سورہ یوسف: آیت 26 - قال هي راودتني عن نفسي... - اردو

آیت 26 کی تفسیر, سورہ یوسف

قَالَ هِىَ رَٰوَدَتْنِى عَن نَّفْسِى ۚ وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ أَهْلِهَآ إِن كَانَ قَمِيصُهُۥ قُدَّ مِن قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَهُوَ مِنَ ٱلْكَٰذِبِينَ

اردو ترجمہ

یوسفؑ نے کہا "یہی مجھے پھانسنے کی کوشش کر رہی تھی" اس عورت کے اپنے کنبہ والوں میں سے ایک شخص نے (قرینے کی) شہادت پیش کی کہ "اگر یوسفؑ کا قمیص آگے سے پھٹا ہو تو عورت سچی ہے اور یہ جھوٹا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qala hiya rawadatnee AAan nafsee washahida shahidun min ahliha in kana qameesuhu qudda min qubulin fasadaqat wahuwa mina alkathibeena

آیت 26 کی تفسیر

یہاں قرآن کریم واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ اس موقعہ پر اس عورت کے رشتہ داروں میں سے کوئی موجود تھا جس نے شہادت احوال یعنی موجود قرائن پر فیصلہ دے دیا اور نزاع ختم ہوگیا۔ وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ اَهْلِهَا ۚ اِنْ كَانَ قَمِيْصُهٗ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَهُوَ مِنَ الْكٰذِبِيْنَ ۔ وَاِنْ كَانَ قَمِيْصُهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَكَذَبَتْ وَهُوَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ ۔ اس عورت کے اپنے کنبہ والوں میں سے ایک شخص نے (قرینے کی) شہادت پیش کی کہ " اگر یوسف کی قمیص آگے سے پھٹی ہو تو عورت سچی ہے اور یہ جھوٹا۔ اور اگر اس کی قمیص پیچھے سے پھٹی ہو تو عورت جھوٹی ہے اور یہ سچا۔

سوال یہ ہے کہ اس شاہد نے کہاں شہادت دی ؟ کیا یہ خاوند کے ساتھ اس وقت موجود تھا یا اس واقعہ کو دیکھ کر بیوی کے خاندان میں سے ایک معمر شخص کو بلایا گیا اور اس واقعہ کو دیکھ کر بیوی کے خاندان میں سے ایک معمر شخص کو بلایا گیا اور اس کے سامنے عزیز مصر نے یہ ماجرا رکھا جیسا کہ ایسے حالات میں اکثر ہوا کرتا ہے۔ خصوصاً ایسے اونچے طبقات میں ایسا ہی ہوتا ہے جن کا خون ٹھنڈا ہوتا ہے اور جن کے ہاں اخلاق قدریں ڈھیلی ہوتی ہیں۔

یہ دونوں باتیں ہوسکتی ہیں اور مفہوم میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس شخص کے فیصلے کو یہاں شہادت کہا گیا ہے کیونکہ فریقین کی طرف سے اپنا پنا موقف اس کے سامنے پیش ہوا ، اس نے فتوی دیا یا رائے دی اور اسے شہادت کہا گیا اس لیے کہ شہادت سے بھی انسان سچائی تک پہنچتا ہے۔ قرائن کی شہادت یہ ہے کہ اگر آگے سے قمیص پھٹی ہوئی ہے اور تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مرد حملہ آور ہے اور عورت مدافع ہے۔ لہذا وہ سچی اور یہ جھوٹا ہے۔ اگر قمیص پیچھے سے پھٹی ہے تو وہ بھاگ رہا تھا اور یہ اسے پکڑ کر کھینچ رہی تھی لہذا یہ جھوٹی ہے اور وہ سچا ہے۔ اس شخص نے پہلے عورت کی سچائی کی صورت پیش کی کیونکہ وہ مالکہ ہے اور یہ غلام ہے۔ لہذا مناسب یہی تھا کہ مالک اور اپر ہینڈ کے حق میں جانے والی بات پہلے کی جائے۔ دونوں صورتوں میں شہادت احوال موجود ہے۔

آیت 26 قَالَ هِىَ رَاوَدَتْنِيْ عَنْ نَّفْسِيْ صورت حال بہت نازک اور خطرناک رخ اختیار کرچکی تھی۔ حضرت یوسف کو بھی اپنے دفاع میں کچھ نہ کچھ تو کہنا تھا۔ لہٰذا آپ نے صاف صاف بتادیا کہ خود اس عورت نے مجھے گناہ پر آمادہ کرنے کی کوشش کی ہے۔وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْ اَهْلِهَااس عورت کے اپنے رشتہ داروں میں سے بھی کوئی شخص موقع پر آپہنچا۔ اس نے موقع محل دیکھ کر وقوعہ کے بارے میں بڑی مدلل اور خوبصورت قرائنی شہادت circumstancial evidence دی کہ :اِنْ كَانَ قَمِيْصُهٗ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَهُوَ مِنَ الْكٰذِبِيْنَ اگر عورت سے دست درازی کی کوشش ہو رہی تھی اور وہ اپنا تحفظ کر رہی تھی تو ظاہر ہے کہ حملہ آور کی قمیص سامنے سے پھٹنی چاہیے۔

آیت 26 - سورہ یوسف: (قال هي راودتني عن نفسي ۚ وشهد شاهد من أهلها إن كان قميصه قد من قبل فصدقت وهو من الكاذبين...) - اردو