اس صفحہ میں سورہ Aal-i-Imraan کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ آل عمران کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُّحْضَرًا وَمَا عَمِلَتْ مِن سُوٓءٍ تَوَدُّ لَوْ أَنَّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُۥٓ أَمَدًۢا بَعِيدًا ۗ وَيُحَذِّرُكُمُ ٱللَّهُ نَفْسَهُۥ ۗ وَٱللَّهُ رَءُوفٌۢ بِٱلْعِبَادِ
قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ ٱللَّهَ فَٱتَّبِعُونِى يُحْبِبْكُمُ ٱللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَٱللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
قُلْ أَطِيعُوا۟ ٱللَّهَ وَٱلرَّسُولَ ۖ فَإِن تَوَلَّوْا۟ فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا يُحِبُّ ٱلْكَٰفِرِينَ
۞ إِنَّ ٱللَّهَ ٱصْطَفَىٰٓ ءَادَمَ وَنُوحًا وَءَالَ إِبْرَٰهِيمَ وَءَالَ عِمْرَٰنَ عَلَى ٱلْعَٰلَمِينَ
ذُرِّيَّةًۢ بَعْضُهَا مِنۢ بَعْضٍ ۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
إِذْ قَالَتِ ٱمْرَأَتُ عِمْرَٰنَ رَبِّ إِنِّى نَذَرْتُ لَكَ مَا فِى بَطْنِى مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّىٓ ۖ إِنَّكَ أَنتَ ٱلسَّمِيعُ ٱلْعَلِيمُ
فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ إِنِّى وَضَعْتُهَآ أُنثَىٰ وَٱللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ وَلَيْسَ ٱلذَّكَرُ كَٱلْأُنثَىٰ ۖ وَإِنِّى سَمَّيْتُهَا مَرْيَمَ وَإِنِّىٓ أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ ٱلشَّيْطَٰنِ ٱلرَّجِيمِ
فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُولٍ حَسَنٍ وَأَنۢبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا وَكَفَّلَهَا زَكَرِيَّا ۖ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيْهَا زَكَرِيَّا ٱلْمِحْرَابَ وَجَدَ عِندَهَا رِزْقًا ۖ قَالَ يَٰمَرْيَمُ أَنَّىٰ لَكِ هَٰذَا ۖ قَالَتْ هُوَ مِنْ عِندِ ٱللَّهِ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ يَرْزُقُ مَن يَشَآءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ
يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَرًا وَمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوءٍ تَوَدُّ لَوْ أَنَّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهُ أَمَدًا بَعِيدًا
” وہ دن آنے والا ہے جب ہر نفس اپنے کئے کا پھل حاضر پائے گا ۔ خواہ اس نے بھلائی کی ہو یا برائی ‘ اس روز آدمی یہ تمنا کرے گا کہ کاش ابھی یہ دن اس سے دور ہوتا۔ “
یہ ایک ایسا خطاب ہے ‘ جو قلب انسانی کی گہرائیوں تک اترتا چلا جاتا ہے ‘ انسان کا کل سرمایہ اس کے سامنے رکھ دیا جاتا ہے اور اسے یاد دلایا جاتا ہے کہ ایک دن وہ بذات خود اپنے اس سرمائے کے سامنے کھڑا ہوگا اور وہ پسند کرے گا اس کا یہ سرمایہ اس سے دور ہوتا لیکن افسوس کہ اس کی یہ خواہش ہرگز پوری نہ ہوسکے گی ۔ یا وہ یہ خواہش کرے گا کہ یہ دن ہی نہ آتا ‘ لیکن وہ تو آگیا ہے۔ وہ اسے دیکھ رہا ہے ۔ وہ پکڑا گیا ہے ۔ اب کوئی چھٹکارا نہیں ہے ۔ اب کوئی جائے فرار نہیں ہے !
اور یہ کلام عالی مقام قلب بشری پر مزید حملے جاری رکھتا ہے ‘ اب اللہ تعالیٰ لوگوں کو اپنی ذات ہیب مال سے ڈراتا ہے وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ……………” اور اللہ اب تمہیں اپنی ذات سے ڈراتا ہے ۔ “………لیکن آخر میں اللہ تعالیٰ اس خوفناک ماحول میں بھی بندے کو اپنی رحمت کی کرن بھی دکھاتا ہے اور یہ اشارہ کرتا ہے کہ ابھی فرصت باقی ہے وقت ختم نہیں ہوگیا۔ واللہ رؤف بالعباد ” اور اللہ اپنے بندوں کا نہایت خیر خواہ ہے ۔ “ اور اللہ کی جانب سے قبل از وقت یہ تحذیر اور ڈراوا بھی اس کی مہربانی ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ اپنے بندوں کی بھلائی چاہتا ہے ۔
اہل ایمان اور کفار کے درمیان دوستی کے تعلق کے خلاف یہ عظیم حملہ ‘ یہ ہمہ جہت حملہ ‘ جس کے اندر مختلف قسم کے مفید اشارے ‘ ہدایات اور نصیحتیں پائی جاتی ہیں ۔ اس کی ضروریات اس موقع پر کیوں پیش آئی ‘ اس سے اس بات کا اظہارہوتا ہے کہ اس دور میں اسلامی کیمپ اور اس اردگرد پھیلے ہوئے مخالف کیمپ میں ‘ لوگوں کے درمیان رشتہ داری ‘ معاشی اور معاشرتی تعلقات موجود تھے ۔ جماعت مسلمہ کے افراد کے تعلقات اپنے رشتہ داروں اور دوستوں سے قائم تھے ۔ یہ تعلقات مکہ کے لوگوں کے ساتھ بھی تھے ۔ اور مدینہ کے اردگرد یہودیوں کے ساتھ بھی قائم تھے ۔ ان تعلقات کی اساس رشتہ داری یا تجارت پر تھی ۔ جبکہ اسلام یہ چاہتا تھا کہ اس کے اس جدید معاشرے میں لوگوں کے باہمی تعلقات صرف نظریہ حیات کی اساس پر ہوں ۔ اس نظام زندگی کی اساس پر جو اس نظریہ حیات سے تشکیل پایا ہے ۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس میں اسلام کسی قسم کی کمزوری یا ترقی ہرگز برداشت نہیں کرتا ۔
نیز اس سے یہ بات بھی ظاہر ہوتی ہے ‘ انسانی دل و دماغ اور اس کی فکر ونظر ہر وقت اس بات کی محتاج ہے وہ ان مشکلات اور رکاوٹوں سے آزادی حاصل کرے اور ان بندھنوں کو توڑ دے جو اسلامی نظام اور اللہ کی راہ کی طرف آنے میں حائل ہوں………ہاں یہ بات ذہن میں رہے کہ اسلام اپنے دشمنوں کے ساتھ حسن سلوک سے منع نہیں کرتا ۔ اگرچہ وہ اس کے دین کے دشمن ہوں ۔ اس لئے کہ حسن سلوک اور حسن معاملہ ایک الگ چیز ہے اور ولاء اور دوستی ایک الگ معاملہ ہے ۔ دوستی میں باہم محبت ہوتی ہے ‘ ایک دوسرے کی امداد ونصرت ہوتی ہے ۔ اور یہ کام وہ دل سے ہرگز نہیں کرسکتا جو مومن ہے ۔ ایک مومن صرف مومنین کے ساتھ دوستی کرسکتا ہے جو رابطہ ایمان میں منسلک ہیں۔ اور جو اسلامی نظام زندگی میں باہم رفیق ہیں اور جو لوگ شریعت نافذ کرتے اور اس کے سامنے جھکتے ہیں۔
سب سے آخر میں اس سبق کا اختتامیہ ایک فیصلہ کن انداز میں سامنے آتا ہے۔ اور وہ اس مسئلے کو فیصلہ کن انداز میں پیش کرتا ہے اور یہ مسئلہ وہی ہے جس کے اردگرد یہ پوری سورت گھوم رہی ہے ۔ یہ اختتامیہ فیصلہ کن اور مختصر انداز میں حقیقت ایمان اور حقیقت دین کو بیان کردیتا ہے اور ایمان اور کفر کے درمیان ایک حد فاصل قائم کردی جاتی ہے ۔ یہ حد اس قدر واضح ہے کہ اب کسی کو کوئی غلط فہمی پیدا ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
اللہ کی محبت صرف زبانی دعویٰ نہیں ہے اور نہ کوئی وہ وجدانی امر ہے۔ اس کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کا اتباع ضروری ہے ۔ آپ کی سیرت اور نقش قدم پر چلنا ضروری ہے ۔ اپنی زندگی میں اسلامی نظام رائج کرنا ضروری ہے ۔ ایمان صرف چند کلمات ادا کرنے کا نام نہیں ہے ۔ نہ یہ شعور اور جذبات سے عبارت ہے ۔ نہ وہ صرف چند شعائر کے قیام کا نام ہے ۔ بلکہ ایمان اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا نام ہے ۔ اور اس منہاج پر عمل کا نام جس کے حامل رسول اللہ ہیں ۔
پہلی آیت کی تفسیر میں امام ابن کثیر فرماتے ہیں ” یہ آیت ہر اس شخص کے کیس کا فیصلہ کردیتی ہے جو اللہ کی محبت کا دعویٰ کرتا ہے لیکن اس کا سلوک طریقہ محمدیہ پر نہیں ہے ۔ یہ شخص فی الحقیقت جھوٹا ہے ۔ یہاں تک کہ وہ شریعت محمدیہ کی اطاعت کرے ۔ اور اپنے تمام اقوال اور اعمال میں دین محمدی کی اطاعت کرے ۔ جیسا کہ صحیح حدیث میں رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے۔” جس شخص نے جو عمل کیا ‘ جو ہمارے کام کے مطابق نہیں ہے ‘ تو وہ مردود ہے ۔ “
اور دوسری آیت کی تشریح میں فرماتے ہیں قُلْ أَطِيعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَإِنْ تَوَلَّوْا……………” کہہ دو کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرو بس اگر وہ منہ پھیر دیں ۔ “………اس سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے طریقے کی مخالفت کفر ہے ۔ اور اللہ تعالیٰ ایسے اوصاف والے شخص سے محبت ہرگز نہیں کرتا۔ اگرچہ ایسا شخص یہ دعویٰ کرے یا یہ یقین کرے کہ وہ محب اللہ ہے ۔ “
امام شمس الدین ابومحمد ‘ ابن قیم الجوزیہ اپنی کتاب زاد المعاد میں فرماتے ہیں ۔” جو شخص کتب سیرت اور ثابت شدہ احادیث پر غور کرے گا اسے معلوم ہوگا بیشمار اہل کتاب اور مشرکین ایسے ہیں جو رسول اللہ ﷺ کی صداقت اور حقانیت کی شہادت دیتے ہیں ۔ لیکن ان کی یہ شہادت انہیں اسلام میں داخل نہیں کرتی ۔ تو معلوم ہوا کہ اسلام اس سے کہیں زیادہ کوئی اور چیز ہے ۔ اسلام صرف علم اور معرفت کا نام نہیں ہے ۔ اور نہ ہی وہ معرفت اور اقرار سے عبارت ہے ۔ بلکہ اسلام عبارت ہے ‘ معرفت اقرار اور اطاعت تینوں سے ۔ یہ انقیاد اور طاعت ظاہری امور میں بھی لازمی ہے اور باطنی امور میں بھی ۔ “
دین اسلام کی ایک حقیقت اور ماہیت ہے اور جب تک وہ حقیقت اور ماہیت موجود نہ ہوگی دین نہ ہوگا۔ اور وہ حقیقت صرف رسول اللہ ﷺ کا اتباع ہے ۔ شریعت کا اتباع ہے ۔ کتاب اللہ کے مطابق عدالتی نظام کا قیام ہے ۔ اور یہ حقیقت عقیدہ توحید سے پھوٹ کر نکلتی ہے ۔ جس طرح اس عقیدے کی تشریح اسلام نے کی ہے ۔ یعنی یہ کہ اللہ اپنی ذات میں وحدہ لاشریک ہے ۔ اس کا حق ہے کہ لوگ پوری طرح اس کے غلام اور بندے ہوں ‘ وہ اللہ کے احکام نافذ کرنے والے ہوں۔ ان میں شریعت الٰہیہ نافذ ہو اور وہ ایسی اقدار قائم کریں جن کے مطابق لوگ اپنے فیصلے کریں اور پھر ان پر راضی ہوں ۔ اس عقیدے کی رو سے اللہ واحد نگہبان ہے ۔ اس لئے وہی حاکم ہے اور لوگوں کے درمیان تمام اجتماعی تعلقات اس حاکمیت کی اساس پر قائم ہوں ‘ جس طرح اس پوری کائنات کا نظام اس کے قانون قدرت کے مطابق رواں دواں ہے ۔ اور ظاہر ہے کہ انسان بھی اس کائنات کا ایک جزء ہے ۔
جیسا کہ ہم نے تفصیل سے مطالعہ کیا اس سورت کا پہلا سبق بالکل وضاحت اور صاف ستھرے طریقے سے اس بات کا فیصلہ کردیتا ہے کہ اللہ کے نزدیک مقبول نظام زندگی صرف اسلام ہے۔ اس سے فرار اور جان چھڑانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ جو شخص بھی مسلمان بننا چاہتا ہے اسے یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی ۔ اسلام کی یہی صورت ہے ‘ وہ صورت نہیں ہے جو آج کل لوگوں نے اپنے لئے خود گھڑ رکھی ہے ۔ وہ محض اوہام ہیں ‘ محض خرافات ہیں۔
درس 24 ایک نظر میں
بعض وہ روایات ‘ جن میں رسول اکرم ﷺ اور وفد نجران کے درمیان مناظرے کیا بیان آیا ہے۔ یہ کہتی ہیں کہ اس سورت میں جن قصوں کا ذکر ہوا ہے ۔ مثلاً حضرت عیسیٰ کی ولادت ‘ ان کی والدہ کی ولادت ‘ حضرت یحییٰ اور دوسرے واقعات ‘ ان شبہات کے رد میں نازل ہوئے ۔ جن کو لے کر یہ وفد آیا تھا ۔ اور ان لوگوں کے شبہات کی عمارت قرآن کریم کی اس آیت پر کھڑی کی گئی تھی جس میں کہا گیا کہ حضرت عیسیٰ کَلِمَۃُ اللّٰہِ …………ہیں جو مریم کی طرف آیا اور وہ ” اس کا روح “ ہیں نیز سورت مریم میں جن امور کا ذکر نہ ہوا تھا انہوں نے اس کے بارے میں رسول ﷺ سے جواب طلب کیا تھا۔
یہ بات درست بھی ہوسکتی ہے ‘ لیکن اس سورت میں جس طرح ان قصوں کو لایا گیا ہے وہ بعینہ اسی طریقہ پر ہے جس طرح قرآن کریم قصوں کو لاتا ہے۔ یعنی کچھ حقائق پیش نظر ہوتے ہیں ۔ اور ان قصوں کے ذریعے قرآن کریم ان حقائق کو ذہن نشین کرتا ہے اور وہ حقائق دراصل پوری سورت کا موضوع سخن ہوتے ہیں ‘ جو اس موضوع کے گرد گھومتے ہیں ۔ اور قصوں کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ خود بخود ان سے وہ حقائق ظاہر ہوتے ہیں اور ذہن نشین ہوتے چلے جاتے ہیں ۔ اور وہ حقائق زندہ حقائق بن جاتے ہیں اور یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ بعض حقائق اور تصورات کے قصوں کے ذریعے بڑی خوبصورتی کے ساتھ ذہن نشین کردیا جاتا ہے ‘ انسان پر ان کا گہرا اثر ہوتا ہے اور وہ زندہ صورت میں نظر آتے ہیں ۔ وہ حقائق زندہ حقائق بن جاتے ہیں اور یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ بعض حقائق اور تصورات کے قصوں کے ذریعے بڑی خوبصورتی کے ساتھ ذہن نشین کردیا جاتا ہے ‘ انسان پر ان کا گہرا اثر ہوتا ہے اور وہ زندہ صورت میں نظر آتے ہیں ۔ وہ حقائق انسان کی زندگی میں چلتے پھرتے نظر آتے ہیں جس طرح اسکرین پر کردار ہوتے ہیں ۔ محض فلسفیانہ اور تجریدی انداز بیان کے مقابلے میں حکایتی انداز بیان بہت ہی موثر ہوتا ہے ۔
اگر غور کریں تو ان قصوں سے بھی وہ حقائق اچھی طرح کھل کر سامنے آتے ہیں جو اس سورت کا موضوع ہیں اور یہ سورت ان حقائق پر مرکوز ہے ۔ اور جن خطوط پر اس میں بحث ہورہی ہے اسی پر یہ قصے چلتے ہیں ۔ اس لئے ان قصوں میں ‘ ان کے شان نزول کا کوئی مخصوص واقعہ نظر نہیں آتا ۔ بلکہ قصوں سے وہ واقعات لئے گئے ہیں جو اصل واقعات ہیں اور جن سے اسلام کا نظریاتی پہلو اچھی طرح واضح ہوتا ہے۔
اس سورت کا اصل مسئلہ جس طرح کہ ہم اس سے پہلے کہہ آئے ہیں ۔ عقیدہ توحید ہے ۔ یہ کہ اللہ اپنی ذات میں ایک ہے اور اس کے سوا کوئی الٰہ موجود نہیں ہے ۔ اور یہ کہ وہ واحد نگہبان ہے اور اس جہاں کو چلانے والا ہے۔ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ اور دوسرے وہ قصص جو اس کی تکمیل میں یہاں لائے گئے ہیں وہ اس عقیدہ ٔ توحید کو اچھی طرح ثابت کرتے ہیں ۔ یہ قصص اللہ کے لئے اولاد کے تصور کی نفی کرتے ہیں ‘ اس لئے شرک کے تصور کو رد کرتے ہیں ۔ وہ ان تصورات کو بعید از قیاس اور بعید ازفہم بناتے ہیں ۔ یہ ثابت کرتے ہیں کہ اس قسم کے شبہات غلط ہیں ۔ اور ایسے تصورات کھوٹے تصورات ہیں ۔ اس لئے حضرت مریم کی پیدائش کے واقعات کھول کر بیان کئے جاتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ کی پیدائش کی تصویر کھینچی جاتی ہے اور متعلقہ واقعات دیئے جاتے ہیں۔ یہ واقعات اس انداز میں لائے جاتے ہیں کہ پڑھنے والے کے ذہن میں اس کی بشریت کے بارے میں کوئی شبہ ہی نہیں رہتا ۔ اور پھر یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ اسی طرح رسول ہیں جس طرح دوسرے رسول گزرے ہیں ۔ ان کا ہی مقام ہے جو ان رسولوں کا تھا۔ ان کی طبعی حقیقت بھی وہی ہے جو ان رسولوں کی تھی ‘ یہ قصص حضرت عیسیٰ کی اور غیر معمولی پیدائش کے خارق العادت واقعہ کی ایسی تعبیر اور ایسی تشریح کرتے ہیں کہ جس سے اس اعجوبے کی دل لگتی تعبیر سامنے آجاتی ہے ۔ جس میں کوئی پیچیدگی اور کوئی لاینحل عقدہ نہیں رہتا ۔ اور اس تعبیر پر دل و دماغ بالکل مطمئن ہوجاتے ہیں اور یہ معاملہ ایک عام اور عادی معاملہ بن جاتا ہے اس میں کوئی بات خارق العادت نظر نہیں آتی اور قصے کے آخر میں جو اختتامیہ آتا ہے وہ قابل غور ہے۔
إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِنْدَ اللَّهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ
” بیشک اللہ کے نزدیک عیسیٰ کی پیدائش آدم کی طرح تھی ۔ اس کو اللہ نے مٹی سے بنایا اور پھر اس کو کہا ہوجا ‘ تو ہوگیا “
یوں دل کو یقین اور سکون نصیب ہوگیا ۔ تعجب ہوتا ہے کہ اس سادہ حقیقت کے بارے میں کیونکر شبہات پیدا ہوئے۔
اس سورت میں جو دوسرا اہم مسئلہ بیان کیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے ۔ یہ دوسرا مسئلہ بھی پہلے مسئلے یعنی عقیدہ توحید پر مبنی ہے۔ یعنی دین اسلام ہے اور اسلام کا مفہوم اتباع اور انقیاد ہے ۔ یہ بات بھی ان قصص کے اندر بڑی وضاحت سے بیان کی گئی ہے ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل سے کہتے ہیں ” میں اپنے سے پہلے نازل ہونیوالی کتاب تورات کی تصدیق کرتا ہوں اور اس لئے کہ میں حلال کروں بعض ان اشیاء کو جو تم پر حرام قرار دی گئی تھیں ۔ “ اس قول سے معلوم ہوتا ہے کہ رسالت کی نوعیت کیا ہوتی ہے۔ رسول دراصل بھیجا ہی اس لئے جاتا ہے کہ وہ لوگوں کے لئے نظام زندگی تجویز کرے ۔ ان کے لئے حلال و حرام کا ضابطہ وضع کرے تاکہ اہل ایمان اسے تسلیم کریں اور اطاعت کریں ۔ اس کے بعد حواریوں کی زبانی بھی اسی مفہوم کی تائید کی گئی ۔” جب عیسیٰ (علیہ السلام) نے محسوس کیا کہہ یہ لوگ کفر پر کمر بستہ ہوگئے ہیں ‘ تو آپ نے کہا کون ہے میری مدد کرنے والا اللہ کی راہ میں ؟ حواریوں نے کہا :” ہم ہیں اللہ کے مددگار ہم اللہ پر ایمان لائے ‘ آپ گواہ رہیں کہ ہم مسلمان ہیں ۔ اے ہمارے رب ! ہم ایمان لائے اس پر جو تونے اتارا ہے اور ہم رسول کے مطیع فرمان ہوگئے ہیں۔ ہمیں بھی آپ گواہوں میں لکھ دیجئے ۔ “
اس سورت کا ایک اہم موضوع یہ تھا کہ اہل ایمان اور ان کے اللہ کے درمیان تعلق کی کیا نوعیت ہوتی ہے ۔ ان قصص میں تعلق باللہ پر بھی کافی بات ہوئی ہے ۔ ان قصوں میں ان برگزیدہ ہستیوں کے حالات بیان ہوئے ہیں ۔ جنہیں اللہ نے چن لیا تھا ‘ اور ان میں سے بعض دوسروں کی اولاد تھے ۔ ان قصوں میں بیگم عمران کے قصے میں تعلق باللہ کے موضوع پر روشنی پڑتی ہے ۔ وہ اپنی بچی کے بارے میں اپنے رب سے یوں مخاطب ہوتی ہے جیسے اسے دیکھ رہی ہو ‘ اسی طرح حضرت مریم سے حضرت زکریاعلیہ السلام کا مکالمہ ‘ حضرت زکریا کا اپنے رب کے جناب میں عاجزانہ دعا اور التجاء ‘ پھر حواریوں کا اپنے نبی کو لبیک کہا اور پھر اللہ تعالیٰ سے ملتجی ہونا ‘ یوں ان قصوں میں تعلق باللہ کے زندہ مناظر نظر آتے ہیں ۔
جب یہ قصص ختم ہوتے ہیں تو ان پر ایسا اختتامیہ آتا ہے جس میں یہ تمام حقائق دہرادیئے گئے ہیں جن کے لئے یہ قصص لائے گئے تھے ۔ اور ان حقائق کو خلاصہ کی شکل میں پیش کیا گیا ہے۔ اس خلاصے میں عیسیٰ (علیہ السلام) کی حقیقت بیان ہوتی ہے ۔ مخلوق کا مزاج اور تخلیق میں ارادہ الٰہیہ کے دخل کے بارے میں حقائق بیان ہوئے ہیں ۔ یہ بیان خالص وجدانی بیان ہے ۔ اہل کتاب کو ان حقائق کے تسلیم کرنے کء دعوت دی گئی ہے اور ان کو پھر دعوت مباہلہ دی گئی ۔
اس سبق کے آخر میں پھر ایک جامع اور مانع بیان دیا گیا ہے اور حکم دیا گیا ہے کہ آپ عام اہل کتاب کو اس حقیقت کی طرف دعوت دیں ‘ چاہے وہ مناظرہ کے لئے آئے ہوں یا نہ آئے ہوں ۔ جو اس وقت موجود تھے یا جو آج کے بعد کے ادوار میں موجود ہیں ۔ قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلا نَعْبُدَ إِلا اللَّهَ وَلا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ (64)
کہو ‘ اے اہل کتاب ! آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہار درمیان یکساں ہے ۔ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں ‘ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں ‘ اور ہم میں سے کوئی اللہ کے سوا کسی کو اپنا رب نہ بنائے۔ “ اس دعوت کو قبول کرنے سے اگر وہ منہ موڑیں تو صاف کہہ دو کہ گواہ رہو ‘ ہم تو مسلم ہیں۔ “
یہاں یہ مباحثہ ختم ہوجاتا ہے ‘ اور معلوم ہوجاتا ہے کہ اسلام لوگوں سے کیا مطالبات کرتا ہے ۔ وہ زندگی کے کیا قواعد وضع کرتا ہے۔ یہاں دین اور اسلام کا مفہوم بتایا جاتا ہے ۔ ہر وہ بھدی صورت صاف ہوجاتی ہے اور وہ تحریف شدہ نظام چھٹ کر رہ جاتا ہے ۔ جس کے بارے میں اس کے ماننے والوں کا دعویٰ ہوتا ہے کہ وہ اسلام ہے ۔ اور وہ دین ہے حالانکہ وہ حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا ۔ غرض اس سبق کا یہ اصل موضوع تھا اور یہی موضوع اس سورت کا بھی موضوع تھا۔ جسے ان قصص نے بیان کیا ایک دلکش اور دلچسپ کہانی کی شکل میں ‘ جس میں گہرے اشارے موجود تھے ۔ قرآن میں قصص کے بیان کی غرض وغایت ہی یہ ہے ۔ اس غرض وغایت کے لئے یہ قصے مناسب اسلوب میں آتے ہیں ۔ اور مختلف سورتوں میں ان قصص کو اسی خاص اسلوب میں لایا گیا ہے۔
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ سورت مریم میں بھی بیان ہوا ہے ۔ اور یہاں بھی یہ قصہ بیان ہوا ہے ۔ یہاں اور وہاں دونوں جگہ اس پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اس کے بعض حصوں کو مختصر بیان کیا گیا اور بعض تفصیلات دی گئی ہیں ۔ مثلاً سورت مریم میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت کے حصے کو تفصیلاً بیان کیا گیا ہے ‘ جبکہ حضرت مریم کی ولادت کا ذکر وہاں نہیں تھا ۔ یہاں حواریوں کے ساتھ مفصل کلام ‘ اور ولادت کا حصہ مختصر ہے ۔ جبکہ یہاں اختتامیہ بہت ہی طویل ہے ۔ اس لئے کہ یہاں جن موضوعات پر مباحثہ تھا وہ موضوعات بہت ہی اہم تھے ۔ مثلاً عقیدہ توحید ‘ دین کا صحیح تصور ‘ وحی الٰہی اور رسالت کا تصور جبکہ یہ مسائل سورت مریم میں زیر بحث نہ تھے ۔ ان نکات سے معلوم ہوتا ہے کہ بیان قصص میں قرآن کا اسلوب کیا ہے ۔ یہ اسلوب ہمیشہ سورت کے موضوعات کے پیش نظر طے ہوتا ہے ۔
اب ہم آیات پر بحث کریں گے ۔ اس قصے کا آغاز ان لوگوں کی فہرست سے ہوتا ہے جو برگزیدہ تھے اور جنہیں اللہ نے باررسالت کے اٹھانے کے لئے چن لیا تھا۔ ابتدائے آفرینش سے یہ رسالت ایک تھی اور جس دین کو پیش کیا گیا وہ ایک ہی دین تھا۔ ان لوگوں کا انتخاب اس لئے ہوا تھا کہ وہ اقوام اور ازمنہ کی طویل ترین انسانی تاریخ میں قافلہ ایمان کے سالار ہوں ‘ اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ یہ لوگ ایک ہی سلسلے کے تھے اور جو ایک دوسرے کی نسل سے پیدا ہوئے تھے ۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ ان لوگوں کو نسب نامہ طبعی طور پر ملتا ہو اور وہ ایک دوسرے کی نسبی ذریت ہوں ۔ (اگرچہ ان سب کا نسب نامہ حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت آدم (علیہ السلام) پر جاکر ملتا ہے) ان کا حقیقی نسب نامہ تو یہ ہے کہ ان سب کو اللہ تعالیٰ نے منتخب ومختار بنالیا تھا ‘ اور ان کا نسب نامہ ایک نظریاتی نسب نامہ تھا جس کے مطابق یہ قافلہ ایمانی چل رہا تھا۔
سیاق کلام میں حضرت آدم اور حضرت نوح کو بطور فرد گنوایا ہے ۔ لیکن حضرت ابراہیم اور عمران کے خاندانوں کا ذکر کیا گیا۔ اس میں اشارہ یہ ہے کہ حضرت آدم اپنی ذاتی حیثیت اور حضرت نوح اپنی ذاتی حیثیت میں قابل احترام اور برگزیدہ تھے ۔ لیکن حضرت ابراہیم اور حضرت عمران کی اولاد بھی قابل احترام تھی ۔ اور یہ احترام اور برگزیدگی اس اصول کے مطابق تھا جس کا ذکر سورة بقرہ میں ہوا ہے ۔ اور وہ قاعدہ اور اصول یہ ہے کہ برکت اور احترام جو خاندان نبوت میں آتا ہے وہ محض خونی وراثت کی وجہ سے نہیں آتا بلکہ وہ نظریاتی وراثت ہے۔
وَإِذِ ابْتَلَى إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا قَالَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي قَالَ لا يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِينَ (124)
” اور یاد کرو جب ابراہیم کو اس کے رب نے چندباتوں میں آزمایا اور وہ ان سب میں پورا اتر گیا تو اس نے کہا میں تجھے سب لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں۔ “ ابراہیم نے عرض کیا :” اور کیا میری اولاد سے بھی یہی وعدہ ہے ۔ “ اس نے جواب دیا میرا وعدہ ظالموں سے متعلق نہیں ہے ۔ “
بعض روایات میں آتا ہے کہ عمران حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے ۔ تو اس صورت میں حضرت ابراہیم کی اولاد میں سے اس خاص برانچ کا ذکر ایک مخصوص مقصد کے لئے کیا گیا ہے یعنی حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) کے قصوں کے لئے بطور تمہید اس کا ذکر ہوا ‘ اور یہ بات بھی قابل غور ہے کہ حضرت ابراہیم کی اولاد میں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت یعقوب کا ذکر نہیں کیا گیا ۔ اس لئے کہ یہ حضرات بنی اسرائیل کے پیشوا تھے ‘ یعنی رسول ﷺ کے وقت اہل یہود تھے اور یہاں آئندہ بحث چونکہ نصاریٰ کے بارے میں ہونے والی تھی اس لئے حضرت موسیٰ اور حضرت یعقوب کے ذکر کی ضرورت نہ تھی ۔
اس تمہیدی اعلان احترام کے بعد اب آل عمران کے بارے میں براہ راست بات شروع ہوجاتی ہے ۔
نذر کے اس قصے سے بیگم عمران کا دل کھل کر سامنے آجاتا ہے ۔ یہ مریم کی ماں تھیں۔ ان کا دل ذوق ایمان سے معمور ہے ۔ وہ اپنے عزیز ترین اثاثے کو اللہ کے لئے پیش کرتی ہے ۔ یعنی وہ بچہ جو ابھی تک ان کے پیٹ میں ہے ۔ وہ اسے خالصتاً اللہ کے لئے پیش کرتی ہیں ‘ اس پیش کش کے ساتھ کوئی شرط اور قید نہیں ہے ۔ اس کے ساتھ کوئی شرکیہ تصور وابستہ نہیں جیسا کہ اکثر نذروں میں ہوتا ہے۔ اس فعل میں اللہ کے سوا کسی کے حق کا تصور نہیں ہے ۔ اور لفظ ” محرر “ سے اس بےقید نذر کی تعبیر نہایت ہی معنی خیز ہے ۔ اس لئے کہ صحیح معنوں میں آزاد وہی شخص ہوتا ہے ۔ جو اللہ کا ہوجائے ۔ وہ ہر طرف سے بھاگ کر جناب باری میں پناہ لے لے۔ وہ ہر شخص ‘ ہر چیز اور ہر قدر کی غلامی سے نجات پاکر نکل آئے اور بندگی صرف اللہ وحدہ کی اختیار کرے ۔ صرف اسی صورت میں ایک انسان صحیح معنوں میں تمام غلامیوں سے آزاد ہوجاتا ہے ۔ اس صورت کے علاوہ تمام صورتوں میں کسی نہ کسی شکل میں غلامی موجود رہتی ہے اگرچہ بظاہر کسی کو آزادی نظر آئے۔
اس نکتہ کو پالینے کے بعد ہی یہ بات نظر آتی ہے عقیدہ توحید دراصل مکمل آزادی کا ایک چارٹر ہے ۔ وہ شخص کیونکر آزاد تصور ہوسکتا ہے کہ جب وہ کسی معاملے میں ‘ اللہ کے سوا اوروں کا غلام اور تابع ہونے پر مجبور ہو ‘ اپنی ذات ونفسیات کی دنیا میں ‘ یا اپنے روزمرہ کے امور حیات کے معاملے میں یا اپنے طور طریقوں یا اقدار حیات کے معاملے میں یا قوانین اور دستور حیات کے سلسلے میں اس لئے کہ وہ یہ امور ہیں جو اس کی زندگی کو کنٹرول کرتے ہیں ۔ اگر ایک انسان کا دل غیر اللہ کی محبت میں گرفتار ہو ‘ یا غیر اللہ کی غلامی کے زیر بار ہو یا وہ کسی چیز کی محبت کا شکار ہو تو اسے کن معنوں میں آزاد کہا جاسکتا ہے ۔ جبکہ اس کی زندگی میں ایسی اقدار کی قدر ہو اور ایسے قوانین پر عمل ہو رہا ہو جو غیر اللہ سے ماخوذ ہوں ۔ دنیا میں انسانوں کو حقیقی آزادی اس وقت نصیب ہوئی جب انہوں نے اسلام کے نظریہ توحید کو اپنایا۔
زوجہ عمران کی یہ خشوع و خضوع کے عطر سے معطر دعا کہ اے رب میری نذر قبول فرما ! وہ نذر جو اس کے دل کا ٹکڑا ہے۔ اس کا جگر گوشہ ہے ۔۔ اس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ خالص اللہ کی مسلم اور مطیع فرمان ہیں ۔ وہ کلمۃ اللہ کی جہت کی طرف رخ کئے ہوئے ہیں ۔ بالکلہ یکسو ہیں ۔ ہر قید سے آزاد ہیں اور ان کے دل میں ماسوائے قبولیت نذر اور رضائے الٰہی کے جذبے کے اور کچھ نہیں ہے۔
فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ إِنِّي وَضَعْتُهَا أُنْثَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ وَلَيْسَ الذَّكَرُ كَالأنْثَى وَإِنِّي سَمَّيْتُهَا مَرْيَمَ وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
” پھر جب وہ بچی اس کے ہاں پیدا ہوئی تو اس نے کہا :” مالک ! میرے ہاں تو لڑکی پیدا ہوگئی ہے ۔ حالانکہ جو کچھ اس نے جنا تھا ‘ اللہ کو اس کی خبر تھی ………اور لڑکا لڑکی کی طرح نہیں ہوتا ۔ خیر ‘ میں نے اس کا نام مریم رکھ دیا ہے۔ اور میں اسے اور اس کی آئندہ نسل کو شیطان مردود کے فتنے سے تیری پناہ میں دیتی ہوں ۔ “
اس کا خیال یہ تھا کہ میرا بچہ لڑکا ہوگا۔ اور گرجوں میں جن بچوں کی نذر دی جاتی تھی وہ بالعموم لڑکے ہوا کرتے تھے تاکہ وہ ہیکل کی خدمت کریں ۔ اور وہ صرف عبادت کے لئے وقف ہوجائیں اور دنیا سے کٹ جائیں ۔ لیکن وہ کیا دیکھتی ہے کہ بچہ لڑکی ہے ۔ اس لئے وہ گڑگڑا کر اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتی ہے اور نہایت ہی متأسفانہ انداز میں کہتی ہے ۔
رَبِّ إِنِّي وَضَعْتُهَا أُنْثَى……………” میرے رب ‘ میرے ہاں تو لڑکی پیدا ہوگئی ۔ “
وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ……………” اور جو کچھ اس نے جنا ‘ اس کا علم تو اللہ کو بہرحال تھا۔ “ لیکن وہ یہ الفاظ اس لئے کہتی ہے کہ وہ خود متوجہ الی اللہ ہے اور ہدیہ پیش کرتی ہے ۔ گویا وہ ان الفاظ سے اللہ کے ہاں معذرت پیش کررہی ہے ۔ کہ اگر لڑکا ہوتا تو وہ اپنے فرائض اچھی طرح ادا کرتا ۔ وَلَيْسَ الذَّكَرُ كَالأنْثَى……………” اور لڑکا ‘ لڑکی کی طرح نہیں ہوتا۔ “ یعنی جس مقصد کے لئے نذر مانی گئی ہے ‘ اس مقصد کے لئے تو لڑکا ہی موزوں ہوتا ہے۔ وَإِنِّي سَمَّيْتُهَا مَرْيَمَ……………” میں نے اس کا نام مریم رکھ دیا ہے۔ “
” یہاں جس انداز سے بات ہورہی ہے ‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت زوجہ عمران اللہ تعالیٰ سے آمنے سامنے بات کررہی ہیں ‘ گو تخلیہ میں بات ہورہی ہے ‘ دل کی پوری بات بتائی جارہی ہے ۔ صاف صاف بتائی جارہی ہے ۔ اور اپنا پورا اثاثہ پیش کیا جارہا ہے ۔ براہ راست خدمت اقدس میں ‘ اللہ کے ان برگزیدہ بندوں کے تعلق باللہ کا یہی حال ہوتا ہے ۔ محبت ‘ قرب اور براہ راست رابطہ اپنے رب کے ساتھ سادہ الفاظ میں اخلاص کے ساتھ ہمکلامی ‘ جس میں نہ تکلف ہے اور نہ پیچیدگی ہے ۔ وہ بات اس طرح کرتے ہیں جس طرح رب ان کے بالکل قریب ہے ۔ ان سے محبت کرتا ہے ‘ سنتا ہے اور قبول کرتا ہے۔
وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
” میں اسے اور اس کی آئندہ نسل کو شیطان مردود کے فتنے سے تیری پناہ میں دیتی ہوں۔ “ یہ وہ آخری بات ہے جو ایک ماں اپنے بچے کی نذر پیش کرنے بعد الوداعی طور پر کہتی ہے ۔ اور اسے اپنے رب کی حمایت اور اس کے رحم وکرم پر چھوڑ دیتی ہے ۔ اور اس کے لئے اور اس کی اولاد کے لئے شیطان مردود سے پناہ مانگتی ہے ………اور یہ باتیں خلوص قلب کا مظہر ہیں ‘ وبطیب خاطر یہ نذر دے رہی ہے اور اپنی محبوب اولاد کے لئے وہ جو تحفظ طلب کرتی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ اسے شیطان مردود سے بچائے۔
فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُولٍ حَسَنٍ وَأَنْبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا……………” آخرکار اللہ نے اس کی لڑکی کو قبول کرلیا اور اسے اچھی لڑکی بناکر اٹھایا۔ “ مال کے دل میں اخلاص اور للّٰہیت کو جذبہ موجزن تھا ‘ یہ اس کا صلہ تھا ‘ یہ ایک خالص نذر تھی جو صرف اللہ کے لئے تھی ‘ اور یہ اسے درحقیقت آنیوالے دور میں نفخ روح کے لئے تیار کرنا تھا ۔ کلمۃ اللہ کے حمل کے لئے اسے تیار کرنا تھا ۔ تاکہ وہ حضرت عیسیٰ کی خارق العادت ولادت کے لئے تیار ہو جس کی کوئی مثال اس سے قبل موجود نہ تھی ۔
وَكَفَّلَهَا زَكَرِيَّا……………” ذکریا کو اس کا سرپرست بنادیا گیا۔ “ وہ اس کے ولی اور ذمہ دار قرارپائے ۔ اس دور میں حضرت زکریا ہیکل کے صدر نشین تھے ۔ اور وہ حضرت ہارون کی اولاد سے تھے ۔ اور ہیکل سلیمانی کی مجاوری اور انتظام ان کی اولاد کے ہاتھ میں چلا آرہا تھا ۔ یوں حضرت مریم کی نشوونما اور تربیت کا بابرکت سلسلہ شروع ہوا ۔ اللہ تعالیٰ اسی نوخیز راہبہ کے لئے اپنے فیض خاص سے رزق کا خصوصی انتظام فرماتے تھے۔
كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيْهَا زَكَرِيَّا الْمِحْرَابَ وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًا قَالَ يَا مَرْيَمُ أَنَّى لَكِ هَذَا قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ……………” زکریاجب کبھی اس کے پاس محراب میں جاتا ‘ تو اس کے پاس کچھ نہ کچھ کھانے پینے کا سامان پاتا ۔ پوچھتا ‘ مریم ! یہ تیرے پاس کہاں سے آیا ؟ قوہ جواب دیتی اللہ کے پاس سے آیا ہے ۔ اللہ جسے چاہتا ہے بےحساب دیتا ہے۔ “
ہم ان تفصیلات میں جانا نہیں چاہتے کہ یہ رزق کیسا تھا ‘ جس طرح کہ مختلف روایات وارد ہیں ‘ یہاں اس قدر کہنا کافی ہے کہ وہ رزق بڑا بابرکت تھا ۔ آپ کے ماحول میں برکت تھی اور ہر طرف سے وہ چیزیں مہیا ہورہی تھیں جن پر رزق کا اطلاق ہوتا ہے ۔ اس قدر وافر رزق ہوتا تھا کہ ان کا کفیل بھی حیران رہ جاتا ۔ حالانکہ وہ نبی تھا ۔ وہ ان فیوض وبرکات کو دیکھ کر حیرانی سے پوچھتا کہ یہ کیسے اور کہاں سے ؟ لیکن حضرت مریم ایک مومن صادق کی طرح بڑے خشوع و خضوع کے ساتھ جواب دیتیں اور اللہ کے انعامات کا اعتراف کرتیں ۔ اللہ کے کرم کا اقرار کرکے معاملہ اس کے حوالے کردیتیں۔
هُوَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَرْزُقُ مَنْ يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ……………” یہ اللہ کے پاس سے آیا ہے ۔ اللہ جسے چاہتا ہے بےحساب دیتا ہے ۔ “ یہ وہ کلمات ہیں ‘ جو بتاتے ہیں کہ بندے کا تعلق اپنے رب کے ساتھ کیا ہوتا ہے ۔ اور کس طرح بندگان عالی مقام اپنے ان رازوں کو راز ہی رہنے دیتے ہیں جو ان کے اور ان کے رب کے درمیان ہوتے ہیں ۔ اور بات میں اس راز کے بارے میں بڑی تواضع اور کسر نفسی سے بات کرتے ہیں ۔ اس کبر و غرور میں مبتلا نہیں ہوتے ۔ یہاں حضرت مریم کے ہاں فراہمی رزق کے سلسلے میں غیر معمولی صورت حال دکھائی گئی اور جس پر حضرت زکریا نبی وقت کو بھی تعجب ہوا ۔ وہ آئندہ آنے والے زیادہ عجائبات قدرت کے لئے بطور تمہیدذکر ہوئے ۔ جن میں حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) کی ولادت شامل ہے ۔
اس مقام پر (مریم جیسی اولاد اور اس کے پاس وافر رزق ) کو دیکھ کر حضرت زکریا (علیہ السلام) کے دل میں امید کی کرن پھوٹی ‘ آپ کی اولاد نہ تھی ‘ یہ ایک فطری خواہش تھی ‘ جو ہر انسان کے دل میں دسر قدرت نے ودیعت کی ہوئی ہوتی ہے۔ یعنی اولاد صالح کی زبردست خواہش ۔ تاکہ انسان کی ذات تسلسل میں رہے ۔ اور اس کے بعد اس کا کوئی جانشین ہو ‘ یہ وہ خواہش ہے جو بڑے بڑے عبادت گزاروں اور زاہدوں کے دل میں بھی موجزن رہتی ہے ۔ ان لوگوں کے دل میں بھی جنہوں نے اپنے آپ کو عبادت کے لئے وقف کرلیا ہوتا ہے۔ اور جو ہیکل کی خدمت کے لئے وقف ہوچکے ہوتے ہیں ۔ یہ وہ فطرت ہے جس اللہ نے لوگوں کی تخلیق کی ہے ۔ اور یہ اس گہری حکمت کا نتیجہ ہے کہ اس جہاں میں زندگی کا تسلسل جاری ہے اور وہ دن رات چوگنی ترقی کررہی ہے ۔ اس مقام پر حضرت زکریا (علیہ السلام) سامنے آتے ہیں ۔