اس صفحہ میں سورہ Aal-i-Imraan کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ آل عمران کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
وَلَئِن مُّتُّمْ أَوْ قُتِلْتُمْ لَإِلَى ٱللَّهِ تُحْشَرُونَ
فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ ٱللَّهِ لِنتَ لَهُمْ ۖ وَلَوْ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ ٱلْقَلْبِ لَٱنفَضُّوا۟ مِنْ حَوْلِكَ ۖ فَٱعْفُ عَنْهُمْ وَٱسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِى ٱلْأَمْرِ ۖ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى ٱللَّهِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلْمُتَوَكِّلِينَ
إِن يَنصُرْكُمُ ٱللَّهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ ۖ وَإِن يَخْذُلْكُمْ فَمَن ذَا ٱلَّذِى يَنصُرُكُم مِّنۢ بَعْدِهِۦ ۗ وَعَلَى ٱللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ ٱلْمُؤْمِنُونَ
وَمَا كَانَ لِنَبِىٍّ أَن يَغُلَّ ۚ وَمَن يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ ٱلْقِيَٰمَةِ ۚ ثُمَّ تُوَفَّىٰ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ
أَفَمَنِ ٱتَّبَعَ رِضْوَٰنَ ٱللَّهِ كَمَنۢ بَآءَ بِسَخَطٍ مِّنَ ٱللَّهِ وَمَأْوَىٰهُ جَهَنَّمُ ۚ وَبِئْسَ ٱلْمَصِيرُ
هُمْ دَرَجَٰتٌ عِندَ ٱللَّهِ ۗ وَٱللَّهُ بَصِيرٌۢ بِمَا يَعْمَلُونَ
لَقَدْ مَنَّ ٱللَّهُ عَلَى ٱلْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْ أَنفُسِهِمْ يَتْلُوا۟ عَلَيْهِمْ ءَايَٰتِهِۦ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ ٱلْكِتَٰبَ وَٱلْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا۟ مِن قَبْلُ لَفِى ضَلَٰلٍ مُّبِينٍ
أَوَلَمَّآ أَصَٰبَتْكُم مُّصِيبَةٌ قَدْ أَصَبْتُم مِّثْلَيْهَا قُلْتُمْ أَنَّىٰ هَٰذَا ۖ قُلْ هُوَ مِنْ عِندِ أَنفُسِكُمْ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ
آیت 158 وَلَءِنْ مُّتُّمْ اَوْ قُتِلْتُمْ لَاِلَی اللّٰہِ تُحْشَرُوْنَ چاہے تمہیں اپنے بستروں پر موت آئے اور چاہے تم قتل ہو ‘ ہر حال میں تمہیں اللہ کی جناب میں حاضر کردیا جائے گا۔ تمہاری آخری منزل تو وہی ہے ‘ خواہ تم بستر پر پڑے ہوئے دم توڑ دو یا میدان جنگ کے اندر جام شہادت نوش کرلو۔
آیت 159 فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ لِنْتَ لَہُمْ ج۔اس سورة مبارکہ کی یہ آیت بھی بڑی اہم ہے۔ جماعتی زندگی میں جو بھی امیر ہو ‘ صاحب امر ہو ‘ جس کے پاس ذمہ داریاں ہوں ‘ جس کے گرد اس کے ساتھی جمع ہوں ‘ اسے یہ خیال رہنا چاہیے کہ آخر وہ بھی انسان ہیں ‘ ان کے بھی کوئی جذبات اور احساسات ہیں ‘ ان کی عزت نفس بھی ہے ‘ لہٰذا ان کے ساتھ نرمی کی جانی چاہیے ‘ سختی نہیں۔ وہ کوئی ملازم نہیں ہیں ‘ بلکہ رضاکار volunteers ہیں۔ آنحضور ﷺ کے ساتھ جو لوگ تھے وہ کوئی تنخواہ یافتہ سپاہی تو نہیں تھے۔ یہ لوگ ایمان کی بنیاد پر جمع ہوئے تھے۔ اب بھی کوئی دینی جماعت وجود میں آتی ہے تو جو لوگ اس میں کام کر رہے ہیں وہ دینی جذبے کے تحت جڑے ہوئے ہیں ‘ لہٰذا ان کے امراء کو ان کے ساتھ نرم رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ یہ اللہ کی رحمت کا مظہر ہے کہ آپ ﷺ ان کے حق میں بہت نرم ہیں۔وَلَوْ کُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لاَنْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِکَ r کوئی کارواں سے ٹوٹا ‘ کوئی بدگماں حرم سے کہ امیر کارواں میں نہیں خوئے دل نوازی !فَاعْفُ عَنْہُمْ چونکہ بعض صحابہ رض سے اتنی بڑی غلطی ہوئی تھی کہ اس کے نتیجے میں مسلمانوں کو بہت بڑا چرکا لگ گیا تھا ‘ لہٰذا آنحضور ﷺ سے کہا جا رہا ہے کہ اپنے ان ساتھیوں کے لیے اپنے دل میں میل مت آنے دیجیے۔ ان کی غلطی اور کوتاہی کو اللہ نے معاف کردیا ہے تو آپ ﷺ ‘ بھی انہیں معاف کردیں۔ عام حالات میں بھی آپ انہیں معاف کرتے رہا کریں۔وَاسْتَغْفِرْ لَہُمْ ان سے جو بھی خطا ہوجائے اس پر ان کے لیے استغفار کیا کریں۔ وَشَاوِرْہُمْ فِی الْاَمْرِ ج ایسا طرز عمل اختیار نہ کریں کہ آئندہ ان کی کوئی بات نہیں سننی ‘ بلکہ ان کو بھی مشورے میں شامل رکھیے۔ اس سے بھی باہمی اعتماد پیدا ہوتا ہے کہ ہمارا امیر ہم سے مشورہ کرتا ہے ‘ ہماری بات کو بھی اہمیت دیتا ہے۔ یہ بھی درحقیقت اجتماعی زندگی کے لیے بہت ہی ضروری بات ہے۔ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ ط۔مشورے کے بعد جب آپ ﷺ ‘ کا دل کسی رائے پر مطمئن ہوجائے اور آپ ایک فیصلہ کرلیں تو اب کسی شخص کی بات کی پرواہ نہ کریں ‘ اب سارا توکل اللہ کی ذات پر ہو۔ غزوۂ احد سے پہلے رسول اللہ ﷺ نے مشورہ کیا تھا ‘ اس وقت کچھ لوگوں کی رائے وہی تھی جو آنحضور ﷺ کی رائے تھی ‘ یعنی مدینہ میں محصور ہو کر جنگ کی جائے۔ لیکن کچھ حضرات نے کہا ہم تو کھلے میدان میں جنگ کرنا چاہتے ہیں ‘ ہمیں تو شہادت کی موت چاہیے تو حضور ﷺ نے ان کی رعایت کی اور باہر نکلنے کا فیصلہ فرما دیا۔ اس کے فوراً بعد جب آپ ﷺ حضرت عائشہ رض کے حجرے سے برآمد ہوئے تو خلاف معمول آپ ﷺ نے زرہ پہنی ہوئی تھی اور ہتھیار لگائے ہوئے تھے۔ اس سے لوگوں کو اندازہ ہوگیا کہ کچھ سخت معاملہ پیش آنے والا ہے۔ چناچہ ان لوگوں نے کہا کہ حضور ﷺ ہم اپنی رائے واپس لیتے ہیں ‘ جو آپ ﷺ کی رائے ہے آپ اس کے مطابق فیصلہ کیجیے۔ لیکن آپ ﷺ نے فرمایا کہ نہیں ‘ یہ فیصلہ برقرار رہے گا۔ نبی کو یہ زیبا نہیں ہے کہ ہتھیار باندھنے کے بعد جنگ کیے بغیر انہیں اتار دے۔ یہ آیت گویا نبی اکرم ﷺ کے طرز عمل کی توثیق میں نازل ہوئی ہے کہ جب آپ ایک فیصلہ کرلیں تو اللہ پر توکل کیجیے۔
آیت 161 وَمَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّ ط غَلَّ یَغُلُّ غُلُوْلًا کے معنی ہیں خیانت کرنا اور مال غنیمت میں سے کسی چیز کا چوری کرلینا ‘ جبکہ غَلَّ یَغِلُّ غلاًّ کے معنی دل میں کینہ ہونا کے ہیں۔ روایات میں آتا ہے کہ آنحضور ﷺ پر منافقوں نے الزام لگایا تھا کہ آپ ﷺ نے مال غنیمت میں کوئی خیانت کی ہے معاذ اللہ ‘ ثم معاذ اللہ ! یہ اس الزام کا جواب دیا جا رہا ہے کہ کسی نبی ﷺ ‘ کی شان نہیں ہے کہ وہ خیانت کا ارتکاب کرے۔ البتہ مولانا اصلاحی صاحب نے یہ رائے ظاہر کی ہے کہ اس لفظ کو صرف مالی خیانت کے ساتھ مخصوص کرنے کی کوئی دلیل نہیں۔ یہ دراصل منافقین کے اس الزام کی تردید ہے جو انہوں نے احد کی شکست کے بعد رسول اللہ ﷺ پر لگایا تھا کہ ہم نے تو اس شخص پر اعتماد کیا ‘ اس کے ہاتھ پر بیعت کی ‘ اپنے نیک و بد کا اس کو مالک بنایا ‘ لیکن یہ اس اعتماد سے بالکل غلط فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ہمارے جان و مال کو اپنے ذاتی حوصلوں اور امنگوں کے لیے تباہ کر رہے ہیں۔ یہ عرب پر حکومت کرنا چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لیے انہوں نے ہماری جانوں کو تختۂ مشق بنایا ہے۔ یہ صریحاً قوم کی بدخواہی اور اس کے ساتھ غداری و بےوفائی ہے۔ قرآن نے ان کے اس الزام کی تردید فرمائی ہے کہ تمہارا یہ الزام بالکل جھوٹ ہے ‘ کوئی نبی اپنی امت کے ساتھ کبھی بےوفائی اور بدعہدی نہیں کرتا۔ نبی جو قدم بھی اٹھاتا ہے رضائے الٰہی کی طلب میں اور اس کے احکام کے تحت اٹھاتا ہے۔وَمَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ ج اللہ تعالیٰ کے قانون جزا و سزا سے ایک نبی سے بڑھ کر کون باخبر ہوگا ؟ ثُمَّ تُوَفّٰی کُلُّ نَفْسٍ مَّا کَسَبَتْ وَہُمْ لاَ یُظْلَمُوْنَ نوٹ کیجیے لفظ تُوَفّٰییہاں بھی پور اپورا دیے جانے کے معنی میں آیا ہے۔
آیت 163 ہُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ اللّٰہِ ط جیسے نیکوکاروں کے درجے ہیں اسی طرح وہاں بدکاروں کے بھی درجے ہیں۔ سب بدکار برابر نہیں اور سب نیکوکار برابر نہیں۔وَاللّٰہُ بَصِیْرٌم بِمَا یَعْمَلُوْنَ اب آگے جو آیت آرہی ہے ‘ یہ مضمون سورة البقرۃ میں دو مرتبہ آچکا ہے۔ پہلی مرتبہ سورة البقرۃ کے پندرہویں رکوع میں حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی دعا میں یہ مضمون بایں الفاظ آیا تھا : رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْہِمْ رَسُوْلاً مِّنْہُمْ یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِکَ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُزَکِّیْہِمْ ط آیت 129 پھر اٹھارہویں رکوع کے آخر میں یہ الفاظ آئے تھے : کَمَآ اَرْسَلْنَا فِیْکُمْ رَسُوْلاً مِّنْکُمْ یَتْلُوْا عَلَیْکُمْ اٰیٰتِنَا وَیُزَکِّیْکُمْ وَیُعَلِّمُکُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُعَلِّمُکُمْ مَّا لَمْ تَکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ اب یہ مضمون تیسری مرتبہ یہاں آ رہا ہے :
آیت 164 لَقَدْ مَنَّ اللّٰہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْہِمْ رَسُوْلاً مِّنْ اَنْفُسِہِمْ یعنی ان کی اپنی قوم میں سے۔یَتْلُوْ عَلَیْہِمْ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیْہِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ ج یہ انقلاب نبوی ﷺ کے اساسی منہاج کے چار عناصر ہیں ‘ جنہیں قرآن اسی ترتیب سے بیان کرتا ہے : تلاوت آیات ‘ تزکیہ اور تعلیم کتاب و حکمت۔ حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی دعا میں جو ترتیب تھی ‘ اللہ نے اس کو تبدیل کیا ہے۔ اس پر سورة البقرۃ آیت 151 کے ذیل میں گفتگو ہوچکی ہے۔
آیت 165 اَوَلَمَّآ اَصَابَتْکُمْ مُّصِیْبَۃٌ قَدْ اَصَبْتُمْ مِّثْلَیْہَالا قُلْتُمْ اَنّٰی ہٰذَا ط یعنی یہ کیوں ہوگیا ؟ اللہ نے پہلے مدد کی تھی ‘ اب کیوں نہیں کی ؟ قُلْ ہُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِکُمْ ط۔غلطی تم نے کی تھی ‘ امیر کے حکم کی خلاف ورزی تم نے کی تھی ‘ جس کا خمیازہ تم کو بھگتنا پڑا۔ اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ۔گویا اسی مضمون کو یہاں دہرا کر لایا گیا ہے جو پیچھے آیت 152 میں بیان ہوچکا ہے کہ اللہ تو وعدہ اپنا پورا کرچکا تھا اور تم دشمن پر غالب آ چکے تھے ‘ مگر تمہاری اپنی غلطی کی وجہ سے جنگ کا پانسہ پلٹ گیا۔ اللہ چاہتا تو تمہیں کوئی سزا نہ دیتا ‘ بغیر سزادیے معاف کردیتا ‘ لیکن اللہ کی حکمت کا تقاضا یہ ہوا کہ تمہیں سزا دی جائے۔ اس لیے کہ ابھی تو بڑے بڑے مراحل آنے ہیں۔ اگر اسی طرح تم نظم کو توڑتے رہے اور احکام کی خلاف ورزی کرتے رہے تو پھر تمہاری حیثیت ایک جماعت کی تو نہیں ہوگی ‘ پھر تو ایک انبوہ ہوگا ‘ ہجومِ مؤمنینہو گا ‘ جبکہ اللہ کے دین کو غالب کرنے کے لیے ایک منظم جماعت ‘ لشکر ‘ فوج ‘ حزب اللہ درکار ہے۔