سورة آل عمران (3): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Aal-i-Imraan کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ آل عمران کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورة آل عمران کے بارے میں معلومات

Surah Aal-i-Imraan
سُورَةُ آلِ عِمۡرَانَ
صفحہ 66 (آیات 122 سے 132 تک)

إِذْ هَمَّت طَّآئِفَتَانِ مِنكُمْ أَن تَفْشَلَا وَٱللَّهُ وَلِيُّهُمَا ۗ وَعَلَى ٱللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ ٱلْمُؤْمِنُونَ وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ ٱللَّهُ بِبَدْرٍ وَأَنتُمْ أَذِلَّةٌ ۖ فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ إِذْ تَقُولُ لِلْمُؤْمِنِينَ أَلَن يَكْفِيَكُمْ أَن يُمِدَّكُمْ رَبُّكُم بِثَلَٰثَةِ ءَالَٰفٍ مِّنَ ٱلْمَلَٰٓئِكَةِ مُنزَلِينَ بَلَىٰٓ ۚ إِن تَصْبِرُوا۟ وَتَتَّقُوا۟ وَيَأْتُوكُم مِّن فَوْرِهِمْ هَٰذَا يُمْدِدْكُمْ رَبُّكُم بِخَمْسَةِ ءَالَٰفٍ مِّنَ ٱلْمَلَٰٓئِكَةِ مُسَوِّمِينَ وَمَا جَعَلَهُ ٱللَّهُ إِلَّا بُشْرَىٰ لَكُمْ وَلِتَطْمَئِنَّ قُلُوبُكُم بِهِۦ ۗ وَمَا ٱلنَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِندِ ٱللَّهِ ٱلْعَزِيزِ ٱلْحَكِيمِ لِيَقْطَعَ طَرَفًا مِّنَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوٓا۟ أَوْ يَكْبِتَهُمْ فَيَنقَلِبُوا۟ خَآئِبِينَ لَيْسَ لَكَ مِنَ ٱلْأَمْرِ شَىْءٌ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَٰلِمُونَ وَلِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۚ يَغْفِرُ لِمَن يَشَآءُ وَيُعَذِّبُ مَن يَشَآءُ ۚ وَٱللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَأْكُلُوا۟ ٱلرِّبَوٰٓا۟ أَضْعَٰفًا مُّضَٰعَفَةً ۖ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ وَٱتَّقُوا۟ ٱلنَّارَ ٱلَّتِىٓ أُعِدَّتْ لِلْكَٰفِرِينَ وَأَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَٱلرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ
66

سورة آل عمران کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورة آل عمران کی تفسیر (فی ظلال القرآن: سید ابراہیم قطب)

اردو ترجمہ

یاد کرو جب تم میں سے دو گروہ بزدلی د کھانے پر آمادہ ہوگئے تھے، حالانکہ اللہ ان کی مدد پر موجود تھا اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Ith hammat taifatani minkum an tafshala waAllahu waliyyuhuma waAAala Allahi falyatawakkali almuminoona

یہ دو گروہ کون تھے ؟ صحیحین میں اس بارے میں سفیان بن عیینہ کی حدیث نقل ہے ۔ وہ بنو حارثہ اور بنو سلیم تھے ۔ وہ عبداللہ بن ابی کی دغابازانہ حرکت سے متاثر ہوگئے تھے ‘ اس لئے اس حرکت نے اسلامی صفوں میں پہلے ہی قدم پر اضطراب پیدا کردیا تھا ‘ قریب تھا کہ یہ دو گروہ بزدلی دکھاتے اور کمزور ہوکر بیٹھ جاتے لیکن اللہ کی مدد آپہنچی اور اللہ نے ان کے قدم مضبوط کردئیے ۔ جس طرح اس آیت میں صراحت ہے وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا……………” اور اللہ ان کا مددگار تھا۔ “

حضرت عمر فرماتے ہیں میں نے جابر بن عبداللہ سے سنا ‘ وہ کہتے تھے یہ آیت ہمارے متعلق نازل ہوئی ہے ۔” یاد کرو جب دو گروہ تم سے بزدلی دکھانے پر آمادہ ہوگئے تھے ۔ “ انہوں نے کہا یہ دو گروہ ہم تھے ‘ بنو حارثہ اور بنو سلیم اور میں ایسا نہیں چاہتا (یا مجھے یہ بات اچھی نہیں آتی ) کہ آیت نازل نہ ہوتی ‘ اس لئے کہ اس میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں وَاللَّهُ وَلِيُّهُمَا…………… یعنی اللہ ان کا دوست اور مددگار ہے۔ “ (بخاری ومسلم)

یوں دلوں کی گہرائیوں میں خفیہ اور پوشیدہ بات کو ظاہر کردیا جاتا ہے اور اس بات کا علم صرف اللہ ہی کو تھا کہ یہ قبائل بزدلی پر آمادہ ہیں۔ اس لئے کہ یہ کمزوری ان کے دل میں ایک لحظہ کے لئے در آئی تھی اور فوراً ہی اللہ نے انہیں گرنے سے بچالیا ۔ ان کے دل سے اس کمزوری کو دور کردیا ‘ اور اللہ نے اپنی دوستی کی وجہ سے ان کی تائید فرمائی ۔ اور وہ پیچھے لوٹنے کے بجائے آگے بڑھے ۔ اس معرکہ کے واقعات کو بیان کرنے کے دوران اللہ نے اس کو دہرایا تاکہ اس معرکے کے واقعات اور مناظر کو زندہ وتابندہ صورت میں پیش کیا جائے ۔ اور نفوس انسانی کے دلوں میں جو بات کھٹکتی ہے اسے ریکارڈ پر لایا جائے ‘ اور لوگوں کو یہ شعور دیا جاتا ہے کہ اللہ تمہارے ساتھ ہے ۔ تمہارے دلوں کی باتوں سے خبردار ہے ‘ اسی لئے اللہ نے فرمایا وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ……………” اللہ سننے والا ہے اور خبردار ہے ۔ “ تاکہ ان کے دلوں میں یہ حقیقت اچھی طرح بیٹھ جائے اور انہیں بتایا جائے کہ نجات کی راہ کیا ہے اور ان کے احساس میں یہ بات بٹھائی جائے کہ اللہ ان کا مددگار ہے ‘ معاون ہے اور ان کا دوست ہے اور کسی بھی کمزوری میں ان کا ہاتھ پکڑنے والا ہے ۔ جب وہ گرنے کے قریب ہوں تو وہ ان کا دستگیر ہے ۔ یہ اس لئے کہا کہ انہیں معلوم ہوجائے کہ کمزوری اور ضعیفی کے وقت انہوں نے کہاں سے نصرت طلب کرنی ہے اور کہاں انہوں نے پناہ لینا ہے ؟ اس لئے انہیں اس طرف متوجہ کیا جاتا ہے ۔ جس جہت کے سوا مسلمانوں کے لئے اور کوئی جہت نہیں ہے ۔

وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ……………” اور اہل ایمان کو صرف اللہ ہی پر توکل کرنا چاہئے۔ “

غرض یہ کہ پہلے ہی منظر کی یہ دونوں جھلکیاں نہایت ہی باموقع دکھائی گئی ہیں اور نہایت ہی موزوں فضا میں ‘ جھلکیاں اپنی موسیقی کے زیروبم کو یکجا کرتی ہیں اور نہایت ہی مناسب موقعہ پر اپنے رمزیہ شان کے ساتھ نظروں کے سامنے آتی ہیں ۔ ایسے ماحول میں کہ لوگوں کے دل لبیک کہنے ‘ اثر لینے اور ان حقائق کو قبول کرنے کے لئے تیار ہیں ۔ ان دوتمہیدی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم دلوں کو کس طرح زندہ کرتا ہے ‘ ان کی تربیت کرتا ہے اور انہیں صحیح سمت پر لگاتا ہے اور اثر اندازی ایسے واقعات کے بطور تبصرہ کی جاتی ہے کہ وہ ابھی تازہ ہوتے ہیں ۔ اس لئے وہ فرق معلوم ہوجاتا ہے جو روایت قصص اور بیان واقعات میں قرآن کریم اختیار کرتا ہے ‘ اور جو طریق بیان عام انسانی مصادر تاریخ میں اختیار کیا جاتا ہے۔ حالانکہ انسانی مصادر میں واقعات کی بڑی تفصیل ہوتی ہے ۔ لیکن تفصیلات کے باوجود وہ واقعات دلوں میں نہیں اترتے ۔ نہ ان کا انسانی زندگی سے کوئی تعلق ہوتا ہے ‘ نہ ان سے دلوں کو زندہ کرنا ‘ انہیں گرمی عطا کرنا مقصود ہوتا ہے اور نہ انسانوں کی ہدایت وتربیت مطلوب ہوتی ہے جیسا کہ قرآن مجید اپنے بیان قصص میں ان امور کو پیش نظر رکھتا ہے اور نہایت ہی مستحکم اسلوب بیان ہے ۔

یوں اس معرکے کے بیان کا آغاز ہوتا ہے جس میں مسلمانوں کو فتح نصیب نہ ہوئی اگرچہ وہ فتح ونصرت کے قریب پہنچ گئے تھے ۔ اس معرکے کا آغاز اس طرح ہوتا ہے کہ ایک شخص (عبداللہ بن ابی ) اپنے نظریہ حیات کے مقابلے میں اپنی ذات اور شخصیت کو ترجیح دیتا ہے اور اس کی اتباع میں وہ سب لوگ اس کے پیچھے چلے جاتے ہیں جن کے ذاتی اعتبارات ان کے عقیدے کے مقابلے میں زیادہ اہم تھے ۔ پھر آغاز ہی میں دو گروہ بھی حالات سے قدرے متاثر ہوجاتے ہیں حالانکہ یہ صالح تھے اور اس معرکے کا انجام یوں ہوتا ہے کہ کچھ لوگ اپنی فوجی ڈیوٹی کو چھوڑ کر مال غنیمت کے لالچ میں گرفتار ہوجاتے ہیں اور ان کی وجہ سے ان لوگوں کو بھی ہزیمت اٹھانی پڑتی ہے جنہوں نے اس معرکے میں قربانی کے اعلیٰ نمونے پیش کئے ۔ محض اس لئے کہ بعض لوگوں نے نظم کی خلاف ورزی کی یا ان کے نظریہ ٔ حیات میں ابھی تک کچھ کمزوریاں موجود تھیں۔

اس سے پہلے کہ اس معرکے کی تفصیلات بیان کی جائیں اور ان پر تبصرہ کیا جائے ‘ جس میں مسلمانوں کو شکست کھانی پڑی ‘ اس معرکے کا ذکر کیا جاتا ہے ‘ جس میں مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی یعنی غزوہ بدر تاکہ اس شکست کے ساتھ اس فتح ونصرت کو بھی وہ پیش نظر رکھیں ۔ اور دونوں کا موازنہ کرکے فتح وشکست کے اسباب پر غور کریں ۔ اور یہ بھی یقین سے جان لیں کہ فتح ونصرت کو بھی وہ پیش نظر رکھیں ۔ اور دونوں کا موازنہ کرکے فتح وشکست کے اسباب پر غور کریں ۔ اور یہ بھی یقین سے جان لیں کہ فتح ونصرت اللہ کے ہاتھ میں ہے اور وہی کچھ پیش آتا ہے جو اللہ کے ہاں مقرر ہوتا ہے۔ اور تقدیر الٰہی جس طرح نصرت میں کارفرماہوتی ہے ‘ اسی طرح شکست بھی مقدر ہوتی ہے ۔ فتح کی تہہ میں حکمت ہوتی ہے اور شکست کے پس پشت بھی اللہ کی حکمت کار فرماہوتی ہے ۔ اور دونوں حالات میں نتیجہ کار اللہ کے ہاتھ میں ہوتا ہے ‘ ہر حال میں وہی ہے جو مسبب الاسباب ہے۔

اردو ترجمہ

آخر اس سے پہلے جنگ بدر میں اللہ تمہاری مدد کر چکا تھا حالانکہ اس وقت تم بہت کمزور تھے لہٰذا تم کو چاہیے کہ اللہ کی ناشکر ی سے بچو، امید ہے کہ اب تم شکر گزار بنو گے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Walaqad nasarakumu Allahu bibadrin waantum athillatun faittaqoo Allaha laAAallakum tashkuroona

بدر میں مسلمانوں کو جو فتح نصیب ہوئی تھی وہ معجزانہ تھی ‘ جیسا کہ ہم اوپر کہہ آئے ہیں ۔ یہ فتح مادی اسباب کی نایابی کے باوجود حاصل ہوئی تھی ۔ اس وقت مسلمانوں کے پاس معروف مادی اسباب نہ تھے ۔ اس جنگ میں ترازو کے دوپلڑے یعنی مومنین اور مشرکین متوازن نہ تھے ‘ نہ ہی ان کی حالت ایسی تھی کہ وہ توازن کے قریب ہوں ۔ مشرک ایک ہزار کی تعداد میں تھے ‘ اور وہ جنگ کی خاطر بطور عام لام بندی نکلے تھے ‘ اس لئے کہ ان سے ابوسفیان نے مددچاہی تھی ‘ اور ان کا ہدف بھی متعین تھا وہ یہ کہ ابوسفیان کے قافلے کو بچایا جائے اور یہ ہزار آدمی ہر قسم کے ساز و سامان سے لیس تھے ۔ وہ اپنی دولت کے بچاؤ کے لئے نکلے تھے ۔ نیز اپنی عزت اور شرف کو بھی انہوں نے بچانا تھا۔ اس کے مقابلے میں مسلمان صرف تین فی صد تھے اور وہ اس لئے نہ نکلے تھے ‘ سازوسامان سے لیس اس قدر عظیم فوج سے ‘ ان کا مقابلہ ہوگا وہ ایک ہلکے پھلکے پروگرام کے لئے نکلے تھے ‘ وہ ایک غیر مسلح قفلے پر ہاتھ ڈالنے کے لئے نکلے تھے ‘ اور اس پر ہاتھ ڈالنا چاہتے تھے ‘ قلیل تعداد میں ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے پاس سازوسامان نہ بھی تھا ‘ اور ان کے پیچھے مدینہ میں ابھی تک مشرکین بھی موجود تھے اور وہ بھی اپنی جگہ پر قوت تھے ۔ اس طرح مدینہ میں منافقین کا بھی ایک بڑ طبقہ موجود تھا اور وہ مدینہ کے معاشرے میں اونچامقام رکھتے تھے ۔ اس کے علاوہ مدینہ میں یہودی بھی تھے جو ہر وقت اس تاک میں لگے رہتے تھے کہ مدینہ میں مسلمانوں پر وار کریں ۔ علاوہ ازیں وہ قلیل تعداد میں مسلمانوں کا ایک گروہ تھے جو جزیرۃ العرب کفر وشرک کی ایک عظیم قوت کے درمیان گھرے ہوئے تھے اور ان سب اسباب کے علاوہ ابھی وہ مظلوم پناہ گزیں تھے ‘ جنہیں مکہ سے نکال دیا گیا تھا ‘ کچھ انصار تھے جنہوں نے ان مہاجرین کو پناہ دی ہوئی تھی ‘ بہرحال اس معاشرے میں ان کی حیثیت ایک نوخیز پودے کی تھی ۔

ان حالات کا ذکر کرکے اللہ تعالیٰ بتاتے ہیں کہ ایسے حالات میں اس قدر عظیم فتح کا حقیقی سبب صرف اللہ تعالیٰ کی نصرت ہی ہے۔

وَلَقَدْ نَصَرَكُمُ اللَّهُ بِبَدْرٍ وَأَنْتُمْ أَذِلَّةٌ فَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ……………” اس سے پہلے جنگ بدر میں اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرچکا تھا ‘ حالانکہ اس وقت تم بہت کمزور تھے ‘ لہٰذا تم کو چاہئے کہ اللہ کی ناشکری سے بچو ۔ امید ہے کہ اب تم شکرگزار بنوگے۔ “

صرف اللہ ہی نے انہیں نصرت بخشی اور انہیں اس وجہ سے نصرت بخشی جس کی حکمت کو ان آیات میں بیان کیا گیا ہے۔ ناصر و مددگار نہ وہ خود تھے نہ کوئی اور تھا ‘ اس لئے اگر انہوں نے کسی سے ڈرنا ہے اور کسی سے خائف ہونا ہے تو چاہئے کہ صرف اللہ سے ڈریں اور اس کا خوف اپنے اندر پیدا کریں ۔ اس لئے کہ فتح وشکست اس کے ہاتھ میں ہے ۔ وہی اللہ ہے جو اقتدار وقوت کا سرچشمہ ہے ۔ اللہ خوفی ہی انہیں شکر پر آمادہ کرسکتی ہے ۔ ہر حال میں ان پر اللہ کا جو انعام واکرام ہورہا ہے ‘ اس پر ان کا فرج ہے کہ وہ اللہ کا پورا پورا شکر ادا کریں ‘ جو ان انعامات واکرامات کے لائق ہو۔

اردو ترجمہ

یاد کرو جب تم مومنوں سے کہہ رہے تھے، "کیا تمہارے لیے یہ بات کافی نہیں کہ اللہ تین ہزار فرشتے اتار کر تمہاری مدد کرے؟"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Ith taqoolu lilmumineena alan yakfiyakum an yumiddakum rabbukum bithalathati alafin mina almalaikati munzaleena

یہ ایک جھلکی ہے ‘ جس میں انہیں یاد دلایا جاتا ہے کہ بدر میں انہیں کیونکر فتح نصیب ہوئی ‘ اس کے بعد ‘ وہ مناظر پیش کئے جاتے ہیں جو میدان بدر میں وقوع پذیر ہوئے ‘ ان مناظر کو ان کے پردہ دماغ پر ازسر نو اس طرح یاد کیا جاتا ہے کہ گویا وہ ابھی پیش آئے ۔ ذرا دیکھئے

إِذْ تَقُولُ لِلْمُؤْمِنِينَ أَلَنْ يَكْفِيَكُمْ أَنْ يُمِدَّكُمْ رَبُّكُمْ بِثَلاثَةِ آلافٍ مِنَ الْمَلائِكَةِ مُنْزَلِينَ……………” یاد کرو جب تم مومنین سے کہہ رہے تھے ‘ کیا تمہارے لئے یہ بات کافی نہیں کہ اللہ تین ہزار فرشتے اتار کر تمہاری مدد کرے ؟ “ بیشک اگر تم صبر کرو ‘ اور اللہ سے ڈرتے ہوئے کام کرو ‘ تو جس آن دشمن تمہارے اوپر چڑھ آئیں گے اسی آن تمہارا رب (تین ہزار نہیں ) پانچ ہزار صاحب نشان فرشتوں سے تمہاری مدد کرے گا ۔ “

یہ کلمات بدر کے دن رسول ﷺ نے ادا کئے تھے ‘ اور ان مٹھی بھر اہل ایمان سے کہے تھے جو آپ کے ساتھ نکلے تھے ‘ جنہوں نے مشرکین کی فوج کو دیکھ لیا تھا ‘ یہ مٹھی بھر مسلمان صرف قافلے کو پکڑنے کے لئے نکلے تھے ‘ جن کے پاس سامان تجارت تھا ‘ ان کے گمان میں بھی یہ بات نہ تھی کہ وہ ایک ایسی فوج کے ساتھ آمنا سامنا کریں گے جو سازوسان سے لیس تھی اور اس دن انہیں رسول اللہ ﷺ نے ان امور سے مطلع کردیا تھا ‘ جن امور سے اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو آگاہ کردیا تھا ‘ تاکہ ان کے دل مضبوط ہوں اور وہ ثابت قدم رہیں ۔ وہ بہرحال انسان تھے ‘ اور انہیں ایسی امداد کی ضرورت تھی جو ان کے تصورات اور ان کے شعور کے قریب الفہم ہو ‘ اور ایک ایسی صورت میں ہو ‘ جس صورت میں وہ کسی معاونت کے عادی تھے ‘ اور انہیں یہ بھی بتادیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے یہ خصوصی امداد دو شرائط کے ساتھ مشروط ہے ‘ ایک یہ کہ تم صبر سے کام لو اور پرہیزگاری کا رویہ اختیار کرو ‘ صبر اس لئے ضروری ہے کہ جب حملہ ہوتا ہے تو اس وقت حملے کے صدمات پر صبر کی ضرورت ہوتی ہے ‘ اور تقویٰ وہ چیز ہے جو انسان کا رابطہ اللہ سے قائم کردیتی ہے۔ چاہے فتح ہو یا ہزیمت ہو۔

اردو ترجمہ

بے شک، اگر تم صبر کرو اور خدا سے ڈرتے ہوئے کام کرو تو جس آن دشمن تمہارے اوپر چڑھ کر آئیں گے اُسی آن تمہارا رب (تین ہزار نہیں) پانچ ہزار صاحب نشان فرشتوں سے تمہاری مدد کرے گا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Bala in tasbiroo watattaqoo wayatookum min fawrihim hatha yumdidkum rabbukum bikhamsati alafin mina almalaikati musawwimeena

یہاں قرآن کریم انہیں سکھاتا ہے کہ آخر کار تمام امور اللہ تعالیٰ کی طرف پلٹتے ہیں ‘ اور تمام اشیاء ار واقعات میں اصل فیکٹر اللہ کی ذات ہے ‘ فرشتوں کا اتارا جانا تو اہل ایمان کے لئے خوشخبری ہے تاکہ ان کے دل خوش ہوں ‘ ثابت قدم ہوں اور انہیں اطمینان و سکون نصیب ہو ۔ رہی نصرت تو وہ براہ راست اللہ کی جانب سے ہے ‘ اس کا تعلق اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کے ارادے سے ہے ‘ بغیر کسی واسطہ ‘ بغیر کسی وسیلہ اور بغیر کسی سبب کے ۔

اردو ترجمہ

یہ بات اللہ نے تمہیں اس لیے بتا دی ہے کہ تم خوش ہو جاؤ اور تمہارے دل مطمئن ہو جائیں فتح و نصرت جو کچھ بھی ہے اللہ کی طرف سے ہے جو بڑی قوت والا اور دانا و بینا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wama jaAAalahu Allahu illa bushra lakum walitatmainna quloobukum bihi wama alnnasru illa min AAindi Allahi alAAazeezi alhakeemi

قرآن کریم نے اسلامی تصور حیات میں مشیئت الٰہی کی کارفرمائی پر بہت زور دیا ہے ۔ اور اسے ہر شک وشبہ سے پاک کرنے کی کوشش کی ہے اور اس بات کا باربار ذکر کیا ہے کہ دنیاوی اسباب کسی صورت میں موثر نہیں ہوتے ۔ اللہ کی قدرت اور مومن کے دل و دماغ کے درمیان ایک خاص رابطہ ہوجاتا ہے ۔ اللہ اور بندے کے درمیان حائل پردے اٹھ جاتے ہیں ۔ اللہ اور بندے کے درمیان براہ راست تعلق قائم ہوجاتا ہے اور اس میں کبھی کوئی رکاوٹ قائم نہیں ہوتی ۔ جس طرح عالم موجودات میں اور عالم حقائق میں ہوتا ہے۔

قرآن کریم میں اس قسم کی ہدایات بار بار دہرائی جاتی ہیں ‘ مختلف اسالیب میں ان کی تاکید کی جاتی ہے اور مسلمانوں کے دل میں یہ حقیقت اچھی طرح بیٹھ جاتی ہے ‘ وہ اس حقیقت کا ایک عجیب گہرا ‘ روشن اور سنجیدہ شعور رکھتے ہیں ۔ وہ جانتے ہیں کہ اللہ وحدہ ہی اس کائنات کے تمام امور میں فاعل اور مؤثر ہے ‘ انہیں یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے مامور ہیں کہ وہ اسباب ووسائل فراہم کریں ‘ جدوجہد کریں اور ہر کام کے سلسلے میں اپنی سی کوشش کریں ‘ لیکن اس حقیقت کا بھی انہیں پختہ شعور ہو کہ ہوگا وہی جو اللہ کی مشیئت چاہے لیکن اس پختہ یقین کے ساتھ ساتھ وہ اطاعت کرتے ہیں اور شعوری توازن کے ساتھ ہر وقت وہ متحرک رہتے ہیں ۔ اس کے باوجود قرآن کریم نے یہ شعور ایک عرصہ کے بعد مسلمانوں کی فکر میں بٹھایا ۔ کچھ واقعات پیش آئے ‘ ان واقعات نے مسلمانوں کی تربیت کی ‘ ان واقعات سے نتائج اخذ کئے گئے اور اس سورت میں ایسی تربیت کی کئی مثالیں موجود ہیں۔

ان آیات میں بدر کا منظر نظروں کے سامنے ہے ۔ اس منظر میں رسول اکرم ﷺ اہل ایمان کے ساتھ وعدہ فرماتے ہیں کہ اللہ کی جانب سے خصوصی امداد نازل ہوگی بشرطیکہ وہ صبر وثبات سے کام لیں اور معرکے میں انسانوں سے ڈرنے کے بجائے صرف تقویٰ اور اللہ خوفی کی راہ اختیار کریں ۔ عین اس وقت جب ان کا کفار کے ساتھ آمنا سامنا ہو ‘ اس کے بعد یہاں قرآن کریم نزول ملائکہ کے بھی پس منظر میں جاکر یہ باور کراتا ہے کہ اصل قوت فاعلہ ذات باری ہے ۔ تمام امور اس کے ہاتھ میں ہیں اور اس کے ارادے کے تابع ہیں اور صرف اس کے اذن اور اس کے ارادے سے فتح ونصرت نصیب ہوگی ۔ وَللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ……………” اور اللہ ہی بڑی قوت والا اور بینا ہے۔ “ وہ بڑی قوت والا ہے ‘ صاحب اقتدار ہے اور اس بات پر قادر ہے کہ نصرت اور فتح عطاکرے اور اس کے ساتھ وہ حکیم بھی ہے اور اس کی قدرت دانائی کے مطابق جاری وساری ہے ۔ اور وہ فتح اس لئے عطا کرتا ہے کہ اس میں اس کی حکمت پوشیدہ ہوتی ہے ۔

اردو ترجمہ

(اور یہ مدد وہ تمہیں اس لیے دے گا) تاکہ کفر کی راہ چلنے والوں کا ایک بازو کاٹ دے، یا ان کو ایسی ذلیل شکست دے کہ وہ نامرادی کے ساتھ پسپا ہو جائیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

LiyaqtaAAa tarafan mina allatheena kafaroo aw yakbitahum fayanqaliboo khaibeena

اس کے بعد اس نصرت کی حکمت بھی یہاں بیان کردی جاتی ہے ‘ کیسی فتح ؟ وہ فتح جس کے مقاصد میں سے کوئی مقصد بھی انسان کی ذات سے وابستہ نہیں ہے ۔

یہ حقیقت ہے کہ فتح اللہ کی جانب سے آتی ہے ۔ وہ اللہ کی تقدیر کو ظاہر کرتی ہے ۔ کسی رسول اور اس کے ساتھیوں کو فتح کی صورت میں کوئی ذاتی مفاد نہیں ملتا ۔ نہ اس میں ان کی کوئی ذاتی غرض ہوتی ہے۔ نیز حصول فتح میں نہ رسول کا دخل ہوتا ہے نہ اس کے ساتھ اس میں دخیل ہوتے ہیں ۔ وہ تو تقدیر الٰہی کے ظہور کے لئے ایک مظہر ہوتے ہیں ۔ قدرت انہیں جس طرح چاہتی ہے ‘ استعمال کرتی ہے ۔ وہ اس فتح ونصرت کا نہ سبب حقیقی ہوتے ہیں نہ اس کے صانع ہوتے ہیں ۔ وہ نہ فاتح ہوتے ہیں اور نہ ہی اس فتح کے نتیجے میں مفادات حاصل کرتے ہیں ۔ دست قدرت اپنے بعض اشخاص کو حرکت میں لاتا ہے ۔ پھر خود ان کی تائید کرتا ہے تاکہ اللہ کے پیش نظر جو حکمتیں ہوں ان کا ظہور ہو اور جو مقاصد ہوں وہ بروئے کار لائے جائیں ۔

لِيَقْطَعَ طَرَفًا مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا……………” تاکہ کفر کی راہ چلنے والوں کا ایک بازو کاٹ دے۔ “ وہ قتل ہوں اور ان کی افرادی قوت کم ہو ‘ ان کی اراضی ان ہاتھوں سے نکلے اور ان کا رقبہ کم ہوتا جائے۔ یا ان کی جابرانہ حکومت کا دائرہ تنگ ہوجائے۔ ان کی دولت میں بوجہ مال غنیمت کمی آجائے اور ہزیمت اور شکست کے نتیجے میں ان کی سرگرمیوں میں کمی آجائے۔

أَوْ يَكْبِتَهُمْ فَيَنْقَلِبُوا خَائِبِينَ……………” یا ان کو ایسی ذلیل شکست دے کہ وہ نامرادی کے ساتھ پسپا ہوجائیں ۔ “ یعنی ذلیل ہوکر ہزیمت اٹھائیں اور اپنے مقاصد میں ناکام ہوکر لوٹیں جبکہ وہ دبے ہوئے ہوں۔

اردو ترجمہ

(اے پیغمبرؐ) فیصلہ کے اختیارات میں تمہارا کوئی حصہ نہیں، اللہ کو اختیار ہے چاہے انہیں معاف کرے، چاہے سزا دے کیونکہ وہ ظالم ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Laysa laka mina alamri shayon aw yatooba AAalayhim aw yuAAaththibahum fainnahum thalimoona

أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ……………” یا انہیں معاف کردے۔ “ اس لئے کہ بعض اوقات اہل اسلام کی فتح کے نتیجے میں کفار کو عبرت حاصل ہوتی ہے اور وہ سبق حاصل کرلیتے ہیں اور اس فتح کے نتیجے میں وہ اسلام قبول کرلیتے ہیں ‘ نتیجتاً اللہ انہیں معاف کردیتا ہے ۔ ان سے صفت کفر چلی جاتی ہے اور وہ راہ ہدایت پاکر اسلام پر جم جاتے ہیں۔

أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظَالِمُونَ……………” چاہے انہیں سزادے کیونکہ وہ ظالم ہیں۔ “ عذاب کی ایک شکل تو یہ ہوتی ہے کہ اہل اسلام ان پر غالب آجاتے ہیں ‘ دوسری صورت قید ہونے کی

صورت میں وہ عذاب پاتے ہیں یا ان کا خاتمہ کفر پر ہوجاتا ہے اور انجام کار وہ سزائے جہنم کے مستحق ہوجاتے ہیں ۔ یہ سزا ان کو اس لئے دی جاتی ہے کہ وہ کفر کرکے ظلم کا ارتکاب کرتے ہیں ‘ مسلمانوں کو فتنے میں ڈالتے ہیں اور فساد فی الارض کے مرتکب ہوتے ہیں ۔ نیز وہ اس اصلاحی نظام حیات کے مقابلے میں اتر کر ظلم کا ارتکاب کرتے ہیں جو اسلامی نظام حیات اور اسلامی شریعت کی صورت میں دنیا میں نافذ ہونے کے لئے آیا ہے ۔ غرض وہ سب مظالم اس میں شامل ہیں جو کفر کی وجہ سے وجود میں آتے ہیں اور جن کی وجہ سے اللہ کی راہ کو مسدود کیا جاتا ہے ۔

بہرحال یہ سب پروگرام حکمت الٰہی کے تحت ہوتا ہے اور اس میں انسانی ارادے کا کوئی دخل نہیں ہوتا یہاں تک کہ اس آیت کی رو سے خود رسول اللہ ﷺ کی ذات کو بھی اس پروگرام میں دخل انداز ہونے سے خارج کیا جاتا ہے ۔ اور ان امور میں فیصلے کا اختیار صرف اللہ کی ذات کے ساتھ مخصوص ہوجاتا ہے ۔ اس لئے کہ ایسے فیصلے ذات باری کے شایان شان ہیں ۔ ان میں ذات باری منفرد ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے ۔

یوں اہل ایمان کی ذات فتح و کامرانی کے ساتھ اس منظر سے باہر آجاتی ہے ۔ وہ خود فتح و کامرانی کے اسباب کے دائرے سے نکل جاتے ہیں اور اس کے نتائج میں ان کا کوئی دخل نہیں رہتا ۔ یوں وہ اس کبر و غرور سے محفوظ رہتے ہیں جو فاتحین کے دلوں میں بالعموم پیدا ہوجاتا ہے ‘ نیز وہ سخت گیری ‘ غرور اور احساس برتری سے بھی مامون ہوجاتے ہیں جن کی وجہ سے اکثر فاتحین پھولے نہیں سماتے اور ان کے روح اور طرز عمل غیر متوازن ہوتے ہیں ۔ چناچہ اہل ایمان محسوس کرتے ہیں کہ فیصلے کے اختیارات ان کے پاس نہیں ہیں ۔ اختیارات تو سب کے سب اللہ کے پاس ہیں ۔

غرض لوگ مطیع فرمان ہوں یا نافرمان ہوں ان سب کے امور کا مالک اللہ تعالیٰ ہے ۔ یہ کہ لوگوں کی قسمت کے فیصلے ‘ خواہ وہ اچھے لوگ ہوں یا برے ‘ اللہ نے اپنے ہاتھ میں رکھے ہیں ۔ یہ ہے تحریک اسلامی کی حقیقت اور یہ ہے اس میں لوگوں کا مقام چاہے وہ اچھے ہوں یا برے ہوں۔ اس میدان میں خود رسول اکرم ﷺ اور اہل ایمان کا کام صرف یہ ہے کہ وہ اچھے طریقے سے اپنے فرائض سر انجام دیں ۔ اور نتائج اللہ پر چھوڑدیں ۔ وہ اپنے کئے پر صرف اللہ سے اجر کے طلب گار ہوں ‘ وہ انہیں پورا پورا اجردے گا اور ان کا والی اور مددگار ہوگا۔

یہ آیت کہ ” فیصلے کے اختیارات میں تمہارا کوئی دخل نہیں ہے “ اس لئے بھی یہاں لائی گئی ہے کہ آنے والی آیت میں بعض لوگوں کی یہ بات نقل ہونے والی ہے ۔ هَلْ لَنَا مِنَ الأمْرِ مِنْ شَيْءٍ……………” اس کام کو چلانے میں ہمارا بھی کوئی حصہ ہے۔ “ (154 : 3) اور یہ کہ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الأمْرِ شَيْءٌ مَا قُتِلْنَا هَا هُنَا……………” اگر اختیارات میں ہمارا کوئی حصہ ہوتا تو یہاں ہم نہ مارے جاتے ۔ “ (157 : 3) اور یہ آیت دراصل ان مزعومات کا پیشگی جواب ہے کہ جی ہاں اختیارات الٰہیہ میں کوئی شریک نہیں ہے ‘ نہ فتح کسی کے اختیار میں ہے نہ شکست ۔ تمہارا کام صرف اطاعت امر ہے ‘ ادائے فرض ہے اور مکمل وفاداری ہے ۔ یہی امور تم سے مطلوب ہیں ۔ ان کے بعد نتائج کیا نکلتے ہیں تو بس یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے ۔ ان میں کسی کا دخل نہیں ہے۔ یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کا بھی دخل نہیں ہے ۔ یہ وہ اصلی حقیقت جو اسلامی تصور حیات کے پیش نظر ہے اور اسے نفس انسانی کی گہرائیوں میں جاگزیں ہونا چاہئے اور اسے واقعات ‘ حالات اور افراد کار سے بھی برتر اور بلند ہونا چاہئے ۔

واقعہ بدر کی یہ یاد دہانی اور اسلامی تصور حیات کے ان اساسی حقائق کا اختتامیہ اس عام حقیقت کے اظہار سے ہوتا ہے کہ آخر کار فتح وہزیمت دونوں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکیمانہ پالیسی کے تابع ہوتی ہیں اور یہاں آکر اس بیان کے خاتمہ پر ‘ اس سے بھی زیادہ عمومی حقیقت کو سامنے لایا جاتا ہے کہ اس پوری کائنات میں اللہ کا امر جاری وساری ہے ۔ اس لئے جسے وہ چاہتا ہے بخش دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے عذاب میں مبتلا کردیتا ہے ۔

اردو ترجمہ

زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے اس کا مالک اللہ ہے، جس کو چاہے بخش دے اور جس کو چاہے عذاب دے، و ہ معاف کرنے والا اور رحیم ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Walillahi ma fee alssamawati wama fee alardi yaghfiru liman yashao wayuAAaththibu man yashao waAllahu ghafoorun raheemun

غرض یہ امور اللہ کی مشیئت کے تابع ہیں جو بےقید ہے اور جو اس کی بےقید شہنشاہیت کے ساتھ وابستہ ہے ۔ وہ اپنے بندوں کے معاملات میں بےقید متصرف ہے ۔ جس طرح کہ وہ آسمانوں اور زمینوں کا مالک لاشریک ہے ۔ وہ اپنے بندوں پر نہ ظلم کرتا ہے اور نہ ان میں سے کسی کی جانب داری کرتا ہے نہ مغفرت میں اور نہ سزادہی میں ۔ بندوں کے درمیان وہ فیصلے حکمت اور عدل کے ساتھ کرتا ہے اور حکمت اور عدالت کے ساتھ ساتھ اس کی صفات رحمت اور عفو بھی اپنا کام کرتی ہیں ‘ اس لئے کہ عفو و درگزر ہی اس کے شایان شان ہے ۔

وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ……………” وہ معاف کرنے والا اور رحیم ہے ۔ “ بندوں کے لئے اس کے دروازے کھلے ہیں ‘ وہ ہر وقت اس کی رحمت اور مغفرت سے فیض یاب ہوسکتے ہیں ‘ ہر وقت لوٹ سکتے ہیں ‘ باز آسکتے ہیں ‘ اس لئے کہ تمام معاملات اس کے ہاتھ میں ہیں ۔ فرائض جو اس نے عائد کئے ہیں ان کی ادائیگی اور فرائض سے آگے کے معاملات کو ترک کرنا ‘ یہ اس کی حکمت اور مشیئت کی وجہ سے ہے ‘ جس پر کوئی قید وبند نہیں ہے۔ اور اس کی حکمت اور مشیئت اسباب ووسائل کے پیچھے کام کرتی ہے۔

اس سے قبل کہ سیاق کلام معرکہ احد کے مرکزی واقعات کے بیان کا آغاز کرے ‘ ان واقعات کے نتائج ریکارڈ کرے ‘ اور واقعات کی تفصیلات کا ذکر کرے ۔ یہاں اس عظیم معرکہ کے بارے میں ہدایات دی جارہی ہیں ‘ جس کا ذکر ہم نے اس بحث کے آغاز میں کیا ہے ۔ وہ عظیم معرکہ وہ ہے جو انسانی نفیسات کے میدان میں برپا تھا اور ہے جو پوری انسانی زندگی کی سطح پر جاری وساری ہے ۔ اس سلسلے میں یہاں سودخوری اور سودی کاروبار کے بارے میں بات کی جاتی ہے ۔ یہاں اللہ خوفی ‘ اللہ کی اطاعت اور اس کے رسول کی فرمانبرداری سے متعلق بات کی جاتی ہے ۔ یہ حکم دیا جاتا ہے کہ سہولت اور مشکلات کے ہر دور میں انفاق فی سبیل اللہ پر عمل کیا جائے ۔ اسلامی نظام معیشت کے کریمانہ نظام معاونت اور اس کے مقابلے میں سود کی ملعون نظام معیشت کا ذکر ‘ غصہ پی جانا ‘ لوگوں سے عفو و درگزر کرنا اور جماعت مسلمہ کے اندر بھلائی کی اشاعت ‘ گناہوں سے معافی کی طلب گاری اور غلطیوں اور کوتاہیوں پر عدم اصرار کے مباحث کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔

اردو ترجمہ

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، یہ بڑھتا اور چڑھتا سود کھانا چھوڑ دو اور اللہ سے ڈرو، امید ہے کہ فلاح پاؤ گے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Ya ayyuha allatheena amanoo la takuloo alrriba adAAafan mudaAAafatan waittaqoo Allaha laAAallakum tuflihoona

یہ تمام ہدایات یہاں عین اس وقت جاری ہیں کہ سیاق کلام میں جنگی معرکہ پر بحث شروع ہونے والی ہے ۔ اور ان سے یہاں اسلامی نظریہ حیات کی خصوصیات میں سے ایک اہم خصوصیت کی طرف اشارہ مطلوب ہے ۔ اسلامی نظریہ حیات انسانی شخصیت اور اس کی سرگرمیوں کو ایک جامع نقطہ نظر سے دیکھتا ہے ۔ اور انسان اور اس کی تگ ودو کو ایک ہی محور کے گرد گھماتا ہے ۔ وہ یہ ہے کہ انسان کو اپنی پوری زندگی میں اللہ وحدہٗ لاشریک کی اطاعت اور پرستش کرنی ہے ۔ ہر معاملے میں صرف اس کی طرف متوجہ ہونا ہے ۔ اور صرف اسلامی نظام حیات ہی پوری زندگی پر حاوی کرنا ہے اور انسانی شخصیت کے تمام احوال اور تمام حالات پر اسلامی نظام حیات کو غالب کرنا ہے اور انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں میں اسے رائج کرنا ہے۔ اس کے بعد یہ ہدایات انسانی زندگی کی بوقلمونیوں کے درمیان اس ربط کی طرف اشارہ کرتی ہیں اور سعی انسانی کے آخری نتائج میں اس ربط کے اثرات بھی بیان کئے جاتے ہیں ‘ جیسا کہ اس سے قبل ہم بیان کر آئے ہیں ۔

اسلامی نظام زندگی نفس انسانی کے ہر پہلو کو اپنی گرفت میں لیتا ہے ‘ وہ جماعت مسلمہ کی زندگی کو پوری طرح منظم کرتا ہے ۔ وہ اس کے درمیان بخرے بخرے کرکے کوئی فیصلہ نہیں کرتا ۔ اس لئے وہ میدان کارزر کے لئے سازوسامان بھی تیار کرتا ہے اور افراد کار کے اندر صلاحیت جنگ بھی پیدا کرتا ہے ۔ وہ اہل ایمان کے دلوں کو بھی پاک کرتا ہے ۔ ان کے ذہنوں کی تطہیر کرتا ہے ‘ انسان کے اندر ایسی اخلاقی قوت پیدا کرتا ہے کہ وہ ہوائے نفس اور جسمانی خواہشات پر قابو پاسکیں ۔ جماعت مسلمہ کے اندر محبت ‘ ملنساری پیدا کی جاتی ہے اور یہ تمام اوصاف ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہیں ۔ جب ہم ان تمام خصوصیات پر تفصیل کے ساتھ بحث کریں گے اور ان ہدایات میں سے ہر ایک کی تفسیر کریں گے تو معلوم ہوگا کہ تمام اوصاف وہدایات کا جماعت مسلمہ کی عملی زندگی کے ساتھ گہرا ربط ہے۔ اور یہ اوصاف میدان جنگ اور میدان حیات دونوں میں جماعت مسلمہ کی تقدیر کے ساتھ مربوط ہیں ۔

سود اور سودی نظام معیشت پر بحث فی ظلال القرآن پارہ سوئم میں تفصیل کے بیان ہوچکی ہے ۔ اس لئے یہاں ہم اس پوری بحث کو دہرانا مناسب نہیں سمجھتے ۔ لیکن یہاں اضعاف مضاعفہ کے الفاظ پر غور کرنا مناسب ہوگا۔ اس لئے کہ ہمارے زمانے کے بعض لوگ ان الفاظ کی آڑ لے کر یہ مفہوم بیان کرتے ہیں کہ جو چیز حرام کی گئی ہے وہ اضعاف مضاعفہ ہے ۔ رہا وہ سود جو چار فیصد ہو ‘ پانچ فیصد ہو ‘ سات فی صد ہو ‘ نوفی صد ہو تو وہ اضعاف مضاعفہ نہیں ہے ‘ لہٰذا وہ حرام نہیں ہے ۔

اس کی تردید میں صرف یہی کہنا کافی ہے کہ اضعاف مضاعفہ کی قید دراصل نزول قرآن کے وقت موجود واقعی صورتحال کا اظہار کرتی ہے ‘ یہ قید اس حکم کو محدود اور مشروط نہیں کرتی ۔ سورة بقرہ میں جو آیت وارد ہے وہ قطعی ہے ۔ اور ربا کی ہر صورت کو حرام قرار دیتی ہے ۔ اس لئے اس میں کوئی قید وحد نہیں ہے ۔ وہاں یہ الفاظ نہیں وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا……………” سود میں سے جو کچھ باقی ہے اسے چھوڑدو۔ “ چاہے وہ سود جس شرح سے بھی ہو۔ “

اس اصولی بحث کے بعد اب ہم بتائیں گے کہ ربا کے ساتھ اس صفت اضعاف مضاعفہ کی قید کیوں عائد کی گئی ہے ؟ صرف یہ کہ یہ صفت سودی نظام کی تاریخ کی طرف اشارہ کررہی ہے جس میں سودی کاروبار دوچند چہار چند شرح سے کیا جاتا تھا۔ بلکہ یہ بتاتی ہے کہ سود کی شرح جو بھی ہو سود کے تباہ کن نظام کے ساتھ یہ صفت اضعاف مضاعفہ ایک لازم صفت ہے ۔

سودی نظام کا خلاصہ یہ ہے کہ کسی سوسائٹی میں پوری دولت کی گردش اس نظام کے مطابق شروع ہوتی ہے ‘ اس لئے سودی کاروبار میں سرگرمیاں سود مفرد کی طرح سادہ سرگرمیاں نہیں ہوتیں۔ اس گردش کا ایک پہلو یہ ہے کہ اس نظام میں مال کی منتقلی بار بار ہوتی رہتی ‘ اس لئے وہ سود مرکب میں تبدیل ہوجاتا ہے ‘ اس لئے بار بار سودی چارج کی وجہ سے بالآخر سود کی رقم کئی گنا ہوجاتی ہے ۔ اور وہ بلاجدال اضعافاً مضاعفہ بن جاتی ہے ۔ اس لئے اپنے مزاج کے اعتبار سے سودی نظام میں دولت دوگنی چوگنی بنتی جاتی ہے۔ اس لئے اضعاف مضاعفہ کا اطلاق اس صورت حال کے اندر منحصر نہ ہوگا جو نزول قرآن کے وقت عرب سوسائٹی میں مروج تھی بلکہ ہر دور میں ہر قسم کے سودی نظام کی یہ خاصیت ہوتی ہے کہ وہ دوگنا چوگنا ہوتا رہتا ہے۔

اور جیسا کہ ہم نے تیسرے پارے میں تفصیلات دی ہیں ‘ اس نظام کی خصوصیت یہ بھی ہوتی ہے کہ یہ لوگوں کی نفسیات اور اخلاق پوری طرح بگاڑ دیتا ہے ۔ نیز یہ نظام ملک کی اقتصادی اور سیاسی صورت حال کو بھی پوری طرح خراب کردیتا ہے ۔ اس لئے اس سودی نظام کے اثرات امت کی اجتماعی زندگی پر پڑتے ہیں اور امت کے انجام پر اس کے اثرات ہوتے ہیں ۔ جیسا کہ ہم نے تیسرے پارے میں ذکر کیا ہے۔

اسلام جس وقت امت مسلمہ کی تخلیق کررہا تھا ‘ وہ اس امت کے لئے ایک اخلاقی اور نفسیاتی نظام حیات کی بنیاد بھی رکھ رہا تھا ‘ وہ اس نئی امت کی سیاسی اور اقتصادی زندگی کو بھی صحت مندانہ اصولوں پر استوار کررہا تھا ‘ اس سلسلے میں اس نئی امت کو معرکے درپیش ہوئے اور ان کے جو اثرات مرتب ہوئے وہ تاریخ اسلام کے معروف ومشہور واقعات ہیں ‘ اس لئے جنگی واقعات کے درمیان میں اچانک حرمت ربا کا ذکر بھی قابل فہم ہے اس لئے کہ اسلامی نظام حیات ایک جامع اور حکیمانہ نظام ہے ۔ نیز ربا کی ممانعت کے بعد یہ کہنا کہ اللہ سے ڈرو اور یہ امید رکھو کہ تم پر رحم کیا جائے گا اور پھر یہ کہنا کہ اس آگ سے اپنے آپ کو بچاؤ جو کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے ‘ یہ دونوں باتیں بھی اس نقطہ نظر سے قابل فہم ہوجاتی ہیں ۔

مطلب یہ ہے کہ جو شخص بھی اللہ سے ڈرتا ہو اور اس کے دل میں اللہ کا خوف ہو وہ ہرگز سود نہیں کھاسکتا ‘ نیز جس شخص کے دل میں عذاب جہنم کا خوف ہو ‘ وہ بھی ہر گز سود خور نہیں ہوسکتا ۔ بالفاظ دیگر جو شخص بھی ایمان رکھتا ہو اور اپنے آپ کو کافروں کی لائن سے نکالنا پسند کرتا ہو وہ کبھی سود خور نہیں ہوسکتا ۔ ایمان صرف خالی خولی باتوں کا نام نہیں ہے بلکہ اس کا تقاضا یہ بھی ہے کہ اسلامی نظام حیات کے قیام اور پوری زندگی کو اسلام کے رنگ میں رنگنے کے لئے ایمان کو ہر اول دستہ قرار دیا گیا ہے۔

یہ بات محال ہے کہ ایمان اور سودی نظام ایک جگہ جمع ہوجائیں جہاں سودی نظام قائم ہوگا ‘ وہ سوسائٹی پوری کی پوری دین اسلام سے خارج تصور ہوگی اور اس کا انجام اس آگ میں ہوگا جسے فی الحقیقت کافروں کے لئے تیار کیا گیا ہے ۔ اس مسئلے میں جو بھی بحث کی جائے وہ غیر ضروری بحث ہوگی ‘ اس لئے کہ اس آیت میں پہلے سودی کاروبار کی ممانعت کی گئی ہے ۔ اس کے بعد اہل ایمان کو یہ دعوت دی گئی ہے کہ وہ اللہ کا خوف کریں اور اس حکم پر عمل کریں اور اس آگ سے بچیں جو کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے ۔ یہ مضمون اس نہج پر بےمقصد نہیں لایا گیا نہ اتفاقیہ طور پر اس طرح بیان کردیا گیا ہے ۔ یہ سب ہدایات بامقصد ہیں ‘ بطور تاکید لائی گئی ہیں اور مسلمانوں کے ذہن میں اس حقیقت کو اسی مفہوم میں بٹھانا مقصود ہے ۔

انہیں یہ امید دلائی گئی ہے کہ اگر وہ سودی کاروبار ترک کردیں گے تو وہ امید کرسکتے ہیں کہ وہ کامیاب ہوں گے ‘ اس لئے کہ کامیابی صرف اللہ کے تقویٰ کے نتیجے میں مل سکتی ہے ۔ تقویٰ کا طبعی انجام فلاح ہے۔ اور فلاح اس لئے کہ انسانوں کی زندگی میں اسلامی نظام قائم کیا جائے ۔ پارہ سوئم میں ہم تفصیل سے بیان کر آئے ہیں کہ اس منحوس سودی نظام نے انسانی معاشروں کو کس طرح تباہ کیا ہے ۔ اور پوری انسانیت کو اس نظام نے کن کن مصائب میں مبتلا کئے رکھا ہے ۔ مناسب ہے کہ پارہ سوئم میں دی گئی مباحث کو ایک بار پھر ذہن نشین کرلیاجائے تاکہ ہمیں معلوم ہوجائے کہ اسلامی نقطہ نظر سے فلاح کا تصور کیا ہے اور یہ کہ کس طرح فلاح اس بات پر موقوف ہے کہ ہم اس خبیث سودی نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں ۔

اردو ترجمہ

اُس آگ سے بچو جو کافروں کے لیے مہیا کی گئی ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waittaqoo alnnara allatee oAAiddat lilkafireena

اردو ترجمہ

اور اللہ اور رسول کا حکم مان لو، توقع ہے کہ تم پر رحم کیا جائے گا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

WaateeAAoo Allaha waalrrasoola laAAallakum turhamoona

اس کے بعد یہ آخری تاکید کی جاتی ہے وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ……………” اور اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کی امید ہوسکے ۔ “ یہ اللہ اور رسول کی اطاعت کا عام حکم ہے ‘ اور اس طاعت عامہ پر اللہ کے رحم کو موقوف کیا گیا ہے لیکن سودی کاروبار کی ممانعت کے بعد بطور نتیجہ اس رحمت خداوندی کا ذکر خالی از حکمت نہیں ہے۔ اس میں ایک خاص مفہوم اور اشارہ بھی مطلوب ہے ۔ وہ یہ ہے کہ کسی ایسے معاشرے میں جس کی اقتصادیات سودی نظام پر استوار ہوں قطعاً اللہ اور رسول کی اطاعت ممکن نہیں رہتی ۔ نیز اس دل میں اطاعت الٰہی اور اطاعت رسول کا جذبہ ہی نہیں رہتا جو سود کھاتا ہو ‘ چاہے وہ کسی بھی شکل اور کسی بھی صورت میں ہو ‘ اس طرح نہی عن الربا کا یہ نتیجہ اور تعقیب بھی ایک طرح کی مزید تاکید مزید ہے کہ اس منحوس نظام کو ختم کردیاجائے۔

یہاں اطاعت اللہ اور اطاعت رسول ﷺ کی اس تاکید کا تعلق کاروبار ربا کے علاوہ جنگ احد کے ان واقعات کے ساتھ بھی ہے جن میں رسول ﷺ کے واضح احکام کی خلاف ورزی کی گئی تھی ۔ اشارہ یہ مقصود ہے کہ فلاح صرف اس صورت میں نصیب ہوسکتی ہے کہ تم لوگ اللہ اور رسول کی اطاعت کرو ‘ صرف یہی جائے امید ہے اور یہی راہ نجات ہے ۔

اس سے قبل سورة بقرہ پارہ سوئم میں جہاں ہم نے سودی نظام پر بحث کی تھی ہم نے بتایا تھا کہ ذکر ربا کے ساتھ ساتھ وہ انفاق فی سبیل اللہ اور فضیلت صدقہ کا بیان اس لئے کیا گیا ہے کہ اجتماعی نظام میں یہ دونوں باہم مقابل سمتیں ہیں ‘ جن سے دو علیحدہ علیحدہ نظام ہائے اقتصاد کی طرف اشارہ مطلوب ہے ۔ ایک سودی اقتصادی نظام ہے اور دوسرا باہم تعاون پر مبنی نظام اقتصاد ہے ۔ چناچہ یہاں بھی جب ربا سے بحث کی گئی تو اس کے ساتھ ہی ہر حال میں انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب بھی دی گئی ۔ چناچہ ربا کی ممانعت اور اس آگ سے ڈرانے کے بعد جو اہل کفر کے لئے تیار کی گئی ہے اور لوگوں کو اللہ خوفی کی دعوت دینے اور انہیں ہر وقت رحمت خداوندی کے امیدوار رہنے کے ساتھ ساتھ انہیں دعوت دی گئی ہے کہ وہ اللہ کی مغفرت کی طرف دوڑ کر چلیں ۔ وہ بھاگے بھاگے ان جنتوں میں داخل ہوں جو آسمانوں اور زمینوں کی وسعتوں سے بھی زیادہ وسیع ہیں اور جنہیں اہل تقویٰ کے لئے تیار کیا گیا ہے اور متقین کے اوصاف میں سے پہلی صفت یہ بیان کی گئی ہے الَّذِينَ يُنْفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ……………” وہ لوگ جو خوشحالی اور بدحالی دونوں حالتوں میں مال خرچ کرتے ہیں ۔ “ اس لئے یہ لوگ ان لوگوں کے فریق مخالف ہیں جو سودی نظام کھاتے ہیں اور اس کے ذریعہ دوچند چہار چند رقم بٹورتے ہیں ۔ اس کے بعد پھر متقین کی اور صفات بیان کی جاتی ہیں ۔ پوری آیت یہ ہے :

وَسَارِعُوا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالأرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ (133) الَّذِينَ يُنْفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ (134) وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ وَمَنْ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلا اللَّهُ وَلَمْ يُصِرُّوا عَلَى مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ (135)

” دوڑ کر چلو اس راہ پر جو تمہارے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف لے جاتی ہے جس کی وسعت زمین وآسمانوں جیسی ہے ‘ اور وہ ان خدا ترس لوگوں کے لئے مہیا کی گئی ہے جو ہر حال میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں خواہ بدحال ہوں یا خوشحال جو غصے کو پی جاتے ہیں اور دوسروں کے قصور معاف کردیتے ہیں ۔ ایسے نیک لوگ اللہ کو بہت پسند ہیں ۔ اور جن کا حال یہ ہے کہ اگر کبھی کوئی فحش کام ان سے سرزد ہوجاتا ہے یا کسی گناہ کا ارتکاب کرکے وہ اپنے اوپر ظلم کربیٹھتے ہیں تو معاًاللہ انہیں یاد آجاتا ہے اور اس سے وہ اپنے قصوروں کی معافی چاہتے ہیں …………کیونکہ اللہ کے سوا اور کون ہے جو گناہ معاف کرسکتا ہے ………… اور وہ دیدہ دانستہ اپنے کئے پر اصرار نہیں کرتے ۔ “

66