اس کے بعد ہر مومن اور خود رسول اللہ ﷺ کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ اللہ کی طرف متوجہ ہوں ‘ اللہ کو اپنی الوہیت میں ایک سمجھتے ہوئے ‘ اسے اس جہاں کا واحد نگہبان سمجھتے ہوئے ‘ خود بشر کی زندگی میں بھی اور اس کائنات کی تدبیر میں بھی کیونکہ یہ دونوں پہلو اللہ کی خدائی اور اس کی حاکمیت کے مظاہر ہیں اور ان میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے ۔ نہ اس کا کوئی مثیل اور شبیہ ہے ۔
یہ نہایت ہی دھیمی اور پر مشیئت آواز ہے ۔ اس کی لفظی ترکیب دعائیہ ہے ۔ لیکن اس کی روح میں گیری معنویت اور خشوع و خضوع ہے ۔ اس میں اس ………کھلی کائنات کی کھلی کتاب پر نظر التفات ڈالی گئی ہے ۔ بڑی نرمی اور بڑی محبت کے ساتھ انسان کے شعور میں ابال آتا ہے اس کو بتایا گیا ہے کہ وہ باری مدبر کائنات ہے اور ساتھ ہی انسانی امور کا بھی مدبر ہے۔ اس کی ہمہ گیر تدبیر کو یکجا کرکے ایک عظیم حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ وہ عظیم سچائی یہ ہے کہ اس کائنات کا الٰہ اور نگہبان اور اس کے اندر اس انسان کا الٰہ ونگہبان ایک ہی ہیں ۔ یہ انسان اس کائنات کا ایک حصہ ہے ۔ وہ اس سے علیحدہ کوئی حقیقت نہیں ہے ۔ اور دونوں میں اصل متصرف اللہ ہے ۔ صرف اللہ کے نظام زندگی سے اس کائنات کی شان ہے ۔ انسان کا فریضہ بھی یہی ہے ۔ اور جس طرح یہ کائنات اللہ کے دین سے خارج نہیں ہوسکتی ۔ اسی طرح انسان کے لئے بھی دین الٰہی سے خارج ایک قسم کا انحراف ہے ‘ حماقت ہے اور فساد ہے ۔ اللہ فرماتے ہیں :
قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ
” کہو اے ملک کے مالک ! تو جسے چاہے حکومت دے اور جس سے چاہے ‘ چھین لے ‘ جس کو چاہے عزت دے اور جس کو چاہے ذلیل کردے۔ “
یہ وہ حقیقت ہے ‘ جو عقیدہ وحدالوہیت کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔ ایک خدا کا مفہوم یہ ہے کہ وہی ایک مالک ہے ۔ وہ مالک الملک ہے ۔ اس کے ساتھ اس میں کوئی شریک نہیں ہے ۔ اس کے بعد وہ اپنی جانب جو کچھ چاہتا ہے اور جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور اس کی یہ عطا عاریتاً ہوتی ہے جب چاہتا ہے اور جس سے چاہتا ہے اپنا ملک واپس لے لیتا ہے۔ اس لئے یہاں کوئی کسی چیز کا بھی اصلی مالک نہیں ہے کہ اپنی ذاتی خواہش کے مطابق اس میں تصرف کرے ۔ انسانوں کی ملکیت عارضی ہے ۔ عطائی ہے ۔ اور یہ ان شرائط وقیود کے تحت ہے جن کے تحت عطا کنندہ نے عطا کی ہے ۔ اس کی تعلیمات کے تحت حکومت اور ملکیت میں تصرف ہوگا۔ اگر عطا کنندہ کے شرائط کے خلاف کیا گیا تو وہ باطل ہوگا۔ اس دنیا میں مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ اس قسم کے ہر تصرف کو مسترد کردیں اور آخرت میں خود اللہ تعالیٰ ایسے شخص سے حساب و کتاب لیں گے ۔
نیز یہ اس کے اختیار میں ہے کہ وہ جسے چاہے عزت بخشے اور جسے چاہے ذلیل کردے۔ اس کے حکم اور ارادہ کی راہ میں کوئی رکاوٹ ڈالنے والا نہیں ہے ۔ اس پر کسی کا کوئی جبر نہیں اور اس کے فیصلوں کو کوئی رد کرنے والا بھی نہیں ہے ۔ وہ صاحب الامر ہے ۔ تمام امور اس کے ہاتھ میں ہیں ۔ وہی اللہ ہے اور شرک سے پاک ‘ اور اس کے اس اختصاص اور اس کبریائی میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے ۔
اللہ تعالیٰ کی اس نگہبانی میں سب کا بھلا ہے ۔ وہ اس کائنات اور انسان کی نگہبانی انتہائی عدل کے اصولوں پر کرتا ہے ۔ جسے چاہتا ہے مملکت اور سلطنت دیتا ہے ۔ اور جس سے چاہتا ہے لے لیتا ہے ۔ اور یہ سب کچھ انصاف وعدل کے ساتھ ۔ جسے چاہتا ہے معزز بنا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلیل کردیتا ہے اور یہ سب کچھ عدل کے ساتھ ۔ وہ ہر حالت میں خیر ہی خیر ہے ۔” اس کے ہاتھ میں بھلائی ہے ۔ “” وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ “
آیت 26 قُلِ اللّٰہُمَّ مٰلِکَ الْمُلْکِ کل ملک تیرے اختیار میں ہے۔ تُؤْتِی الْمُلْکَ مَنْ تَشَآءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْکَ مِمَّنْ تَشَآءُز وَتُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ ط بِیَدِکَ الْخَیْرُ ط اس کے دونوں معنی ہیں۔ ایک یہ کہ کل خیر و خوبی تیرے ہاتھ میں ہے اور دوسرے یہ کہ تیرے ہاتھ میں خیر ہی خیر ہے۔ بسا اوقات انسان جسے اپنے لیے شر سمجھ بیٹھتا ہے وہ بھی اس کے لیے خیر ہوتا ہے۔ سورة البقرۃ آیت 216 میں ہم پڑھ چکے ہیں : وَعَسٰٓی اَنْ تَکْرَہُوْا شَیْءًا وَّہُوَخَیْرٌ لَّکُمْج وَعَسٰٓی اَنْ تُحِبُّوْا شَیْءًا وَّہُوَ شَرٌّ لَّکُمْ ط۔
مالک الملک کی حمد وثناء اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد ﷺ اپنے رب کی تعظیم کرنے اور اس کا شکریہ بجا لانے اور اسے اپنے تمام کام سونپنے اور اس کی ذات پاک پر پورے بھروسہ کا اظہار کرنے کے لئے ان الفاظ میں اس کی اعلیٰ صفات بیان کیجئے جو اوپر بیان ہوئی ہیں۔ یعنی اے اللہ تو مالک الملک ہے، تیری ملکیت میں تمام ملک ہے، جسے تو چاہے حکومت دے اور جس سے چاہے اپنا دیا ہوا واپس لے لے، تو ہی دینے اور لینے والا ہے تو جو چاہتا ہے ہوجاتا ہے اور جو نہ چاہے ہو ہی نہیں سکتا، اس آیت میں اس بات کی بھی تنبیہہ اور اس نعمت کے شکر کا بھی حکم ہے جو آنحضرت ﷺ اور آپ کی امت کو مرحمت فرمائی گئی کہ بنی اسرائیل سے ہٹا کر نبوت نبی عربی قریشی امی مکی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو دے دی گئی اور آپ کو مطلقاً نبیوں کے ختم کرنے والے اور تمام انس و جن کی طرف رسول بن کر آنے والے بنا کر بھیجا، تمام سابقہ انبیاء کی خوبیاں آپ میں جمع کردیں بلکہ ایسی فضیلتیں آپ کو دی گئیں جن سے اور تمام انبیاء بھی محروم رہے خواہ وہ اللہ کے علم کی بابت ہوں یا اس رب کی شریعت کے معاملہ میں ہوں یا گذشتہ اور آنے والی خبروں کے متعلق ہوں، آپ پر اللہ تعالیٰ نے آخرت کے کل حقائق کھول دئیے، آپ کی امت کو مشرق مغرب تک پھیلا دیا آپ نے دن اور آپ کی شریعت کو تمام دینوں اور کل مذہبوں پر غالب کردیا، اللہ تعالیٰ کا درود وسلام آپ پر نازل ہو اب سے لے کر قیامت تک جب تک رات دن کی گردش بھی رہے اللہ آپ پر اپنی رحمتیں دوام کے ساتھ نازل فرماتا رہے۔ آمین، پس فرمایا کہو اے اللہ تو ہی اپنی خلق میں ہیر پھیر کرتا رہتا ہے جو چاہے کر گزرتا ہے، جو لوگ کہتے تھے کہ ان دو بستیوں میں سے کسی بہت بڑے شخص پر اللہ نے اپنا کلام کیوں نازل نہ کیا اس کی تردید کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت (اَهُمْ يَــقْسِمُوْنَ رَحْمَتَ رَبِّكَ) 43۔ الزخرف :32) کیا تیرے رب کی رحمت کو بانٹنے والے یہ لوگ ہیں، جب ان کے رزق تک کے مالک ہم ہیں جسے چاہیں کم دیں جسے چاہیں زیادہ دیں تو پھر ہم پر حکومت کرنے والے یہ کون ؟ کہ فلاں کو نبی کیوں نہ بنایا ؟ نبوت بھی ہماری ملکیت کی چیز ہے ہم ہی جانتے ہیں کہ اس کے دئیے جانے کے قابل کون ہے ؟ جیسے اور جگہ ہے آیت (اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ) 6۔ الانعام :124) جہاں کہیں اللہ تعالیٰ اپنی رسالت نازل فرماتا ہے اسے وہی سب سے بہتر جانتا ہے، اور جگہ فرمایا (آیت انظر کیف فضلنا بعضھم علی بعض) دیکھ لے کہ ہم نے کسی طرح ان میں آپس میں ایک کو دوسرے پر برتری دے رکھی ہے، پھر فرماتا ہے کہ تو ہی رات کی زیادتی کو دن کے نقصان میں بڑھا کر دن رات کو برابر کردیتا ہے، زمین و آسمان پر سورج چاند پر پورا پورا قبضہ اور تمام تر تصرف تیرا ہی ہے، اسی طرح جاڑے کی گرمی اور گرمی کو جاڑے سے بدلنا بھی تیری قدرت میں ہے، بہارو خزاں پر قادر تو ہی ہے۔ تو ہی ہے کہ زندہ سے مردہ کو اور مردہ سے زندہ کو نکالے کھیتی سے دانے اگاتا ہے اور دانہ سے کھیتوں کو لہلہاتا ہے، کھجور گٹھلی سے اور گٹھلی کھجور سے تو ہی پیدا کرتا ہے مومن کو کافر کے ہاں اور کافر کو مومن کے ہاں تو ہی پیدا کرتا ہے، مرغی انڈے سے اور انڈا مرغی سے اور اسی طرح کی تمام تر چیزیں تیرے ہی قبضہ میں ہیں، تو جسے چاہے اتنا مال دے دے جو نہ گنا جائے نہ احاطہ کیا جائے اور جسے چاہے بھوک کے برابر روٹی بھی نہ دے، ہم مانتے ہیں کہ یہ کام حکمت سے پر ہیں اور تیرے ارادے اور تیری چاہت سے ہی ہوتے ہیں، طبرانی کی حدیث میں ہے اللہ کا اسم اعظم اس (آیت قل اللھم الخ،) میں ہے کہ جب اس نام سے اس سے دعا کی جائے تو وہ قبول فرما لیتا ہے۔