سورة آل عمران (3): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Aal-i-Imraan کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ آل عمران کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورة آل عمران کے بارے میں معلومات

Surah Aal-i-Imraan
سُورَةُ آلِ عِمۡرَانَ
صفحہ 52 (آیات 16 سے 22 تک)

ٱلَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَآ إِنَّنَآ ءَامَنَّا فَٱغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَقِنَا عَذَابَ ٱلنَّارِ ٱلصَّٰبِرِينَ وَٱلصَّٰدِقِينَ وَٱلْقَٰنِتِينَ وَٱلْمُنفِقِينَ وَٱلْمُسْتَغْفِرِينَ بِٱلْأَسْحَارِ شَهِدَ ٱللَّهُ أَنَّهُۥ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ وَٱلْمَلَٰٓئِكَةُ وَأُو۟لُوا۟ ٱلْعِلْمِ قَآئِمًۢا بِٱلْقِسْطِ ۚ لَآ إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ إِنَّ ٱلدِّينَ عِندَ ٱللَّهِ ٱلْإِسْلَٰمُ ۗ وَمَا ٱخْتَلَفَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ إِلَّا مِنۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ ٱلْعِلْمُ بَغْيًۢا بَيْنَهُمْ ۗ وَمَن يَكْفُرْ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ فَإِنَّ ٱللَّهَ سَرِيعُ ٱلْحِسَابِ فَإِنْ حَآجُّوكَ فَقُلْ أَسْلَمْتُ وَجْهِىَ لِلَّهِ وَمَنِ ٱتَّبَعَنِ ۗ وَقُل لِّلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ وَٱلْأُمِّيِّۦنَ ءَأَسْلَمْتُمْ ۚ فَإِنْ أَسْلَمُوا۟ فَقَدِ ٱهْتَدَوا۟ ۖ وَّإِن تَوَلَّوْا۟ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ ٱلْبَلَٰغُ ۗ وَٱللَّهُ بَصِيرٌۢ بِٱلْعِبَادِ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِ وَيَقْتُلُونَ ٱلنَّبِيِّۦنَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَيَقْتُلُونَ ٱلَّذِينَ يَأْمُرُونَ بِٱلْقِسْطِ مِنَ ٱلنَّاسِ فَبَشِّرْهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٍ أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ حَبِطَتْ أَعْمَٰلُهُمْ فِى ٱلدُّنْيَا وَٱلْءَاخِرَةِ وَمَا لَهُم مِّن نَّٰصِرِينَ
52

سورة آل عمران کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورة آل عمران کی تفسیر (فی ظلال القرآن: سید ابراہیم قطب)

اردو ترجمہ

یہ وہ لوگ ہیں، جو کہتے ہیں کہ "مالک! ہم ایمان لائے، ہماری خطاؤں سے در گزر فرما اور ہمیں آتش دوزخ سے بچا لے"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Allatheena yaqooloona rabbana innana amanna faighfir lana thunoobana waqina AAathaba alnnari

یہاں اب اللہ تعالیٰ ‘ اپنے خاص بندوں کی صفات گنواتے ہیں ‘ یہ کہ اب آپ کے ساتھ ان کا تعلق کیسا ہوتا ہے۔ اور وہ کیا اعمال ہوتے ہیں جن کی بناء بندے جنتوں کے انعامات کے مستحق ہوجاتے ہیں ۔

ان کی دعاؤں میں ان کے منہ سے جو بات نکلتی ہے وہ ان کے تقویٰ اور اللہ خوفی کا نتیجہ ہوتی ہے وہ اللہ سے ڈر کر پہلے ایمان کا اعلان کرتے ہیں ۔ پھر ایمان کو عنداللہ اپنا شفیع بناتے ہیں اور مغفرت طلب کرتے ہیں اور اپنے آپ کو آگ سے بچاتے ہیں ۔

ان کی تمام صفات میں سے ‘ انسانی زندگی کی اقدار میں سے ایک اعلیٰ قدر کا ذکر ہے ۔ خصوصاً جماعت مسلمہ کے لئے ان اقدار کی بہت اہمیت ہے ۔ وہ صبر کرنے والے ہیں ‘ صبر میں انسان ہر رنج والم کو برداشت کرتا ہے ۔ اور دعوت اسلامی کی راہ میں جو بھی مشکلادرپیش ہوں ان پر ثابت قدم رہتا ہے۔ دعوت اسلامی کی راہ میں اپنے فرائض سر انجام دیتا ہے ۔ وہ اللہ کے سامنے تسلیم ورضا کا پیکر بن جاتا ہے اور حالات اس پر مصائب کے جو پہاڑ بھی توڑیں وہ اللہ کے حکم پر راضی برضا ہوتا ہے۔ وہ سچے ہیں ۔ اس لئے کہ سچائی اس کائنات کی بنیاد ہے ۔ سچائی کا دامن تھام کر وہ عام لوگوں سے اونچے ہوجاتے ہیں ۔ جھوٹ کا خلاصہ یہ ہوتا ہے کہ انسان کسی فائدے کے لئے یا کسی ضرر سے بچنے کے لئے سچائی چھوڑ دیتا ہے۔

اور فرمان بردار ہیں ‘ یوں حق الوہیت ادا کرتے ہیں اور اپنی جانب سے واجبات بندگی پر کاربند ہوتے ہیں ۔ اور صرف اللہ کی بندگی کرتے ہیں جس کے سوا اور کسی کی بندگی ان کے تصور حیات میں نہیں ہے ۔

انفاق فی سبیل اللہ کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ انسان دولت کے ہاتھوں ذلیل نہیں ہوتا ۔ اور اسے بخل سے نجات ملتی ہے ۔ اور انفاق کرکے ایک شخص عملاً انسانی اخوت کو ذاتی خواہش اور لذت پر ترجیح دیتا ہے اور وہ ایسے اجتماعی تحفظ کی فضا پیدا کرتا ہے جو سب انسانوں کے لئے خوشگوار ہو۔

اور رات کے آخری پہر میں استغفار تو ایک ایسا مقام ہے ‘ جہاں گھنی اور خوشگوار چھاؤں ‘ جس کی فضا تروتازہ ہے اور لفظ ” اسْحَارِ “ تو اس خاص وقت یعنی طلوع فجر سے قدرے پہلے ایسی خوشگوار اور پرسکون تصویر کشی کرتا ہے جو اپنی جگہ لاجواب ہے۔ یہ ایک ایسا وقت ہوتا ہے جب کائنات نہایت ہی پرسکون ہوتی ‘ فضا صاف ہوتی ہے ‘ اس وقت نفس انسانی کے روحانی تصورات جاگ اٹھتے ہیں ۔ اچھے خیالات کا ذہن وقلب پر القاء ہوتا ہے ۔ اس پرکیف فضا میں جب انسان کی جانب سے بارگاہ الٰہی میں استغفار ہورہا ہو ‘ تو پھر اس کا پرتو بھی نفس انسانی پر نہایت ہی روحانی اثرات ڈالتا ہے ۔ اس وقت انسان کی روح اور اس کائنات کی روح رب کائنات اور خالق انسان کے سامنے ہم سبق اور ہم سمت ہوجاتی ہیں۔

ایسے صابروں ‘ ایسے صداقت شعاروں ‘ ایسے ہی اطاعت گزاروں ‘ ایسے ہی دولت نثاروں اور ایسے بخشش کے طلبگاروں کا یہ حق ہوتا ہے کہ اللہ کی رضامندی ان کا استقبال کرے اس لئے کہ وہ اس کے مستحق ہوتے ہیں ۔ اس لئے کہ اللہ کی رحمت کی چھاؤں گھنی ہوتی ہے ۔ اور اس کا پھل تروتازہ ہوتا ہے۔ اور وہ ہر لذت اور ہر شہوت سے اپنے اندر زیادہ مٹھاس رکھتی ہے ۔ اگر ذوق سلیم ہو۔

یوں قرآن کریم ‘ اس زمین کے اوپر سے اسے مخلوق ارضی سمجھتے ہوئے ‘ نفس انسانی کی راہنمائی شروع کرتا ہے۔ آہستہ آہستہ اسے بلند کرتا ہے اور اسے ایک بلند افق پر ملاء اعلیٰ کی روشنیوں تک لے جاتا ہے ‘ اور یہ عمل بڑے آرام سے ‘ بڑی تسلی سے ‘ بڑی نرمی اور شفقت سے وقوع پذیر ہوتا ہے ۔ اس روحانی ترقی میں انسان کی فطرت اور اس کے فطری میلانات کو پوری طرح مدنظر رکھا جاتا ہے۔ اس میں اس کی جسمانی کمزوریوں اور ناتوانیوں کا بھی خیال رکھا جاتا ہے ۔ اس محبت اور اس کے شوق کو بھی جوش دلایا جاتا ہے۔ اور اس میں کسی فطری جذبے کی بیخٰ کنی نہیں کی جاتی اور نہ ہی اسے کسی کام پر مجبور کیا جاتا ہے ۔ اس مہم کے دوران عام زندگی رواں دواں رہتی ہے۔ اس میں تعطل نہیں پیدا کیا جاتا۔ یہ ہے فطرت اللہ ‘ یہ ہے اللہ کا نظام حیات ‘ اس فطرت کے لئے اور اللہ اپنے بندوں کے حال سے اچھی طرح خبردار ہے وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ !

٭………٭………٭………٭………٭

یہاں تک تو اس سورت کا ہدف یہ تھا کہ عقیدہ توحید کو نکھار کر رکھ دیاجائے۔ یوں کہ اللہ ایک ہے ۔ وہی اس کائنات کو تھامے ہوئے ہے ۔ دنیا میں آنے والے رسول بھی ایک ہیں اور ان کی رسالت بھی ایک ہی اکائی ہے ۔ اور یہ بتایا گیا تھا کہ آیات الٰہی اور افکار الٰہیہ کے بارے میں اصل اہل ایمان کا رویہ کیا ہوتا ہے اور جن لوگوں کے دلوں میں ٹیڑھ ہوتی ہے وہ ان افکار وآیات کتاب کے ساتھ کیا رویہ اختیار کرتے ہیں ۔ انحراف کرنیوالوں کو اپنے انجام بد سے ڈرایا گیا اور اس سلسلے میں ان کی توجہ ماضی اور حال کے منحرفین کے انجام بد کو بطور مثال پیش کیا گیا ۔ اس کے بعد یہ بتایا گیا کہ عقیدہ توحید اور اسلامی نظریہ حیات ایک عام فطری نظام ہے اور اس میں فطری میلانات کا بھی خیال رکھا جاتا ہے ۔ لیکن متقین کی نظر ان سے بلند ہوتی ہے اور وہ ہر وقت اپنے رب کے سامنے گڑگڑاتے ہیں ۔

لیکن اب یہاں سے لیکر اس سبق کے اختتام تک ایک دوسری حقیقت سے ہمیں روشناس کرایا جاتا ہے ۔ اور یہ دوسری حقیقت عقیدہ توحید اور اسلامی نظریہ ٔ حیات کا ایک لازمی نتیجہ ہے ۔ اگر پہلی حقیقت ہے تو دوسری کو بھی موجود ہونا چاہئے ۔ وہ یہ کہ حقیقت توحید کا مصداق اور مظہر ہماری زندگیوں میں ہونا چاہئے ۔ یہ تمام باتیں اس سبق کے آنے والے حصے میں بیان کی گئی ہیں ۔

پہلے حصہ اول کے خلاصے کو پھر ذہن نشین اور مستحضر کیا جاتا ہے تاکہ اس کے نتائج دوسری حقیقت کے ذریعہ مرتب ہوں ‘ اس حصے کا آغاز اس شہادت سے کیا جاتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے ۔ اس عقیدہ کی شہادت فرشتے بھی دیتے آئے ہیں اور اصحاب العلم بھی اس کی تصدیق کرتے آئے ہیں ۔ الٰہ ہونے کے ساتھ ساتھ اللہ قوام بھی ہے یعنی اس کائنات کا نگہبان ‘ اور اس کی قیومیت کا یہ مفہوم ہے کہ وہ اس کائنات اور اس کے اندر انسان دونوں کو عدل کے مطابق چلاتا ہے۔ اور جب یہ بات مسلم ہے کہ اللہ ہی الٰہ اور قیوم ہے تو پھر دوسری بات خود بخود مستلزم ہوجاتی ہے کہ یہ اللہ کی بندگی کا اقرار کریں ۔ یہ بندگی صرف اس کی ہو ‘ اس کا حکم تمام انسانوں کی زندگی میں نازل ہو۔ اس کے مطابق فیصلے ہوں ‘ تمام بندے اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کریں۔ اس کے سامنے جھکیں ‘ اس ہستی کی اطاعت کریں جو قیوم ہے ۔ اس کی نازل کردہ کتاب اور اس کے رسول کی سنت پر عمل پیر اہوں۔

اور دوسری حقیقت کا اظہار یوں کیا گیا إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الإسْلام …………… ” اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے ۔ “ اس لئے اللہ اسلام کے سوا کوئی دین قبول نہیں فرماتے ‘ اور اسلام کیا ہے۔ وہ سر تسلیم خم کرنا ‘ اطاعت کرنا ‘ اور ہر معاملے میں اتباع کرنا۔ اس لئے اللہ کے ہاں مقبول دین صرف عقلی تصور نہیں ہے۔ نہ صرف تصدیق بالقلب دین ‘ دین یہ ہے کہ اس تصور حیات اور اس تصدیق ویقین کے تقاضے بھی پورے کئے جائیں اور تقاضے یہ ہیں کہ لوگ اپنے تمام امور میں شریعت کے مطابق فیصلے کریں ۔ اور پھر شریعت جو فیصلہ کرے اسے بطیب خاطر قبول کریں اور اس نظام میں رسول خدا کی اطاعت کریں ۔

یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم بڑے تعجب خیز انداز میں اہل کتاب کے بارے میں اس حقیقت کا اظہار کرتا ہے کہ وہ دعویٰ تو یہ کرتے ہیں کہ وہ اللہ کے دین پر ہیں لیکن ان کارویہ یہ ہے کہ جب انہیں اللہ کی کتاب کی طرف بلایا جاتا ہے کہ آؤ اس کے مطابق فیصلہ کریں تو ان میں سے ایک گروہ رو گردانی کرتا ہے جس سے ان کے دعوائے دین کی قلعی کھل جاتی ہے اور وہ باطل ہوجاتا ہے اللہ کے نزدیک مقبول دین صرف اسلام ہے ‘ اور اسلام بغیر سر تسلیم خم کرنے کے نہیں ہے ۔ اسلام یہ ہے کہ رسول خدا کی اطاعت ہو اور امور زندگی میں فیصلے کتاب اللہ کے مطابق ہوں۔

یہاں کتاب اللہ سے اعراض اور روگردانی کی علت کا ذکر بھی کردیا گیا ہے ‘ اور اس کی ایسی حسی اور واقعی تعبیر کی گئی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ سرے سے دین پر ایمان ہی نہیں رکھتے ۔ اس لئے کہ وہ یوم الحساب کے عدل و انصاف کے تصور پر پوری طرح یقین نہیں رکھتے ۔ وہ اس لئے کہ ان کا خیال تھا ” کہ انہیں دوزخ کی آگ میں صرف چند دن رہنا ہوگا۔ اس لئے کہ وہ اہل کتاب ہیں اور ان کے دین کے معاملے میں انہیں ان عقیدوں نے فریب میں ڈال دیا تھا جو انہوں نے جھوٹے طور گھڑے ہوئے تھے ۔ “ اور یہ ان کے لئے عجیب دھوکہ تھا ‘ غرض اس وقت وہ نہ اہل کتاب ہیں اور نہ اہل دین ہیں ۔ نہ مومن ہیں ‘ کیوں ؟ اس لئے کہ جب انہیں بلایا جاتا ہے کہ آؤ تمہاری کتاب کے مطابق کسی قضئیے کا فیصلہ کریں تو وہ منہ موڑ کر بھاگتے ہیں۔

غرض قرآن کریم اس قطعیت اور جزم کے ساتھ دین کا مفہوم اور دین کی حقیقت یہاں بیان کرتا ہے ۔ اس لئے تمام لوگوں کی جانب سے اب اللہ کے ہاں مقبول دین صرف دین اسلام ہے جو واضح صاف اور قطعی ہے ۔ یعنی دین اسلام اور اسلام کا معنی ہے کتاب اللہ کے مطابق عدالتوں میں فیصلہ کرنا اور اس کے بعد اسے تسلیم کرنا اور اس پر عمل کرنا ۔ اگر کوئی ایسا نہیں کرتا تو وہ دین دار نہیں ہے ۔ وہ مسلم نہیں ہے ۔ اگرچہ وہ دعوائے دین کرے اور دعوائے اسلام کرے ۔ اللہ تعالیٰ دین کی جو حد بیان فرماتے ہیں ‘ جو تعریف کرتے ہیں ‘ جس کی تائید کرتے ہیں وہ وہی ہے جو اوپر ہم نے بیان کیا اور اللہ دین کی تعریف بیان کرنے میں کسی انسان کی خواہش کے تابع نہیں ‘ وہ جس طرح جانتا ہے۔

نہ صرف یہ بلکہ جو شخص کفار کو دوست بناتا ہے ۔ (اور سیاق کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار وہ ہیں جو عدالتوں کے اندر کتاب اللہ کے مطابق فیصلے نہیں کرتے ۔ ) تو اس کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی تعلق نہ ہوگا۔ “ کسی معاملے میں بھی اللہ سے متعلق نہ ہوگا۔ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی رابطہ نہ رہا ۔ یعنی صرف اس لئے کہ اس شخص نے کافروں سے دوستی کی ‘ یا کافروں کی نصرت کی یا کافروں سے نصرت طلب کی ۔ اور کافر وہ جو اللہ کی کتاب پر اپنی عدالتوں میں فیصلے نہیں کرتے ۔ اگرچہ زبانی طور پر وہ دعویٰ کریں کہ وہ دین اللہ پر ہیں۔

کفار کی دوستی سے اس قدر سختی سے منع کیا جاتا ہے کہ اگر تم باز نہ آئے تو اس سے تمہارا دین اپنی اساس سے ختم ہوجائے گا اور قرآن کریم اس تنبیہ اور ڈراوے کے ساتھ ساتھ انہیں اچھی طرح سمجھاتا بھی ہے۔ مسلمانوں کو یہ بصیرت دی جاتی ہے کہ وہ اللہ ہی اس پوری کائنات میں اصل متصرف الامور ہے ۔ وہ سردار ہے ۔ اور اسی کے تصرف میں تمام امور ہیں ۔ وہی مالک الملک ہے ۔ وہ جسے چاہتا ہے ملک عطا کرتا ہے جس سے چاہتا ہے ملک لے لیتا ہے ۔ جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے جس سے چاہتا ہے عزت واپس لے لیتا ہے ۔ اور لوگوں کی زندگی کے امور میں اس کا یہ تصرف بھی اس تکوینی تصرف کا ایک حصہ ہے ‘ جو وہ اس کا ئنات کو چلانے کے لئے کرتا ہے ۔ دیکھئے ‘ وہ رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے ۔ وہ مردہ چیزوں سے زندہ چیزوں کو نکالتا ہے اور زندہ چیزوں سے مردہ چیزیں نکالتا ہے ۔ اور یہی اس کا قیام بالعدل ہے ۔ جس کے ساتھ وہ انسانوں کو تھامے ہوئے ہے ۔ اور کائنات کو بھی تھامے ہوئے ہے۔ اس لئے اہل ایمان کو کیا ضرورت ہے کہ وہ اللہ کو چھوڑ کر کفار کے ساتھ دوستیاں قائم کریں ۔ چاہے اہل کفار کی قوت بہت زیادہ ہو ‘ ان کا مال بہت زیادہ ہو اور اولاد بہت زیادہ ہو ۔

اس مکرر اور موکد ڈراوے اور تنبیہ سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ اس وقت نوخیز جماعت مسلمہ پر اس نکتے کی اچھی طرح وضاحت نہ ہوئی تھی ۔ اور اس وقت اہل اسلام میں سے بعض لوگوں نے اپنے سابقہ خاندانی ‘ قومی اور اقتصادی روابط بحال رکھے ہوئے تھے ۔ یہ روبط مشرکین مکہ اور یہودیان مدینہ کے ساتھ بیک وقت تھے ، اس لئے دین اسلام کی یہ تفسیر کی گئی اور انہیں اہل کفر کے ساتھ دوستانہ روابط نہ رکھنے کا حکم دیا گیا ۔ نیز اس آیت سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے ‘ دنیا میں انسان کی ظاہری قوتوں کی طرف میلان رکھتا ہے ‘ ان سے متاثر ہوتا ہے ‘ اس لئے انہیں بتایا جاتا ہے کہ اصلی قوت کون ہے ‘ اصلی حقیقت ان لوگوں کی کیا ہے ‘ اور یہ کہ اسلامی نظریہ ٔ حیات کیا ہے ۔ اور اس کے تقاضے کیا ہیں یعنی عملی زندگی میں۔

اور اس سبق کا خاتمہ اس قطعی فیصلے پر ہوتا ہے کہ اسلام اللہ اور رسول کی اطاعت کا نام ہے اور یہ کہ اللہ کی جانب چلنے کا واحد راستہ یہ ہے رسول اللہ کی اطاعت کی جائے ۔ صرف یہ کافی نہیں ہے کہ کلمہ شہادت پر دل سے مجرد یقین کرلیاجائے اور زبان سے اس کا اقرار کرلیا جائے ۔ فرماتے ہیں ” کہہ دیجئے ‘ اگر تم اللہ کو محبوب رکھتے ہو تو میری اطاعت کرو اللہ تمہیں محبوب رکھے گا۔ “ ……………

” کہہ دو ‘ اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو ‘ اگر وہ اس سے منہ پھیریں ‘ تو جان لو کہ اللہ کافروں کے ساتھ محبت نہیں رکھتا۔ “ ……………پس یا تو اتباع ہوگا اور مکمل تابعداری کروگے تو اللہ بھی اسے پسند کرے گا یا پھر کفر ہوگا جسے اللہ نہایت ہی ناپسند کرتا ہے ۔ یہ ہے وہ مقام جس سے ایک مسلمان اور ایک کافر کے راستے جدا ہوتے ہیں ۔ اس سبق کے اس دوسرے حصے پر اب تفصیل سے غور ہوگا۔

اردو ترجمہ

یہ لوگ صبر کرنے والے ہیں، راستباز ہیں، فرمانبردار اور فیاض ہیں اور رات کی آخری گھڑیوں میں اللہ سے مغفرت کی دعائیں مانگا کرتے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Alssabireena waalssadiqeena waalqaniteena waalmunfiqeena waalmustaghfireena bialashari

اردو ترجمہ

اللہ نے خود شہادت دی ہے کہ اس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے، او ر (یہی شہادت) فرشتوں اور سب اہل علم نے بھی دی ہے وہ انصاف پر قائم ہے اُس زبردست حکیم کے سوا فی الواقع کوئی خدا نہیں ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Shahida Allahu annahu la ilaha illa huwa waalmalaikatu waoloo alAAilmi qaiman bialqisti la ilaha illa huwa alAAazeezu alhakeemu

یہ وہ پہلی حقیقت ہے ‘ جس پر اسلام کے نظریاتی تصورات قائم ہیں یعنی عقیدہ توحید ‘ الوہیت میں توحید ‘ قیومیت میں توحید اور یہ کہ اس کائنات کی پوری نگہبانی اصول انصاف وعدل پر منجانب اللہ ہورہی ہے ۔ اس پہلی حقیقت کے ساتھ اس سورت میں کلام کا آغاز ہوا تھا اللَّهُ لا إِلَهَ إِلا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ …………… ” اللہ وہ ذات ہے جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے اور وہ زندہ جاوید اور نگہبان ہے۔ “ اس آغاز سے ایک تو اسلامی عقیدہ کا اظہار اور توضیح مقصود تھی اور دوسری جانب سے اہل کتاب کے پھیلائے ہوئے شبہات کا رد مطلوب تھا ۔ ایک تو خود اہل کتاب کے لئے ان کے موروثی عقیدہ توحید کی تشریح اور توضیح بھی مقصود تھی ‘ دوسرے یہ کہ ان کے پھیلائے ہوئے شبہات کا جو اثر اہل اسلام پر ہورہا تھا ‘ اس کی توضیح بھی مقصود تھی ‘ کیونکہ بعض اوقات اہل اسلام بھی ان سے متاثر ہوجاتے تھے ۔

اللہ کی شہادت ‘ کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے ‘ یہ ہر اس شخص کے لئے کافی وشافی عقیدہ ہے ‘ جو ایمان لاچکا ہے ۔ یہاں سوال یہ ہے کہ اللہ کی گواہی تو ان کے لئے کافی وشافی ہوسکتی ہے۔ جو اللہ پر ایمان رکھتے ہوں ‘ اور جو لوگ ایمان لے آئے ہوں ۔ پھر ان کو شہادت کی ضرورت کیا رہتی ہے ۔ حقیقت واقعہ یہ ہے کہ اہل کتاب تو اللہ پر ایمان لاتے تھے لیکن وہ اس کے ساتھ ساتھ اللہ کے لئے اولاد بھی ٹھہراتے تھے اور اس کے لئے شریک بھی ٹھہراتے تھے ۔ بلکہ مشرکین مکہ بھی خدا پر ایمان لاتے تھے ۔ وہ گمراہ اس حوالے سے ہوتے تھے کہ وہ اللہ کے ساتھ کئی شرکاء بناتے تھے ۔ کئی کو اللہ کے مساوی ٹھہراتے تھے ۔ اللہ کے لئے بیٹے اور بیٹیوں کے قائل تھے ۔ اس لئے جب قرآن کریم نے اس بات کی تصدیق کی کہ خود وہ جس خدا کے قائل ہیں وہ شہادت دے رہا ہے کہ اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے ۔ لہٰذا یہ شہادت ان کے تطہیر افکار کے لئے ایک مؤثر شہادت تھی ۔

نیز یہ معاملہ جس طرح کہ ہم نے اس حصے سے قبل اپنے تبصرے میں اس کا جائزہ لیا ہے ۔ یہ ایک بڑا ہی گہرا اور دقیق معاملہ ہے ۔ یہاں اللہ تعالیٰ کی جانب سے نظریہ توحید پر شہادت اس لئے دی گئی ہے کہ شہادت توحید کے ساتھ اس کے تقاضے بھی وابستہ ہیں اور ان تقاضوں کا ذکر بعد میں آرہا ہے ۔ اور وہ یہ عقیدہ توحید کے حاملین سے بندگی اور اطاعت بھی صرف اس وحدہ لاشریک کی متوقع ہے ۔ اور وہ بندگی اور اطاعت بھی صرف اسلام کی شکل میں ہے ۔ اور اسلام بھی سر تسلیم خم کردینے اور مکمل انقیاد کے معنی میں مطلوب ہے ۔ اسلام سے مراد صرف شعور ‘ تصور اور عقیدہ مراد نہیں ہے ۔ بلکہ اس سے مراد عمل ‘ اطاعت اور مکمل انقیاد بھی ہے ۔ اور یہ انقیاد بھی اسلامی نظام زندگی کی اس شکل و صورت کے مطابق جو قرآن وسنت سے ماخوذ ہے ۔ اس پہلو سے ہم دیکھتے ہیں کہ ہر دور اور ہر زمانے میں لوگوں کی اکثریت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ وہ ایمان لاچکے ہیں ‘ لیکن وہ اس اللہ کے ساتھ بیشمار غیروں کو شریک بھی ٹھہراتے ہیں ‘ اس صورت میں جب وہ اپنے فیصلے ایسے قوانین کے مطابق کراتے ہیں جو شریعت پر مبنی نہیں ہیں اور وہ ایسے لوگوں کی اطاعت کرتے ہیں جو اللہ اور رسول کی اطاعت نہیں کرتے ‘ اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنے اخلاق واقدار ‘ اپنے تصورات و افکار اور اپنے حسن وقبح کے پیمانے غیر اللہ سے لیتے ہیں ‘ تو یہ سب باتیں ان کے اس قول سے متصادم ہوتی ہیں کہ ہم ایمان لاچکے ہیں ‘ نیز ان کا یہ طرزعمل خود اللہ کی شہادت کے بھی منافی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے۔

اب سوال رہ جاتا ہے ‘ ملائکہ اور علماء کی شہادت کا ‘ تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ علماء اور ملائکہ کے مکمل طور پر اللہ اور اس کے اوامر ونواہی کی اطاعت کرتے ہیں ‘ وہ صرف اللہ سے ہدایات لیتے ہیں ۔ اور اللہ کی جانب سے جو کچھ نازل ہوتا ہے اس کی پیروی کرتے ہیں ۔ نہ اس کے بارے میں بحث ومناظرہ کرتے ہیں ۔ اور نہ ہی اس میں کسی قسم کا شک کرتے ہیں ۔ بشرطیکہ یہ ثابت ہوجائے کہ یہ بات منجانب اللہ ہے ۔ اس سورت میں اولوالعلم کا حال بیان کرتے ہوئے یہ فرمایا گیا تھا۔ وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا …………… ” اور علم میں جو لوگ پختہ کار ہیں وہ کہتے ہیں ہم ایمان لائے ہیں ‘ سب کچھ ہمارے رب کی طرف سے ہے ۔ یہ ہے اہل علم اور فرشتوں کی شہادت یعنی تصدیق ‘ اطاعت اتباع اور انقیاد ‘ اور فرشتوں ‘ اہل علم کی شہادت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے اور وہ عدل و انصاف کے ساتھ قائم ہے۔ یعنی عدل و انصاف ایک ایسی صفت ہے جو اس کی شان الوہیت کے ساتھ وہ قائم و لازم ہے۔ “

شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لا إِلَهَ إِلا هُوَ وَالْمَلائِكَةُ وَأُولُو الْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْطِ

” اللہ خود اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے اور فرشتے اور سب اہل علم بھی شہادت دیتے ہیں کہ اللہ راستی اور انصاف کے ساتھ قائم ہے۔ “ جس طرح عبارت نص سے معلوم ہوتا ہے قائمابالقسط ایسی حالت ہے جو شان الوہیت کے ساتھ لازم ہے ۔ اور یہ اس بات کی وضاحت ہے جو اس سے پہلے سورت میں کہا گیا کہ اللہ قیوم اور نگہبان ہے ‘ مطلب یہ ہوا کہ اس کی نگہبانی عدل پر قائم ہے۔

اللہ تعالیٰ نے اس جہان کے چلانے کے لئے جو تدابیر اختیار کی ہیں ‘ یا یہاں لوگوں کی زندگی کے قیام و دوام کے لئے جو تدابیر اختیار کی ہیں وہ عدل و انصاف کے اصولوں پر کی ہیں ۔ اس لئے لوگوں کی زندگیوں میں عدل تب قائم ہوسکتا ہے جب ان کی زندگیاں کتاب اللہ کی شریعت پر استوار ہوں ‘ جس طرح اس کائنات کو نوامیس فطرت کے عادلانہ اصولوں پر قائم کیا گیا ہے اور وہ استوار ہے ۔ صرف اسی صورت میں انسان اور فطرت ہم آہنگ ہوکر چل سکتے ہیں ‘ شریعت وہ نظام ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بیان کیا ہے۔ اگر یہ ہوگا تو اس جہان میں عدل و انصاف نہ ہوگا اور یہاں توازن و اعتدال قائم نہ ہوسکے گا۔ اس کائنات کی چلن اور انسان کی چلن کے درمیان تطابق اور ملائمت نہ ہوگی ۔ نتیجہ ظلم ‘ افتراق اور قوتوں کے ضیاع کی صورت میں برآمد ہوگا۔

انسانی تاریخ شاہد عادل ہے کہ اس میں انسانیت نے عدل و انصاف کا مزہ انہیں ادوار میں چکھا جن میں صرف کتاب اللہ کی حکمرانی رہی ۔ اور ان کی زندگی اس طرح منظم اور استوار ہوئی جس طرح اس زمین کے گردش منظم اور استوار ہے ۔ اس قدر جس قدر انسانی فطرت کے لئے ممکن ہو ۔ یعنی فطرت انسانی کے رجحانات اطاعت اور جحانات معصیت کے درمیان توازن ہو ۔ اور ان دونوں پلڑوں کے درمیان توازن ہو ۔ اور انسان اسلامی نظام زندگی کے قیام اور کتاب اللہ کی حکمرانی کی صورت میں اللہ کی اطاعت کی طرف مائل ہو۔ اگر انسانی زندگی پر کوئی ایسا نظام حکمران ہو ۔ جو خود انسان نے بنایا ہو تو اس میں لازماً انسانی جہلات کا دخل ہوگا۔ انسان کے تصور اور ادراک کا قصور اس میں شامل ہوگا۔ اور اس کے نتیجے میں یہ نظام کسی نہ کسی شکل میں ظلم اور تضاد کا شکار ہوگا۔ کبھی ایک فرد پوری سوسائٹی پر ظلم ڈھائے گا ، اور کبھی ایک سوسائٹی ایک فرد پر ظلم کررہی ہوگی ‘ یا کبھی ایک طبقہ دوسرے طبقہ پر ظلم کررہا ہوگا یا ایک قوم دوسری اقوام پر ظلم کررہی ہوگی یا ایک نسل دوسری نسل پر ظلم کررہی ہوگی ‘ رہا اسلامی نظام زندگی تو وہ ان تمام میلانات رجحانات سے پاک ہوتا ہے ۔ اس لئے کہ اللہ سب کا الٰہ ہے ۔ اور اس ارض وسماء میں کوئی راز مخفی بھی نہیں ہے ۔

لا إِلَهَ إِلا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ……………” اس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے ۔ وہی غالب ہے اور وہی حکیم ہے۔ “ یہاں اس آیت کے اس ٹکڑے میں دوبارہ وحدت الہٰیت کو دو اہم صفات کے ساتھ بیان کیا گیا ہے ۔ ایک صفت یہ کہ وہ غالب ہے قوت والا ہے اور دوسری یہ کہ وہ حکیم ہے اور قدرت و حکمت دونوں ایسی صفات ہیں جن کا موجود ہونا اللہ کی شان عدل ونگہبانی کے لئے ضروری ہے ۔ اس لئے کہ عدل کا مفہوم یہ ہے کہ حقدار کو حق ملے اور اسے حق دلایا جاسکے ۔ اور اللہ کی صفات کا تصور یہ ہے کہ مثبت کارکردگی کا شعور دیتی ہے ۔ اس لئے کہ اسلام کے تصور خدا میں کوئی سلبیت نہیں ہے ۔ ایجاب ہی ایجاب ہے ‘ اور یہ تصور اللہ کا سب سے مکمل تصور ہے ۔ سب سے سچا تصور ہے ‘ اور یہ تصورخود اللہ تعالیٰ نے اپنے حوالے سے پیش کیا ہے ۔ اور اس مثبت اور ایجابی فعالیت کا اثر انسان پر یہ ہوتا ہے کہ انسان کا دل اللہ کے ارادے سے متعلق ہوجاتا ہے ۔ اس لئے انسان کا عقیدہ زندہ اور موثر عقیدہ ہوتا ہے ‘ وہ محض خشک تصور ہی نہیں ہوتا بلکہ اس کے اندر فعالیت اور تروتازگی ہوتی ہے۔

اردو ترجمہ

اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے اس دین سے ہٹ کر جو مختلف طریقے اُن لوگوں نے اختیار کیے، جنہیں کتاب دی گئی تھی، اُن کے اِس طرز عمل کی کوئی وجہ اس کے سوا نہ تھی کہ انہوں نے علم آ جانے کے بعد آپس میں ایک دوسرے پر زیادتی کرنے کے لیے ایسا کیا اور جو کوئی اللہ کے احکام و ہدایات کی اطاعت سے انکار کر دے، اللہ کو اس سے حساب لیتے کچھ دیر نہیں لگتی ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Inna alddeena AAinda Allahi alislamu wama ikhtalafa allatheena ootoo alkitaba illa min baAAdi ma jaahumu alAAilmu baghyan baynahum waman yakfur biayati Allahi fainna Allaha sareeAAu alhisabi

اب اس حقیقت پر جسے اس ایک آیت میں دو بار دہرایا گیا ‘ اس کا فطری نتیجہ مرتب کیا جاتا ہے وہ یہ کہ خدائی ایک ہے تو پھر بندگی اور انقیاد بھی صرف اسی خدائی کے لئے ہے ۔

غرض تصور یہ ہے کہ ایک الٰہ ہے ۔ اس لئے ایک ہی نظام ہے ‘ پھر اس الٰہ کے سامنے سرتسلیم خم کرنا ہے۔ نہ ان کے تصور میں اس کے سوا کوئی تصور ہو ‘ نہ ان کی زندگی کا کوئی گوشہ اس نظام سے آزاد ہو……………جب اللہ ایک ہے تو پھر بندگی اور انقیاد بھی اسی کے لئے ہے ۔ اور یہی اللہ اس بات کا حقدار بھی ہے کہ لوگ اس کے مطیع فرمان ہوں ‘ ان کے قانونی نظام میں شریعت نافذ ہو اور ان کی اقدار حیات اور حسن وقبح کے پیمانوں میں یہ شریعت معیار ہو ۔ اور ان کی پوری عملی زندگی اس شریعت پر قائم ہو۔

اگر ایک اللہ ہے تو پھر تصورحیات بھی ایک ہی ہوگا۔ اور یہ تصور ونظریہ وہی ہوگا جسے اس الٰہ نے اپنے بندوں کے لئے پسند کیا ہے۔ یعنی خالص عقیدہ توحید کا چمکتا ہوا اور صاف ستھرا۔

جس طرح ہم مکرر کہہ آئے ہیں کہ عقیدہ توحید کا پہلا تقاضا یہ ہے ۔إِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللَّهِ الإسْلامُ……………اللہ کے نزدیک نظام زندگی صرف دین اسلام ہے ۔ اور اسلام صرف دعویٰ ہی نہیں ہے ۔ وہ صرف جھنڈے کا نام بھی نہیں ہے ۔ وہ صرف نعرے کا نام بھی نہیں ہے ‘ وہ صرف ایک تصور اور خام خیال کا نام بھی نہیں ہے جہاں پر دل مطمئن ہو ‘ اور وہ صرف انفرادی عبادات کا نام ہے جنہیں ایک بطور فرد ادا کرتا ہے۔ مثلاً نماز ‘ حج اور روزے ‘ ایسا ہرگز نہیں ہے ۔ صرف یہ امور وہ اسلام نہیں ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں اس کے سوا کوئی دین قبول نہیں کرتا ۔ بلکہ اسلام تو مکمل انقیاد کا نام ہے ۔ اسلام مکمل عبادت کا نام ہے۔ وہ مکمل اتباع ہے ۔ اسلام یہ ہے کہ عدالتوں میں کتاب اللہ کے مطابق فیصلے ہورہے ہوں ‘ جس کی تفصیلات عنقریب آرہی ہیں ۔

اسلام یہ ہے کہ اللہ کو وحدہ لاشریک سمجھاجائے ۔ یہ عقیدہ پختہ ہو کہ اس کائنات کو وہی تھامنے والا ہے ۔ جبکہ اہل کتاب ذات باری اور ذات مسیح میں خلط ۔ کرتے تھے ۔ بلکہ وہ اللہ کے ارادے اور مسیح کے ارادے کو بھی خلط کرتے تھے ۔ اور اس موضوع پر خود ان کے درمیان کئی فرقے تھے اور ہر فرقے کا اپنا عقیدہ تھا ۔ اور ان کے یہ اختلافات بعض اوقات اس قدر شدید ہوجاتے تھے کہ وہ قتل و غارت پر منتج ہوتے تھے ۔ اس لئے یہاں اللہ تعالیٰ اہل کتاب اور جماعت مسلمہ کو بتاتے ہیں کہ ان اختلافات اور فکری ژولیدگی کا اصل سبب کیا تھا۔

وَمَا اخْتَلَفَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ إِلا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ

” اور اس دین سے ہٹ کر جو مختلف طریقے ان لوگوں نے اختیار کئے جنہیں کتاب دی گئی تھی ‘ ان کے اس طرز عمل کی کوئی وجہ اس کے سوا نہ تھی کہ انہوں نے علم آجانے کے بعد ‘ آپس میں ایک دوسرے پر زیادتی کرنے کے لئے ایسا کیا۔ “

یہ اختلافات اس لئے نہ تھے کہ انہیں حقیقت واقعہ کا پتہ نہ تھا ‘ کیونکہ اس کے پاس اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے بارے میں فیصلہ کن معلومات آگئی تھیں کہ اللہ صرف ایک ہے ‘ انسان کی فطرت یہ ہے کہ وہ صرف بندہ ہے ‘ معبود نہیں ہے ۔ یہ جو انہوں نے شدید اختلافات پیدا کئے یہ محض ایک دوسرے پر زیادتی کی خاطر کئے ۔ ایک دوسرے پر ظلم اور دست درازی کے لئے جواز پیدا کیا گیا ۔ ان کے لئے اللہ کے نظام عدل و انصاف میں کوئی جواز نہ تھا ‘ اسلامی نظریہ حیات اور سماوی شریعت یا سماوی کتب میں ایسے اختلافات کے لئے کوئی جواز نہ تھا۔

اس سے قبل ہم مسیحی مورخ کا حوالہ دے چکے ہیں جس میں ہم نے بتایا کہ عیسائیوں کے ہاں سیاسی تحریکات کس طرح جان بوجھ کر مذہبی اختلافات پیدا کرتی تھیں اور یہودی اور عیسائی افکار کے درمیان اختلافات بھی اسی قبیل کے تھے ۔ ہم یہ پڑھ چکے ہیں کہ مصر اور شام کے درمیان یہ مذہبی منافرت کس قدر پھیلی ہوتی تھی ۔ شام میں چونکہ رومی سلطنت کی حکمرانی تھی ۔ اس لئے مصریوں نے اس سیاسی نفرت کی وجہ سے رومی کیتھولک مکتب کو چھوڑ کر دوسرا مکتب فکر اپنایا ۔ یا جس طرح روم کے قیصروں میں سے بعض نے یہ کوشش کی یہ تمام عیسائی مکاتب فکر ایک متوسط مکتبہ فکر پر متفق ہوجائیں ‘ تاکہ ان کے زیر انقلاب رعایا کے درمیان فکری اتحاد پیدا ہوجائے ‘ ان کا خیال تھا ایسے مذہب سے سب کے مقاصد پورے ہوجائیں گے ۔ گویا عقیدہ ایک کھیل تھا اور اسے بڑی آسانی سے سیاسی اور ملکی مقاصد کے لئے بدلا جاسکتا تھا ۔ حالانکہ درحقیقت یہ ایک عظیم ظلم تھا ۔ اور یہ ظلم اور تعدی وہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا کرتے تھے ۔

یہی وجہ ہے کہ اسی حرکت پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے سخت سرزنش ہوتی ہے اور ٹھیک مناسب وقت پر وَمَنْ يَكْفُرْ بِآيَاتِ اللَّهِ فَإِنَّ اللَّهَ سَرِيعُ الْحِسَابِ……………” اور جو کوئی اللہ کی ہدایات اور احکام کی اطاعت سے انکار کردے ‘ اللہ کو اس سے حساب لینے میں دیر نہیں لگتی ۔ “ یہاں اللہ تعالیٰ نے عقیدہ توحید میں اختلاف کرنے کو کفر سے تعبیر فرمایا ‘ اور اہل کفر کو تنبیہ کی اور خوف دلایا کہ میں بہت جلد حساب لینے والا ہوں ۔ اس لئے اگر زیادہ مہلت دوں تو یہ لوگ اختلافات اور کفر والحاد میں مزید سرگرداں رہیں گے ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو حکم دیتے ہیں کہ آپ ان لوگوں سے فیصلہ کن بات کردیں ۔ یعنی اہل کتاب اور غیر اہل کتاب سب سے تاکہ ان کے ساتھ بات چیت فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوجائے ۔ اور اس کے بعد اسے ختم کردیاجائے ‘ اور آپ اپنے واضح راستے پر اکیلے گامزن ہوجائیں۔

اردو ترجمہ

اب اگر یہ لوگ تم سے جھگڑا کریں، توا ن سے کہو: "میں نے اور میرے پیروؤں نے تو اللہ کے آگے سر تسلیم خم کر دیا ہے" پھر اہل کتاب اور غیر اہل کتاب دونوں سے پوچھو: "کیا تم نے بھی اس کی اطاعت و بندگی قبول کی؟" اگر کی تو وہ راہ راست پا گئے، اور اگر اس سے منہ موڑا تو تم پر صرف پیغام پہنچا دینے کی ذمہ داری تھی آگے اللہ خود اپنے بندوں کے معاملات دیکھنے والا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Fain hajjooka faqul aslamtu wajhiya lillahi wamani ittabaAAani waqul lillatheena ootoo alkitaba waalommiyyeena aaslamtum fain aslamoo faqadi ihtadaw wain tawallaw fainnama AAalayka albalaghu waAllahu baseerun bialAAibadi

اب مزید وضاحت کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ بہت کچھ کہہ دیا گیا ‘ اس لئے اب یا تو تم لوگ اللہ وحدہ کی الوہیت کا اعتراف کرو ‘ اس کی نگہبانی کا اعتراف کرو اور نتیجتاً اتباع اور انقیاد کرو ورنہ پھر تمہیں اس کا کوئی حل نہ ملے گا ۔ اور یہ مباحثہ یونہی جاری رہے گا ۔ اور تم توحید اور اسلام سے محروم رہو گے ۔ چناچہ اللہ تعالیٰ رسول اللہ کو صرف ایک لفظ ایسا بتاتے ہیں جو بیک وقت نظریہ حیات اور نظام زندگی کا مظہر ہے ۔ اور وہ یہ کہ اگر پھر بھی یہ لوگ تم سے جھگڑیں تو تم صاف کہہ دو کہ ہم نے اس کے آگے سر تسلیم خم کردیا ہے۔ أَسْلَمْتُ وَجْهِيَ…………میں اسلام لایا اور میرے متبعین بھی ‘ یہاں اہل ایمان کو متبعین کہہ کر اشارہ اس طرف مطلوب ہے کہ اسلام صرف تصدیق ہی نہیں ہے ۔ اس کے بعد اتباع بھی ضروری ہے ‘ اسی طرح یہ تعبیر کہ میرا چہرہ اللہ کے سامنے جھک گیا ہے۔ اس لئے کہ اسلام محض قول وقرار کا نام بھی نہیں ہے ۔ نہ صرف عقیدے اور تصور کا نام ہے ۔ اس کے مفہوم میں انقیاد بھی داخل ہے ۔ اتباع اور اطاعت بھی داخل ہے ۔ چہرے کا مطیع ہونا مقصد ہے مکمل انقیاد واتباع ‘ اس لئے کہ انسان کے جسم میں چہرے کو اعلیٰ مقام حاصل ہے ۔ چہرے مہرے ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کس قدر مطیع ‘ متبع ‘ فرماں بردار اور ہر وقت عمل کے لئے چاق وچوبند ہے ۔

یہ ہے خود حضرت محمد ﷺ کا اعتقاد اور آپ کا نظام زندگی ‘ نظام مصطفیٰ ‘ اور مسلمان تو ہیں ہی وہ لوگ جو اس کے متبع اور مقلد ہیں ‘ اس کے اعتقاد میں بھی اور اس کے عمل میں بھی اس لئے اب یہ اہل کتاب اور غیر اہل کتاب سے پوچھا جائے ۔ اب یہ سوال کیا جائے جو دونوں کیمپوں کے درمیان واضح حد بندی کردے ۔ دونوں کے درمیان حد فاصل قائم کردے ۔ جس میں کوئی اشتباہ نہ رہے اور دونوں کے درمیان کوئی فکری اختلاط والتباس نہ رہے ۔

وَقُلْ لِلَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ وَالأمِّيِّينَ أَأَسْلَمْتُمْ……………” اہل کتاب اور امیوں (غیر اہل کتاب) سے کہو :” کیا تم نے بھی سر تسلیم خم کردیا ؟ “ یہاں اہل کتاب اور غیر اہل کتاب کا فرق اب ختم کردیا جاتا ہے ۔ اب دونوں ایک ہی مقام پر کھڑے ہیں ۔ اہل کتاب اور مشرکین دونوں کو دعوت اسلام دی جاتی ہے اور یہ دعوت اسلام اسی مفہوم کے ساتھ ہے جس کی تشریح ہم کرتے ہیں ۔ انہیں دعوت دی جاتی ہے کہ وہ عقیدہ توحید قبول کریں اللہ کی ذات میں اور اس کی قیومیت اور نگہبانی میں ‘ اس کے بعد انہیں دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اس عقیدے کو اپنانے کے بعد پھر مطیع فرمان ہوجائیں اور اطاعت یہ ہوگی کہ وہ اپنی پوری زندگی میں فیصلے کتاب اللہ کے مطابق کریں ‘ اسلامی نظام زندگی کو اپنائیں فَإِنْ أَسْلَمُوا فَقَدِ اهْتَدَوْا……………” اگر انہوں نے یہ اطاعت قبول کرلی تو راہ راست پاگئے ۔ “

معلوم ہوا کہ ہدایت کا ظہور صرف ایک ہی شکل میں ہوتا ہے یعنی اسلام کی صورت میں یعنی اس کی ماہیت اور اس طبیعت کے مطابق ‘ اس کے سوا کوئی اور صورت نہیں ہے ‘ کوئی دوسرا تصور نہیں ہے ‘ کوئی دوسرا طریق کار نہیں اور نہ کوئی دوسرا ایسا منہاج ہے جس کے ذریعہ ہدایت حاصل کی جاسکتی ہو ۔ اس کے سوا جو بھی اور راستے ہیں وہ سب ٹیڑھے ہیں ‘ وہ سب حیرانی و پریشانی کے راستے ہیں ۔ وہ سب زیغ وضلال کے راستے ہیں۔

وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلاغُ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ……………” اگر وہ منہ موڑیں تو تم پر صرف پیغام پہنچادینے کی ذمہ داری ہے ۔ “ پیغام پہنچانے کے بعد رسول کی ذمہ داری ختم ہوجاتی ہے ۔ آپ کا کام ختم ہوجاتا ہے اور یہ اس وقت کی بات ہے جب آپ کو ان لوگوں کے ساتھ قتال کی اجازت نہ دی گئی تھی جو اسلام قبول نہیں کرتے یہاں تک کہ وہ باز آجائیں ‘ بعد کا حکم یہ تھا وہ یا تو مکمل انقیاد اختیار کرلیں اور اسلامی نظام کے مطیع ہوجائیں یا پھر وہ معاہدہ کریں اور جزیہ ادا کرکے اسلامی نظام کے تابع ہوجائیں پھر وہ آزاد ہیں اس لئے کہ اسلام میں عقائد تبدیل کرنے کا کوئی جبر نہیں ہے ۔

وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِالْعِبَادِ……………” اللہ اپنے بندوں کے معاملات سے اچھی طرح باخبر ہے ۔ “ وہ اپنے علم اور بصیرت کے مطابق ہی ان کے معاملات کو چلاتا ہے اور ان کے تمام امور اسی کے ہاتھ میں ہیں ہر حال میں ‘ اس لئے وہ اپنے بندوں کو اندھیرے میں نہیں رکھتا ۔ اور وہ انہیں صاف صاف بتاتا ہے کہ ان کا انجام کیا ہوگا۔ وہ بتاتا ہے کہ گزشتہ تاریخ انسانیت میں اللہ کے باغیوں اور نافرمانیوں کا انجام کیا ہوتا ہے اور اب بھی اس کی سنت وہی ہے ۔ فرماتے ہیں :

اردو ترجمہ

جو لوگ اللہ کے احکام و ہدایات کو ماننے سے انکار کرتے ہیں اور اس کے پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کی جان کے درپے ہو جاتے ہیں، جو خلق خدا میں عدل و راستی کا حکم دینے کے لیے اٹھیں، ان کو درد ناک سزا کی خوش خبری سنا دو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Inna allatheena yakfuroona biayati Allahi wayaqtuloona alnnabiyyeena bighayri haqqin wayaqtuloona allatheena yamuroona bialqisti mina alnnasi fabashshirhum biAAathabin aleemin

یہ ہے ان لوگوں کا حتمی انجام ‘ ان کے لئے دردناک عذاب ہوگا ‘ یہ عذاب دنیا وآخرت دونوں میں ہوگا ۔ یہاں بھی وہ اس کی توقع کریں اور آخرت میں تو یقینی ہے ہی………دنیا اور آخرت میں ان کے اعمال باطل ہوں گے ‘ بےاثر ہوں گے ۔ یہ عجیب تصویر کشی ہے ‘ حبوط کا لغوی معنی ہے ۔ کسی مویشی کا زہریلی گھاس چر کر پھول ۔ بظاہر تو اس صورت میں ایک مویشی خوب موٹاتازہ ہوجاتا ہے ‘ لیکن اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ آخر کار برباد اور ہلاک ہوجاتا ہے ‘ یہاں بظاہر تو ان کے بڑے بڑے کارنامے ہیں لیکن قیامت میں ان کا کوئی فائدہ نہ ہوگا اور نہ ان کا کوئی حامی و مددگار ہوگا۔

قرآن کریم نے آیات الٰہی کا انکار کے ساتھ ساتھ انبیاء (علیہم السلام) کے قتل کا ذکر بھی کیا ۔ جو ناحق قتل کئے گئے ‘ اس لئے کہ قتل انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ کبھی حق یکجا نہیں ہوسکتا۔ اور ساتھ ہی یہ ذکر کیا کہ وہ لوگ ان افراد کو بھی قتل کرتے تھے جو عدل و انصاف کا حکم دیتے تھے ۔ یعنی وہ لوگ انہیں اس لئے قتل کرتے تھے کہ وہ نظام الٰہی کے قائل اور داعی تھے جو عادلانہ نظام تھا۔ اور اس کے سوا کسی دوسرے نظام کے ذریعہ عدل کا قیام ممکن ہی نہ تھا۔ ان تمام صفات کے ذکر سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ یہ توبیخ اور تخویف یہود کے لئے تھی ۔ کیونکہ یہ ان کی تاریخی صفات ہیں اور ان صفات کے ساتھ وہ مشہور ہیں ۔ جہاں بھی ان کا ذکر ہو ذہن اس کی طرف جاتا ہے ۔ لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ اس میں نصاریٰ سے خطاب ہو ‘ کیونکہ نزول قرآن کے زمانے تک انہوں نے بھی اپنے مذہب کے مخالفین کو ہزاروں کی تعداد میں قتل کیا تھا۔ کیونکہ جو شخص بھی رومی سلطنت کے سرکاری مذہب کے خلاف ہوتا تھا وہ اسے قتل کردیتے تھے ۔ ان میں وہ مسیحی بھی شامل تھے جو توحید کے قائل تھے ۔ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بشر سمجھتے تھے ۔ اور یہ لوگ ایسے تھے جو نظام حکومت میں عدل و انصاف کا پرچار بھی کرتے تھے ۔ یہود ونصاریٰ کے علاوہ یہ حکم ہر زمان ومکان میں تمام ان لوگوں پر صادق آتا ہے جو اس قسم کی متشددانہ حرکات کا ارتکاب کرتے ہیں اور ہر دور میں کبھی بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں رہی ہے۔

یہاں یہ بات سمجھنے کے قابل ہے کہ قرآن کے الفاظ ” وہ لوگ جو آیات کا انکار کرتے ہیں ۔ “ سے مراد کیا ہے ۔ ان سے مراد صرف یہ نہیں ہے کہ کوئی آیات الٰہی کا انکار کرکے کلمہ کفر ادا کردے ۔ اس لفظ کے مفہوم میں یہ شامل ہے کہ کوئی وحدت الٰہ یا عقیدہ توحید کا قائل نہ ہو ‘ پھر وہ صرف اللہ کی بندگی کا قائل نہ ہو ۔ اور اس میں یہ بات از خود آجاتی ہے کہ کوئی مصدر اور منبع کا قائل نہ ہو جہاں سے انسانی زندگی کے لئے قانون سازی کی جاتی ہے اور حسن وقبح کی اقدار کا تعین کرنا ہے یعنی کتاب اللہ کا ‘ اس لئے جو شخص ان امور میں بھی اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک کرے گا وہ بھی مشرک تصور ہوگا اور الوہیت کا منکر شمار ہوگا۔ اگرچہ وہ فقط زبان سے اسے ایک ہزار بار جھپتا رہے۔ اس مفہوم کا اظہار آنے والی آیات میں ملے گا۔

اردو ترجمہ

یہ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں ضائع ہوگئے، اور ان کا مددگار کوئی نہیں ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Olaika allatheena habitat aAAmaluhum fee alddunya waalakhirati wama lahum min nasireena
52