اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر یہ لکھ دیا ہے کہ وہ اپنے دوستوں کی مدد کرے گا ‘ جو اس کا جھنڈا اٹھانے والے ہوں اور جو اس پر پختہ ایمان اور عقیدہ رکھنے والے ہوں ۔ لیکن اس نے اس وعدے کو ایک شرط سے مشروط کیا ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ کی نصرت کے مستحق وہ اس وقت ہوں گے جب ان کے دلوں میں حقیقت ایمان اچھی طرح جاگزیں اور مستحکم ہوجائے ۔ اور وہ اپنی تنظیم اور طرزعمل میں ایمان کے تقاضے پورے کررہے ہوں ۔ اور ان کی وسعت اور طاقت کے اندر جو کچھ ہو وہ انہوں نے تیار کیا ہو۔ ان کی طاقت میں جس قدر ممکن ہو وہ جدوجہد کررہے ہوں ۔ یہ ہے سنت الٰہیہ اور سنت الٰہیہ کی کسی کے ساتھ خاص دوستی نہیں ہوتی نہ وہ کسی کی رورعایت کرتی ہے ۔ جب اللہ والے ان امور میں سے کسی میں بھی قصور اور کمی رکھتے ہوں تو ان کا فرض ہے کہ وہ اپنی تقصیرات کے نتائج بھی قبول کریں ۔ اس لئے کہ صرف مومن ہونے سے ان کے لئے ضابطہ سنن الٰہیہ معطل نہ کردیا جائے گا۔ نہ ناموس اعلیٰ باطل ہوجائے گا ۔ وہ تو مسلم ہی تب ہوں گے جب وہ اپنی زندگی کے اندر سنن الٰہیہ کو جاری وساری کردیں ۔ اور اپنی فطرت کو ناموس کائنات کے ساتھ ہم آہنگ کردیں ۔
لیکن ان کا نفس مسلمان ہونا بھی بیکار نہیں جاتا۔ نہ وہ بےاثر ہوتا ہے۔ ان کا اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کردینا ‘ اس کے جھنڈے اٹھانا ‘ اس کی اطاعت کا عزم کرلینا اور اس کے نظام حیات کا التزام کرنا وغیرہ ان امور کا یہ اثر ضرور ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ان کی ان تقصیرات اور ان غلطیوں میں سے خیر اور برکت کا پہلو نکال دے ۔ اگرچہ ان غلطیوں کی وجہ سے وہ چوٹیں کھائیں ‘ قربانیاں دیں اور وقتی طور پر شکست کھالیں ۔ وہ ان غلطیوں سے ان کے تجربے میں اضافہ کرے گا ۔ اس طرح ان کا عقیدہ صاف ہوجائے گا ۔ ان کے دل صاف ہوں گے ۔ ان کی صفوں کی تطہیر ہوگی اور اس طرح آخر کار وہ اس نصرت کے حق دار ہوجائیں گے جس کا وعدہ اللہ نے کیا ہے ۔ آخری انجام خیر و برکت پر ہوگا ‘ مسلمان اللہ کی بارگاہ سے ‘ اس کی رحمت و عنایت سے دھتکارے نہیں جاتے بلکہ اللہ تعالیٰ انہیں مزید زاد راہ سے نوازتا ہے۔ اگرچہ اثنائے راہ میں انہیں تکالیف پہنچیں ‘ مشکلات کا سامنا ہو اور رنج والم سے دوچار ہوں۔
اس وضاحت کے ساتھ اور فیصلہ کن انداز میں اللہ تعالیٰ جماعت مسلمہ سے خطاب فرماتے ہیں ۔ ان کے اس سوالیہ انداز میں اور جو واقعات پیش آئے ‘ ان پر ان کی حیرانی اور پریشانی کا جواب دیا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ ان واقعات کا قریبی سبب کیا تھا ؟ نیز یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ اس میں تقدیر الٰہی کے اندر دوررس حکمت کیا پوشیدہ تھی ؟ اور منافقین کو بتایا جاتا ہے کہ موت کا ایک حق راستہ ہے ۔ ڈر سے موت ٹلتی نہیں اور نہ ہی جہاد میں شرکت نہ کرنے سے موت موخر ہوجاتی ہے ۔
” اور تمہارا کیا حال ہے کہ جب تم پر مصیبت آپڑی تو تم کہنے لگے یہ کہاں سے آئی ؟ حالانکہ اس سے دوگنی مصیبت تمہارے ہاتھوں ان پر پڑچکی ہے ۔ اے نبی ان سے کہو ‘ یہ مصیبت تمہاری اپنی لائی ہوئی ہے ۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے ۔ “
جنگ احد میں مسلمانوں پر جو مصائب آئے وہ سب کے سامنے ہیں ۔ ستر آدمی شہید ہوئے اور زخمی اور مزید مصائب ان کے علاوہ تھے ۔ بہت ہی کڑوادن تھا یہ ان کے لئے ۔ ان پر یہ مصائب نہایت ہی شاق تھے اور ناقابل برداشت تھے ۔ ان کا خیال یہ تھا کہ وہ مسلمان ہیں اور اللہ کی راہ میں جہاد کررہے ہیں ‘ اور ان کے مخالفین اللہ کے دشمن ہیں اور مشرک ہیں اور مسلمان جو اس مصیبت میں مبتلا ہوئے ‘ اس سے پہلے وہ ان دشمنان اسلام کو دوگنا نقصان پہنچاچکے تھے ۔ یہ اشارہ ہے بدر کی طرف وہاں انہوں نے کفار کو نقصان پہنچایا تھا جبکہ وہ اللہ کے حکم پر درست کھڑے تھے ۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے احکام پر عمل پیرا تھے ۔ اس سے قبل کہ وہ مال غنیمت کو دیکھ کر بےراہ ہوجائیں ۔ اور اس سے قبل کہ ان کے دلوں میں ایسے خیالات پیدا ہوں جو ایمان کے ساتھ لگا نہیں کھاتے ۔
اللہ انہیں یہ سب باتیں یاد دلاتے ہیں اور ان کے اس حیرانی سے بھرے ہوئے سوال کا جواب یوں دیتے ہیں کہ اس کا براہ راست سبب تو خود ان کے افعال تھے ۔ قُلْ هُوَ مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِكُمْ……………” اے نبی ان سے کہو یہ مصیبت تمہاری اپنی لائی ہوئی ہے ۔ “
یہ خود تمہارے نفوس تھے ‘ جن میں خلل آگیا ‘ تم متفرق ہوگئے اور باہم تنازعہ کرنے لگے اور یہ تم ہی تھے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی شرائط پر عمل نہ کیا ۔ یہ تمہارے ہی نفوس تھے جن میں طمع اور لالچ داخل ہوگئی ‘ اور یہ تم ہی تھے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے صریح احکام کی خلاف ورزی کی اور آپ کے جنگی منصوبے کو سبوتاژ کیا ۔ پس یہ نتائج جن سے تم دوچار ہوئے اور جنہیں تم انہونی قرار دیتے ہو ‘ اور تم کہتے ہو کہ یہ حالات کیسے پیش آگئے ؟ تو جواب یہ ہے کہ یہ تمہاری اپنی وجہ سے ہوا۔ تم پر تو اللہ تعالیٰ کی سنت الٰہیہ کا انطباق ہوا ہے ۔ جب تم نے اپنے آپ کو اس سنت کے سامنے پیش کیا ۔ انسان جب اپنے آپ کو سنت الٰہیہ کے سامنے پیش کرتا ہے تو وہ سنت اس پر پوری طرح منطبق ہوتی ہے ۔ یہ شخص مسلم ہو یا مشرک ہو ‘ اس سلسلے میں کسی رورعایت نہ ہوگی ۔ لہٰذا کسی کے اسلام کا کمال یہ ہونا چاہئے کہ وہ اپنے آپ کو اللہ کی سنت کے مطابق ڈھال لے اور وہ یہ کام پہلے ہی کرلے۔
إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ……………” اللہ ہر چز پر قادر ہے ۔ “ اور اس کی قدرت کا ہی یہ تقاضا ہے کہ وہ اپنی سنت کو نافذ فرماتا ہے ۔ وہ اس کائنات میں اپنے ناموس کی کارفرمائی قائم کراتا ہے ۔ اور تمام کام اس کی قدرت اور ارادے کے مطابق چلتے ہیں ۔ اور یہ بھی اس کی قدرت کا تقاضا ہے کہ اس کی سنت معطل نہ ہو ‘ جس پر اس نے اس کائنات اس زندگی اور زندگی کے ان واقعات کو چلایا ہے ۔
آیت 165 اَوَلَمَّآ اَصَابَتْکُمْ مُّصِیْبَۃٌ قَدْ اَصَبْتُمْ مِّثْلَیْہَالا قُلْتُمْ اَنّٰی ہٰذَا ط یعنی یہ کیوں ہوگیا ؟ اللہ نے پہلے مدد کی تھی ‘ اب کیوں نہیں کی ؟ قُلْ ہُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِکُمْ ط۔غلطی تم نے کی تھی ‘ امیر کے حکم کی خلاف ورزی تم نے کی تھی ‘ جس کا خمیازہ تم کو بھگتنا پڑا۔ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ۔گویا اسی مضمون کو یہاں دہرا کر لایا گیا ہے جو پیچھے آیت 152 میں بیان ہوچکا ہے کہ اللہ تو وعدہ اپنا پورا کرچکا تھا اور تم دشمن پر غالب آ چکے تھے ‘ مگر تمہاری اپنی غلطی کی وجہ سے جنگ کا پانسہ پلٹ گیا۔ اللہ چاہتا تو تمہیں کوئی سزا نہ دیتا ‘ بغیر سزادیے معاف کردیتا ‘ لیکن اللہ کی حکمت کا تقاضا یہ ہوا کہ تمہیں سزا دی جائے۔ اس لیے کہ ابھی تو بڑے بڑے مراحل آنے ہیں۔ اگر اسی طرح تم نظم کو توڑتے رہے اور احکام کی خلاف ورزی کرتے رہے تو پھر تمہاری حیثیت ایک جماعت کی تو نہیں ہوگی ‘ پھر تو ایک انبوہ ہوگا ‘ ہجومِ مؤمنینہو گا ‘ جبکہ اللہ کے دین کو غالب کرنے کے لیے ایک منظم جماعت ‘ لشکر ‘ فوج ‘ حزب اللہ درکار ہے۔
غزوات سچے مسلمان اور منافق کو بےنقاب کرنے کا ذریعہ بھی تھے یہاں جس مصیبت کا بیان ہو رہا ہے یہ احد کی مصیبت ہے جس میں ستر صحابہ شہید ہوئے تھے تو مسلمان کہنے لگے کہ یہ مصیبت کیسے آگئی ؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ تمہاری اپنی طرف سے ہے، حضرت عمر بن خطاب کا بیان ہے کہ بدر کے دن مسلمانوں نے فدیہ لے کر جن کفار کو چھوڑ دیا تھا اس کی سزا میں اگلے سال ان میں سے ستر مسلمان شہید کئے گئے اور صحابہ میں افراتفری پڑگئی، حضور رسالت مآب ﷺ کے سامنے کے چار دانت ٹوٹ گئے آپ کے سر مبارک پر خود تھا وہ بھی ٹوٹا اور چہرہ مبارک لہولہان ہوگیا، اس کا بیان اس آیت مبارکہ میں ہو رہا ہے۔ (ابن ابی حاتم، مسند احمد بن حنبل) حضرت علی سے مروی ہے کہ جبرائیل رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور فرمایا اے محمد ﷺ آپ کی قوم کا کفار کو قیدی بنا کر پکڑ لینا اللہ تعالیٰ کو پسند نہ آیا اب انہیں دو باتوں میں سے ایک کے اختیار کرلینے کا حکم دیجئے یا تو یہ کہ ان قیدیوں کو مار ڈالیں یا یہ کہ ان سے فدیہ وصول کر کے چھوڑ دیں مگر پھر ان مسلمانوں سے اتنی ہی تعداد شہید ہوگیحضور ﷺ نے لوگوں کو جمع کر کے دونوں باتیں پیش کیں تو انہوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ یہ لوگ ہمارے قبائل کے ہیں ہمارے رشتے دار بھائی ہیں ہم کیوں نہ ان سے فدیہ لے کر انہیں چھوڑ دیں اور اس مال سے ہم طاقت قوت حاصل کر کے اپنے دوسرے دشمنوں سے جنگ کریں گے اور پھر جو ہم میں سے اتنے ہی آدمی شہید ہوں گے تو اس میں ہماری کیا برائی ہے، چناچہ جرمانہ وصول کر کے ستر قیدیوں کو چھوڑ دیا اور ٹھیک ستر ہی کی تعداد مسلمانوں کی اس کے بعد غزوہ احد میں شہید ہوئی (ترمذی نسائی) پس ایک مطلب تو یہ ہوا کہ خود تمہاری طرف سے یہ سب ہوا یعنی تم نے بدر کے قیدیوں کو زندہ چھوڑنا اور ان سے جرمانہ جنگ وصول کرنا اس شرط پر منظور کیا تھا کہ تمہارے بھی اتنے ہی آدمی شہید ہوں وہ شہید ہوئے، دوسرا مطلب یہ ہے کہ تم نے رسول اللہ ﷺ کی نافرمانی کی تھی اس باعث تمہیں یہ نقصان پہنچا تیر اندازوں کو رسول کرم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم نے حکم دیا تھا کہ وہ اپنی جگہ سے نہ ہٹیں لیکن وہ ہٹ گئے، اللہ تعالیٰ ہر چیز قادر ہے جو چاہے کرے جو ارادہ ہو حکم دے کوئی نہیں جو اس کا حکم ٹال سکے۔ دونوں جماعتوں کی مڈبھیڑ کے دن جو نقصان تمہیں پہنچا کہ تم دشمنوں کے مقابلے سے بھاگ کھڑے ہوئے تم میں سے بعض لوگ شہید بھی ہوئے اور زخمی بھی ہوئے یہ سب اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر سے تھا اس کی حکمت اس کی مقتضی تھی، اس کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ ثابت قدم غیر متزلزل ایمان والے صابر بندے بھی معلوم ہوجائیں اور منافقین کا حال بھی کھل جائے جیسے عبداللہ بن ابی بن سلول اور اس کے ساتھی جو راستے میں ہی لوٹ گئے ایک مسلمان نے انہیں سمجھایا بھی کہ آؤ، اللہ کی راہ میں جہاد کرو یا کم از کم ان حملہ اوروں کو تو ہٹاؤ لیکن انہوں نے ٹال دیا کہ ہم تو فنون جنگ سے بیخبر ہیں اگر جانتے ہوتے تو ضرور تمہارا ساتھ، یہ بھی مدافعت میں تھا کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ تو رہتے جس سے مسلمانوں کی گنتی زیادہ معلوم ہوتی، یا دعائیں کرتے رہتے یا تیاریاں ہی کرتے، ان کے جواب کا ایک مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ تم سچ مچ دشمنوں سے لڑو گے تو تو ہم بھی تمہارا ساتھ دیتے لیکن ہم جانتے ہیں کہ لڑائی ہونے کی ہی نہیں سیرۃ محمد بن اسحاق میں ہے کہ ایک ہزار آدمی لے کر رسول اللہ ﷺ میدان احد کی جانب بڑھے آدھے راستے میں عبداللہ ابی بن سلول بگڑ بیٹھا اور کہنے لگا اوروں کی مان لی اور مدینہ سے نکل کھڑے ہوئے اور میری نہ مانی اللہ کی قسم ہمیں نہیں معلوم کہ ہم کس فائدے کو نظر انداز رکھ کر اپنی جانیں دیں ؟ لوگوں کیوں جانیں کھو رہے ہو جس قدر نفاق اور شک و شبہ والے لوگ تھے اس کی آواز پر لگ گئے اور تہائی لشکر لے کر یہ پلید واپس لوٹ گیا، حضرت عبداللہ بن عمرو بن حرام بنو سلمہ کے بھائی ہرچند انہیں سمجھاتے رہے کہ اے میری قوم اپنے نبی کو اپنی قوم کو رسوا نہ کروا انہیں دشمنوں کے سامنے چھوڑ کر پیٹھ نہ پھیرو لیکن انہوں نے بہانہ بنادیا کہ ہمیں معلوم ہے کہ لڑائی ہونے ہی کی نہیں جب یہ بیچارے عاجز آگئے تو فرمانے لگے جاؤ تمہیں اللہ غارت کرے اللہ کے دشمنو ! تمہاری کوئی حاجت نہیں اللہ اپنے نبی ﷺ کا مددگار ہے چناچہ حضور ﷺ بھی انہیں چھوڑ کر آگے بڑھ گئے۔ جناب باری ارشاد فرماتا ہے کہ وہ اس دن بہ نسبت ایمان کے کفر سے بہت ہی نزدیک تھے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے احوال مختلف ہیں کبھی وہ کفر سے قریب جاتا ہے اور کبھی ایمان کے نزدیک ہوجاتا ہے، پھر فرمایا یہ اپنے منہ سے وہ باتیں بناتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں، جیسے ان کا یہی کہنا کہ اگر ہم جنگ جانتے تو ضرور تمہارا ساتھ دیتے، حالانکہ انہیں یقینًا معلوم تھا کہ مشرکین دور دراز سے چڑھائی کر کے مسلمانوں کو نیست و نابود کردینے کی ٹھان کر آئے ہیں وہ بڑے جلے کٹے ہوئے ہیں کیونکہ ان کے سردار بدر والے دن میدان میں رہ گئے تھے اور ان کے اشراف قتل کر دئیے گئے تھے تو اب وہ ان ضعیف مسلمانوں پر ٹوٹ پڑے ہیں اور یقینا جنگ عظیم برپا ہونے والی ہے، پس جناب باری فرماتا ہے ان کے دلوں کی چھپی ہوئی باتوں کا مجھے بخوبی علم ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے بھائیوں کے بارے میں کہتے ہیں اگر یہ ہمارا مشورہ مانتے یہیں بیٹھے رہتے اور جنگ میں شرکت نہ کرتے تو ہرگز نہ مارے جاتے، اس کے جواب میں جناب باری جل و علا کا ارشاد ہوتا ہے کہ اگر یہ ٹھیک ہے اور تم اپنی اس بات میں سچے ہو کہ بیٹھ رہنے اور میدان جنگ میں نہ نکلنے سے انسان قتل و موت سے بچ جاتا ہے تو چاہئے کہ تم مروہی نہیں اس لئے کہ تم تو گھروں میں بیٹھے ہو لیکن ظاہر ہے کہ ایک روز تم بھی چل بسو گے چاہے تم مضبوط برجوں میں پناہ گزین ہوجاؤ پس ہم تو تمہیں تب سچا مانیں کہ تم موت کو اپنی جانوں سے ٹال دو ، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں یہ آیت عبداللہ بن ابی بن سلول اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں اتری ہے۔