سورہ یوسف: آیت 91 - قالوا تالله لقد آثرك الله... - اردو

آیت 91 کی تفسیر, سورہ یوسف

قَالُوا۟ تَٱللَّهِ لَقَدْ ءَاثَرَكَ ٱللَّهُ عَلَيْنَا وَإِن كُنَّا لَخَٰطِـِٔينَ

اردو ترجمہ

انہوں نے کہا "بخدا کہ تم کو اللہ نے ہم پر فضیلت بخشی اور واقعی ہم خطا کار تھے"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qaloo taAllahi laqad atharaka Allahu AAalayna wain kunna lakhatieena

آیت 91 کی تفسیر

آیت نمبر 91

انہوں نے اپنی غلطی کا صاف صاف اقرار کرلیا۔ گناہ کا اعتراف کرلیا۔ انہوں نے جان لیا کہ اللہ نے ان پر اسے ترجیح دے دی ہے کیونکہ وہ حلیم الطبع ، متقی اور محسن تھے۔ اور ان کے اس صاف صاف اعتراف کے جواب میں حضرت یوسف (علیہ السلام) ان کو تہ دل سے معاف فرماتے ہیں۔ اس طرح ان کی شرمندگی میں کمی آتی ہے اور اہل کرم کا شیوہ ہی عفو و درگزر ہوتا ہے۔ یوسف (علیہ السلام) جس طرح مشکلات میں کامیاب ہوئے تھے ، اسی طرح اقتدار کی آزمائش میں بھی کامیاب ہوتے ہیں۔ یقیناً وہ محسنین میں سے ایک تھے۔

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ اٰثَرَكَ اللّٰهُ عَلَيْنَا وَاِنْ كُنَّا لَخٰطِــــِٕيْنَ یقیناً ہم خطاکار ہیں بلاشبہ ظلم و زیادتی کے مرتکب ہم ہی ہوئے تھے۔

آیت 91 - سورہ یوسف: (قالوا تالله لقد آثرك الله علينا وإن كنا لخاطئين...) - اردو