یہاں سیاق قصہ میں ایک بہت بڑا خلا ہے ۔ یہاں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ حضرت عیسیٰ کی ولادت ہوئی ۔ نہ یہ مذکور ہے کہ ان کی ماں ان کے ساتھ قوم کے سامنے آئی اور اس نے گہوارے میں ان سے باتیں کیں ‘ یہ بات مذکور نہیں ہے کہ جوان ہوکر انہوں نے تبلیغ رسالت شروع کی ‘ نہ یہ مذکور ہے کہ حضرت عیسیٰ کی والدہ کو جن معجزات کے بارے میں بشارت دی گئی تھی وہ ان کے ہاتھ دکھائے گئے (جب کہ یہ سورت مریم میں مذکور ہے۔ ) اس قسم کے گیپ قرآنی قصوں میں بار بار آتے ہیں ‘ اس کی ایک حکمت تو یہ ہے کہ تکرار نہ ہو ‘ دوسری یہ کہ قرآن کریم میں قصص کے صرف وہی حصے دیئے جاتے ہیں جن کا تعلق اس سورت موضوع کلام سے ہوتا ہے باقی کڑیاں ترک کردی جاتی ہیں ۔
غرض ‘ معجزات پیش کرنے اور تبلیغ شروع کرنے کے ساتھ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے محسوس کرلیا کہ یہ لوگ مان کردینے والے نہیں ہیں ‘ حالانکہ ایسے معجزات کا صدور کسی انسان سے ممکن نہ تھا ۔ اور جن سے صاف معلوم ہوتا تھا کہ ان معجزات کے پس منظر میں صرف اللہ کی ذات کام کررہی ہے ۔ اللہ کی قوتیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی مؤید ہیں ۔ اور پھر ان امور کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی حقیقت تھی کہ حضرت مسیح اس لئے بھی تشریف لائے تھے کہ بنی اسرائیل پر ان کی نادانیوں کی وجہ سے ‘ جو چیزیں بطور سزا حرام کردی گئیں تھیں انہیں حلال کردیں ‘ تاکہ ان پر تخفیف ہوجائے اور قیود اور بوجھ اتر جائیں۔
تو ایسے موقع پر آپ نے فرمایا قَالَ مَنْ أَنْصَارِي إِلَى اللَّهِ ” کون اللہ کی راہ میں میرا مددگار ہے ۔ “ یعنی کون ہے جو دعوت دین ‘ اور اسلامی نظام کے قیام کے سلسلے میں میری معاونت کرتا ہے ۔ کون ہے جو میرے ساتھ اللہ تک پہنچنے کے سلسلے میں مددگار ہوتا ہے تاکہ میں اپنے فرئض اچھی طرح ادا کرسکوں …………یہ تحریک دعوت دین کا طریق کار ہا ہے ۔ کہ ہر داعی کے لئے انصار کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جو اس کا ساتھ دیتے ہیں ۔ جو اس کی دعوت کے علم اٹھاکر چلتے ہیں ‘ جو اس کی حمایت کرتے ہیں اور اس دعوت کو مسلسل پھیلاتے ہیں اور پھر اس صاحب دعوت کی وفات یا چلے جانے کے بعد اسے لیکر اٹھتے ہیں تو قَالَ الْحَوَارِيُّونَ نَحْنُ أَنْصَارُ اللَّهِ آمَنَّا بِاللَّهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ ” حواریوں نے جواب دیا ہم اللہ کے مددگار ہیں ‘ ہم اللہ پر ایمان لائے ۔ گواہ رہو کہ ہم مسلم ہیں۔ “
حواریوں نے اسلام کا ذکر ان معنوں میں کیا ‘ جن کا تعلق دین کی حقیقت سے ہے ۔ اور انہوں نے پھر اپنے اسلام پر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو گواہ بنایا اور اللہ کی مدد کے لئے تیار ہوگئے ۔ یعنی اللہ کے رسول کی نصرت ‘ دین اسلام کی نصرت اور اسلامی نظام حیات کی نصرت کے لئے وہ تیار ہوئے اور اس کے بعد وہ اپنے رب کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور وہ اس معاملے میں براہ راست اللہ سے بھی اپنا رابطہ قائم کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے کے لئے تیار ہوگئے ۔ اس لئے آپ بھی اس بات کے گواہ رہیں ۔
آیت 52 فَلَمَّآ اَحَسَّ عِیْسٰی مِنْہُمُ الْکُفْرَ قَالَ مَنْ اَنْصَارِیْ اِلَی اللّٰہِ ط یہاں پھر درمیانی عرصے کا ذکر چھوڑ دیا گیا ہے۔ بنی اسرائیل کو دعوت دیتے ہوئے حضرت مسیح علیہ السلام کو کئی سال بیت چکے تھے۔ اس دعوت سے جب علماء یہود کی مسندوں کو خطرہ لاحق ہوگیا اور ان کی چودھراہٹیں خطرے میں پڑگئیں تو انہوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کی شدید مخالفت کی۔ اس وقت تک یہودیوں پر ان کے علماء کا اثر ورسوخ بہت زیادہ تھا۔ جب آپ علیہ السلام نے ان کی طرف سے کفر کی شدت کو محسوس کیا کہ اب یہ ضد اور مخالفت پر تل گئے ہیں۔ تو آپ علیہ السلام نے ایک پکار لگائی ‘ ایک ندا دی ‘ ایک دعوت عام دی کہ کون ہیں جو اللہ کی راہ میں میرے مددگار ہیں ؟ یعنی اب جو کشاکش ہونے والی ہے ‘ جو تصادم ہونے والا ہے اس میں ایک حزب اللہ بنے گی اور ایک حزب الشیطان ہوگی۔ اب کون ہے جو میرا مددگار ہو اللہ کی راہ میں اس جدوجہد اور کشاکش میں ؟ دین کا کام کرنے کے لیے یہی اصل اساس ہے۔ اسی بنیاد پر کوئی شخص اٹھے کہ میں دین کا کام کرنا چاہتا ہوں ‘ کون ہے کہ جو میرا ساتھ دے ؟ یہ جماعت سازی کا ایک بالکل طبعی طریقہ ہوتا ہے۔ ایک داعی اٹھتا ہے اور اس داعی پر اعتماد کرنے والے ‘ اس سے اتفاق کرنے والے لوگ اس کے ساتھی بن جاتے ہیں۔ یہ لوگ ذاتی اعتبار سے اس کے ساتھی نہیں ہوتے ‘ اس کی حکومت اور سرداری قائم کرنے کے لیے نہیں ‘ بلکہ اللہ کی حکومت قائم کرنے کے لیے اور اللہ تعالیٰ کے دین کے غلبہ کے لیے اس کا ساتھ دیتے ہیں۔قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَار اللّٰہِ ج !حواری کے اصل معنی دھوبی کے ہیں جو کپڑے کو دھو کر صاف کردیتا ہے۔ یہ لفظ پھر آگے بڑھ کر اپنے اخلاق اور کردار کو صاف کرنے والوں کے لیے استعمال ہونے لگا۔ حضرت مسیح علیہ السلام کی تبلیغ زیادہ تر گلیلی جھیل کے کناروں پر ہوتی تھی ‘ جو سمندر کی طرح بہت بڑی جھیل ہے۔ آپ علیہ السلام کبھی وہاں کپڑے دھونے والے دھوبیوں میں تبلیغ کرتے تھے اور کبھی مچھلیاں پکڑنے والے مچھیروں کو دعوت دیتے تھے۔ آپ علیہ السلام ان سے فرمایا کرتے تھے کہ اے مچھلیوں کا شکار کرنے والو ! آؤ ‘ میں تمہیں انسانوں کا شکار کرنا سکھاؤں۔ آپ علیہ السلام نے دھوبیوں میں تبلیغ کی تو ان میں سے کچھ لوگوں نے اپنے آپ کو پیش کردیا کہ ہم آپ کی جدوجہد میں اللہ کے مددگار بننے کو تیار ہیں۔ یہ آپ علیہ السلام کے اوّلین ساتھی تھے جو حواری کہلاتے تھے۔ اس طرح حواری کا لفظ ساتھی کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔
پھانسی کون چڑھا ؟ جب حضرت عیسیٰ ؑ نے ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کو دیکھ لیا کہ اپنی گمراہی کج روی اور کفر و انکار سے یہ لوگ ہٹتے ہی نہیں، تو فرمانے لگے کہ کوئی ایسا بھی ہے ؟ جو اللہ تعالیٰ کی طرف پہنچنے کے لئے میری تابعداری کرے اس کا یہ مطلب بھی لیا گیا ہے کہ کوئی ہے جو اللہ جل شانہ کے ساتھ میرا مددگار بنے ؟ لیکن پہلا قول زیادہ قریب ہے، بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے فرمایا اللہ جل شانہ کی طرف پکارنے میں میرا ہاتھ بٹانے والا کون ہے ؟ جیسے کہ نبی اللہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ مکہ شریف سے ہجرت کرنے کے پہلے موسم حج کے موقع پر فرمایا کرتے تھے کہ کوئی ہے جو مجھے اللہ جل شانہ کا کلام پہنچانے کے لئے جگہ دے ؟ قریش تو کلام الٰہی کی تبلیغ سے مجھے روک رہے ہیں یہاں تک کہ مدینہ شریف کے باشندے انصار کرام اس خدمت کے لئے کمربستہ ہوئے آپ کو جگہ بھی دی آپ کی مدد بھی کی اور جب آپ ان کے ہاں تشریف لے گئے تو پوری خیرخواہی اور بےمثال ہمدردی کا مظاہرہ کیا، ساری دنیا کے مقابلہ میں اپنا سینہ سپر کردیا اور حضور ﷺ کی حفاظت خیرخواہی اور آپ کے مقاصد کی کامیابی میں ہمہ تن مصروف ہوگئے ؓ وارضاھم اسی طرح حضرت عیسیٰ ؑ کی اس آواز پر بھی چند بنی اسرائیلیوں نے لبیک کہی آپ پر ایمان لائے آپ کی تائید کی تصدیق کی اور پوری مدد پہنچائی اور اس نور کی اطاعت میں لگ گئے جو اللہ ذوالجلال نے ان پر اتارا تھا یعنی انجیل یہ لوگ دھوبی تھے اور حواری انہیں ان کے کپڑوں کی سفیدی کی وجہ سے کہا گیا ہے، بعض کہتے ہیں یہ شکاری تھے، صحیح یہ ہے کہ حواری کہتے ہیں مددگار کو، جیسے کہ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ جنگ خندق کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کوئی جو سینہ سپر ہوجائے ؟ اس آواز کو سنتے ہی حضرت زبیر تیار ہوگئے آپ نے دوبارہ یہی فرمایا پھر بھی حضرت زبیر نے ہی قدم اٹھایا پسحضور ﷺ نے فرمایا ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں اور میرا حواری زبیر ہے ؓ پھر یہ لوگ اپنی دعا میں کہتے ہیں ہمیں شاہدوں میں لکھ لے، اس سے مراد حضرت ابن عباس کے نزدیک امت محمد ﷺ میں لکھ لینا ہے، اس تفسیر کی روایت سنداً بہت عمدہ ہے، پھر بنی اسرائیل کے اس ناپاک گروہ کا ذکر ہو رہا ہے جو حضرت عیسیٰ کی طرف سے بھرے تھے کہ یہ شخص لوگوں کو بہکاتا پھرتا ہے ملک میں بغاوت پھیلا رہا ہے اور رعایا کو بگاڑ رہا ہے، باپ بیٹوں میں فساد برپا کر رہا ہے، بلکہ اپنی خباثت خیانت کذب و جھوٹ (دروغ) میں یہاں تک بڑھ گئے کہ آپ کو زانیہ کا بیٹا کہا اور آپ پر بڑے بڑے بہتان باندھے، یہاں تک کہ بادشاہ بھی دشمن جان بن گیا اور اپنی فوج کو بھیجا تاکہ اسے گرفتار کر کے سخت سزا کے ساتھ پھانسی دے دو ، چناچہ یہاں سے فوج جاتی ہے اور جس گھر میں آپ تھے اسے چاروں طرف سے گھیر لیتی ہے ناکہ بندی کر کے گھر میں گھستی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ آپ کو ان مکاروں کے ہاتھ سے صاف بچا لیتا ہے اس گھر کے روزن (روشن دان) سے آپ کو آسمان کی طرف اٹھا لیتا ہے اور آپ کی شباہت ایک اور شخص پر ڈال دی جاتی ہے جو اسی گھر میں تھا، یہ لوگ رات کے اندھیرے میں اس کو عیسیٰ سمجھ لیتے ہیں گرفتار کر کے لے جاتے ہیں سخت توہین کرتے ہیں اور سر پر کانٹوں کو تاج رکھ کر اسے صلیب پر چڑھا دیتے ہیں، یہی ان کے ساتھ اللہ کا مکر تھا کہ وہ تو اپنے نزدیک یہ سمجھتے رہے کہ ہم نے اللہ کے نبی کو پھانسی پر لٹکا دیا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو تو نجات دے دی تھی، اس بدبختی اور بدنیتی کا ثمرہ انہیں یہ ملا کہ ان کے دل ہمیشہ کے لئے سخت ہوگئے باطل پر اڑ گئے اور دنیا میں ذلیل و خوار ہوگئے اور آخر دنیا تک اس ذلت میں ہی ڈوبے رہے۔ اس کا بیان اس آیت میں ہے کہ اگر انہیں خفیہ تدبیریں کرنی آتی ہیں تو کیا ہم خفیہ تدبیر کرنا نہیں جانتے بلکہ ہم تو ان سے بہتر خفیہ تدبیریں کرنے والے ہیں۔