سورہ یوسف: آیت 56 - وكذلك مكنا ليوسف في الأرض... - اردو

آیت 56 کی تفسیر, سورہ یوسف

وَكَذَٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِى ٱلْأَرْضِ يَتَبَوَّأُ مِنْهَا حَيْثُ يَشَآءُ ۚ نُصِيبُ بِرَحْمَتِنَا مَن نَّشَآءُ ۖ وَلَا نُضِيعُ أَجْرَ ٱلْمُحْسِنِينَ

اردو ترجمہ

اِس طرح ہم نے اُس سرزمین میں یوسفؑ کے لیے اقتدار کی راہ ہموار کی وہ مختار تھا کہ اس میں جہاں چاہے اپنی جگہ بنائے ہم اپنی رحمت سے جس کو چاہتے ہیں نوازتے ہیں، نیک لوگوں کا اجر ہمارے ہاں مارا نہیں جاتا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wakathalika makanna liyoosufa fee alardi yatabawwao minha haythu yashao nuseebu birahmatina man nashao wala nudeeAAu ajra almuhsineena

آیت 56 کی تفسیر

اب ہم سیاق کلام میں اصل مضمون اور قصے کی طرف واپس ہوتے ہیں۔ یہاں سیاق کلام میں یہ نہیں کہا جاتا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی درخواست منظور ہوگئی ، بلکہ ان کی جانب سے درخواست بذات خود منظوری تھی۔ اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ ان لوگوں کے ہاں اب حضرت یوسف (علیہ السلام) بہت ہی عظیم المرتبہ انسان تھے۔ چناچہ جواب درخواست کی جگہ اس پر ایک تبصرہ کیا جاتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے منصب کا چارج بھی لے لیا ہے۔ کہا جاتا ہے :

وکذلک مکنا لیوسف ۔۔۔۔۔۔ خیر للذین امنوا وکانوا یتقون (12 : 56 ۔ 57) “ اس طرح ہم نے اس سر زمین میں یوسف کے لئے اقتدار کی راہ ہموار کی۔ وہ مختار تھا کہ اس میں جہاں چاہے اپنی جگہ بنائے۔ ہم اپنی رحمت سے جو کو چاہتے ہیں ، نوازتے ہیں ، نیک لوگوں کا اجر ہمارے ہاں مارا نہیں جاتا ، اور آخرت کا اجر ان لوگوں کے لئے زیادہ بہتر ہے جو ایمان لے آئے اور خدا ترسی کے ساتھ کام کرتے رہے ”۔

“ اس طرح !” یعنی اسے غلط الزام سے بری کر کے ، بادشاہ مصر کو ان کا گرویدہ کر کے اور پھر ان کو ان کے طلب کردہ عظیم منصب پر فائز کر کے ، یوں ہم نے ان کے لئے اقتدار کی راہ ہموار کی ، ان کے قدموں کو مضبوط کردیا اور انہوں نے اس سر زمین پر ایک بلند مقام حاصل کرلیا۔ اس سر زمین پر کہ مصر ان دنوں ایک عظیم اور ترقی یافتہ ملک تھا گویا وہی ملک تھا۔ یتبوا منھا حیث یشاء (12 : 56) “ وہ مختار تھا کہ اس میں جہاں چاہے اپنی جگہ بنائے ”۔ جہاں چاہے چلا جائے ، جہاں چاہے رہے ، جو عہدہ چاہے لے ، ذرا اس حالت کو اس حالت کے تناظر میں دیکھو کہ وہ اندھے کنوئیں میں تھے اور ہر لمحہ جان کی پڑی تھی ، پھر ذرا اس حال سے مقابلہ کرو کہ وہ قید و بند کی سختیاں جھیل رہے تھے۔

نصیب برحمتنا من نشاء (12 : 56) “ ہم اپنی رحمت سے جس کو چاہتے ہیں نوازتے ہیں ”۔ اسے مشکلات سے نکال کر آسانیوں میں لاتے ہیں پریشانیوں کے بدلے اسے خوشیاں دیتے ہیں۔ خوف کے بدلے امن دیتے ہیں ، قید کے بدلے آزادی دیتے ہیں ، لوگوں کی نظروں میں ہلکے پن کے بدلے مقام بلند دیتے ہیں۔

ولا نضیع اجر المحسنہ (12 : 56) “ اور نیک لوگوں کا اجر ہمارے ہاں مارا نہیں جاتا ” ۔ جو لوگ اللہ پر پختہ ایمان رکھتے ہیں ، اس پر توکل کرتے ہیں ، اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں ، اس کے حوالے سے اپنے طرز عمل ، اپنے معاملات اور لوگوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو درست کرتے ہیں۔

آیت 56 وَكَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوْسُفَ فِي الْاَرْضِ ۚ يَتَبَوَّاُ مِنْهَا حَيْثُ يَشَاۗءُ حضرت یوسف کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمکن عطا ہونے کا یہ دوسرامرحلہ تھا۔ پہلے مرحلے میں آپ کو بدوی اور صحرائی ماحول سے اٹھا کر اس دور کے ایک نہایت متمدن ملک کی اعلیٰ ترین سطح کی سوسائٹی میں پہنچایا گیا جبکہ دوسرے مرحلے میں آپ کو اسی ملک کے ارباب اختیار و اقتدار کی صف میں ایک نہایت ممتاز مقام عطا کردیا گیا جس کے بعد آپ پورے اختیار کے ساتھ عزیز کے عہدے پر متمکن ہوگئے۔

زمین مصر میں یوں حضرت یوسف ؑ کی ترقی ہوئی۔ اب ان کے اختیار میں تھا کہ جس طرح چاہیں تصرف کریں۔ جہاں چاہیں مکانات تعمیر کریں۔ یا اس تنہائی اور قید کو دیکھئے یا اب اس اختیار اور آزادی کو دیکھئے۔ سچ ہے رب جسے چاہے اپنی رحمت کا جتنا حصہ چاہے دے۔ صابروں کا پھل لا کر ہی رہتا ہے۔ بھائیوں کا دکھ سہا، اللہ کی نافرمانی سے بچنے کے لئے عزیز مصر کی عورت سے بگاڑ لی اور قید خانے کی مصیبتیں برداشت کیں۔ پس رحمت الہی کا ہاتھ بڑھا اور صبر کا اجر ملا۔ نیک کاروں کی نیکیاں کبھی ضائع نہیں جاتیں۔ پھر ایسے باایمان تقوی والے آخرت میں بڑے درجے اور اعلی ثواب پاتے ہیں۔ یہاں یہ ملا، وہاں کے ملنے کی تو کچھ نہ پوچھئے۔ حضرت سلیمان ؑ کے بارے میں بھی قرآن میں آیا ہے کہ یہ دنیا کی دولت و سلطنت ہم نے تجھے اپنے احسان سے دی ہے اور قیامت کے دن بھی تیرے لئے ہمارے ہاں اچھی مہمانی ہے۔ الغرض شاہ مصر ریان بن ولید نے سلطنت مصر کی وزارت آپ کو دی، پہلے اسی عہدے پر اس عورت کا خاوند تھا۔ جس نے آپ کو اپنی طرف مائل کرنا چاہا تھا، اسی نے آپ کو خرید لیا تھا۔ آخر شاہ مصر آپ کے ہاتھ پر ایمان لایا۔ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ آپ کے خریدنے والے کا نام اطغر تھا۔ یہ انہی دنوں میں انتقال کر گیا۔ اس کے بعد باشاہ نے اس کی زوجہ راعیل سے حضرت یوسف ؑ کا نکاح کردیا۔ جب آپ ان سے ملے تو فرمایا کہو کیا یہ تمہارے اس ارادے سے بہتر نہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ اے صدیق مجھے ملامت نہ کیجیئے آپ کو معلوم ہے کہ میں حسن و خوبصورتی والی دھن دولت والی عورت تھی میرے خاوند مردمی سے محروم تھے وہ مجھ سے مل ہی نہیں سکتے تھے۔ ادھر آپ کو قدرت نے جس فیاضی سے دولت حسن کے ساتھ مالا مال کیا ہے وہ بھی ظاہر ہے۔ پس مجھے اب ملامت نہ کیجئے۔ کہتے ہیں کہ واقعی حضرت یوسف ؑ نے انہیں کنواری پایا۔ پھر ان کے بطن سے آپ کو دو لڑکے ہوئے افراثیم اور میضا۔ افراثیم کے ہاں نون پیدا ہوئے جو حضرت یوشع کے والد ہیں اور رحمت نامی صاحبزادی ہوئی جو حضرت ایوب ؑ کی بیوی ہیں۔ حضرت فضیل بن عیاض ؒ فرماتے ہیں کہ عزیز کی بیوی راستے میں کھڑی تھیں جو حضرت یوسف ؑ کی بیوی ہیں۔ حضرت فضیل بن عیاض ؒ فرماتے ہیں کہ عزیز کی بیوی راستے میں کھڑی تھیں جب حضرت یوسف ؑ کی سواری نکلی تو بےساختہ ان کے منہ سے نکل گیا کہ الحمد اللہ اللہ کی شان کے قربان جس نے اپنی فرمانبرداری کی وجہ سے غلاموں کو بادشاہی پر پہنچایا اور اپنی نافرمانی کی وجہ سے بادشاہوں کو غلامی پر لا اتارا۔

آیت 56 - سورہ یوسف: (وكذلك مكنا ليوسف في الأرض يتبوأ منها حيث يشاء ۚ نصيب برحمتنا من نشاء ۖ ولا نضيع أجر المحسنين...) - اردو