اس کے بعد اس نصرت کی حکمت بھی یہاں بیان کردی جاتی ہے ‘ کیسی فتح ؟ وہ فتح جس کے مقاصد میں سے کوئی مقصد بھی انسان کی ذات سے وابستہ نہیں ہے ۔
یہ حقیقت ہے کہ فتح اللہ کی جانب سے آتی ہے ۔ وہ اللہ کی تقدیر کو ظاہر کرتی ہے ۔ کسی رسول اور اس کے ساتھیوں کو فتح کی صورت میں کوئی ذاتی مفاد نہیں ملتا ۔ نہ اس میں ان کی کوئی ذاتی غرض ہوتی ہے۔ نیز حصول فتح میں نہ رسول کا دخل ہوتا ہے نہ اس کے ساتھ اس میں دخیل ہوتے ہیں ۔ وہ تو تقدیر الٰہی کے ظہور کے لئے ایک مظہر ہوتے ہیں ۔ قدرت انہیں جس طرح چاہتی ہے ‘ استعمال کرتی ہے ۔ وہ اس فتح ونصرت کا نہ سبب حقیقی ہوتے ہیں نہ اس کے صانع ہوتے ہیں ۔ وہ نہ فاتح ہوتے ہیں اور نہ ہی اس فتح کے نتیجے میں مفادات حاصل کرتے ہیں ۔ دست قدرت اپنے بعض اشخاص کو حرکت میں لاتا ہے ۔ پھر خود ان کی تائید کرتا ہے تاکہ اللہ کے پیش نظر جو حکمتیں ہوں ان کا ظہور ہو اور جو مقاصد ہوں وہ بروئے کار لائے جائیں ۔
لِيَقْطَعَ طَرَفًا مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا……………” تاکہ کفر کی راہ چلنے والوں کا ایک بازو کاٹ دے۔ “ وہ قتل ہوں اور ان کی افرادی قوت کم ہو ‘ ان کی اراضی ان ہاتھوں سے نکلے اور ان کا رقبہ کم ہوتا جائے۔ یا ان کی جابرانہ حکومت کا دائرہ تنگ ہوجائے۔ ان کی دولت میں بوجہ مال غنیمت کمی آجائے اور ہزیمت اور شکست کے نتیجے میں ان کی سرگرمیوں میں کمی آجائے۔
أَوْ يَكْبِتَهُمْ فَيَنْقَلِبُوا خَائِبِينَ……………” یا ان کو ایسی ذلیل شکست دے کہ وہ نامرادی کے ساتھ پسپا ہوجائیں ۔ “ یعنی ذلیل ہوکر ہزیمت اٹھائیں اور اپنے مقاصد میں ناکام ہوکر لوٹیں جبکہ وہ دبے ہوئے ہوں۔
آیت 127 لِیَقْطَعَ طَرَفًا مِّنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اَوْ یَکْبِتَہُمْ فَیَنْقَلِبُوْا خَآءِبِیْنَ یہ بات ذہن میں رہے کہ یہاں غزوۂ احد کے حالات و واقعات اور ان پر تبصرہ زمانی ترتیب سے نہیں ہے۔ سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ کا اپنے گھر سے نکل کر میدان جنگ میں مورچہ بندی کا ذکر ہوا۔ پھر اس سے پہلے کا ذکر ہو رہا ہے جب خبریں پہنچی ہوں گی کہ تین ہزار کا لشکر مدینہ پر حملہ آور ہونے کے لیے آ رہا ہے اور رسول اللہ ﷺ نے اہل ایمان کو اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت کی خوشخبری دی ہوگی۔ اب اس جنگ کے دوران مسلمانوں سے جو کچھ خطائیں اور غلطیاں ہوئیں ان کی نشان دہی کی جا رہی ہے۔ خود آنحضور ﷺ سے بھی خطا کا ایک معاملہ ہوا ‘ اس پر بھی گرفت ہے ‘ بلکہ سب سے پہلے اسی معاملے کو لیا جا رہا ہے۔ جب آپ ﷺ شدید زخمی ہوگئے اور آپ ﷺ پر بےہوشی طاری ہوگئی ‘ پھر جب ہوش آیا تو آپ ﷺ کی زبان پر یہ الفاظ آگئے : کَیْفَ یُفْلِحُ قَوْمٌ خَضَبُوْا وَجْہَ نَبِیِّھِمْ بالدَّمِ وَھُوَ یَدْعُوْھُمْ اِلَی اللّٰہِ 1یہ قوم کیسے فلاح پائے گی جس نے اپنے نبی کے چہرے کو خون سے رنگ دیا جبکہ وہ انہیں اللہ کی طرف بلا رہا تھا !تلوار کا وار آنحضور ﷺ کے رخسار کی ہڈی پر پڑا تھا اور اس سے آپ ﷺ کے دو دانت بھی شہید ہوگئے تھے۔ زخم سے خون کا فوارہ چھوٹا تھا جس سے آپ ﷺ کا پورا چہرۂ مبارک لہولہان ہوگیا تھا۔ خون اتنی مقدار میں بہہ گیا تھا کہ آپ ﷺ پر بےہوشی طاری ہوگئی۔ آپ ﷺ ہوش میں آئے تو زبان مبارک سے یہ الفاظ اداہو گئے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی : لَیْسَ لَکَ مِنَ الْاَمْرِ شَیْءٌ۔۔ اے نبی ﷺ اس معاملے میں آپ ﷺ ‘ کا کوئی اختیار نہیں ہے ‘ آپ ﷺ ‘ کا کام دعوت دینا اور تبلیغ کرنا ہے۔ لوگوں کی ہدایت اور ضلالت کے فیصلے ہم کرتے ہیں۔ اور دیکھئے اللہ نے کیا شان دکھائی ؟ جس شخص کی وجہ سے مسلمانوں کو ہزیمت اٹھانا پڑی ‘ یعنی خالد بن ولید ‘ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ ہی کی زبان مبارک سے اسے سیفٌ مِن سُیوف اللّٰہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار کا خطاب دلوا دیا۔