یہ ہے ان لوگوں کا حتمی انجام ‘ ان کے لئے دردناک عذاب ہوگا ‘ یہ عذاب دنیا وآخرت دونوں میں ہوگا ۔ یہاں بھی وہ اس کی توقع کریں اور آخرت میں تو یقینی ہے ہی………دنیا اور آخرت میں ان کے اعمال باطل ہوں گے ‘ بےاثر ہوں گے ۔ یہ عجیب تصویر کشی ہے ‘ حبوط کا لغوی معنی ہے ۔ کسی مویشی کا زہریلی گھاس چر کر پھول ۔ بظاہر تو اس صورت میں ایک مویشی خوب موٹاتازہ ہوجاتا ہے ‘ لیکن اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ آخر کار برباد اور ہلاک ہوجاتا ہے ‘ یہاں بظاہر تو ان کے بڑے بڑے کارنامے ہیں لیکن قیامت میں ان کا کوئی فائدہ نہ ہوگا اور نہ ان کا کوئی حامی و مددگار ہوگا۔
قرآن کریم نے آیات الٰہی کا انکار کے ساتھ ساتھ انبیاء (علیہم السلام) کے قتل کا ذکر بھی کیا ۔ جو ناحق قتل کئے گئے ‘ اس لئے کہ قتل انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ کبھی حق یکجا نہیں ہوسکتا۔ اور ساتھ ہی یہ ذکر کیا کہ وہ لوگ ان افراد کو بھی قتل کرتے تھے جو عدل و انصاف کا حکم دیتے تھے ۔ یعنی وہ لوگ انہیں اس لئے قتل کرتے تھے کہ وہ نظام الٰہی کے قائل اور داعی تھے جو عادلانہ نظام تھا۔ اور اس کے سوا کسی دوسرے نظام کے ذریعہ عدل کا قیام ممکن ہی نہ تھا۔ ان تمام صفات کے ذکر سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ یہ توبیخ اور تخویف یہود کے لئے تھی ۔ کیونکہ یہ ان کی تاریخی صفات ہیں اور ان صفات کے ساتھ وہ مشہور ہیں ۔ جہاں بھی ان کا ذکر ہو ذہن اس کی طرف جاتا ہے ۔ لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ اس میں نصاریٰ سے خطاب ہو ‘ کیونکہ نزول قرآن کے زمانے تک انہوں نے بھی اپنے مذہب کے مخالفین کو ہزاروں کی تعداد میں قتل کیا تھا۔ کیونکہ جو شخص بھی رومی سلطنت کے سرکاری مذہب کے خلاف ہوتا تھا وہ اسے قتل کردیتے تھے ۔ ان میں وہ مسیحی بھی شامل تھے جو توحید کے قائل تھے ۔ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بشر سمجھتے تھے ۔ اور یہ لوگ ایسے تھے جو نظام حکومت میں عدل و انصاف کا پرچار بھی کرتے تھے ۔ یہود ونصاریٰ کے علاوہ یہ حکم ہر زمان ومکان میں تمام ان لوگوں پر صادق آتا ہے جو اس قسم کی متشددانہ حرکات کا ارتکاب کرتے ہیں اور ہر دور میں کبھی بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں رہی ہے۔
یہاں یہ بات سمجھنے کے قابل ہے کہ قرآن کے الفاظ ” وہ لوگ جو آیات کا انکار کرتے ہیں ۔ “ سے مراد کیا ہے ۔ ان سے مراد صرف یہ نہیں ہے کہ کوئی آیات الٰہی کا انکار کرکے کلمہ کفر ادا کردے ۔ اس لفظ کے مفہوم میں یہ شامل ہے کہ کوئی وحدت الٰہ یا عقیدہ توحید کا قائل نہ ہو ‘ پھر وہ صرف اللہ کی بندگی کا قائل نہ ہو ۔ اور اس میں یہ بات از خود آجاتی ہے کہ کوئی مصدر اور منبع کا قائل نہ ہو جہاں سے انسانی زندگی کے لئے قانون سازی کی جاتی ہے اور حسن وقبح کی اقدار کا تعین کرنا ہے یعنی کتاب اللہ کا ‘ اس لئے جو شخص ان امور میں بھی اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک کرے گا وہ بھی مشرک تصور ہوگا اور الوہیت کا منکر شمار ہوگا۔ اگرچہ وہ فقط زبان سے اسے ایک ہزار بار جھپتا رہے۔ اس مفہوم کا اظہار آنے والی آیات میں ملے گا۔
آیت 21 اِنَّ الَّذِیْنَ یَکْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَیَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ حَقٍّ وَّیَقْتُلُوْنَ الَّذِیْنَ یَاْمُرُوْنَ بالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِلا اس لیے کہ انصاف کی بات تو بالعموم کسی کو پسند نہیں ہوتی۔ اَلْحَقُّ مُرٌّ حق بات کڑوی ہوتی ہے۔ بہت سے مواقع پر کسی حق گو انسان کو حق گوئی کی پاداش میں اپنی جان سے بھی ہاتھ دھونے پڑتے ہیں۔ یہاں پھر عدل و قسط کا معاملہ آیا ہے۔ اللہ خود قَآءِمًا بالْقِسْطِہے اور اللہ کے محبوب بندے وہی ہیں جو عدل کا حکم دیں ‘ انصاف کا ڈنکا بجانے کی کوشش کریں۔ تو فرمایا کہ جو ایسے لوگوں کو قتل کریں۔۔فَبَشِّرْہُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ ۔لفظ بشارتیہاں طنز کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔
انبیاء کے قاتل بنو اسرائیل یہاں ان اہل کتاب کی مذمت بیان ہو رہی ہے جو گناہ اور حرام کام کرتے رہتے تھے اور اللہ کی پہلی اور بعد کی باتوں کو جو اس نے اپنے رسولوں کے ذریعہ پہنچائیں جھٹلاتے رہتے تھے، اتنا ہی نہیں بلکہ پیغمبروں کو مار ڈالتے بلکہ اس قدر سرکش تھے کہ جو لوگ انہیں عدل و انصاف کی بات کہیں انہیں بےدریغ تہ تیغ کردیا کرتے تھے، حدیث میں ہے حق کو نہ ماننا اور حق والوں کو ذلیل جاننا یہی کبر و غرور ہے کہ مسند ابو حاتم میں ہے حضرت ابو عبیدہ بن جراح ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ سب سے زیادہ سخت عذاب کسے ہوگا ؟ آپ نے فرمایا جو کسی نبی کو مار ڈالے یا کسی ایسے شخص کو جو بھلائی کا بتانے والا اور برائی سے بچانے والا ہو تکبر و غرور ہے، پھر حضور ﷺ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی اور فرمایا اے ابو عبیدہ بنو اسرائیل نے تینتالیس نبیوں کو دن کے اول حصہ میں ایک ہی ساعت میں قتل کیا پھر ایک سو ستر بنو اسرائیل کے وہ ایماندار جو انہیں روکنے کے لئے کھڑے ہوئے تھے انہیں بھلائی کا حکم دے رہے تھے اور برائی سے روک رہے تھے ان سب کو بھی اسی دن کے آخری حصہ میں مار ڈالا اس آیت میں اللہ تعالیٰ انہی کا ذکر کر رہا ہے، ابن جریر میں ہے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں۔ بنو اسرائیل نے تین سو نبیوں کو دن کے شروع میں قتل کیا اور شام کو سبزی پالک بیچنے بیٹھ گئے، پس ان لوگوں کی اس سرکشی تکبر اور خود پسندی نے ذلیل کردیا اور آخرت میں بھی رسوا کن بدترین عذاب ان کے لئے تیار ہیں، اسی لئے فرمایا کہ انہیں دردناک ذلت والے عذاب کی خبر پہنچا دو ، ان کے اعمال دنیا میں بھی غارت اور آخرت میں بھی برباد اور ان کا کوئی مددگار اور سفارشی بھی نہ ہوگا۔