آیت نمبر 67
حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا (ان الحکم الا للہ ) اس پر گہرے غوروفکر کی ضرورت ہے۔ اس بات کے سیاق سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کے تقدیری اور جبری احکام اس کائنات میں اس طرح رواں اور دواں ہیں کہ ان کے اندر کوئی انغکاک ممکن نہیں ہے۔ کوئی تخلف نہیں ہے۔ ان احکام سے کوئی مغر نہیں ہے۔ اور امنت باللہ میں والقدر خیرہ وشرہ من اللہ تعالیٰ کا یہی مطلب ہے۔
اللہ کے تکوینی اور تقدیری احکام اس دنیا میں لوگوں پر نافذ ہوتے ہیں اور ان کا اجراء خود لوگوں کی مرضی اور ارادے پر موقوف نہیں ہے۔ ان جبری اور تقدیری احکام الہیہ کے ساتھ ساتھ ایسے الٰہی احکام بھی ہوتے ہیں جو انسانوں کے دائرہ اختیار میں ہوتے ہیں۔ اور یہ شرعی احکام ہیں جو قرآن اور سنت میں امرو نہی صادر نہیں کرسکتا۔ ان احکام کا حکم بھی تقدیری اور تکوینی احکام کی طرح ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ شرعی احکام میں لوگ مختار ہیں ، ان کو نافذ کریں یا نہ کریں ، اور اسی پر دنیا اور آخرت میں ان کی زندگی کے اعمال پر نتائج اور احکام مرتب ہوتے ہیں اور ہوں گے۔ اور سزا اور جزاء کا فیصلہ ہوگا۔ لیکن لوگ اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتے جب تک وہ اللہ کے شرعی احکام کو بھی اپنی پوری زندگیوں میں نافذ نہ کریں۔
آیت 67 وَقَالَ يٰبَنِيَّ لَا تَدْخُلُوْا مِنْۢ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّادْخُلُوْا مِنْ اَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ حسد اور نظر بد وغیرہ کے اثرات سے بچنے کے لیے بہتر ہے کہ آپ تمام بھائی اکٹھے ایک دروازے سے شہر میں داخل ہونے کے بجائے مختلف دروازوں سے داخل ہوں۔ وَمَآ اُغْنِيْ عَنْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ مِنْ شَيْءٍ میں اللہ کے کسی فیصلے کو تم لوگوں سے نہیں ٹال سکتا۔ اگر اللہ کی مشیت میں تم لوگوں کو کوئی گزند پہنچنا منظور ہے تو میں اس کو روک نہیں سکتا۔ یہ صرف انسانی کوشش کی حد تک احتیاطی تدابیر ہیں جو ہم اختیار کرسکتے ہیں۔
چونکہ اللہ کے نبی نے حضرت یعقوب ؑ کو اپنے بچوں پر نظر لگ جانے کا کھٹکا تھا کیونکہ وہ سب اچھے، خوبصورت، تنو مند، طاقتور، مضبوط دیدہ رو نوجوان تھے اس لئے بوقت رخصت ان سے فرماتے ہیں کہ پیارے بچو تم سب شہر کے ایک دروازے سے شہر میں نہ جانا بلکہ مختلف دروازوں سے ایک ایک دو دو کر کے جانا۔ نظر کا لگ جانا حق ہے۔ گھوڑ سوار کو یہ گرا دیتی ہے۔ پھر ساتھ ہی فرماتے ہیں کہ یہ میں جانتا ہوں اور میرا ایمان ہے کہ یہ تدبیر تقدیر میں ہیر پہیری نہیں کرسکتی۔ اللہ کی قضا کو کوئی شخص کسی تدبیر سے بدل نہیں سکتا۔ اللہ کا چاہا پورا ہو کر ہی رہتا ہے۔ حکم اسی کا چلتا ہے۔ کون ہے جو اس کے ارادے کو بدل سکے ؟ اس کے فرمان کو ٹال سکے ؟ اس کی قضا کو لوٹا سکے ؟ میرا بھروسہ اسی پر ہے اور مجھ پر ہی کیا موقوف ہے۔ ہر ایک توکل کرنے والے کو اسی پر توکل کرنا چاہئے۔ چناچہ بیٹوں نے باپ کی فرماں برداری کی اور اسی طرح کئی ایک دروازوں میں بٹ گئے اور شہر میں پہنچے۔ اس طرح وہ اللہ کی قضا کو لوٹا نہیں سکتے تھے ہاں حضرت یعقوب ؑ نے ایک ظاہری تدبیر پوری کی کہ اس سے وہ نظر بد سے بچ جائیں۔ وہ ذی علم تھے، الہامی علم ان کے پاس تھا۔ ہاں اکثر لوگ ان باتوں کو نہیں جانتے۔