سورة آل عمران (3): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Aal-i-Imraan کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ آل عمران کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورة آل عمران کے بارے میں معلومات

Surah Aal-i-Imraan
سُورَةُ آلِ عِمۡرَانَ
صفحہ 56 (آیات 46 سے 52 تک)

وَيُكَلِّمُ ٱلنَّاسَ فِى ٱلْمَهْدِ وَكَهْلًا وَمِنَ ٱلصَّٰلِحِينَ قَالَتْ رَبِّ أَنَّىٰ يَكُونُ لِى وَلَدٌ وَلَمْ يَمْسَسْنِى بَشَرٌ ۖ قَالَ كَذَٰلِكِ ٱللَّهُ يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ ۚ إِذَا قَضَىٰٓ أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُۥ كُن فَيَكُونُ وَيُعَلِّمُهُ ٱلْكِتَٰبَ وَٱلْحِكْمَةَ وَٱلتَّوْرَىٰةَ وَٱلْإِنجِيلَ وَرَسُولًا إِلَىٰ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ أَنِّى قَدْ جِئْتُكُم بِـَٔايَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ ۖ أَنِّىٓ أَخْلُقُ لَكُم مِّنَ ٱلطِّينِ كَهَيْـَٔةِ ٱلطَّيْرِ فَأَنفُخُ فِيهِ فَيَكُونُ طَيْرًۢا بِإِذْنِ ٱللَّهِ ۖ وَأُبْرِئُ ٱلْأَكْمَهَ وَٱلْأَبْرَصَ وَأُحْىِ ٱلْمَوْتَىٰ بِإِذْنِ ٱللَّهِ ۖ وَأُنَبِّئُكُم بِمَا تَأْكُلُونَ وَمَا تَدَّخِرُونَ فِى بُيُوتِكُمْ ۚ إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَءَايَةً لَّكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ وَمُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَىَّ مِنَ ٱلتَّوْرَىٰةِ وَلِأُحِلَّ لَكُم بَعْضَ ٱلَّذِى حُرِّمَ عَلَيْكُمْ ۚ وَجِئْتُكُم بِـَٔايَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ فَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَأَطِيعُونِ إِنَّ ٱللَّهَ رَبِّى وَرَبُّكُمْ فَٱعْبُدُوهُ ۗ هَٰذَا صِرَٰطٌ مُّسْتَقِيمٌ ۞ فَلَمَّآ أَحَسَّ عِيسَىٰ مِنْهُمُ ٱلْكُفْرَ قَالَ مَنْ أَنصَارِىٓ إِلَى ٱللَّهِ ۖ قَالَ ٱلْحَوَارِيُّونَ نَحْنُ أَنصَارُ ٱللَّهِ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ وَٱشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ
56

سورة آل عمران کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورة آل عمران کی تفسیر (تفسیر بیان القرآن: ڈاکٹر اسرار احمد)

اردو ترجمہ

لوگوں سے گہوارے میں بھی کلام کرے گا اور بڑی عمر کو پہنچ کر بھی، اور وہ ایک مرد صالح ہوگا"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wayukallimu alnnasa fee almahdi wakahlan wamina alssaliheena

آیت 46 وَیُکَلِّمُ النَّاسَ فِی الْْمَہْدِ وَکَہْلاً کہولت چالیس برس کے بعد آتی ہے اور حضرت مسیح علیہ السلام کا رفع سماوی 33 برس کی عمر میں ہوگیا تھا۔ گویا اس آیت کا تقاضا ابھی پورا نہیں ہوا ہے۔ اور اس سے اندازہ کر لیجیے کہ یہ بات کہنے کی ضرورت کیا تھی ؟ پوری عمر کو پہنچ کر تو سبھی بولتے ہیں ‘ یہاں اس کا اشارہ کیوں کیا گیا ؟ اس لیے تاکہ ہمیں معلوم ہوجائے کہ حضرت مسیح علیہ السلام پر موت ابھی وارد نہیں ہوئی ‘ بلکہ وہ واپس آئیں گے ‘ دنیا میں دوبارہ اتریں گے ‘ پھر ان کی کہولت کی عمر بھی ہوگی۔ وہ شادی بھی کریں گے ‘ ان کی اولاد بھی ہوگی اور ان کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نظام خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کو پوری دنیا میں قائم کرے گا۔

اردو ترجمہ

یہ سن کر مریمؑ بولی، "پروردگار! میرے ہاں بچہ کہاں سے ہوگا، مجھے تو کسی شخص نے ہاتھ تک نہیں لگایا" جواب ملا، "ایسا ہی ہوگا، اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے وہ جب کسی کام کے کرنے کا فیصلہ فرماتا ہے تو بس کہتا ہے کہ ہو جا اور وہ ہو جاتا ہے"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qalat rabbi anna yakoonu lee waladun walam yamsasnee basharun qala kathaliki Allahu yakhluqu ma yashao itha qada amran fainnama yaqoolu lahu kun fayakoonu

آیت 47 قَالَتْ رَبِّ اَنّٰی یَکُوْنُ لِیْ وَلَدٌ وَّلَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ ط قَالَ کَذٰلِکِ اللّٰہُ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ ط وہ اپنے بنائے ہوئے قوانین فطرت کا پابند نہیں ہے۔ اگرچہ عام ولادت اسی طرح ہوتی ہے کہ اس میں باپ کا بھی حصہ ہوتا ہے اور ماں کا بھی ‘ لیکن اللہ تعالیٰ ان اسباب اور وسائل و ذرائع کا محتاج نہیں ہے ‘ وہ جیسے چاہے پیدا کرتا ہے۔

اردو ترجمہ

(فرشتوں نے پھر سلسلئہ کلام میں کہا) "اور اللہ اُسے کتاب اور حکمت کی تعلیم دے گا، تورات اور انجیل کا علم سکھائے گا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

WayuAAallimuhu alkitaba waalhikmata waalttawrata waalinjeela

آیت 48 وَیُعَلِّمُہُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَالتَّوْرٰٹۃَ وَالْاِنْجِیْلَ یہاں پر چار چیزوں کا ذکر آیا ہے جن کی اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح علیہ السلام کو تعلیم دی : کتاب اور حکمت اور تورات اور انجیل۔ ان چار چیزوں کے مابین جو تین وآئے ہیں ان میں سے دو واو عطف ہیں ‘ جبکہ درمیانی وواو تفسیر ہے۔ اس طرح آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ اللہ ان کو سکھائے گا کتاب اور حکمت یعنی تورات اور انجیل۔ اس لیے کہ تورات میں صرف احکام تھے ‘ حکمت نہیں تھی اور انجیل میں صرف حکمت ہے ‘ احکام نہیں ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جس کو سمجھ لینے سے یہ گتھی حل ہوتی ہے اور اسے سمجھے بغیر لوگوں کے ذہنوں میں الجھنیں رہتی ہیں۔

اردو ترجمہ

اور بنی اسرائیل کی طرف اپنا رسول مقرر کرے گا" (اور جب وہ بحیثیت رسول بنی اسرائیل کے پاس آیا تو اس نے کہا) "میں تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس نشانی لے کر آیا ہوں میں تمہارے سامنے مٹی سے پرندے کی صورت میں ایک مجسمہ بناتا ہوں اور اس میں پھونک مارتا ہوں، وہ اللہ کے حکم سے پرندہ بن جاتا ہے میں اللہ کے حکم سے مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو اچھا کرتا ہوں اور مُردے کو زندہ کرتا ہوں میں تمہیں بتاتا ہوں کہ تم کیا کھاتے ہو اور کیا اپنے گھروں میں ذخیرہ کر کے رکھتے ہو اس میں تمہارے لیے کافی نشانی ہے اگر تم ایمان لانے والے ہو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Warasoolan ila banee israeela annee qad jitukum biayatin min rabbikum annee akhluqu lakum mina altteeni kahayati alttayri faanfukhu feehi fayakoonu tayran biithni Allahi waobrio alakmaha waalabrasa waohyee almawta biithni Allahi waonabbiokum bima takuloona wama taddakhiroona fee buyootikum inna fee thalika laayatan lakum in kuntum mumineena

آیت 49 وَرَسُوْلاً اِلٰی بَنِیْ اِسْرَآءِیْلَ لا اب یہ جو دو بیک وقت آنے والی contemporary اصطلاحات ہیں ان کو نوٹ کر لیجیے۔ حضرت یحییٰ علیہ السلام کے بارے میں تمام توصیفی کلمات کے بعد آخری بات یہ فرمائی : نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ نبی ہوں گے صالحین میں سے۔ جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرمایا : وَرَسُوْلاً اِلٰی بَنِیْ اِسْرَآءِیْلَلا یعنی بنی اسرائیل کی طرف رسول بن کر آئیں گے۔ نبی اور رسول میں یہ فرق نوٹ کر لیجیے کہ حضرت یحییٰ علیہ السلام صرف نبی تھے اس لیے وہ قتل بھی کردیے گئے ‘ جبکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام رسول تھے اور رسول قتل نہیں ہوسکتے ‘ اس لیے انہیں زندہ آسمان پر اٹھا لیا گیا۔ یہ بہت اہم مضمون ہے۔ مطالعۂ قرآن حکیم کے دوران اس کے اور بھی حوالے آئیں گے۔اَنِّیْ قَدْ جِءْتُکُمْ بِاٰیَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ ج ابھی تک گفتگو ہو رہی تھی کہ حضرت مریم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ساری خوشخبریاں دی گئیں۔ اب یوں سمجھئے کہ قصہ مختصر ‘ ان کی ولادت ہوئی ‘ وہ پلے بڑھے ‘ یہ ساری تاریخ بیچ میں سے حذف کر کے نقشہ کھینچا جا رہا ہے کہ اب حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنی دعوت کا آغاز کردیا۔ آپ علیہ السلام نے بنی اسرائیل سے کہا کہ میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں۔ اَنِّیْ اَخْلُقُ لَکُمْ مِّنَ الطِّیْنِ کَہَیْءَۃِ الطَّیْرِ فَاَنْفُخُ فِیْہِ فَیَکُوْنُ طَیْرًام بِاِذْنِ اللّٰہِج یہاں آپ نوٹ کرتے جایئے کہ ہر معجزے کے بعد بِاِذْنِ اللّٰہِفرمایا۔ یعنی یہ میرا کوئی دعویٰ نہیں ہے ‘ میرا کوئی کمال نہیں ہے۔ یہ جو کچھ ہے وہ اللہ کے حکم سے ہے۔وَاُبْرِئُ الْاَکْمَہَ وَالْاَبْرَصَ وَاُحْیِ الْمَوْتٰی بِاِذْنِ اللّٰہِج وَاُنَبِّءُکُمْ بِمَا تَاْکُلُوْنَ وَمَا تَدَّخِرُوْنَلا فِیْ بُیُوْتِکُمْ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنی رسالت کی صداقت اور دلیل کے طور پر یہ تمام معجزات پیش فرمائے۔

اردو ترجمہ

اور میں اُس تعلیم و ہدایت کی تصدیق کرنے والا بن کر آیا ہوں جو تورات میں سے اِس وقت میرے زمانہ میں موجود ہے اوراس لیے آیا ہوں کہ تمہارے لیے بعض اُن چیزوں کو حلال کر دوں جو تم پر حرام کر دی گئی ہیں دیکھو، میں تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس نشانی لے کر آیا ہوں، لہٰذا اللہ سے ڈرو اور میر ی اطاعت کرو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wamusaddiqan lima bayna yadayya mina alttawrati waliohilla lakum baAAda allathee hurrima AAalaykum wajitukum biayatin min rabbikum faittaqoo Allaha waateeAAooni

آیت 50 وَمُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰٹۃِ وَ لِاُحِلَّ لَکُمْ بَعْضَ الَّذِیْ حُرِّمَ عَلَیْکُمْ ۔یہ اصل میں سبت کے حکم کے بارے میں اشارہ ہے۔ جیسے ہمارے ہاں بھی بعض مذہبی مزاج کے لوگوں میں بڑی سختی پیدا ہوجاتی ہے اور وہ دین کے احکام میں غلو کرتے چلے جاتے ہیں ‘ اسی طرح سبت کے حکم میں یہودیوں نے اس حد تک غلو کرلیا تھا کہ اس روز کسی مریض کے لیے دعا کرنا کہ اللہ اسے شفا دے دے ‘ یہ بھی جائز نہیں سمجھتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ یہ بھی دنیا کا کام ہے۔ چناچہ وہ اس معاملے میں ایک انتہا تک پہنچ گئے تھے۔ حضرت مسیح علیہ السلام نے آکر اس کی وضاحت کی کہ اس طرح کی چیزیں سبت کے تقاضوں میں شامل نہیں ہیں۔

اردو ترجمہ

اللہ میرا رب بھی ہے او ر تمہارا رب بھی، لہٰذا تم اُسی کی بندگی اختیار کرو، یہی سیدھا راستہ ہے"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Inna Allaha rabbee warabbukum faoAAbudoohu hatha siratun mustaqeemun

آیت 51 اِنَّ اللّٰہَ رَبِّیْ وَرَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْہُ ط ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ یہی الفاظ سورة مریم آیت 36 میں بھی وارد ہوئے ہیں۔

اردو ترجمہ

جب عیسیٰؑ نے محسوس کیا کہ بنی اسرائیل کفر و انکار پر آمادہ ہیں تو اس نے کہا "کون اللہ کی راہ میں میرا مدد گار ہوتا ہے؟" حواریوں نے جواب دیا، "ہم اللہ کے مددگار ہیں، ہم اللہ پر ایمان لائے، گواہ رہو کہ ہم مسلم (اللہ کے آگے سر اطاعت جھکا دینے والے) ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Falamma ahassa AAeesa minhumu alkufra qala man ansaree ila Allahi qala alhawariyyoona nahnu ansaru Allahi amanna biAllahi waishhad bianna muslimoona

آیت 52 فَلَمَّآ اَحَسَّ عِیْسٰی مِنْہُمُ الْکُفْرَ قَالَ مَنْ اَنْصَارِیْ اِلَی اللّٰہِ ط یہاں پھر درمیانی عرصے کا ذکر چھوڑ دیا گیا ہے۔ بنی اسرائیل کو دعوت دیتے ہوئے حضرت مسیح علیہ السلام کو کئی سال بیت چکے تھے۔ اس دعوت سے جب علماء یہود کی مسندوں کو خطرہ لاحق ہوگیا اور ان کی چودھراہٹیں خطرے میں پڑگئیں تو انہوں نے حضرت مسیح علیہ السلام کی شدید مخالفت کی۔ اس وقت تک یہودیوں پر ان کے علماء کا اثر ورسوخ بہت زیادہ تھا۔ جب آپ علیہ السلام نے ان کی طرف سے کفر کی شدت کو محسوس کیا کہ اب یہ ضد اور مخالفت پر تل گئے ہیں۔ تو آپ علیہ السلام نے ایک پکار لگائی ‘ ایک ندا دی ‘ ایک دعوت عام دی کہ کون ہیں جو اللہ کی راہ میں میرے مددگار ہیں ؟ یعنی اب جو کشاکش ہونے والی ہے ‘ جو تصادم ہونے والا ہے اس میں ایک حزب اللہ بنے گی اور ایک حزب الشیطان ہوگی۔ اب کون ہے جو میرا مددگار ہو اللہ کی راہ میں اس جدوجہد اور کشاکش میں ؟ دین کا کام کرنے کے لیے یہی اصل اساس ہے۔ اسی بنیاد پر کوئی شخص اٹھے کہ میں دین کا کام کرنا چاہتا ہوں ‘ کون ہے کہ جو میرا ساتھ دے ؟ یہ جماعت سازی کا ایک بالکل طبعی طریقہ ہوتا ہے۔ ایک داعی اٹھتا ہے اور اس داعی پر اعتماد کرنے والے ‘ اس سے اتفاق کرنے والے لوگ اس کے ساتھی بن جاتے ہیں۔ یہ لوگ ذاتی اعتبار سے اس کے ساتھی نہیں ہوتے ‘ اس کی حکومت اور سرداری قائم کرنے کے لیے نہیں ‘ بلکہ اللہ کی حکومت قائم کرنے کے لیے اور اللہ تعالیٰ کے دین کے غلبہ کے لیے اس کا ساتھ دیتے ہیں۔قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَار اللّٰہِ ج !حواری کے اصل معنی دھوبی کے ہیں جو کپڑے کو دھو کر صاف کردیتا ہے۔ یہ لفظ پھر آگے بڑھ کر اپنے اخلاق اور کردار کو صاف کرنے والوں کے لیے استعمال ہونے لگا۔ حضرت مسیح علیہ السلام کی تبلیغ زیادہ تر گلیلی جھیل کے کناروں پر ہوتی تھی ‘ جو سمندر کی طرح بہت بڑی جھیل ہے۔ آپ علیہ السلام کبھی وہاں کپڑے دھونے والے دھوبیوں میں تبلیغ کرتے تھے اور کبھی مچھلیاں پکڑنے والے مچھیروں کو دعوت دیتے تھے۔ آپ علیہ السلام ان سے فرمایا کرتے تھے کہ اے مچھلیوں کا شکار کرنے والو ! آؤ ‘ میں تمہیں انسانوں کا شکار کرنا سکھاؤں۔ آپ علیہ السلام نے دھوبیوں میں تبلیغ کی تو ان میں سے کچھ لوگوں نے اپنے آپ کو پیش کردیا کہ ہم آپ کی جدوجہد میں اللہ کے مددگار بننے کو تیار ہیں۔ یہ آپ علیہ السلام کے اوّلین ساتھی تھے جو حواری کہلاتے تھے۔ اس طرح حواری کا لفظ ساتھی کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔

56