اس صفحہ میں سورہ Aal-i-Imraan کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ آل عمران کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
أَلَمْ تَرَ إِلَى ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ نَصِيبًا مِّنَ ٱلْكِتَٰبِ يُدْعَوْنَ إِلَىٰ كِتَٰبِ ٱللَّهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ يَتَوَلَّىٰ فَرِيقٌ مِّنْهُمْ وَهُم مُّعْرِضُونَ
ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا۟ لَن تَمَسَّنَا ٱلنَّارُ إِلَّآ أَيَّامًا مَّعْدُودَٰتٍ ۖ وَغَرَّهُمْ فِى دِينِهِم مَّا كَانُوا۟ يَفْتَرُونَ
فَكَيْفَ إِذَا جَمَعْنَٰهُمْ لِيَوْمٍ لَّا رَيْبَ فِيهِ وَوُفِّيَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ
قُلِ ٱللَّهُمَّ مَٰلِكَ ٱلْمُلْكِ تُؤْتِى ٱلْمُلْكَ مَن تَشَآءُ وَتَنزِعُ ٱلْمُلْكَ مِمَّن تَشَآءُ وَتُعِزُّ مَن تَشَآءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَآءُ ۖ بِيَدِكَ ٱلْخَيْرُ ۖ إِنَّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ
تُولِجُ ٱلَّيْلَ فِى ٱلنَّهَارِ وَتُولِجُ ٱلنَّهَارَ فِى ٱلَّيْلِ ۖ وَتُخْرِجُ ٱلْحَىَّ مِنَ ٱلْمَيِّتِ وَتُخْرِجُ ٱلْمَيِّتَ مِنَ ٱلْحَىِّ ۖ وَتَرْزُقُ مَن تَشَآءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ
لَّا يَتَّخِذِ ٱلْمُؤْمِنُونَ ٱلْكَٰفِرِينَ أَوْلِيَآءَ مِن دُونِ ٱلْمُؤْمِنِينَ ۖ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ فَلَيْسَ مِنَ ٱللَّهِ فِى شَىْءٍ إِلَّآ أَن تَتَّقُوا۟ مِنْهُمْ تُقَىٰةً ۗ وَيُحَذِّرُكُمُ ٱللَّهُ نَفْسَهُۥ ۗ وَإِلَى ٱللَّهِ ٱلْمَصِيرُ
قُلْ إِن تُخْفُوا۟ مَا فِى صُدُورِكُمْ أَوْ تُبْدُوهُ يَعْلَمْهُ ٱللَّهُ ۗ وَيَعْلَمُ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ ۗ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ
آیت 23 اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْکِتٰبِ اُوْتُوْا مجہول کا صیغہ ہے اور یاد رہے کہ جہاں مذمت کا پہلو ہوتا ہے وہاں مجہول کا صیغہ آتا ہے۔یُدْعَوْنَ اِلٰی کِتٰبِ اللّٰہِ لِیَحْکُمَ بَیْنَہُمْ ثُمَّ یَتَوَلّٰی فَرِیْقٌ مِّنْہُمْ وَہُمْ مُّعْرِضُوْنَ ۔یعنی کتاب کو مانتے بھی ہیں لیکن اس کے فیصلے کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
آیت 24 ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّآ اَیَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍص۔یہ مضمون سورة البقرۃ میں آچکا ہے۔ ان کی ڈھٹائی کا اصل سبب ان کے من گھڑت خیالات ہیں۔ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ تم کتاب پر ایمان رکھتے ہو تو اس پر عمل کیوں نہیں کر رہے ؟ اس میں تو لکھا ہے کہ سود حرام ہے اور تم سود خوری پر کمربستہ ہو ‘ اس کے حلال کو حلال اور اس کے حرام کو حرام کیوں نہیں جانتے ؟ تو اس کے جواب میں وہ اپنا یہ من گھڑت عقیدہ بیان کرتے ہیں کہ ہمیں تو جہنم کی آگ چھو ہی نہیں سکتی مگر گنتی کے چند دن۔ جب یہ عقیدہ ہے تو پھر انسان کا ہے کو دنیا کا نقصان برداشت کرے ع بابر بعیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست۔ پھر تو حلال سے ‘ حرام سے ‘ جائز سے ‘ ناجائز سے ‘ جیسے بھی عیش دنیا حاصل کیا جاسکتا ہو حاصل کرنا چاہیے۔ یہ عقیدہ درحقیقت ایمان بالآخرۃ کی نفی کردیتا ہے۔وَغَرَّہُمْ فِیْ دِیْنِہِمْ مَّا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ اس طرح کے جو عقائد ونظریات انہوں نے گھڑ لیے ہیں ان کے باعث یہ دین کے معاملے میں گمراہی کا شکار ہوگئے ہیں۔ اللہ نے تو ایسی کوئی ضمانت نہیں دی تھی۔ تورات لاؤ ‘ انجیل لاؤ ‘ کہیں ایسی ضمانت نہیں ہے۔ یہ تو تمہارا من گھڑت عقیدہ ہے اور اسی کی وجہ سے اب تم دین کے اندر بددین یا بےدین ہوگئے ہو۔
آیت 25 فَکَیْفَ اِذَا جَمَعْنٰہُمْ لِیَوْمٍ لاَّ رَیْبَ فِیْہِ قف اِس وقت تو یہ بڑھ چڑھ کر باتیں بنا رہے ہیں ‘ زبان درازیاں کر رہے ہیں۔ لیکن جب ہم انہیں ایک ایسے دن میں جمع کریں گے جس کے آنے میں ذرا شک نہیں ‘ تو اس دن ان کا کیا حال ہوگا !وَوُفِّیَتْ کُلُّ نَفْسٍ مَّا کَسَبَتْ وَہُمْ لاَ یُظْلَمُوْنَ اس کے بعد اب پھر ایک بہت عظیم دعا آرہی ہے۔ اس سورة مبارکہ میں بہت سی دعائیں ہیں۔ یہ بھی ایک عظیم دعا ہے ‘ جس کی باقاعدہ تلقین کر کے کہا گیا ہے کہ یوں کہا کرو۔
آیت 26 قُلِ اللّٰہُمَّ مٰلِکَ الْمُلْکِ کل ملک تیرے اختیار میں ہے۔ تُؤْتِی الْمُلْکَ مَنْ تَشَآءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْکَ مِمَّنْ تَشَآءُز وَتُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ ط بِیَدِکَ الْخَیْرُ ط اس کے دونوں معنی ہیں۔ ایک یہ کہ کل خیر و خوبی تیرے ہاتھ میں ہے اور دوسرے یہ کہ تیرے ہاتھ میں خیر ہی خیر ہے۔ بسا اوقات انسان جسے اپنے لیے شر سمجھ بیٹھتا ہے وہ بھی اس کے لیے خیر ہوتا ہے۔ سورة البقرۃ آیت 216 میں ہم پڑھ چکے ہیں : وَعَسٰٓی اَنْ تَکْرَہُوْا شَیْءًا وَّہُوَخَیْرٌ لَّکُمْج وَعَسٰٓی اَنْ تُحِبُّوْا شَیْءًا وَّہُوَ شَرٌّ لَّکُمْ ط۔
آیت 27 تُوْلِجُ الَّیْلَ فِی النَّہَارِ وَتُوْلِجُ النَّہَارَ فِی الَّیْلِز وَتُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَتُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّز اس کی بہترین مثال مرغی اور انڈا ہے۔ انڈے میں جان نہیں ہے لیکن اسی میں سے زندہ چوزہ برآمد ہوتا ہے اور مرغی سے انڈا برآمد ہوتا ہے۔
آیت 28 لاَ یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْکٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ ج اولیاء ایسے قلبی دوست ہوتے ہیں جو ایک دوسرے کے رازدار بھی بن جائیں اور ایک دوسرے کے پشت پناہ بھی ہوں۔ یہ تعلق کفار کے ساتھ اختیار کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ ان کے ساتھ اچھا رویہ ‘ ظاہری مدارات اور تہذیب و شائستگی سے بات چیت تو اور بات ہے ‘ لیکن دلی محبت ‘ قلبی رشتہ ‘ جذباتی تعلق ‘ باہمی نصرت و تعاون اور ایک دوسرے کے پشت پناہ ہونے کا رشتہ قائم کرلینے کی اجازت نہیں ہے۔ کفار کے ساتھ اس طرح کے تعلقات اللہ تعالیٰ کو ہرگز پسند نہیں ہیں۔وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ فَلَیْسَ مِنَ اللّٰہِ فِیْ شَیْءٍ اگر اللہ کے دشمنوں کے ساتھ تمہاری دوستی ہے تو ظاہر ہے پھر تمہارا اللہ کے ساتھ کوئی رشتہ وتعلق نہیں رہا ہے۔اِلاَّ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْہُمْ تُقٰٹۃً ط۔بعض اوقات ایسے حالات ہوتے ہیں کہ کھلے مقابلے کا ابھی موقع نہیں ہوتا تو آپ دشمن کو طرح دیتے ہیں اور اس طرح گویا وقت حاصل کرتے ہیں you are buying time تو اس دوران اگر ظاہری خاطر مدارات کا معاملہ بھی ہوجائے تو کوئی حرج نہیں ہے ‘ لیکن مستقل طور پر کفار سے قلبی محبت قائم کرلینا ہرگز جائز نہیں ہے۔ قرآن کے انہی الفاظ کو ہمارے ہاں اہل تشیع نے تقیہ کی بنیادبنا لیا ہے۔ لیکن انہوں نے اسے اس حد تک پہنچا دیا ہے کہ جھوٹ بولنا اور اپنے عقائد کو چھپا لینا بھی روا سمجھتے ہیں اور اس کے لیے دلیل یہاں سے لاتے ہیں۔ لیکن یہ ایک بالکل دوسری شکل ہے اور یہ صرف ظاہری مدارات کی حد تک ہے۔ جیسے کہ ہم سورة البقرۃ میں پڑھ چکے ہیں کہ اگرچہ تمہارے خلاف یہود کے دلوں میں حسد کی آگ بھری ہوئی ہے لیکن فَاعْفُوْا وَاصْفَحُوْا آیت 109 ابھی ذرا درگزر کرتے رہو اور چشم پوشی سے کام لو۔ ابھی فوری طور پر ان کے ساتھ مقابلہ شروع کرنا مناسب نہیں ہے۔ اس حد تک مصلحت بینی تو صحیح ہے ‘ لیکن یہ نہیں کہ جھوٹ بولا جائے ‘ معاذ اللہ !وَیُحَذِّرُکُمُ اللّٰہُ نَفْسَہٗ ط۔اللہ سے ڈرو۔ یعنی کسی اور سے خواہ مخواہ ڈر کر صرف خاطر مدارات کرلینا بھی صحیح نہیں ہے۔ کسی وقت مصلحت کا تقاضا ہو تو ایسا کرلو ‘ لیکن تمہارے دل میں خوف صرف اللہ کا رہنا چاہیے۔
آیت 29 قُلْ اِنْ تُخْفُوْا مَا فِیْ صُدُوْرِکُمْ اَوْ تُبْدُوْہُ یَعْلَمْہُ اللّٰہُ ط۔تم اپنے سینوں میں مخفی باتیں ایک دوسرے سے تو چھپا سکتے ہو ‘ اللہ تعالیٰ سے نہیں۔ سورة البقرۃ میں ہم پڑھ چکے ہیں : وَاِنْ تُبْدُوْا مَا فِیْ اَنْفُسِکُمْ اَوْ تُخْفُوْہُ یُحَاسِبْکُمْ بِہِ اللّٰہُ ط اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے خواہ تم اسے ظاہر کرو خواہ چھپاؤ اللہ تم سے اس کا محاسبہ کرلے گا۔