سورہ یوسف: آیت 99 - فلما دخلوا على يوسف آوى... - اردو

آیت 99 کی تفسیر, سورہ یوسف

فَلَمَّا دَخَلُوا۟ عَلَىٰ يُوسُفَ ءَاوَىٰٓ إِلَيْهِ أَبَوَيْهِ وَقَالَ ٱدْخُلُوا۟ مِصْرَ إِن شَآءَ ٱللَّهُ ءَامِنِينَ

اردو ترجمہ

پھر جب یہ لوگ یوسفؑ کے پاس پہنچے تو اُس نے اپنے والدین کو اپنے ساتھ بٹھا لیا اور (اپنے سب کنبے والوں سے) کہا "چلو، اب شہر میں چلو، اللہ نے چاہا تو امن چین سے رہو گے"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Falamma dakhaloo AAala yoosufa awa ilayhi abawayhi waqala odkhuloo misra in shaa Allahu amineena

آیت 99 کی تفسیر

اب یہاں اس قصے ، کا خاتمہ بھی اس قصے کے دوسرے اچانک مناظر اور معجزانہ واقعات کی طرح اچانک ہوجاتا ہے۔ زمان و مکان کے فاصلوں کو لپیٹ لیا جاتا ہے اور آخری تبصرہ یوں آتا ہے اور اس میں بیشمار موڑ اور جذباتی مناظر ہیں۔

آیت نمبر 99 تا 100

یہ کیا ہی خوب صورت منظر ہے ! ایک عرصہ گزر گیا ہے اور یوسف (علیہ السلام) لا پتہ ہیں۔ ان کے بارے میں مکمل مایوسی پائی جاتی ہے اور لوگ انہیں پوری طرح بھول چکے ہیں۔ رشتہ دار اس کے رنج سہ چکے ہیں ، یوسف (علیہ السلام) پر بھی اور پسماندگان پر بھی عرصہ بیت چکا ہے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا رنج و الم ، ناقابل کنٹرول پدری محبت کا جوش اور جان کن رنج اور حزن کا طویل عرصہ اور پھر اچانک حالات کا یہ پلٹا۔۔۔۔ یہ ایک ایسا اچانک منظر ہے کہ جس میں دلوں کی دھڑکنیں تیز ہوجاتی ہیں ، خوشی کے آنسو بہہ نکلتے ہیں اور ہر طرف گہرے تاثرات ہیں ، خوشی کے بھی اور شرمندگی کے بھی۔

یہ ایک ایسا منظر ہے جو اس قصے کے آغاز کے ساتھ ہم آہنگ ہے ، آغاز میں عالم غیب کی طرف غائبانہ اشارات تھے لیکن وہ سب اشارات اب عالم واقعہ ہیں اور ایسے حالات میں بھی حضرت یوسف (علیہ السلام) کی زبان پر ثنائے ربانی ہے۔

فلما دخلوا۔۔۔۔۔۔۔ امنین (12 : 99) ” پھر جب یہ لوگ یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو اس نے اپنے والدین کو اپنے ساتھ بٹھا لیا اور اپنے سب کنبے والوں سے کہا ” چلو ، اب شہر میں چلو ، اللہ نے چاہا تو زمین چین سے رہو گے “۔

حضرت یوسف (علیہ السلام) اب اپنا خواب یاد کرتے ہیں اور اس کی تاویل ان کے سامنے ہے کہ ان کے بھائی ان کے سامنے سجدہ ریز ہیں۔ درآنحالیکہ اس نے اپنے والدین کو اپنے ساتھ تخت پر بٹھایا ہوا ہے۔ اب گیارہ ستارے اور الشمس و قمر ان کے سامنے ہیں اور سجدہ ریز ہیں۔

ورفع ابویہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ربی حقا (12 : 100) ” اس نے اپنے والدین کو اٹھا کر اپنے پاس تخت پر بٹھایا اور سب اس کے آگے بےاختیار سجدے میں جھک گئے۔ یوسف (علیہ السلام) نے کہا ” ابا جان ، یہ تعبیر ہے میرے اس خواب کی جو میں نے پہلے دیکھا تھا۔ میرے رب نے اسے حقیقت بنا دیا “۔

اور رب کے احسانات کی تو حد نہیں ہے۔

وقد احسن بی ۔۔۔۔۔۔۔ اخوتی (12 : 100) ” اس کا احسان ہے کہ اس نے مجھے قید خانے سے نکالا ، اور آپ لوگوں کو صحرا سے لا کر مجھ سے ملایا ، حالانکہ شیطان میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد ڈال چکا تھا “۔

اور پھر حضرت یوسف (علیہ السلام) اللہ کی خفیہ تدابیر کا بھی ذکر کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی حد ہی نہیں ہے۔

ان ربی لطیف لما یشاء (12 : 100) ” حقیقت یہ ہے کہ میرا رب غیر محسوس تدبیروں سے اپنی مشیت پوری کرتا ہے “۔ وہ نہایت ہی خفیہ طریقوں سے اپنی مشیت کے مقاصد پورے کرتا ہے۔ اس قدر خفیہ طریقے سے کہ لوگ اس کو سمجھ ہی نہیں سکتے۔

انہ ھو العلیم الحکیم (12 : 100) ” بیشک وہ علیم و حکیم ہے “۔ اور یہ وہی انداز ہے جو خود حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے اختیار کیا۔ جب حضرت یوسف (علیہ السلام) ان کے ساتھ اپنا خواب بیان کر رہے تھے۔ ان ربک علیم حکیم ” بیشک تمہارا رب علیم و حکیم ہے “۔ اس طرح آغاز قصہ اور اختتام قصہ ایک ہی تبصرے کے ساتھ شروع ہوتا ہے اور اختتام پذیر ہوتا ہے۔

آخری منظر کے اختتام سے قبل ، ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) اس ملاقات ، خوشی اور مسرت کے منتظر اور پھر تخت و تاج اور جاہ و منزلت اور امن و سکون اور عیش و آرام کی تقریب سے اچانک نکل آتے ہیں۔ آخر وہ پیغمبر خدا ہیں اور رب ذوالجلال کی تسبیح و تہلیل میں مشغول ہوجاتے ہیں اور ایک شکر گزار بندے کی شکل میں سامنے آتے ہیں۔ اور دست بدعا ہوتے ہیں کہ جاہ و منزلت کے اس اونچے مقام پر اللہ ان کو ایک صحیح مسلمان ہونے کی توفیق بخشیں اور صالحین میں ان کو اٹھا لیں۔

آیت 99 فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰي يُوْسُفَ اٰوٰٓى اِلَيْهِ اَبَوَيْهِ کنعان سے چل کر بنی اسرائیل کا یہ پورا خاندان جب حضرت یوسف کے پاس مصر پہنچا تو آپ نے خصوصی اعزاز کے ساتھ ان کا استقبال کیا اور اپنے والدین کو اپنے پاس امتیازی نشستیں پیش کیں۔وَقَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ اٰمِنِيْنَ اب آپ لوگوں کو کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔ اگر اللہ نے چاہا تو یہاں آپ کے لیے امن وچین اور سکون و راحت ہی ہے۔

بھائیوں پر حضرت یوسف ؑ نے اپنے آپ کو ظاہر کر کے فرمایا تھا کہ ابا جی کو اور گھر کے سب لوگوں کو یہیں لے آؤ۔ بھائیوں نے یہی کیا، اس بزرگ قافلے نے کنعان سے کوچ کیا جب مصر کے قریب پہنچے تو نبی اللہ حضرت یوسف ؑ بھی آپ کے ساتھ تھے۔ یہ بھی مروی ہے کہ خود شاہ مصر بھی استقبال کے لئے چلے اور حکم شاہی سے شہر کے تمام امیر امرا اور ارکان دولت بھی آپ کے ساتھ تھے۔ یہ مروی ہے کہ خود شاہ مصر بھی استقبال کے لئے شہر سے باہر آیا تھا۔ اس کے بعد جو جگہ دینے وغیرہ کا ذکر ہے اس کی بابت بعض مفسرین کا قول ہے کہ اس کی عبارت میں تقدیم و تاخیر ہے یعنی آپ نے ان سے فرمایا تم مصر میں چلو، انشاء اللہ پر امن اور بےخطر رہو گے اب شہر میں داخلے کے بعد آپ نے اپنے والدین کو اپنے پاس جگہ دی اور انہیں اونچے تخت پر بٹھایا۔ لیکن امام ابن جریر ؒ نے اس کی تردید کی ہے اور فرمایا ہے کہ اس میں سدی ؒ کا قول بالکل ٹھیک ہے جب پہلے ہی ملاقات ہوئی تو آپ نے انہیں اپنے پاس کرلیا اور جب شہر کا دروازہ آیا تو فرمایا اب اطمینان کے ساتھ یہاں چلئے۔ لیکن اس میں بھی ایک بات رہ گئی ہے۔ ایوا اصل میں منزل میں جگہ دینے کو کہتے ہیں جیسے اوؤ الیہ احاہ میں ہے۔ اور حدیث میں بھی ہے من اوی محدثا پس کوئی وجہ نہیں کہ ہم اس کا مطلب یہ بیان نہ کریں کہ ان کے آجانے کے بعد انہیں جگہ دینے کے بعد آپ نے ان سے فرمایا کہ تم امن کے ساتھ مصر میں داخل ہو یعنی یہاں قحط وغیرہ کی مصیبتوں سے محفوظ ہو کر با آرام رہو سہو، مشہور ہے کہ اور جو قحط سالی کے سال باقی تھے، وہ حضرت یعقوب ؑ کی تشریف آوری کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے دور کر دئے۔ جیسے کہ اہل مکہ کی قحط سالی سے تنگ آکر ابو سفیان نے آپ سے شکایت کی اور بہت روئے پیٹے اور سفارش چاہی۔ عبد الرحمن کہتے ہیں حضرت یوسف ؑ کی والدہ کا تو پہلے ہی انتقال ہوچکا تھا۔ اس وقت آپ کے والد صاحب کے ہمراہ آپ کی خالہ صاحبہ آئی تھیں۔ لیکن امام ابن جریر اور امام محمد بن اسحاق ؒ کا قول ہے کہ آپ کی والدہ خود ہی زندہ موجود تھیں، ان کی موت پر کوئی صحیح دلیل نہیں اور قرآن کریم کے ظاہری الفاظ اس بات کو چاہتے ہیں کہ آپ کی والدہ ماجدہ زندہ موجود تھیں، یہی بات ٹھیک بھی ہے۔ آپ نے اپنے والدین کو اپنے ساتھ تخت شاہی پر بٹھا لیا۔ اس وقت ماں باپ بھی اور گیارہ بھائی کل کے کل آپ کے سامنے سجدے میں گرپڑے۔ آپ نے فرمایا ابا جی لیجئے میرے خواب کی تعبیر ظاہر ہوگئی یہ ہیں گیارہ ستارے اور یہ ہیں سورج چاند جو میرے سامنے سجدے میں ہیں۔ ان کی شرع میں یہ جائز تھی کہ بڑوں کو سلام کے ساتھ سجدہ کرتے تھے بلکہ حضرت آدم ؑ سے حضرت عیسیٰ ؑ تک یہ بات جائز ہی رہی لیکن اس ملت محمدیہ میں اللہ تبارک وتعالی نے کسی اور کے لئے سوائے اپنی ذات پاک کے سجدے کو مطلقا حرام کردیا۔ اور اللہ سبحانہ وتعالی نے اسے اپنے لئے ہی مخصوص کرلیا۔ حضرت قتادہ ؒ وغیرہ کے قول کا ماحصل مضمون یہی ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ حضرت معاذ ؓ ملک شام گئے، وہاں انہوں نے دیکہا کہ شامی لوگ اپنے بڑوں کو سجدے کرتے ہیں یہ جب لوٹے تو انہوں نے حضور ﷺ کو سجدہ کیا، آب نے پوچھا، معاذ یہ کیا بات ہے ؟ آپ نے جواب دیا کہ میں نے اہل شام کو دیکھا کہ وہ اپنے بڑوں اور بزرگوں کو سجدہ کرتے ہیں تو آپ تو اس کے سب سے زیادہ مستحق ہیں۔ آپ نے فرمایا اگر میں کسی کے لئے سجدے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کے سامنے سجدہ کرے۔ بہ سبب اس کے بہت بڑے حق کے جو اس پر ہے۔ اور حدیث میں ہے کہ حضرت سلمان ؓ نے اپنے اسلام کے ابتدائی زمانے میں راستے میں حضور ﷺ کو دیکھ کر آپ کے سامنے سجدہ کیا تو آپ نے فرمایا سلمان مجھے سجدہ نہ کرو۔ سجدہ اس اللہ کو کرو جو ہمیشہ کی زندگی والا ہے جو کبہی نہ مرے گا۔ الغرض چونکہ اس شریعت میں جائز تھا اس لئے انہوں نے سجدہ کیا تو آپ نے فرمایا لیجئے ابا جی میرے خواب کا ظہور ہوگیا۔ میرے رب نے اسے سچا کر دکھایا۔ اس کا انجام ظاہر ہوگیا۔ چناچہ اور آیت میں قیامت کے دن کے لئے بھی یہی لفظ بولا گیا ہے آیت (یوم یاتی تاویلہ) پس یہ بھی اللہ کا مجھ پر ایک احسان عظیم ہے کہ اس نے میرے خواب کو سچا کر دکھایا اور جو میں نے سوتے سوتے دیکھا تھا، الحمد للہ مجھے جاکنے میں بھی اس نے دکھا دیا۔ اور احسان اس کا یہ بھی ہے کہ اس نے مجھے قید خانے سے نجات دی اور تم سب کو صحرا سے یہاں لا کر مجھ سے ملا دیا۔ آپ چونکہ جانوروں کے پالنے والے تھے، اس لئے عموما بادیہ میں ہی قیام رہتا تھا، فلسطین بھی شام کے جنگلوں میں ہے اکثر اوقات پڑاؤ رہا کرتا تھا۔ کہتے ہیں کہ یہ اولاج میں حسمی کے نیچے رہا کرتے تھے اور مویشی پالتے تھے، اونٹ بکریاں وغیرہ ساتھ رہتی تھیں۔ بھر فرماتے ہیں اس کے بعد کہ شیطان نے ہم میں پھوٹ ڈلوا دی تھی، اللہ تعالیٰ جس کام کا ارادہ کرتا ہے، اس کے ویسے ہی اسباب مہیا کردیتا ہے اور اسے آسان اور سہل کردیتا ہے۔ وہ اپنے بندوں کی مصلحتوں کو خوب جانتا ہے اپنے افعال اقوال قضا و قدر مختار و مراد میں وہ باحکمت ہے۔ سلیمان کا قول ہے کہ خواب کے دیکھنے اور اس کی تاویل کے ظاہر ہونے میں چالیس سال کا وقفہ تھا۔ عبداللہ بن شداد فرماتے ہیں خواب کی تعبیر کے واقع ہونے میں اس سے زیادہ زمانہ لگتا بھی نہیں یہ آخری مدت ہے۔ حضرت حسن ؒ سے روایت ہے کہ باپ بیٹے اسی برس کے بعد ملے تم خیال تو کرو کہ زمین پر حضرت یعقوب ؑ سے زیادہ اللہ کا کوئی محبوب بندہ نہ تھا۔ پھر بھی اتنی مدت انہیں فراق یوسف میں گزری، ہر وقت آنکھوں سے آنسو جاری رہتے اور دل میں غم کی موجیں اٹھتیں اور روایت میں ہے کہ یہ مدت تراسی سال کی تھی۔ فرماتے ہیں جب حضرت یوسف ؑ کنویں میں ڈالے گئے اس وقت آپ کی عمر سترہ سال کی تھی۔ اسی برس تک آپ باپ کی نظروں سے اوجھل رہے۔ پھر ملاقات کے بعد تیئس برس زندہ رہے اور ایک سو بیس برس کی عمر میں انتقال کیا۔ بقول قتادہ ؒ ترپن برس کے بعد باپ بیٹا ملے۔ ایک قول ہے کہ اٹھارہ سال ایک دوسرے سے دور رہے اور ایک قول ہے کہ چالیس سال کی جدائی رہی اور پھر مصر میں باپ سے ملنے کے بعد سترہ سال زندہ رہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں کہ بنو اسرائیل جب مصر پہنچے ہیں ان کی تعداد صرف تریسٹھ کی تھی اور جب یہاں سے نکلے ہیں اس وقت ان کی تعداد ایک لاکھ ستر ہزار کی تھی۔ مسروق کہتے ہیں آنے کے وقت یہ مع مرد و عورت تین سو نوے تھے، عبداللہ بن شداد کا قول ہے کہ جب یہ لوگ آئے کل چھیاسی تھے یعنی مرد عورت بوڑھے بچے سب ملا کر اور جب نکلے ہیں اس وقت ان کی گنتی چھ لاکھ سے اوپر اوپر تھی۔

آیت 99 - سورہ یوسف: (فلما دخلوا على يوسف آوى إليه أبويه وقال ادخلوا مصر إن شاء الله آمنين...) - اردو