سورہ یوسف: آیت 33 - قال رب السجن أحب إلي... - اردو

آیت 33 کی تفسیر, سورہ یوسف

قَالَ رَبِّ ٱلسِّجْنُ أَحَبُّ إِلَىَّ مِمَّا يَدْعُونَنِىٓ إِلَيْهِ ۖ وَإِلَّا تَصْرِفْ عَنِّى كَيْدَهُنَّ أَصْبُ إِلَيْهِنَّ وَأَكُن مِّنَ ٱلْجَٰهِلِينَ

اردو ترجمہ

یوسفؑ نے کہا "اے میرے رب، قید مجھے منظور ہے بہ نسبت اس کے کہ میں وہ کام کروں جو یہ لوگ مجھ سے چاہتے ہیں اور اگر تو نے ان کی چالوں کو مجھ سے دفع نہ کیا تو میں ان کے دام میں پھنس جاؤں گا اور جاہلوں میں شامل ہو رہوں گا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qala rabbi alssijnu ahabbu ilayya mimma yadAAoonanee ilayhi wailla tasrif AAannee kaydahunna asbu ilayhinna waakun mina aljahileena

آیت 33 کی تفسیر

حضرت یوسف اب صرف عزیز کی بیوی کے خلاف دست بدعا نہیں بلکہ مصر کے اس اعلی طبقے کی عورتیں اب ان کے پیچھے پڑگئی ہیں ، اپنی حرکات اور اپنی باتوں کی وجہ سے تمام عورتیں ان پر بچھی جا رہی ہیں اب وہ اللہ کے سامنے دست بدعا ہوتے ہیں اور ان فتنوں کے مقابلے میں وہ اللہ کی نصرت طلب کرتے ہیں اور اس بات سے ڈرتے ہیں کہ انہیں ہر طرف سے ورغلایا جا رہا ہے اور کسی بھی وقت ان سے کمزوری ظاہر نہ ہونے اس لیے وہ ان حالات میں اور ایسی سخت آزمائش میں خوف کھا رہے ہیں۔

وَاِلَّا تَصْرِفْ عَنِّيْ كَيْدَهُنَّ اَصْبُ اِلَيْهِنَّ وَاَكُنْ مِّنَ الْجٰهِلِيْنَ : " یہ اس انسان کی پکار ہے جسے اپنی شریعت کا احساس ہے ، وہ جانتا ہے کہ انسان انسان ہے۔ وہ اگرچہ جمے ہوئے ہیں لیکن اپنی کمزوریاں بھی ان کی نظر میں ہیں۔ لہذا وہ اللہ کی حفاظت مزید چاہتے ہیں تاکہ وہ ان فتنوں کا مقابلہ اطمینان سے کرسکیں "

آیت 33 - سورہ یوسف: (قال رب السجن أحب إلي مما يدعونني إليه ۖ وإلا تصرف عني كيدهن أصب إليهن وأكن من الجاهلين...) - اردو