سورہ یوسف: آیت 36 - ودخل معه السجن فتيان ۖ... - اردو

آیت 36 کی تفسیر, سورہ یوسف

وَدَخَلَ مَعَهُ ٱلسِّجْنَ فَتَيَانِ ۖ قَالَ أَحَدُهُمَآ إِنِّىٓ أَرَىٰنِىٓ أَعْصِرُ خَمْرًا ۖ وَقَالَ ٱلْءَاخَرُ إِنِّىٓ أَرَىٰنِىٓ أَحْمِلُ فَوْقَ رَأْسِى خُبْزًا تَأْكُلُ ٱلطَّيْرُ مِنْهُ ۖ نَبِّئْنَا بِتَأْوِيلِهِۦٓ ۖ إِنَّا نَرَىٰكَ مِنَ ٱلْمُحْسِنِينَ

اردو ترجمہ

قید خانہ میں دو غلام اور بھی اس کے ساتھ داخل ہوئے ایک روز اُن میں سے ایک نے اُس سے کہا "میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں شراب کشید کر رہا ہوں" دوسرے نے کہا "میں نے دیکھا کہ میرے سر پر روٹیاں رکھی ہیں اور پرندے ان کو کھا رہے ہیں" دونوں نے کہا "ہمیں اس کی تعبیر بتائیے، ہم دیکھتے ہیں کہ آپ ایک نیک آدمی ہیں"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wadakhala maAAahu alssijna fatayani qala ahaduhuma innee aranee aAAsiru khamran waqala alakharu innee aranee ahmilu fawqa rasee khubzan takulu alttayru minhu nabbina bitaweelihi inna naraka mina almuhsineena

آیت 36 کی تفسیر

عنقریب سیاق کلام میں یہ بات ظاہر ہوگی کہ یہ لوگ بادشاہ کے خواص اور خدام میں سے تھے۔ یہاں قرآن مجید میں حضرت یوسف کے زمانہ قید کے حالات تفصیل سے بیان نہیں کیے گئے ، لیکن یہ بات ظاہر ہے کہ قید خانے میں آپ کی طہارت اخلاق اور نیکی اور سنجیدگی اور وقار اس قدر عام ہوگیا کہ تمام قیدیوں میں آپ ایک مثال بن گئے۔ تمام قیدیوں کے لیے معتمد اعلی بن گئے ، ان قیدیوں میں وہ لوگ بھی تھے جو شاہی عتاب کی وجہ سے قید خانے میں پڑے تھے۔ کیونکہ شاہی محل اور شاہی دربار میں دربار میں ان سے کچھ قصور سرزد ہوگئے ہوں گے۔ چناچہ ان پر عارضی طور پر عتاب وارد ہوگیا تھا۔ بہرحال قرآن واقعات قصے کو جلدی آگے بڑھانے کے لیے باقی تفصیلات ترک کردیتا ہے اور صرف دو نوجوانوں کا تذکرہ کرتا ہے۔ یہ دو نوجوان حضرت یوسف کے پاس آئے اور انہوں نے ان کے سامنے اپنے خوابوں کو پیش کیا اور یہ مطالبہ کیا کہ آپ ان کی تعبیر بتائیں۔ ان لوگوں نے تعبیر خواب کے لیے حضرت یوسف کا انتخاب کیوں کیا ؟ اس لیے کہ وہ دیکھ رہے تھے کہ وہ سچے ، نیک عبادت گزار اور ذکر و فکر کے مالک تھے۔

قید خانے میں دو غلام اور بھی اس کے ساتھ داخل ہوئے ، ایک روز ان میں سے ایک نے کہا میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں شراب کشید کر رہا ہوں دوسرے نے کہا " میں نے دیکھا کہ میرے سر پر روٹیاں رکھی ہیں اور پرندے ان کو کھا رہے ہیں " دونوں نے کہا ہمیں اس کی تعبیر بتائیے ، ہم دیکھتے ہیں کہ آپ ایک نیک آدمی ہیں۔ اب حضرت یوسف (علیہ السلام) کو یہ موقعہ ہاتھ آگیا کہ وہ قیدیوں کے سامنے اپنا نظریہ حیات پیش کریں۔ ان کو صحیح عقیدہ دیں ، کیونکہ قیدی کے لیے یہ ممنوع نہیں ہے کہ ان کا عقیدہ اچھا ہو۔ قیدیوں کی نظریاتی اور عملی تربیت بھی ضروری ہے۔ لہذا حضرت یوسف ان کو تلقین کرتے ہیں کہ تمام خرابیوں کی جڑ فاسد نظام زندگی ہے جس میں حکم اور اقتدار اعلی اللہ کے سوا کسی اور کے لیے ہو۔ چناچہ وہ ان کو تلقین کرتے ہیں کہ اللہ کو چھوڑ کر دوسرے لوگوں کو اس کرہ ارض کا رب تسلیم کرنا اصل گمراہی ہے ، اس طرح حکمران فرعون بن جاتے ہیں۔

حضرت یوسف اپنی بات کا آغاز اس موضوع سے کرتے ہیں جس میں اس کے جیل کے دونوں ساتھیوں کو دلچسپی ہے۔ لیکن ان سے وعدہ کرتے ہیں کہ تمہارے دلچسپی کے موضوع پر بات ذرا بعد میں آئے گی۔ اور وہ خوابوں کی صحیح تعبیر بتا دیں گے کیونکہ اس شعبے میں اللہ نے ان کو علم لدنی دیا ہے اور یہ اس لیے دیا ہے کہ میں اللہ کی بندگی کرتا ہوں اور اللہ کے ساتھ میں اور میرے آباء و اجداد کسی کو شریک نہیں کرتے ، یوں حضرت یوسف ان لوگوں کو یقین دہانی کراتے ہیں کہ وہ تعبیر خواب بھی بتائیں گے اور یہ کہ حضرت یوسف کا دین بھی نہایت ہی متین دین ہے۔

آیت 36 وَدَخَلَ مَعَهُ السِّجْنَ فَتَيٰنِ جب حضرت یوسف کو جیل بھیجا گیا تو اتفاقاً اسی موقع پر دو اور قیدی بھی آپ کے ساتھ جیل میں داخل کیے گئے۔نَبِّئْنَا بِتَاْوِيْـلِهٖ ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِيْنَ ہم دیکھ رہے ہیں کہ آپ دوسرے قیدیوں سے بالکل مختلف ہیں۔ آپ اعلیٰ اخلاق اور قابل رشک کردار کے مالک ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ آپ ہمارے خوابوں کے سلسلے میں ضرور ہماری راہنمائی فرمائیں گے۔

جیل خانہ میں بادشاہ کے باورچی اور ساقی سے ملاقات اتفاق سے جس روز حضرت یوسف ؑ کو جیل خانہ جانا پڑا اسی دن باشاہ کا ساقی اور نان بائی بھی کسی جرم میں جیل خانے بھیج دیئے گئے۔ ساقی کا نام بندار تھا اور باورچی کا نام بحلث تھا۔ ان پر الزام یہ تھا کہ انہوں نے کھانے پینے میں بادشاہ کو زہر دینے کی سازش کی تھی۔ قید خانے میں بھی نبی اللہ حضرت یوسف ؑ کی نیکیوں کی کافی شہرت تھی۔ سچائی، امانت داری، سخاوت، خوش خلقی، کثرت عبادت، اللہ ترسی، علم و عمل، تعبیر خواب، احسان و سلوک وغیرہ میں آپ مشہور ہوگئے تھے۔ جیل خانے کے قیدیوں کی بھلائی ان کی خیر خواہی ان سے مروت و سلوک ان کے ساتھ بھلائی اور احسان ان کی دلجوئی اور دلداری ان کے بیماروں کی تیمارداری خدمت اور دوا دارو بھی آپ کا تشخص تھا۔ یہ دونوں ہی ملازم حضرت یوسف ؑ سے بہت ہی محبت کرنے لگے۔ ایک دن کہنے لگے کہ حضرت ہمیں آپ سے بہت ہی محبت ہوگئی ہے۔ آپ نے فرمایا اللہ تمہیں برکت دے۔ بات یہ ہے کہ مجھے تو جس نے چاہا کوئی نہ کوئی آفت ہی مجھ پر لایا۔ پھوپھی کی محبت، باپ کا پیار، عزیز کی بیوی کی چاہت، سب مجھے یاد ہے۔ اور اس کا نتیجہ میری ہی نہیں بلکہ تمہاری آنکھوں کے سامنے ہے۔ اب دونوں نے ایک مرتبہ خواب دیکھا ساقی نے دیکھا کہ وہ انگور کا شیرہ نچوڑ رہا ہے۔ ابن مسعود کی قرأت میں خمرا کے بدلے لفظ عنبا ہے، اہل عمان انگور کو خمر کہتے ہیں۔ اس نے دیکھا تھا کہ گویا اس نے انگور کی بیل بوئی ہے اس میں خوشے لگے ہیں، اس نے توڑے ہیں۔ پھر ان کا شیرہ نچوڑ رہا ہے کہ بادشاہ کو پلائے۔ یہ خواب بیان کر کے آرزو کی کہ آپ ہمیں اس کی تعبیر بتلائیے۔ اللہ کے پیغمبر نے فرمایا اس کی تعبیر یہ ہے کہ تمہیں تین دن کے بعد جیل خانے سے آزاد کردیا جائے گا اور تم اپنے کام پر یعنی بادشاہ کی ساقی گری میں لگ جاؤ گے۔ دوسرے نے کہا جناب میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں سر پر روٹی اٹھائے ہوئے ہوں اور پرندے آ آکر اس میں سے کھا رہے ہیں۔ اکثر مفسرین کے نزدیک مشہور بات تو یہی ہے کہ واقعہ ان دونوں نے یہی خواب دیکھے تھے اور ان کی صحیح تعبیر حضرت یوسف ؑ سے دریافت کی تھی۔ لیکن حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ درحقیقت انہوں نے کوئی خواب تو نہیں دیکھا تھا۔ لیکن حضرت یوسف ؑ کی آزمائش کے لیے جھوٹے خواب بیان کر کے تعبیر طلب کی تھی۔

آیت 36 - سورہ یوسف: (ودخل معه السجن فتيان ۖ قال أحدهما إني أراني أعصر خمرا ۖ وقال الآخر إني أراني أحمل فوق رأسي خبزا...) - اردو