آیت نمبر 92
آج تم سے کوئی مواخذہ نہیں ، کوئی انتقام نہیں اور تمہیں شرمندہ ہونے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ میں نے تمام کدورتوں کو دل سے نکال دیا ہے۔ اللہ بھی تمہیں معاف کر دے۔ بیشک وہ ارحم الراحمین ہے۔ اب روئے سخن ایک دوسرے اہم معاملے کی طرف پھرجاتا ہے۔ اب اس باپ کی فکر دامن گیر ہوجاتی ہے جن کی آنکھیں یوسف (علیہ السلام) کے انتظار میں سفید ہوگئی ہیں۔ سب سے پہلے انہیں خوشخبری دینا ضروری ہے۔ سب سے پہلے ان سے ملنا فرض ہے۔ ان کے دل کی کدورتوں کو دور کرنا ضروری ہے اور وہ جس جسمانی اور روحانی اذیت میں ہیں ، اس سے ان کو جلد از جلد نکالنا ضروری ہے اور سب سے پہلے ان کی بینائی !
آیت 92 قَالَ لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ یہ اس قدر معمولی بات نہیں تھی جسے اس ایک فقرے میں ختم کردیا جاتا ‘ مگر حضرت یوسف کی شخصیت کے ترفع اور اخلاق کی عظمت کی دلیل ہے کہ آپ نے اپنے ان خطا کار بھائیوں کو فوراً غیر مشروط طور پر معاف کردیا۔ یہاں یہ بات بھی نوٹ کرلیں کہ نبی اکرم نے فتح مکہ کے موقع پر اپنے مخالفین جن کے جرائم کی فہرست بڑی طویل اور سنگین تھی کو معاف کرتے ہوئے حضرت یوسف کے اسی قول کا تذکرہ کیا تھا۔ آپ نے فرمایا : اَنَا اَقُوْلُ کَمَا قَالَ اَخِیْ یُوْسُفُ : لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ ”میں آج تمہارے بارے میں وہی کہوں گا جو میرے بھائی حضرت یوسف نے اپنے بھائیوں سے کہا تھا : جاؤ تم پر آج کوئی گرفت نہیں ہے !“