اللہ کی محبت صرف زبانی دعویٰ نہیں ہے اور نہ کوئی وہ وجدانی امر ہے۔ اس کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کا اتباع ضروری ہے ۔ آپ کی سیرت اور نقش قدم پر چلنا ضروری ہے ۔ اپنی زندگی میں اسلامی نظام رائج کرنا ضروری ہے ۔ ایمان صرف چند کلمات ادا کرنے کا نام نہیں ہے ۔ نہ یہ شعور اور جذبات سے عبارت ہے ۔ نہ وہ صرف چند شعائر کے قیام کا نام ہے ۔ بلکہ ایمان اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا نام ہے ۔ اور اس منہاج پر عمل کا نام جس کے حامل رسول اللہ ہیں ۔
پہلی آیت کی تفسیر میں امام ابن کثیر فرماتے ہیں ” یہ آیت ہر اس شخص کے کیس کا فیصلہ کردیتی ہے جو اللہ کی محبت کا دعویٰ کرتا ہے لیکن اس کا سلوک طریقہ محمدیہ پر نہیں ہے ۔ یہ شخص فی الحقیقت جھوٹا ہے ۔ یہاں تک کہ وہ شریعت محمدیہ کی اطاعت کرے ۔ اور اپنے تمام اقوال اور اعمال میں دین محمدی کی اطاعت کرے ۔ جیسا کہ صحیح حدیث میں رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے۔” جس شخص نے جو عمل کیا ‘ جو ہمارے کام کے مطابق نہیں ہے ‘ تو وہ مردود ہے ۔ “
اور دوسری آیت کی تشریح میں فرماتے ہیں قُلْ أَطِيعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَإِنْ تَوَلَّوْا……………” کہہ دو کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرو بس اگر وہ منہ پھیر دیں ۔ “………اس سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے طریقے کی مخالفت کفر ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ ایسے اوصاف والے شخص سے محبت ہرگز نہیں کرتا۔ اگرچہ ایسا شخص یہ دعویٰ کرے یا یہ یقین کرے کہ وہ محب اللہ ہے ۔ “
امام شمس الدین ابومحمد ‘ ابن قیم الجوزیہ اپنی کتاب زاد المعاد میں فرماتے ہیں ۔” جو شخص کتب سیرت اور ثابت شدہ احادیث پر غور کرے گا اسے معلوم ہوگا بیشمار اہل کتاب اور مشرکین ایسے ہیں جو رسول اللہ ﷺ کی صداقت اور حقانیت کی شہادت دیتے ہیں ۔ لیکن ان کی یہ شہادت انہیں اسلام میں داخل نہیں کرتی ۔ تو معلوم ہوا کہ اسلام اس سے کہیں زیادہ کوئی اور چیز ہے ۔ اسلام صرف علم اور معرفت کا نام نہیں ہے ۔ اور نہ ہی وہ معرفت اور اقرار سے عبارت ہے ۔ بلکہ اسلام عبارت ہے ‘ معرفت اقرار اور اطاعت تینوں سے ۔ یہ انقیاد اور طاعت ظاہری امور میں بھی لازمی ہے اور باطنی امور میں بھی ۔ “
دین اسلام کی ایک حقیقت اور ماہیت ہے اور جب تک وہ حقیقت اور ماہیت موجود نہ ہوگی دین نہ ہوگا۔ اور وہ حقیقت صرف رسول اللہ ﷺ کا اتباع ہے ۔ شریعت کا اتباع ہے ۔ کتاب اللہ کے مطابق عدالتی نظام کا قیام ہے ۔ اور یہ حقیقت عقیدہ توحید سے پھوٹ کر نکلتی ہے ۔ جس طرح اس عقیدے کی تشریح اسلام نے کی ہے ۔ یعنی یہ کہ اللہ اپنی ذات میں وحدہ لاشریک ہے ۔ اس کا حق ہے کہ لوگ پوری طرح اس کے غلام اور بندے ہوں ‘ وہ اللہ کے احکام نافذ کرنے والے ہوں۔ ان میں شریعت الٰہیہ نافذ ہو اور وہ ایسی اقدار قائم کریں جن کے مطابق لوگ اپنے فیصلے کریں اور پھر ان پر راضی ہوں ۔ اس عقیدے کی رو سے اللہ واحد نگہبان ہے ۔ اس لئے وہی حاکم ہے اور لوگوں کے درمیان تمام اجتماعی تعلقات اس حاکمیت کی اساس پر قائم ہوں ‘ جس طرح اس پوری کائنات کا نظام اس کے قانون قدرت کے مطابق رواں دواں ہے ۔ اور ظاہر ہے کہ انسان بھی اس کائنات کا ایک جزء ہے ۔
جیسا کہ ہم نے تفصیل سے مطالعہ کیا اس سورت کا پہلا سبق بالکل وضاحت اور صاف ستھرے طریقے سے اس بات کا فیصلہ کردیتا ہے کہ اللہ کے نزدیک مقبول نظام زندگی صرف اسلام ہے۔ اس سے فرار اور جان چھڑانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ جو شخص بھی مسلمان بننا چاہتا ہے اسے یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی ۔ اسلام کی یہی صورت ہے ‘ وہ صورت نہیں ہے جو آج کل لوگوں نے اپنے لئے خود گھڑ رکھی ہے ۔ وہ محض اوہام ہیں ‘ محض خرافات ہیں۔
آیت 31 قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یہ آیت بہت معروف ہے اور مسلمانوں کو بہت پسند بھی ہے۔ ہمارے ہاں مواعظ و خطابات میں یہ بہت کثرت سے بیان ہوتی ہے۔ فرمایا کہ اے نبی ﷺ اہل ایمان سے کہہ دیجیے کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو ‘ میرا اتباع کرو ! اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ :یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ وَیَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ ط وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ
جھوٹا دعویٰاس آیت نے فیصلہ کردیا جو شخص اللہ کی محبت کا دعویٰ کرے اور اس کے اعمال افعال عقائد فرمان نبوی ﷺ کے مطابق نہ ہوں، طریقہ محمدیہ پر وہ کار بند نہ ہو تو وہ اپنے اس دعوے میں جھوٹا ہے صحیح حدیث میں ہے رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو شخص کوئی ایسا عمل کرے جس پر ہمارا حکم نہ ہو وہ مردود ہے، اسی لئے یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھنے کے دعوے میں سچے ہو تو میری سنتوں پر عمل کرو اس وقت تمہاری چاہت سے زیادہ اللہ تمہیں دے گا یعنی وہ خود تمہارا چاہنے والا بن جائے گا۔ جیسے کہ بعض حکیم علماء نے کہا ہے کہ تیرا چاہنا کوئی چیز نہیں لطف تو اس وقت ہے کہ اللہ تجھے چاہنے لگ جائے۔ غرض اللہ کی محبت کی نشانی یہی ہے کہ ہر کام میں اتباع سنت مدنظر ہو۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا دین صرف اللہ کے لئے محبت اور اسی کے لئے دشمنی کا نام ہے، پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی، لیکن یہ حدیث سنداً منکر ہے، پھر فرماتا ہے کہ حدیث پر چلنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ تمہارے تمام تر گناہوں کو بھی معاف فرما دے گا۔ پھر ہر عام خاص کو حکم ملتا ہے کہ سب اللہ و رسول کے فرماں بردار رہیں جو نافرمان ہوجائیں یعنی اللہ رسول کی اطاعت سے ہٹ جائیں تو وہ کافر ہیں اور اللہ ان سے محبت نہیں رکھتا۔ اس سے واضح ہوگیا کہ رسول اللہ ﷺ کے طریقہ کی مخالفت کفر ہے، ایسے لوگ اللہ کے دوست نہیں ہوسکتے گو ان کا دعویٰ ہو، لیکن جب تک اللہ کے سچے نبی امی خاتم الرسل رسول جن و بشر کی تابعداری پیروی اور اتباع سنت نہ کریں وہ اپنے اس دعوے میں جھوٹے ہیں، حضرت رسول اللہ ﷺ تو وہ ہیں کہ اگر آج انبیاء اور رسول بلکہ بہترین اور اولوالعزم پیغمبر بھی زندہ ہوتے تو انہیں بھی آپ کے مانے بغیر اور آپ کی شریعت پر کاربند ہوئے بغیر چارہ ہی نہ تھا، اس کا بیان تفصیل کے ساتھ آیت (وَاِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاق النَّبِيّٖنَ) 3۔ آل عمران :81) کی تفسیر میں آئے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔