کے بارے میں سوچ لیا ہوتا ، اگر اس پر اللہ کا برہان روشن نہ ہوگیا ہوتا اور پھر انہوں نے اپنا ارادہ ترک کرلیا تھا۔

سید رشید رضا نے اپنی تفسیر المنار میں جمہور علماء کی اس تفسیر پر رد فرمایا ہے۔ اصل مفہوم یہ ہے کہ یہ جابر مالکہ تھی اور اس نے اسے دعوت گناہ دی اور اسے مارا پیٹآ کیونکہ اس نے انکار کرکے اس کی توہین کی تھی اور حضرت یوسف نے اس کی زیادتی کا جواب دیا۔ اور اس کے بعد انہوں نے بھاگنے میں عافیت سمجھی اور اس طرح اس نے اسے پکڑ کر قمیص پھاڑ دی۔ (ھم) کا مفہوم مارنا اور مارنے کا جواب دینا ایک ایسی تفسیر ہے جس پر کوئی دلیل نہیں ہے۔ یہ ایک کوشش سے پاک صاف ثابت کیا ہے۔ لیکن یہ تفسیر تکلف سے خالی نہیں ہے۔ اور نہ عربی الفاظ اس کے متحمل ہیں۔

ان نصوص پر غور کرنے کے بعد جو بات میری سمجھ میں آئی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت یوسف اس پختہ کار عورت کے ساتھ ایک مکان میں رہ رہے تھے اور یہ ایک طویل عرصے تک رہ رہے تھے۔ علم و حکمت عطا ہونے سے پہلے بھی اور بعد میں بھی موجود تھے۔

اس آیت سے میں جو سمجھا ہوں وہ یہ ہے کہ اس میں آخری مرحلے کو بیان کیا گیا ہے۔ اس عورت نے ایک طویل عرصہ ان کو ورغلانے کی سعی کی اور آپ نے انکار کیا ، اس عرصے میں حضرت یوسف ان مشکل حالات کا مقابلہ کرتے رہے اور قرآن اس آیت میں آخری مراحل کا ذکر کردیا کہ انہوں نے پاکیزگی اختیار کی اور اللہ کے برہان کو دیکھ لیا۔ اس کشاکش کو یہاں قرآن مجید نے نہایت ہی مختصراً بیان کیا ہے اور اسے مختصر جگہ دی ہے۔ اس کے لیے مناسب اور ضروری الفاظ استعمال کیے۔ کشاکش کے آغاز اور انجام کو ان الفاظ میں قلم بند کر ردیا کہ آغاز میں انہوں نے انکار کیا اور انتہا میں انہوں نے براہین الہیہ کو دیکھا لیکن ابتدائی اور آخری مرحلے کے درمیان ممکن ہے کہ کمزوری کے لمحات بھی آئے ہوں اور اس طرح حقیقت پسندانہ سچائی اور پاک فضا دونوں مکمل ہوئی ہوں۔

ان حالات و نصوص کا مطالعہ کرتے وقت میرے ذہن میں یہ بات آئی ہے۔ یہ بات انسانی مزاج اور طبیعت کے بھی قریب ہے اور منصب نبوت کے بھی ہم آہنگ ہے۔ حضرت یوسف بہرحال انسان تھے اور ایک برگزیدہ انسان تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا نفسیاتی میلان بھی ختم ہوگیا اور وہ حالت اعتصام اور مکمل انکار کی طرف لوٹ آئے۔

علامہ زمخشری کشاف میں کہتے ہیں " سوال یہ ہے کہ ایک نبی کس طرح برائی کا " ھم " کرسکتا ہے اور کس طرح وہ ارادہ کرسکتا ہے کہ وہ یہ کام کرے۔ جواب یہ ہے کہ یہ ایک نفسیاتی میلان تھا ، جوانی کی خواہشات کا دباؤ ہر انسان پر ہوتا ہے۔ یہاں اسے ھم اور قصد سے تعبیر کیا ہے کیونکہ ایسے حالات می انسان پر سخت دباؤ ہوتا ہے اور عزم اور مدافعت کے ٹوٹنے کا خطرہ ہوتا ہے ، لیکن حضرت یوسف اللہ کے براہین کے ملاحظے کے بعد اس دباؤ کا مقابلہ کرتے ہیں۔ اگر یہ میلان ہی نہ ہوتا اور جسمانی دباؤ نہ ہوتا تو حضرت یوسف اس کام سے رک کر قابل ستائش کس طرح ہوگئے۔ کیونکہ صبر ، برداشت اور ابتلا پر اجر تب ہی ہے کہ انسان کے اندر قوت اور میلان موجود ہو۔

كَذَلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوءَ وَالْفَحْشَاءَ إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِينَ : ایسا ہوا ، تاکہ اہم اس سے بدی اور بےحیائی کو دور کردیں ، در حقیقت وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے تھا۔

آیت 24 وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهٖ ۚ وَهَمَّ بِهَا لَوْلَآ اَنْ رَّاٰ بُرْهَانَ رَبِّهٖ حضرت یوسف جوان تھے اور ممکن تھا طبع بشری کی بنیاد پر آپ کے دل میں بھی کوئی ایسا خیال جنم لیتا مگر اللہ نے اس نازک موقع پر آپ کی خصوصی مدد فرمائی اور اپنی خصوصی نشانی دکھا کر آپ کو کسی منفی خیال سے محفوظ رکھا۔ یہ نشانی کیا تھی اس کا قرآن میں کوئی ذکر نہیں البتہ تورات میں اس کی وضاحت یوں بیان کی گئی ہے کہ عین اس موقع پر حضرت یعقوب کی شکل دیوار پر ظاہر ہوئی اور آپ نے انگلی کا اشارہ کر کے حضرت یوسف کو باز رہنے کے لیے کہا۔كَذٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوْۗءَ وَالْفَحْشَاۗءَ یعنی ہم نے اپنی نشانی دکھا کر حضرت یوسف سے برائی اور بےحیائی کا رخ پھیر دیا اور یوں آپ کی عصمت و عفت کی حفاظت کا خصوصی اہتمام کیا۔اِنَّهٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِيْنَ واضح رہے کہ یہاں لفظ مُخْلَص لام کی زبر کے ساتھ آیا ہے۔ مُخلِص اور مخلص کے فرق کو سمجھ لیجیے۔ مُخلِص اسم الفاعل ہے یعنی خلوص و اخلاص سے کام کرنے والا اور مخلص وہ شخص ہے جس کو خالص کرلیا گیا ہو۔ اللہ کے مخلص وہ ہیں جن کو اللہ نے اپنے لیے خالص کرلیا ہو ‘ یعنی اللہ کے خاص برگزیدہ اور چہیتے بندے۔

یوسف ؑ کے تقدس کا سبب سلف کی ایک جماعت سے تو اس آیت کے بارے میں وہ مروی ہے جو ابن جریر وغیرہ لائے ہیں اور کہا گیا ہے کہ یوسف ؑ کا قصد اس عورت کے ساتھ صرف نفس کا کھٹکا تھا۔ بغوی کی حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ عزوجل کا فرمان ہے کہ جب میرا کوئی بندہ نیکی کا ارادہ کرے تو تم اس کی نیکی لکھ لو۔ اور جب اس نیکی کو کر گزرے تو اس جیسی دس گنی نیکی لکھ لو۔ اور اگر کسی برائی کا ارادہ کرے اور پھر اسے نہ کرے تو اس کے لیے نیکی لکھ لو۔ کیونکہ اس نے میری وجہ سے اس برائی کو چھوڑا ہے۔ اور اگر اس برائی کو ہی کر گزرے تو اس کے برابر اسے لکھ لو۔ اس حدیث کے الفاظ اور بھی کئی ایک ہیں اصل بخاری، مسلم میں بھی ہے۔ ایک قول ہے کہ حضرت یوسف نے اسے مارنے کا قصد کیا تھا۔ ایک قول ہے کہ اسے بیوی بنانے کی تمنا کی تھی۔ ایک قول ہے کہ آپ قصد کرتے اگر اگر دلیل نہ دیکھتے لیکن چونکہ دلیل دیکھ لی قصد نہیں فرمایا۔ لیکن اس قول میں عربی زبان کی حیثیت سے کلام ہے جسے امام ابن جریر وغیرہ نے بیان فرمایا ہے۔ یہ تو تھے اقوال قصد یوسف کے متعلق۔ وہ دلیل جو آپ نے دیکھی اس کے متعلق بھی اقوال ملاحظہ فرمائیے۔ کہتے ہیں اپنے والد حضرت یعقوب کو دیکھا کہ گویا وہ اپنی انگلی منہ میں ڈالے کھڑے ہیں۔ اور حضرت یوسف کے سینے پر آپ نے ہاتھ مارا۔ کہتے ہیں اپنے سردار کی خیالی تصویر سامنے آگئی۔ کہتے ہیں آپ کی نظر چھت کی طرف اٹھ گئی دیکھتے ہیں کہ اس پر یہ آیت لکھی ہوئی ہے (آیت لا تقربو الزنی انہ کان فاحشتہ و مقتا و ساء سبیلا) خبردار زنا کے قریب بھی نہ بھٹکنا وہ بڑی بےحیائی کا اور اللہ کے غضب کا کام ہے اور وہ بڑا ہی برا راستہ ہے۔ کہتے ہیں تین آیتیں لکھی ہوئی تھیں ایک تو (وَاِنَّ عَلَيْكُمْ لَحٰفِظِيْنَ 10 ۙ) 82۔ الإنفطار :10) تم پر نگہبان مقرر ہیں۔ دوسری (وَمَا تَكُوْنُ فِيْ شَاْنٍ وَّمَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّلَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَيْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِيْضُوْنَ فِيْه 61؀) 10۔ یونس :61) تم جس حال میں ہو اللہ تمہارے ساتھ ہے۔ تیسری (اَفَمَنْ هُوَ قَاۗىِٕمٌ عَلٰي كُلِّ نَفْسٍۢ 33۔) 13۔ الرعد :33) اللہ ہر شخص کے ہر عمل پر حاضر ناظر ہے کہتے ہیں کہ چار آیتیں لکھی پائی تین وہی جو اوپر ہیں اور ایک حرمت زنا کی جو اس سے پہلے ہے۔ کہتے ہیں کہ کوئی آیت دیوار پر ممانعت زنا کے بارے میں لکھی ہوئی پائی۔ کہتے ہیں ایک نشان تھا جو آپ کے ارادے سے آپ کو روک رہا تھا۔ ممکن ہے وہ صورت یعقوب ہو۔ اور ممکن ہے اپنے خریدنے والے کی صورت ہو۔ اور ممکن ہے آیت قرآنی ہو کوئی ایسی صاف دلیل نہیں کہ کسی خاص ایک چیز کے فیصلے پر ہم پہنچ سکیں۔ پس بہت ٹھیک راہ ہمارے لیے یہی ہے کہ اسے یونہی مطلق چھوڑ دیا جائے جیسے کہ اللہ کے فرمان میں بھی اطلاق ہے (اسی طرح قصد کو بھی) پھر فرماتا ہے ہم نے جس طرح اس وقت اسے ایک دلیل دکھا کر برائی سے بچا لیا، اسی طرح اس کے اور کاموں میں بھی ہم اس کی مدد کرتے رہے اور اسے برائیوں اور بےحیائیوں سے محفوظ رکھتے رہے۔ وہ تھا بھی ہمارا برگزیدہ پسندیدہ بہترین اور مخلص بندہ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ پر درود وسلام نازل ہوں۔

آیت 24 - سورہ یوسف: (ولقد همت به ۖ وهم بها لولا أن رأى برهان ربه ۚ كذلك لنصرف عنه السوء والفحشاء ۚ إنه من...) - اردو