ولا جر الاخرۃ خیر للذین امنوا وکانوا یتقون (12 : 57) “ اور آخرت کا اجر ان لوگوں کے لئے زیادہ بہتر ہے جو ایمان لے آئے اور خدا ترسی کے ساتھ کام کرتے رہے ”۔ لہٰذا ان کا بنیادی اجر بھی کم نہ ہوگا اگرچہ آخرت کا اجر دنیا کی ہر چیز سے زیادہ قیمتی ہے بشرطیکہ انسان ایمان اور تقویٰ کی راہ پر گامزن ہوجائے اور اپنی سری اور ظاہری زندگی کو خدا ترسی کی راہ پر استوار کردے۔
یوں اللہ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کی مشکلات دور کردیں ، انہیں زمین میں بلند مرتبہ دیا۔ آخرت میں ان کو خوشخبری دی ، صبر اور احسان کرنے والوں کی یہی مناسب جزاء ہے۔
٭٭٭
زمانے کی گاڑی چلتی رہی۔ سر سبزی و شادابی کے سات سال گزر گئے۔ قرآن کریم نے ان سات سالوں کی تفصیلات کو حذف کردیا ہے تا کہ ان سالوں میں لوگ کیا کرتے رہے اور حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان سالوں میں کیا تدابیر اختیار کیں۔ ملک کا نظم و نسق کس طرح چلایا ، کیونکہ ان امور نے تو بطریق احسن چلنا ہی تھا کیونکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہہ دیا تھا۔ انی حفیظ علیم قرآن نے ملک میں قحط آنے کا تذکرہ کرنا بھی ضروری نہ سمجھا کہ ان میں لوگوں پر کیا گزری ، کس طرح خشک سالی آئی اور کس طرح گئی۔ کیونکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی تعبیر خواب نے یہ تفصیلات گویا بتا دی ہیں۔ وہ فرماتے ہیں :
ثم یاتی من بعد ذلک سبع ۔۔۔۔ ۔ مما تحصنون (12 : 48) “ اس کے بعد سات سخت آئیں گی ، یہ کھا جائیں گے جو تم نے ان کے لئے جمع کر رکھا تھا ، مگر تھوڑا سا وہ جو تم نے بچایا ”۔ سیاق کلام میں اب نہ بادشاہ سامنے آتا ہے نہ کوئی اور شاہی کارندہ۔ گویا اب یوسف (علیہ السلام) ہی سب کچھ ہیں ، جو اس خوفناک دور میں پوری ذمہ داری اپنے کاندھوں پر اٹھائے ہوئے ہیں۔ اب اسٹیج پر صرف حضرت یوسف (علیہ السلام) ہیں ۔ ہر طرف سے روشنی کی زد میں ہیں۔ یہ وہ حقیقت ہے جسے اس قصے میں فنی طور پر بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
جہاں تک خشک سالی کا تعلق ہے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کی آمد سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ خشک سالی سینائی سے اس طرف کنعان تک پھیل گئی ہے اس لئے یہ لوگ غلے کی تلاش میں مصر تک پہنچ گئے ہیں۔ اور علاقے میں مصری حکومت ہی حضرت یوسف (علیہ السلام) کی تدابیر کے نتیجے میں ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے ہے۔ تمام پڑوسی ممالک کی نظریں مصر پر ہیں ، تمام ممالک کے لئے مصر اب غلہ کا گودام ہے۔ ایسے حالات میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کی کہانی میں اب ان کے بھائی نمودار ہوتے ہیں اور اس میں فنی خصوصیات کے ساتھ ساتھ اب دینی مقاصد بھی سامنے آتے ہیں۔
آیت 57 وَلَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ خَيْرٌ لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَكَانُوْا يَتَّقُوْنَ اب یہاں سے آگے اس قصے کا ایک نیا باب شروع ہونے جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ آئندہ رکوع کے مضامین اور گزشتہ مضمون کے درمیان زمانی اعتبار سے تقریباً دس سال کا بعد ہے۔ اب بات اس زمانے سے شروع ہورہی ہے جب مصر میں بہتر فصلوں کے سات سالہ دور کے بعد قحط پڑچکا تھا۔ یہاں پر جو تفصیلات چھوڑ دی گئی ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت یوسف کی تعبیر کے عین مطابق سات سال تک مصر میں خوشحالی کا دور دورہ رہا اور فصلوں کی پیداوار معمول سے کہیں بڑھ کر ہوئی۔ اس دوران حضرت یوسف نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت اناج کے بڑے بڑے ذخائر جمع کرلیے تھے۔ چناچہ جب یہ پورا علاقہ قحط کی لپیٹ میں آیا تو مصر کی حکومت کے پاس نہ صرف اپنے عوام کے لیے بلکہ ملحقہ علاقوں کے لوگوں کی ضرورت پوری کرنے کے لیے بھی اناج وافر مقدار میں موجود تھا۔ چناچہ حضرت یوسف نے اس غیر معمولی صورت حال کے پیش نظر ”راشن بندی“ کا ایک خاص نظام متعارف کروایا۔ اس نظام کے تحت ایک خاندان کو ایک سال کے لیے صرف اس قدرّ غلہ دیا جاتا تھا جس قدر ایک اونٹ اٹھا سکتا تھا اور اس کی قیمت اتنی وصول کی جاتی تھی جو وہ آسانی سے ادا کرسکیں۔ ان حالات میں فلسطین میں بھی قحط کا سماں تھا اور وہاں سے بھی لوگ قافلوں کی صورت میں مصر کی طرف غلہ لینے کے لیے آتے تھے۔ ایسے ہی ایک قافلے میں حضرت یوسف علیہ السلام کے دس بھائی بھی غلہ لینے مصر پہنچے جبکہ آپ کا ماں جایا بھائی ان کے ساتھ نہیں تھا۔ اس لیے کہ حضرت یعقوب اپنے اس بیٹے کو کسی طرح بھی ان کے ساتھ کہیں بھیجنے پر آمادہ نہیں تھے۔